کسی سلیم سے مت کہنا یہ ملک اس کا گھر نہیں

نازش ہما قاسمی

اس گھر کو بچانے کے لیے مجھے ایک نہیں ،دس سلیم کی ضرورت ہے۔ ۔۔۔دس نہیں صاحب ، دس ہزار ملیں گے ۔۔۔۔اگر آپ بھروسہ کریں گے تو ۔۔۔سلیم۔۔۔!میری بات سنئے سر۔۔۔پھر کبھی کسی سلیم سے مت کہنا یہ ملک اس کا گھر نہیں!

ان دنوں فلم ’سروفروش ‘ کا یہ مکالمہ سوشل میڈیا پر خوب چھایا ہوا ہے۔ واقعی اس میں بہت بڑی بات کہی گئی ہے کہ ملک کو بچانے کے لیے مجھے ایک سلیم نہیں دس سلیم کی ضرورت ہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ دس نہیں دس ہزار نہیں ، بلکہ ملک کے پورے مسلمان بھروسے کے لائق ہیں ، ان پر بھروسہ کیاجائے، انہیں ان کا حق دیا جائے، انہیں ہراساں کرنے کے بجائے قومی دھارے میں شامل کیا جائے، انہیں یہ نہ کہا جائے کہ یہ ملک ان کا گھر نہیں ۔۔۔!جس طرح سے آج ہورہا ہے۔ ہر جانب مسلمانوں پر حملے ہورہے ہیں ، انہیں مارا پیٹا جارہا ہے، گئو بھکتی کی آڑ میں معصوم مسلمانوں کی بلی چڑھائی جارہی ہے۔ مسلمانوں کو پاکستان جانے کا مشورہ دیاجارہا ہے۔کیا مسلمانوں نے ملک کی آزادی، ملک سے وفاداری کی خاطر کبھی کچھ نہیں کیا ؟ جس کا صلہ انہیں آج اس صورت میں دیاجارہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ٹیپو سلطان سے لیکر شیخ الھند تک ابوالکلام آزاد سے لے کر میزائل مین عبدالکلام تک، سرسید علیہ الرحمہ سے لے کر ڈاکٹر اسحاق جمخانہ والاتک، ویر عبدالحمید سے لے کر سلیم شیخ تک سبھوں نے ملک کی خاطر ہمیشہ وفاداری کی ہے، ہمیشہ ملک کا جھنڈا بلند کیا ہے، ہمیشہ گنگا جمنی تہذیب کی پاسداری کی ہے، لیکن انہیں اس کا صلہ غدار کہہ کر ملا۔

اگر مسلمان غدار ہوتے، انگریز کے پٹھو ہوتے، انہیں ہندوستان سے محبت نہیں ہوتی تو وہ جنگ آزادی میں اپنے لہو کا نذرانہ پیش نہیں کرتے، وہ گاندھی کو مہاتما نہیں بناتے، وہ انگریزوں کو سلام کرنے والی قوم اور اس کے نطفے گوڈسے کی اولادوں کی طرح ہوتے۔ لیکن جنہوں نے ملک کی آزادی کی خاطر اپنے لہو سے اس چمن کو سیراب کیا انہیں غدار کہاجانے لگا، اور وہ جنہوں نے انگریزوں کو سلامی پیش کی ان کے تلوے چاٹے وہ وفادار ٹھہرائے گئے ۔ یہی تو تکلیف دہ پہلو ہے ۔۔جو غدار ہیں ۔۔۔ انہیں وفاداری کی سند مل چکی ہے ،اور وہ دوسروں سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ مانگ رہے ہیں ۔

سلیم کا سینہ دیکھ کر لگا کہ واقعی چھپن انچ کا سینہ ایسا ہوتا ہے نہ کہ چوکیدار جیسا۔۔۔ حال ہی میں امرناتھ یاتریوں پر حملہ ہوا، اس میں سلیم شیخ نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر انسانیت کے دشمن نام نہاد لشکرطیبہ دہشت گردوں سے پچاس "شردھالوئوں ، کو محفوظ مقامات پر پہنچایا۔ انہوں نے ا پنے فعل سے ثابت کردیا کہ سلیم وفادار ہوتے ہیں، اگر آپ سلیم پر بھروسہ کریں ، اس سلیم کو یہ نہ کہیں کہ یہ ملک تمہارا نہیں ہے اگر یہ کہیں گے تو ان کا دل ٹوٹ جائے گا،وہ بکھر جائیگا ، انہوں نے دیش کی خاطر ہر لمحہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ ضرورت ہے آپ اس پر بھروسہ کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں ، لیکن یہ کیا ۔۔۔؟ انہوں نے پچاس یاتریوں کی جان کی حفاظت کی لیکن ان پر ہی پولس کمیشن بٹھائی گئی، ان سے پوچھ تاچھ کی گئی، ان پر بس قوانین توڑتے ہوئے عقیدت مندوں کو لے کر آگے بڑھنے کا الزام عائد کیا گیا۔ پولس کا کہنا ہے کہ سلیم کی بس کا امرناتھ شرائن بورڈ سے رجسٹریشن نہیں تھا۔ سلیم نے لازمی حفاظتی قوانین پر بھی عمل نہیں کیا۔ دو دن پہلے ہی سلیم نے یاترا ختم کی تھی اور سرینگر میں ہی رکا تھا۔تو کیوں رکا تھا؟ خیر ملک میں کتنے ہی سلیم کیوں نہ پیدا ہوجائیں ، سلیم نام مسلمان ہے اور ہندوستان میں مسلمان مطلب ’مشکوک‘ ہم خواہ ملک کی خاطر کچھ بھی کرلیں، لیکن ہمیں ’غدار‘ مشکوک، دہشت گرد کے الزام سے چھٹکارا نہیں مل سکتا۔

امرناتھ یاتریوں پر حملے کی پورے ملک میں مذمت کی گئی، صرف ہندوئوں کی جانب سے ہی احتجاج نہیں کیا گیا بلکہ ملک کی دوسری سب بڑی اقلیت کے قائدوں نے بھی بیان جاری کیے، مذمتیں کی، ان سے اظہار ہمدردی دکھائی، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں موم بتیاں جلا کر ان کے آتمائوں کی شانتی کے لیے پراتھنا کی گئیں۔ لیکن اس واقعہ کے دو دن بھی نہیں گزرے کہ امرناتھ یاتروں پر حملے کا بہانہ بناکر ہریانہ کے حصار میں مسجد کے باہر ایک سہارنپوری تاجر مولانا محمد ہارون پر حملہ کیاگیا، انہیں بھارت ماتا کی جے اور جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیاگیا۔ آخر اس طرح سے کب تک چلتا رہے گا؟ ملک کو نفرت کی بھٹی میں ڈالنے والوں پر لگام کیوں نہیں کسی جارہی ہے؟ امرناتھ یاتریوں پر حملہ بزدلانہ فعل ہے اور جنہوں نے اس بزدلانہ فعل کو انجام دیا ہے انہیں اس کی سزا ملنی ہی چاہئے ۔۔۔۔یہ ملک کے مسلمان کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔لیکن وہ لوگ جو اس حملے کو آڑ بناکر اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہے ہیں ، ملک میں نفرت کا بازار گرم کررہے ہیں ، مسلمانوں کو نفسیات کے خوف میں مبتلا کررہے ہیں ان کا کیا؟ ان کے لیے کوئی لگام نہیں ہے جسے کسا جاسکے ؟

ایک طرف تو کشمیر میں سلیم شیخ پچاس لوگوں کو اپنی جان جوکھم میں ڈال کر بچاتاہے لیکن وہیں دوسری طرف ناگپور میں پچاس لوگوں کی ٹولی دوسرے سلیم اسماعیل شیخ کوبیف کی آڑ لے کر زدوکوب کرتی ہے۔ کیا ہم صرف مارکھانے کے لیے رہ گئے ہیں ؟ کیا ہمارے جذبات جذبات نہیں ہیں ؟ کیوں بجرنگ دل کے دہشت گرد کھلے عام مسلمانوں پر حملے کررہے ہیں ؟ کیا یہ قانون سے بالا تر ہیں ؟ کیوں سب کو سانپ سونگھ گیا ہے ؟ کہاں ہیں وہ لوگ جنہیں جنید کی موت پر احتجاج کرنا یاد نہیں رہا لیکن امرناتھ یاتریوں کی ہلاکت پر سیکولرازم یاد آگیا۔ واقعی امرناتھ یاتروں پر حملہ غلط ہے لیکن جنید کی موت پر بھی مگر مچھ کے ہی تو آنسو بہالیں ۔ ۔۔۔آج کھلے عام ملک میں ہندو تنظیمیں بشمول بجرنگ دل وشو ہندو پریشد کے کارکنان حکومت کو الٹی میٹم دے رہے ہیں کہ اگر ہندو عقیدت مندوں کی ہلاکت کا بدلہ پندرہ دن میں نہیں لیا گیا تو وہ خود عقیدت مندوں کی حفاظت کے لیے قانون اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔۔۔۔سرعام بجرنگی لیڈر گووند پراشر پستول لہرا رہا ہے اور حکومت جو اسی کی ہے اسی کو دھمکی بھرے انداز میں کہہ رہا ہے کہ پندرہ دن میں دہشت گردانہ حملوں کا بدلہ لو نہیں تو ہم قانون ہاتھ میں لے لیں گے۔

ویسے شیوسینا کے ادھوٹھاکرے نے خوب بیان دیا ہے کہ ملک میں اودھم مچانے والے گئورکشک دہشت گردوں کو وہاں بھیج دیناچاہئے تاکہ ان کی بہادری دیکھی جاسکے۔ہمیں معلوم ہے کہ یہ وہ لوگ ہے جو تمام تر حقیقت سے واقف ہے انہیں معلوم ہے کہ مسلمانوں کا خون اس مٹی میں شامل ہے لیکن عہدہ کی حرص نے انہیں ایسا پاگل بنادیا ہے جو صرف اپنے کرسی اور عہدہ کو بچانے کیلئے عوام کے ذہنوں میں نفرت کے بیج بو رہے ہیں ، نفرت کی یہ سیاست ممکن ہے کچھ دنوں تک جاری رہے لیکن نفرت میں دوام نہیں ہوتا ہے، انتظار ہے اس صبح کا جب انصاف کا سورج ہمارے ملک میں پھر طلوع ہوگا۔پھر سے گنگا جمنی تہذیب سرخرو ہوگی تو پھر کسی سلیم کو یہ نہیں کہاجائے گا کہ یہ ملک تمہارا نہیں ہے۔



⋆ نازش ہما قاسمی

نازش ہما قاسمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے