سیاستمعاشرہ اور ثقافتنقطہ نظر

کرپشن کے خاتمے تک

راجہ طاہر محمود

کرپشن ،کرپشن ،کرپشن یہ وہ الفاظ ہیں جن کا چرچا گزشتہ پانچ سالوں میں کچھ زیادہ ہی سننے کو مل رہا ہے اس کی بنیادی وجہ کرپشن کے بارے میں اٹھائی جانے والی وہ اواز ہے جو اب عوامی شعور کے آئینے میں فٹ آتی نظر آ رہی ہے اس کرپشن کو زبان زد عام کرنے میں اگر کسی جماعت کو بغیر کسی سیاسی وابستگی کے کریڈٹ دیا جائے تو وہ پی ٹی آئی ہے اس کے لیڈرون نے جس طرح کرپشن کے خلاف مہم چلائی اور اس ناسور کو عوام کے سامنے ننگا کیا اس کی مثال پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں ملنا مشکل ہے مجھ سمیت ہر پاکستانی یہ جاننے کی جستجو میں ہے کہ کہ کیا واقعی ہی ہمارے حکمران ہمارے دیے گئے ٹیکسوں کی پیسے اپنی جیبوں میں بھر کر بیرون ملک ٹرانسفر کرتے اور کرواتے ہیں اور کیا یہ پیسہ واقعی ہی عوام کا پیسہ ہوتا ہے؟ اور کیا اس پیسے کو اگر پاکستان میں خرچ کیا جائے تو پاکستان ناصرف ایشیاء بلکہ پوری دنیا میں ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب پر پاکستانی چاہتا ہے کہ اس کو ملے اور اس کی تشفی ہو سکے مگر ایک سوال اور بھی ہے ؟وہ یہ کہ کیا ہم خود بھی اس کرپشن میں ملوث ہیں ؟ اگر کسی بھی عام آدمی سے کہا جائے کہ جناب آپ بھی اس کرپشن میں ملوث ہیں جن میں ہمارے حکمران طبقات لتہڑے ہوئے ہیں تو وہ ناصرف حیران ہو گا بلکہ جب اسے بتایا جائے کہ ہاں اُ بھی اس میں برابر کے شریک ہیں تو وہ پریشان بھی ہو گا آپ سوچ رہے ہونگے کہ وہ کیسے تو جناب اس کا سادہ سا جواب ہے موجودہ اور سابق حکمرانوں میں ایک بات مشترک ہے کہ وہ یہ کہ یہ لوگ تین تین باریاں لے چکے ہیں اور ہر بار ان کے کارنامے سابقہ کارناموں سے دو ہاتھ آگے ہی ہوتے ہیں اب عوام اس کرپشن میں کیسے ملوث ہوئی تو جناب اگر بار بار انھیں آزمائے ہوئے لوگوں کو ووٹ ڈالا جائے گا تو وہی ہو گا جو اب ہو رہا ہے یا ماضی میں ہوتا رہا ہے بہت سے لوگ یہاں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے تو ووٹ ان لوگوں کو نہیں دیا تھا ہمارے ووٹ چرائے گئے ہیں تو جناب بلاشبہ آ نے ووٹ نہیں دیا تھا مگر آپ اس سسٹم کا حصہ ہیں اپ نے اپنے حصے کی آواز خود بلند کرنی ہے اور جب تک آپ اپنی آواز اس بارے میں بلند نہیں کریں گے تو کو ن جانے گا کہ آپ کو کیا چاہیے اپ ان کرپٹ لوگوں کو منتخب کرنے میں ان کی مدد گار بنے سو آپ بھی اس کرپشن میں ملوث ہو گئے.

ملک میں کرپشن کی سطح بہت تشویش ناک ہے ناصرف شخصیات بلکہ اداروں کے سربرہان بھی اس میں ملو ث ہو رہے ہیں ایک روپے کا منصوبہ ہزاروں سے لاکھوں تک کیسے پہنچ جاتا ہے کوئی پرسان حال نہیں اگر کسی سے اس کے عیش و عشرت کا پوچھ بھی لیا جائے تو  جمہوریت خطرے میں چلی جاتی ہے ،چاچے ،مامے اور کہاں کہاں کے رشتے سامنے لا کر گلو خلاصی کروا لی جاتی ہے یہ سبب سسٹم کی کمزوری  ہے وہ ادارے جن کا کام ہی اس ناسور کاخاتمہ کرنا ہے وہاں کرپشن اور مس منیجمنٹ کی بڑھوتری دیگر اداروں کی نسبت کہیں زیادہ ہے تو جناب جب دودھ کی رکھوالی بلا کرئے گا تو دودھ کو بچائے گا کون کیا بلا بچائے گا ہاں ایک صورت میں بلا بچا سکتا ہے اگر اس کا پیٹ بھر گیا ہو مگر یہ دولت ہے جناب اس سے پیٹ تب تک نہیں بھرتا جب تک اس پیٹ کو خاک سے نہ بھر دیا جائے ۔لاکھوں کروڑوں دلیلیں بھی اگر دے دی جائیں ناجائز ناجائز ہی ہوتا ہے اور اس دھرتی ماں کے ساتھ دھوکہ کرنے والا نہ اس دنیا میں سرخرو ہو سکتا ہے اور نہ آخرت میں اوپر سے ہمارے حکمران قربان جائوں ان کی سادگی پر جن کے بیانات تو سنیے کہتے ہیں اتنی بدعنوانی ہے کہ تحقیقات کرنے لگیں تو سارے کام رک جائیں کرپشن کے اتنے سیکنڈل ہیں جتنا کہا جائے کم ہے.

ملک میں بہت سے معاملات ہیں جن کی تحقیقات ہونی چاہیے اگر تحقیقات شروع کر دی تو ہمارا سارا وقت اسی میں لگ جائے گا  بقول ان کے ایک وقت آئے گا جب کرپشن کرنے والے لوگ اپنے انجام کو پہنچیں گے ہم نے بیس سال پرانے منصوبوں کو اپنے پائوں پر کھڑا کیا کسی منصوبے کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیازرا ان سے پوچھ ہی لیا جائے کہ جناب اس منصوبے کا فائدہ کیا جو لاکھوں سے کروڑوں اور بعد ازاں اربوں سے مکمل ہو موجودہ حکومت کے اس وقت کو شاید کوئی بھی قبول نہ کرے کہ بدعنوانی کی تحقیقات میں غیر معمولی وقت ضائع ہوتا ہے اور تعمیر و ترقی کے سارے کام رک جاتے ہیں یا کرپشن کے سیکنڈلز کے خلاف تحقیقات حکومتی وقت کے ضیاع کا باعث ہوتی ہے۔ گڈگورننس میں اس بات کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے کہ ملک میں ہر سطح پر کرپشن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اس قسم کی کارروائی ہی منصوبوں کے معیار کی بہتری اور شفافیت کا باعث ہوتی ہے اور معاشرے میں میرٹ اور صلاحیت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے بدعنوانی کی موجودگی میں کبھی گڈ گورننس قائم نہیں ہوسکتی ایسے میں سڑکیں ‘ پل اور تعمیرات غیر معیاری اور ناقص ہوتی ہیں اور قومی خزانے کا ضیاع ہوتا ہے۔ یہ نقطہ نظر درست نہیں کہ بدعنوانی کے خلاف تحقیقات کے باعث ترقیاتی عمل متاثر ہوتا ہے.

اس لئے اس معاملے میں وقت ضائع نہ کیا جائے یہ نقطہ نظر حقائق سے  بہت دور اور مضحکہ خیز ہے تمام جمہوری  ملکوں میں کرپشن کے خلاف احتساب کا عمل کام کرتا ہے اور اس عمل کے نتیجے میں تعمیر و ترقی کے منصوبے متاثر نہیں ہوتے تعمیر و ترقی پر مامور ادارے اپنا کام کرتے ہیں اور کرپشن کے خلاف احتساب کرنے والی مشینری الگ سے اپنا کام جاری رکھتی ہے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ احتساب کے خوف سے تعمیر و ترقی کے عمل میں تیزی اور شفافیت آتی ہے تو بیجا نہ ہو گاضرورت اس امر کی ہے کہ کرپشن بد عنوانی اور مس منیجمنٹ کے خاتمے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں لیکن یہ عذر نہیں تراشنا چاہیے کہ کرپشن کے خلاف تحقیقات پر وقت ضائع ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں منصوبوں کی بروقت تکمیل متاثر  ہوتی ہے کسی بھی جواز کے تحت بدعنوانی کے خلاف کارروائی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا.

یہ ایسا ناسور ہے جس سے ملکی ترقی تو کیا ملکی بقاء کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرنے چاہیں اور یہ کاروائیاں سیاسی وابستگی سے بالا تر ہونی چاہے تاکہ کسی بھی فرد یا ادارے کو یہ شکایت نہ وہ کہ اس کے خلاف کی جانے والی کاروائی جانبدار ہے ہمیں اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کرپشن کے خاتمے میں ہمارے آدھے سے زیادہ مسائل کا حل پوشیدہ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close