نقطہ نظر

کس سے معلوم کریں یہ کیسا پاکستان ہے؟

حفیظ نعمانی

شاید دو برس سے زیادہ پرانی بات ہے کہ گجرات کے وزیر داخلہ امت شاہ کو سی بی آئی نے ایک فرضی انکائونٹر کی سازش تیار کرنے کے الزام میں جیل بھیج دیا تھا۔ امت شاہ نے ہر ممکن کوشش کی نریندر مودی وزیر اعلیٰ تھے انہوں نے بھی اپنے ساتھی اور دوست کے لئے کیا کیا نہ کیا ہوگا؟ مگر ہر عدالت سے ضمانت ردّ ہوتی رہی آخرکار سپریم کورٹ نے ضمانت دے دی مگر شرط لگادی کہ گجرات نہیں جائوگے۔ امت شاہ مہاراشٹر میں رہتے رہے پھر ان کے لئے ایک ڈرامہ اسٹیج کیا گیا لاکھوں روپئے اس ڈرامہ پر خرچ ہوئے اور اس کے بعد گجرات میں داخل ہونے کی اجازت ملی۔ ہمارا اور سب کا خیال تھا کہ امت شاہ صاحب منھ چھپاکر اندھیرے میں گجرات میں داخل ہوں گے اور چپکے سے گھر میں روپوش ہوجائیں گے۔ لیکن  جب ٹی وی پر ا کا جلوس دیکھا تو حیران رہ گئے کہ پوری گردن گیندے کے ہاروں سے بھری ہوئی ہے اور وہ سب کو نمستے کرتے اور پورے دانتوں سے مسکراتے آرہے ہیں ۔

گجرات میں ایک پولیس افسر ڈی جی ونجارہ تھے۔ وہ وزیر اعلیٰ کی ناک کا بال تھے اور جتنے بھی انکائونٹر وہ دس ہوں یا بیس احمد آباد میں ہوئے وہ سب ونجارہ نے کئے گئے۔ وہ کم از کم چالیس نوجوانوں کا قاتل ہے۔ اب یہ تو اندرونی بات ہے کہ کیا ہوا وزیر اعلیٰ نے آنکھیں پھیر لیں اور عشرت جہاں اور اس کے ساتھی تینوں لڑکوں کا قتل جسے انکائونٹر کہا گیا اسے سی بی آئی نے فرضی ثابت کردیا اور ونجارہ اُمید بھری آنکھوں سے اپنے مودی کو دیکھتا ہوا جیل چلا گیا۔

شاید آٹھ سال کے بعد اس کی ضمانت ہوئی تو وہ بھی ہارپھول سے لدے ہوئے اور سب کو نمستے کرتے ہوئے جلوس کے ساتھ آئے۔ ہم حیران تھے کہ کیا شرم و غیرت بھولی بسری کہانی ہوگئی؟ وجہ صرف یہ تھی کہ نہ جانے کتنے ایسے اخلاقی جرم میں گرفتار ہوکر جیل جانے والوں اور ضمانت پر آنے والوں کو ہم نے دیکھا تھا کہ مہینوں ان کی صورت نظر نہیں آئی اور جب معلوم کیا تو کہا گیا طبیعت خراب ہے۔ لیکن امت شاہ ہوں یا ڈی جی ونجارہ وہ تو ایسے فاتح کی طرح سینہ تانے آرہے ہیں جیسے چین سے اپنی ساری زمین واپس لے کر آرہے ہوں ۔

ان میں سے کسی ایک بات کا بھی ذکر اب بھولی بسری کہانی ہے۔ یہ بات یہ خبر پڑھ کر آگئیں کہ پاکستان کے شاید سب سے بڑے بے ایمان سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ان پر کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ اور وہ فی الوقت مصلحتاً خاموش ہیں ۔ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مرلی چلے گئے تھے شاید ذلت کے زخموں کو ٹھنڈا کرنے گئے تھے۔ وہاں سے آکر انہوں نے اپنا بے غیرت منھ پھر کھولا اور صحافیوں سے غیررسمی گفتگو میں کہا کہ میرے باپ دادا کی کمپنیوں کو ٹٹولا گیا لیکن کرپشن ثابت نہیں ہوئی جبکہ ثبوت تو دور کی بات مجھ پر کرپشن تک کا الزام ثابت نہیں ہوا۔ نواز شریف نے کہا جو کچھ ہورہا ہے وہ انہیں سمجھ آرہا ہے۔ لیکن  وہ فی الحال خاموش رہنا چاہتے ہیں ۔

جس وزیر اعظم کو سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی بنچ نے متفقہ فیصلہ کے بعد بے ایمان اور ملک کی بے حساب دولت کا لٹیرا مان کر برطرف کردیا ہو اور فوراً استعفیٰ دینے کا حکم دیا ہو اور اس نے ڈرکر استعفیٰ دے دیا ہو وہ اب یہ کہے کہ کرپشن بھی ثابت ہیں ہوا ہے کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پاکستانی سپریم کورٹ کے پانچوں جج بکے ہوئے ہیں اور ان کے خلاف سازش میں شریک ہیں ؟ اور اس سے زیادہ شرم کی بات یہ ہے کہ سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق نواز شریف کے حق میں نعرے لگائے اور ان پر پھول برسائے اور اب لاہور میں ان کے استقبال کی تیاریاں ہورہی ہیں ۔ جب تقسیم کی آندھی چل رہی تھی اور مسلم لیگ کا ہر چھوٹا بڑا پاکستان یعنی اسلامی حکومت کی باتیں کرتا تھا تو حضرت مولانا حسین احمد مدنی بڑی محبت سے فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھے صرف اتنا یقین ہوجائے کہ ایک شہر یا ایک بستی میں بھی اسلامی حکومت ہوگی تو خدا کی قسم میں اپنا بستر اپنے سرپر رکھ کر جائوں گا۔ ارے بے وقوفو تمہیں کیا خبر کہ تم کہاں جارہے ہو؟ جو اسلامی حکومت قائم کرنے جارہے ہیں تم ان کی صورتیں اور ان کی دن رات کی مصروفیت نہیں دیکھتے کہ ان کے اندر خود کتنی اسلامیت ہے؟ آج کون ہے جو یہ بتا سکے کہ مسٹر جناح سے لے کر نواز شریف تک کتنے گورنر جنرل، مارشل لاء اینڈ منسٹریٹر اور وزیر اعظم ہوئے کسی ایک کی صورت پر بھی کس کو نور نظر آیا؟ کس کو مسجد میں آتے جاتے اور نماز پڑھتے دیکھا؟

انتہا یہ ہے کہ پاکستان ہو یا ہندوستان مسلمانوں کے چھوٹے سے چھوٹے جلسہ کی کارروائی پڑھ لیجئے اس میں تفصیل ہوگی کس نے تلاوت کلام پاک کی کس نے نعت پڑھی اور کس کس نے تقریریں کیں ۔ انتہا یہ ہے کہ وہ مشاعرے جن میں شراب پی کر بھی اور شراب لاکر بھی غزل سنانے والے شاعروں کے ہوتے ہوئے بھی ہر مشاعرہ کا افتتاح نعت شریف سے ہوتا ہے جسے پڑھنے والا سر پر رومال رکھ کر ہی سہی احترام سے پڑھتا ہے۔ اور یہ تاریخ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد پارلیمنٹ اور دستور ساز اسمبلی دونوں کی صدارت جناب صاحب کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی صحت تک کسی اجلاس کی کارروائی تلاوت کلام پاک سے نہیں ہونے دی پھر جب وہ لیٹ گئے اور صدارت حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے کی تو خود انہوں نے پہلے تلاوت کی بعد میں کارروائی شروع ہوئی۔

پاکستان جو صرف اسلام کے نام پر بنا جب اس کی پارلیمنٹ ٹی وی پر نظر آتی ہے تو صرف ایک ذات مولانا فضل الرحمن جمعیۃ علماء اسلام کے علاوہ ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا جو لگے کہ وہ اسلامی ملک کی پارلیمنٹ کا ممبر ہے۔ ہندوستان سیکولر دستور کے تحت چلنے کا دعویٰ کرتا ہے پارلیمنٹ میں کتنے ہیں جو زعفرانی دھوتی کرتے اور اپنے لباس اور گفتگو سے صاف نظر آتے ہیں کہ وہ سناتن دھرم کے نمائندے ہیں ۔ اور اب تو اترپردیش جس کی آبادی پورے پاکستان سے بھی زیادہ اس کے وزیر اعلیٰ سناتن دھرم کے ترجمان ہیں اور ایک بڑے مندر کے پجاری ہیں ۔

اسی نواز شریف کو جب پرویز مشرف نے بھٹو اور بے نظیر کی طرح ختم کرنا چاہا تھا تو عالم اسلام کے سربراہوں نے اس کی جان بچائی تھی۔ اور جب نواز شریف کی عیاشی کی داستانیں سنیں اور عیاشی کے سامان کی تفصیل پاکستانی اخبارات نے چھاپی تھی تو ہم یہ سوچا کرتے تھے کہ ان کے باپ اور ان کی بیوی تو ان سے اپنی بے تعلقی کا اعلان کری دیں گی۔ لیکن اب جبکہ سپریم کورٹ نے فیصلہ کردیا کہ نواز شریف سے بڑا بے ایمان نہ پاکستان میں ہے نہ ہوگا تب بھی بے غیرتی، بے شرمی اور بے حیائی؟ اور لعنت ہو ان مسلمانوں پر جو زندہ باد کے نعرے لگائیں پھول برسائیں اور استقبال کریں ۔ نواز شریف کی ایمانداری اور کیا ہوگی کہ دوبئی میں عالیشان کوٹھی ہے جدہ میں ایک لوہے کی بہت بڑی فیکٹری ہے اور لندن میں ہر بچہ کی ایک کوٹھی ہے اور دعویٰ ہے کہ وہ مصلحتاً خاموش ہیں ۔

پاکستان میں ابھی تو بہت ہوں گے جو ہماری عمر کے ہوں اور جنہوں نے یہ نعرے لگائے تھے پاکستان کے معنیٰ کیا؟ لاالہ الا اللہ۔ جس ملک کے لئے مخالفت کرنے والے ہر بزرگ نے بننے کے بعد کہا تھا کہ جب بن گیا تو ہم دعا کریں گے کہ وہ اسلامی ملک بنے۔ آج ہی نہیں روزِ اوّل سے وہاں شیطانوں کی حکومت ہے اور جب زرداری صدارت کا الیکشن جیتے تھے تو رمضان شریف تھے دن کے تین بجے نتیجہ آیا اور سیکڑوں مرد اور عورتیں بھنگڑا ناچتے ہوئے اور ایک دوسرے کے منھ میں لڈو ٹھونستے ہوئے نظر آرہے تھے۔ حیران ہیں کہ کیا اتنے بڑے پاکستان میں ایک بھی ایسا جیالا مرد مومن نہیں ہے جو نواز شریف کے منھ پر اس طرح جوتا مارے جیسے عراق میں ایک بہادر صحافی نے دنیا کے سب سے طاقتور صدر ڈبلیو بش کے ایک کے بعد دوسرا جوتا مارا تھا۔ اور نواز شریف کے گلے میں پھٹے جوتوں کا ہار ڈال کر اور گدھے پر بٹھاکر گھمائے۔ کیا پورا پاکستان شیطان کی اُمت ہوگیا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close