نقطہ نظر

کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے!

عرب کے بادشاہوں نے اپنی بادشاہت کی بقا، اپنی حکومتوں کے استحکام اور ملک کی دولت سمیٹنے کے لیے وہ تمام اقدامات کئیےجو ایک غیرت مند مسلمان کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا؛

امت کو جوڑنے کی کوشش کرنے کے بجائے، تقسیم کا فائدہ اٹھایا اور خلیج کو گہرا کرنے کی کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کے نتائج آج شام اور عراق میں سامنے آرہے ہیں۔ مسلمان خود مسلمان کے خون کا پیاسا بنا ہوا ہے۔ اختلافات صرف شیعہ سنی حد تک نہیں رہے بلکہ سنیوں میں مختلف گروہ ہیں جو آپس میں جم کر ایک دوسرے کے خلاف جہاد کررہے ہیں۔
اگر کسی مسلم جماعت نے احیائے دین اور اتحاد امت کی کوشش بھی کی تو انہیں دھشت گرد اور باغی بنا کر اس عظیم کام سے روکنے کا ناپاک کام کیا اور جن خطوں میں خود اسلامی تحریکات کو روکنے کی استطاعت نہیں تھی، دنیا کی بڑی اسلام دشمن طاقتوں کا سہارا لے کر کچلنے کی کوشش کرتے رہے۔
خود اپنے ملک کے باشندوں کے پیٹ چیر کر ان کی دولت کا سودا کردیتے رہے اور عوام کو صحراؤں کی گرم ریت میں زندگی بسر کرنے کے لیے چھوڑ دیا اور شاہی خاندان ملک کی دولت ہضم کرکے عالیشان محلوں میں عیاشی کرتے رہے۔
عوام کو عقیدے کے فروعی مسائل میں الجھا کر علم و ہنر سے محروم رکھا اور اپنے بچوں کو دنیا کی بڑی ینورسٹیوں میں تعلیم دلواکر مغرب پرستی کی مشق کروائی۔
کہا جاتا ہے کہ دو بدنیت انسانوں کی دوستی زیادہ دن باقی نہیں رہتی؛ اور سانپ ایک دن خود اپنے پالنے والے کو ڈس لیتا ہے۔
امریکہ نے ۲۰۰۱ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملے کی راکھ دوبارہ کریدنا شروع کردیا ہے۔ پہلے تو اس آگ کا الزام القاعدہ اور افغانستان پر چسپاں کیا گیا اور بدلے میں پورے ملک کو تباہ کر ڈالا بعد میں دنیا نے دیکھا کہ جس کی تلاش میں پورا ملک تباہ ہوا وہ تو اس ملک میں تھا ہی نہیں بلکہ پڑوسی ملک میں ایک عام زندگی گزار رہا تھا۔
پھر کیمیائی اسلحوں کے ساتھ اس آگ کا ملزم بھی عراق اور صدام کو بنایا گیا اور بدلے میں عراق کو کھنڈر بنا ڈالا جو آج بھی پوری رفتار کے ساتھ الٹی سمت میں سفر طے کرنے میں لگا ہوا ہے۔
امریکہ کو آج بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی عمارت کی راکھ کی قیمت وصول نہیں ہوئی اور اب بھی وہ راکھ بہت قیمتی ہے۔ اس بار نشانے پر اس کا اپنا رفیق اور ہم پیالہ سعودی عرب ہے۔ امریکہ کی پارلیمنٹ نے اب ایک قانون (JASTA) بنایا ہے جس کی مدد سے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کا شکار ہونے والے امریکیوں کو اس بات کا حق حاصل ہوگیا ہے کہ وہ سعودی حکومت سے تباہی کے معاوضے کا مطالبہ کریں۔ اس قانون کو روکنے کے لیے سعودی عرب نے امریکہ میں موجود اپنا ۷۵۰ بلین امریکی ڈالر کا اثاثہ بیچنے کی دھمکی دی تھی لیکن وہ دھمکی بھی کسی کام نہ آئی۔
مسئلہ صرف معاوضے کا نہیں ہے بلکہ اس قانون کے ذریعہ دنیا کو یہ باور کروایا جارہا ہے کہ اس حملے کی اصل ذمہ دار سعودی عرب کی حکومت تھی اور اس نے حملے میں مالی تعاون کیا تھا اور ظاہر ہے اب معاوضوں کا مطالبہ زور پکڑے گا اور تعلقات مزید خراب ہوں گے اور ساتھ میں اس الزام کےپیچھے امریکہ کے مزید کیا ناپاک ارادے ہو سکتے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے امریکہ کا اب تک کا رویہ خطرناک اشارے دیتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

صلاح الدین ایوب

ڈاکٹر صلاح الدین ایوب نوجوان ادیب اور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close