نقطہ نظر

کشمیر: اک سہارے کی اُمیدباقی ہے!

ابراہیم جمال بٹ

 ’’ہر روز کی کہانی نہیں بلکہ ہر لمحے کی کہانی …لوگوں کی زبانی …کہ ’’فوج اور جنگجوئوں کے درمیان تصادم شروع‘‘ … معرکہ آرائی کے دوران …جنگجو جان بحق، احتجاج کے دوران ایک عام نوجوان کی بھی ہلاکت، … بھارتی فوجی یا ریاستی پولیس اہلکار بھی ہلاک۔ ‘‘

 یہ ایک ایسی کہانی ہے جو کشمیر کے ہر بچہ اور بوڑھے کی زبان زد ہو چکی ہے، ہر مرد اور عورت دن بھر اسی کے متعلق باتیں کرنے میں محو ہیں ۔ صبح جب اخبار (News Paper)ہاتھ میں آجاتا ہے تو اس پر بھی بڑی بڑی سرخیوں والی یہی کہانی پڑھنے کو مل جاتی ہے۔ گویا کشمیر میں یہ ایک ایسا کھیل چل رہا ہے کہ جس کے نہ تھمنے ے آثار دکھائی دے رہے ہیں ۔ اس سارے پر کشمیر کی عوام کی جانب سے پھر ’’احتجاج‘‘ شروع ہوتا ہے لیکن اس احتجاج کے دوران بھی گولیاں چلتی ہیں جس کے جواب میں عام لوگوں کی طرف سے پتھرائو کی شکل میں ’’سنگ بازی‘‘ کا سماں پیدا ہو جاتا ہے۔ اور پھر کیا کچھ نہیں ہوتا… جب فوج اور پولیس کے لیے سنگبازوں کی سنگبازی پریشانی بن جاتی ہے تو وہ نوجوانوں کی سنگ بازی کا جواب سنگ بازوں کو چھوڑ کر بزرگوں ، بچوں اور عورتوں کو دے دیتے ہیں … ان پر ایسے مہلک ہتھیار استعمال کرتے ہیں کہ ان پر گولی بھی نہیں چلتی لیکن ان کا دم گھٹتا ہے، بزرگوں کی حالت اس قدر خراب ہو جاتی ہے کہ جیسے جیتے جی موت ان پر سوار ہو چکی ہو۔ محلوں اور علاقوں میں ٹائیرگیس، پیپر گیس، پیلٹ گن کے چھرے اور اسی طرح کے دوسرے مہلک ترین ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں ۔ پھر …اسی پر بس نہیں ہوتا بلکہ مکانوں اور دکانوں کی توڑ پھوڑ… اور جو راہ چلتے مل جائے اس کی ہڑی پسلی ایک کر دی جاتی ہے۔

 یہ سب آج کی اس دنیا کے ایک اہم حصہ کشمیر میں ہو رہا ہے … سب دیکھ رہے ہیں … چاہے وہ کسی بھی ملک سے ہو… !دوسرے الفاظ میں کہیں تو ساری دنیا یہ تماشا دیکھ کر آپس میں ایسے گھپ شپ کرتے ہیں کہ جیسے یہ حقیقی واقعات نہیں بلکہ افسانوی اور فلمی دنیا کے سین ہوں ۔

اس سب کچھ کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت نام کی چیز شاید ختم ہو چکی ہے۔ وہ لوگ جو امن اور شانتی کی باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں … وہ لوگ جو انسانی حقوق کی باتیں کرتے ہیں … وہ لوگ جو ایک جانور اور کیڑے مکوڑے کی جان کا احترام کرتے ہیں …وہ سب جموں وکشمیر میں ہورہی اس الم ناک صورتحال کو کو کہانی جان کر انجان بنتے پھرتے ’’بھاشن‘‘ دیتے رہتے ہیں ۔ لیکن حقیقت میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر انہیں بات کرنے کی فرصت نہیں ۔

 صاف اور سیدھا سا مطلب ہے اس ساری کہانی کا، یہاں موجودہ دنیا میں کوئی کسی کا نہیں … ہر ایک جیتا ہے لیکن صرف اپنے لیے… کسی کو کسی کی فکر نہیں … اگر کوئی کسی کی مدد کرتا بھی ہے تو اس میں بھی اسی کا مفاد ہوتا ہے… مفادات کی اس دنیا میں جینے والے ممالک سے وابستہ حکمرانوں سے کسی قسم کی امید رکھنا لاحاصل سوچ ہے اور اس سوچ کا علاج جس قدر جلدی ہو سکے کرانا چاہیے۔ اپنی جنگ آپ لڑنی ہے اور اس لڑائی میں کسی کے کاندھوں کا سہارا اس وجہ سے لینا کہ وہ حقیقی سہارا ہے، غلط سوچ ہے۔ البتہ ایک سہارا وہ ہے جس کا ہاتھ تھامے رکھنے میں اس مرض کا علاج ہے، اس ساری مشکلات کا علاج ہے، اور وہ سہارا بس خدائے لم یزل کا سہارا ہے۔ جموں وکشمیر کے لوگوں کے لیے بس اسی سہارے چل کر آگے بڑھنا ہو گا کیوں کہ اس ایک سہارے کے علاوہ کوئی سہارا ہمارے درد کا ماداوا نہیں بن سکتا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close