نقطہ نظر

کتنی آہیں، کتنی سسکیاں اور چاہیے؟

ابراہیم جمال بٹ

ماں جب اپنی اولاد کو جنم دیتی ہے تو اس کی آنکھوں سے خوشی جھلکتی دکھائی دیتی ہے، اس کی زبان پر دُعا ہوتی ہے، اس کی رگ رگ سے دوڑتی ہوئی ایک ایسی جذباتی جھلک دکھائی دیتی ہے جیسے اسے وہ سب کچھ حاصل ہو گیا جس کی تمنا لیے وہ برسوں انتظار کر رہی تھی، اسے محسوس ہوتا ہے کہ آخر کار خدائے ذوالجلال والاکرام نے اس کی مراد پوری کر لی، جس کی تڑپ اور خواہش اسے تب سے لے کر تھی جب سے اس کا جوڑ ’’رشتۂ ازدواج‘‘ میں بندھ گیا۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد جب یہی ماں اپنے بچے کی شرارتیں دیکھتی ہیں تو وہ شرارتیں کبھی کبھار غصہ بھی دلاتی ہے لیکن غصہ بھی ایسا جس میں نفرت نہیں بلکہ اس ننھے منے سے بچہ کے لیے پیار ہی جھلکتا ہے۔آہستہ آہستہ جس قدر بچے کی عمر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اس کی شراتیں بھی بڑھتی رہتی ہیں ، دن دوگنی رات چوگنی شرارتوں میں مزید اضافہ ہونا اگرچہ کسی حد تک ماں کے لیے تکلیف کا سبب بن جاتی ہے لیکن یہ تکلیف بھی اسی ماں کا خاصہ ہے جسے وہ خوش دلی سے برداشت کرتی ہے، نہ صرف برداشت بلکہ اس پر مزید اپنی محبت کے پھول برساتی رہتی ہے۔

شرارتوں کے اس ’’میقاتِ مقررہ‘‘ کے بعد جوں ہی بچہ جوانی کی دہلیز کو پار کرنے کے قریب پہنچتا ہے، اس کی ماں کے دل ودماغ میں بھی اس کے لیے ارمانوں کے سمندر جمع ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ ’’میرا بیٹا ترقی کرے یہ اس کی ایک خواہش ہوتی ہے، میرا بیٹا کامیاب انسان بنے یہ اس کی آرزو ہوتی ہے۔ میرا بیٹا ہر حیثیت سے باکردار، باایمان، باصلاحیت اور با اخلاق بنے یہ اس کی فطری چاہتیں ہوتی ہیں ‘‘ اور اس طرح ماں کی خواہشیں، آرزوئیں اور چاہتیں کسی نہ کسی صورت میں ، کبھی نہ کبھی رنگ لاتی دکھائی دیتی ہیں۔ تب اس ماں کے دل میں کس قدر خوشی چھا جاتی ہے اس کا اندازہ کرنا بہت ہی مشکل ہے۔

بہرحال یہ ماں ہی ہے جس کے نام کے ساتھ ’’محبت‘‘ کا نہ ہونا ممکن نہیں ۔ ہر ماں اپنے بچے کے لیے ’’پیغامِ محبت ‘‘ہی نہیں ’’پیکر محبت‘‘ ہے۔ اسی محبت کے سہارے بچہ بڑا بھی ہوتا ہے اور بڑا ہو کر کسی قابل بھی بن جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ ماں ہی ہے جس نے اسے اپنے خدا سے دُعائوں میں مانگا تھا، اور یہی وہ ماں ہے جسے اب اپنی زندگی سے زیادہ پیاری اور قیمتی شئی اس بچے کی زندگی دکھائی دیتی ہے، وہ خود خوش رہے یا نہ رہے لیکن بچے کی خوشی اس کی اولین ترجیحات میں شامل رہتی ہے۔ وہ خود کچھ کھائے یا نہ کھائے لیکن بچہ بھوکا رہے یہ اس کی برداشت سے باہر ہوتا ہے، وہ خود رنگ بہ رنگے اور نئے نئے ملبوسات پہنے یا نہ پہنے لیکن اپنے بچے کے جسم پر پرانے ملبوسات کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرتی۔ یہ ماں ہے، وہی ماں جس نے اس  بچہ کو جنم دیا۔

بڑا ہر کرخوبصورت، خوب سیرت اور کامیاب ہونے کی دُعائیں دیتے دیتے آخر کار بچہ اس عمر کی دہلیز کو پار کر ہی جاتا ہے جس میں اگرچہ ماں کے پیار اور محبت میں کوئی کمی نہیں ہوتی بلکہ اضافہ ہی ہوتا ہے لیکن ایک چیز جو اسے احساس دلانے پر مجبور کرتی ہے کہ اب اس بچہ کی باری ہے، کیوں کہ پیار ومحبت سے پالنے والی یہ ماں اب اس قدر کمزور اور سہارے کی طلب گار بن جاتی ہے کہ اس کا حال برابر اسی بچے کی صورت اختیار کرجاتی ہے۔ بچہ جو اب ماں کے پیار سے پلنے کے بعد اب ماں کا سہارا بن جائے، وہ اس کے لیے اپنی کوششیں تیز کرتا ہے، اسے اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ ماں کے پیار کی قیمت تو چکائی نہیں جاسکتی ہے البتہ کسی قدر ’’حق ادائی‘‘ کی جاسکتی ہے۔ جس کے لیے وہ انتھک کوششیں کرتا ہے، کبھی کبھار در در کی ٹھوکریں بھی کھاتا ہے تاکہ ماں کا سہارا اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے اور ماں کا حقیقی اور اصل سہارے کی صورت اختیار کر لے۔ ………!

ماں کی آنکھوں کی ٹھنڈک، یہ بچہ جو اب جوان ہو جاتاہے، شام کو جب گھر پہنچتا ہے تو دن بھر گرمی کی شدت میں لمحات گزارتا ہوا جلد ماں کے آنچل کے نیچے کچھ دیر آنکھیں موندھ لیتا ہے اس دوران دن بھر کی گرمی کی شدت سے پیدا شدہ وہ پیاس جو اسے بازار میں پانی اور مشروبات وغیرہ سے نئی مٹتی، ایک دم ختم ہو جاتی ہے،کیوں کہ ماں شجر ہائے سایہ دار ہے جس کے ایک ایک شاخ اورحصے میں آرام اور سکون ہوتا ہے۔

ماں اگرچہ اپنا بچہ جو اب جوان بھی ہو چکا ہے لیکن اس کی نظر میں یہ ابھی بھی وہی ’’ننھا منا‘‘ بچہ ہے جسے اس نے اپنی گود میں پالا، اسے اسی گود میں کھلایا، پلایا اور اسی گود میں یہ بچہ پیشاب کرتا تھا اور اسی گود میں سونا بھی اس کی قسمت بن چکی تھی۔ ماں کی آنکھوں میں روشنی کی کمی تو آئی ہے لیکن بچے کے لیے پیار کی کمی محسوس نہیں کی جاسکتی۔ …بہرحال…! یہ ماں جس نے اس بچے کو جنم دیا۔

ایک دن اپنے ناتواں وکمزور اعضاء کے سہارے گھر میں بیٹھے اپنے لخت جگر کی منتظر ہوتی ہے، کہ کب وہ آئے، میری آنچل میں سو جائے، کب میں اس کی صورت دیکھوں ، اسی انتظار کے سہارے جینے والی یہ ماں جب دن کے کسی پہر یا شام کو گھر میں بیٹھی انتظار کی گھڑیاں گنتی ہوئی اپنے صحن کے دروازے پر بیٹھی ہوئی ہوتی ہے تو ایک آہ نکل آتی ہے، یہ آہ کسی محبوب کے آنے کی آہ ہوتی ہے، جس کی ایک ایک آہٹ اس کے آنکھوں کی ٹھنڈک بن چکی ہوتی ہے۔ لیکن جب یہی سہارا جو صبح اپنے گھر سے صرف یہ سوچ کر نکل چکا ہوتا ہے کہ شام کو گھر پہنچ کر ماں کودہلیز سے ہی ’’ماں ماں ماں ‘‘ کہتا نظر آتا تھا، جب اسی بیٹے کی نعش اس کی دہلیز پر کھڑی کر دی جاتی ہے اور بیٹے کے پکارنے کے بجائے اسے اس کے آس پڑوس لوگوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں تو وہ کمزور وناتواں ہونے کے باوجود تیز قدموں سے نکلتی اپنے گھر کے صحن تک جوں ہی پہنچ جاتی ہے تو اسے اپنے بیٹے کی زندگی کا شمع بجھا ہوا دکھائی دیتا ہے، اسے اپنی آنکھوں کی بچی کھچی روشنی بھی جاتی دکھائی دیتی ہے، اس کے جسم کے ایک ایک عضوجواب دے دیتا ہے، وہ دم بخود ہو کر رہ جاتی ہے۔

جو بیٹا اس کا صحیح اور قابل سہارا بننے کی کوششوں میں محو جہد تھا اسی کی نعش اور وہ بھی اسی ماں کے صحن میں پڑی ہوئی۔ ’’شمع بجھتا ہے جو تو روشنی کہاں سے لائوں ‘‘ والا معاملہ بن کر اسے خود اپنی زندگی ہمیشہ کے لیے اندھیرے کی نذر ہوتے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ (واحسرتا…!)

یہ تصویر کا ایک ایسا رخ ہے جسے آج کشمیر کے شہر شہر، قریہ قریہ اور گائوں گائوں محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ہر گھر اور ہر کنبے میں ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ انسان دھنگ ہو کے رہ جاتا ہے۔ صبح نکلو تو خوف طاری … شام داخل ہو تو خوف طاری، گھر میں بیٹھو تو خوف طاری، گھر سے نکلو تو خوف طاری۔ زندگی کے ایک ایک لمحہ میں بھی سکون دکھائی نہیں دیتا۔ ہر علاقے میں ، ہر محلے اور گائوں میں ماتم کی لہر چھائی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ہر سو واقعاتِ خونین کی رسم چلی ہے۔ ظالم کو اپنے ظلم پر ناز ہے اور مظلوم کو اپنی مظلومیت کا احساس ہے۔ کوئی چند ٹکوں کے لیے اپنے ایمان کا سودا کرکے مائوں کے لاڈلوں کو موت کی آغوش میں پہنچا نے میں محوجدوجہد ہے تو کوئی اپنی جان کی بازی لگا کر جنت کے باغوں کے خوابِ خیال کو اصل حقیقت میں تبدیل کردیتا ہے۔ کوئی حق کی تلاش میں نکلا دن بھر خون پسینہ ایک کر دیتا ہے لیکن شام کو خون پسینہ میں گزرے ہوئے لمحاتِ زندگی کو اچانک ظالم کی ظلم کی نذر ہو کر خون خون کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ انسانیت کے نام پر ہو رہا ہے۔ کشمیریت، جمہوریت، اور انسانیت کا درس دینے والے اصل چیز بھول کر انسانیت کا ہی خاتمہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ، مگر لوگوں کو یہ یا باور کرتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، بس ہماری طرف ایک قدم بڑھائو ہم تمہاری طرف آئیں گے۔ یہ یہاں کے حکمرانوں کی سوچ ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ ایک مظلوم کو خون میں لت پت چھوڑکر آرام و سکون کی نیند حاصل ہو سکتی ہے، ایں خیال است و محال است۔

جس ماں کی گود خالی ہو گئی ہو، اس کے دل وزبان سے کیا دُعائیں نکل رہے ہوں گے، اس کا انہیں کوئی اندازہ نہیں ۔ جس ماں کی آنکھوں کے لیے یہ بچہ سرمے کا کام انجام دیتا تھا جب یہی آنکھ کا سرمہ بکھیر دیا جاتا ہے تو اس کی آنکھوں سے نکلنے والا ایک ایک قطرۂ خون ظالم کے ظلم کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ کیوں کہ مظلوم کی دُعا کبھی رد نہیں ہوتی، ماں کی اس مظلومیت میں اس کی زبان سے نکلنے والا ایک ایک کلمہ ظالم کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

بہرحال ماں کی اس عظمت، ماں کے اس پیار، ماں کے اس پاک رشتہ کو کوئی ختم کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔ لہٰذا ماں کی دُعائوں کا اثر ابھی باقی ہے، ماں کے لبوں سے نکلنے والی دعائیں اور ان کا اثر ابھی باقی ہے۔ ایک دن ایسا ضرور آنے والا ہے جب ماں جو ماں ہونے کے ساتھ ساتھ مظلوم بھی ہے کی دُعا ئیں رنگ لائیں گی، اس طرح ظلمت شب پر بھاری پڑ جائیں گی کہ ظلمت کا اندھیرا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ المستعان۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close