کشمیر کا سچ: گراؤنڈ رِپورٹ (تیسری قسط)

ڈاکٹر قمر تبریز

ٹی وی والے بتاتے ہیں کہ کشمیری نوجوانوں کو پاکستان سے پیسے ملتے ہیں پتھر چلانے کے۔ ہندوستان کے لوگ کہتے ہیں کہ کشمیری غدار ہیں ۔ فوجی بیچارے مجبور ہیں کہ پتھر کھانے کے باوجود وہ اِن نوجوانوں پر گولی یا ڈنڈے نہیں چلا سکتے۔ اور کشمیری نوجوان نعرہ لگا رہے ہیں کہ انھیں ’آزادی چاہیے‘۔ آخر ماجرا کیا ہے؟

ویڈیو میں تمہارا بھی چہرہ ہے، بتاؤ چوکی کس نے جلائی

کشمیر کے اننت ناگ ضلع کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے دَمہال۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر غریب ہیں ۔ کھیتی اور مزدوری کرکے گزر بسر کرتے ہیں ۔ گاؤں میں ایسے دو چار ہی لوگ ہیں ، جن کے پاس سیب کے باغات ہیں ۔ ظاہر ہے، اس سے ان کی اچھی آمدنی ہو جاتی ہے، لہٰذا انھیں خوشحال کہا جا سکتا ہے۔ اسی گاؤں میں غلام حسن شاہ نام کے ایک چھوٹے کسان رہتے ہیں ۔ عمر ہے 57 سال۔ ان کے پاس تھوڑی سی زمین ہے، جس سے وہ اپنے گھر پر استعمال کے لیے سال بھر کا چاول پیدا کر لیتے ہیں ۔ باقی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے انھوں نے دو گائیں پال رکھی ہیں ۔ گائے کا دودھ بیچ کر وہ کچھ پیسہ کما لیتے ہیں ، جس سے گھر میں دال سبزی اور صابن تیل کا انتظام ہوتا ہے۔

غلام حسن شاہ کے دو بیٹے ہیں ۔ چھوٹا بیٹا مدثر شاہ 22 سال کا ہے۔ بارہویں پاس ہے۔ تندرست و توانا، اچھے ڈیل ڈول والا۔ پولس میں بھرتی ہونے کے لیے کئی بار کوشش کی۔ فزیکل ٹیسٹ تو پاس کر لیا، لیکن انٹرویو میں اس لیے پاس نہیں ہو سکا، کیوں کہ رشوت دینے کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں ہیں ۔ مدثر نے مجھ سے بتایا کہ کشمیر میں تقریباً تمام سرکاری محکموں میں رشوت خوری کھلے عام چلتی ہے۔ پولس میں بھرتی ہونے کے لیے اس سے 7 لاکھ روپے کی رشوت مانگی گئی۔ ظاہر ہے، ایک غریب کسان کا بیٹا اتنے پیسوں کا انتظام کہاں سے کرتا، اس لیے ابھی بھی بے روزگار گھوم رہا ہے۔ مدثر نے کئی بار آئی ٹی آئی کے لیے بھی فارم بھرے، لیکن ہر بار اس کا نام ویٹنگ لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اسے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ آخر اس کا نام ویٹنگ لسٹ میں ہر بار کیوں ڈال دیا جاتا ہے اور وہ کشمیر کے کسی آئی ٹی آئی کالج میں داخلہ لینے سے محروم رہ جاتا ہے۔ مدثر کو شک ہے کہ ہوسکتا ہے، یہاں بھی رشوت خوری چلتی ہو۔ ویسے، یہ بات سچ ہے کہ جموں و کشمیر میں رشوت خوری بڑے پیمانے پر چلتی ہے۔ آپ کسی بھی کشمیری سے پوچھ لیجئے، وہ اس کی تصدیق ضرور کرے گا۔ اسی طرح، جھوٹ بولنا کشمیر میں برا نہیں سمجھا جاتا۔ ہر بات پر اللہ کی قسم، خدا کی قسم اور قرآن پاک کی قسم کھانے والے کشمیری اتنی آسانی سے جھوٹ بولتے ہیں کہ آپ کو شک تک نہیں ہوگا۔ حالانکہ، اسلام میں جھوٹ بولنا گناہِ کبیرہ ہے۔ اسلام کا دَم بھرنے والے اور پکے سچے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے والے کشمیریوں کو توبہ کرنی چاہیے۔

بہرحال، مدثر ایک دن صبح سویرے اپنے گھر سے چار کلومیٹر دور، اننت ناگ کے مشہور سیاحتی مقام اچھہ بل میں اپنے ایک خریدار کو دودھ دینے کے لیے گھر سے نکلا۔ اس وقت سڑکوں پر زیادہ چہل پہل نہیں تھی۔ تبھی راستے میں کچھ فوجیوں نے مدثر کو پکڑ لیا، اپنی گاڑی میں بیٹھایا اور پاس کی ہی ایک فوجی چھاؤنی میں لے کر آ گئے۔ وہاں انھوں نے مدثر سے پوچھا کہ اس کے گاؤں میں گزشتہ دنوں جو پولس چوکی پھونکی گئی تھی، اس میں کون کون لوگ ملوث تھے۔ یہاں آپ کو بتاتا چلوں کہ پچھلے سال برہان وانی کو اسی اننت ناگ ضلع میں ایک انکاؤنٹر کے دوران مارا گیا تھا۔ اس کے بعد تقریباً پورے کشمیر میں ملی ٹینٹوں نے سینکڑوں پولس چوکیوں اور فوجی چھاؤنیوں کو آگ کے حوالے کر دیا تھا۔ پولس اسٹیشن سے اسلحے لوٹ لیے تھے۔ بینکوں اور اے ٹی ایم کو لوٹا گیا تھا۔ لوگ بتاتے ہیں کہ اس لوٹ مار میں ملی ٹینٹوں کا ساتھ سماج کے بگڑے ہوئے شرپسند نوجوانوں نے بھی دیا تھا۔ پولس چوکی سے لوٹے گئے اسلحے بعد میں گاؤں دیہات کے بزرگوں کے سمجھانے پر پولس کو بعض جگہ واپس بھی لوٹا دیے گئے تھے۔ ابھی کشمیر میں جتنے بھی ملی ٹینٹ سرگرم ہیں ، ان کے پاس زیادہ تر اسلحے اسی لوٹ پاٹ سے حاصل کیے گئے ہیں ۔

اننت ناگ ضلع کے دَمہال گاؤں میں بھی ایک پولس چوکی کو پھونکا گیا تھا اور اسلحے لوٹے گئے تھے۔ بعد میں ان میں سے کچھ اسلحے، جو گاؤں والوں کے گھروں میں رکھے گئے تھے، اسے انھوں نے پولس کو لوٹا دیا تھا۔ لہٰذا، مدثر سے اُس دن فوجی اسی بابت سوال کر رہے تھے۔ مدثر کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعہ میں ملوث نہیں تھا، لیکن فوجیوں نے اسے چھاؤنی میں بری طرح مارنا شروع کیا۔ اس سے کہا کہ ان کے پاس ایک ویڈیو ہے، جس میں اس کا بھی چہرہ ہے۔ لیکن، مدثر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ان کے سامنے گڑگڑاتا رہا۔ فوجیوں نے اس کا شناختی کارڈ بھی چھین لیا اور ابھی تک نہیں لوٹایا ہے۔ کافی دیر تک اسے مارنے پیٹنے کے بعد فوجیوں نے مدثر سے پوچھا کہ دودھ لے کر کہاں جا رہے تھے۔ اس پر مدثر نے جواب دیا کہ اچھہ بل میں آپ کی ہی فوج سے ریٹائرڈ ایک بزرگ ہیں ، انھیں کے گھر جا رہا تھا دودھ لے کر۔ یہ سن کر ان فوجیوں کو بڑی شرمندگی ہوئی۔ پھر، اچانک مدثر کے تئیں ان کا رویہ پوری طرح بدل گیا۔ انھوں نے اس کے ہاتھ منھ دھلوائے، اسے بسکٹ وغیرہ کھلایا اور بولے کہ اس واقعہ کا ذکر کسی سے مت کرنا۔ اس کے بعد یہ فوجی مدثر کو اپنی گاڑی میں بیٹھا کر اچھہ بل چھوڑ گئے۔

مدثر ڈرا ہوا تھا۔ اس کو جہاں دودھ پہنچانا تھا، پہنچا دیا، لیکن وہاں کسی سے اس بات کا ذکر نہیں کیا۔ واپس گھر پہنچ کر اپنے والد غلام حسن شاہ کو پورا واقعہ بتایا۔ انھیں کافی غصہ آیا۔ اگلے دن وہ ان فوجیوں کے پاس پہنچے اور بولے کہ لکھو، میں ان تمام لوگوں کے نام بتاتا ہوں ، جنہوں نے پولس چوکی کو پھونکا تھا۔ جب انھوں نے پورے گاؤں والوں کا نام لکھوانا شروع کیا، تو فوجی بھی پریشان ہو گئے۔ غلام حسن شاہ نے مجھے بتایا کہ وہ کئی دنوں تک ان فوجیوں کے پاس چکر لگاتے رہے کہ وہ ان کے بیٹے کا شناختی کارڈ لوٹا دیں ، لیکن انھوں نے نہیں لوٹایا۔ آخرکا، تھک ہار کر انھوں نے مدثر کا اب نیا شناختی کارڈ بنوا لیا ہے۔ یہی وہ اسباب ہیں، جو کشمیری نوجوانوں کو پتھر بازی پر اُکساتے ہیں، جب کہ اصلی گنہگار آج کھلے عام کشمیر میں گھوم رہے ہیں اور بڑی بڑی وارداتوں کو انجام دے رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ساری غلطی فوج اور پولس کی ہی ہے۔ ہاں ، اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ غلطی دونوں طرف سے ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے کشمیر کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ مسئلہ کا حل ڈھونڈنے کی سنجیدہ کوشش کسی بھی گوشے سے نہیں ہو رہی ہے، بلکہ صرف سیاست ہو رہی ہے۔

کشمیر میں مدثر جیسے ہزاروں نوجوان ہیں ، جو فوج اور پولس کے ذریعہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی کہانی بیان کرتے ہیں ۔ 16 جون کو صبح میں سرینگر کی ڈل جھیل میں 2-3 گھنٹے گزارنے کے بعد میں تقریباً 12 بجے اننت ناگ کے اچھہ بل پہنچ چکا تھا۔ وہیں میں نے جمعہ کی نماز ادا کی اور شام کو جب وہاں سارے لوگ افطاری کی تیاری کر رہے تھے، تبھی شام 7 بجے اچانک گولیوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں ۔ پانچ دس منٹ کے اندر ہی پتہ چلا کہ وہاں سے دو کلومیٹر دور، کولگڑھ کے مقام پر ملی ٹینٹوں نے اچھہ بل کے ایس ایچ او کی ٹیم پر حملہ کر دیا ہے۔ آنا فاناً میں ساری دکانیں بند ہوگئیں ، سڑکیں اور بازار خالی ہوگئے۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف بھاگے، اس خوف سے کہ کچھ ہی دیر میں فوج کا سرچ آپریشن شروع ہو جائے گا۔ اسی خوف کے عالم میں ہم سب نے افطار کیا۔ مغرب کے بعد پتہ چلا کہ کولگڑھ میں ملی ٹینٹوں کے حملے میں اچھہ بل کے 35 سالہ ایس ایچ او فیروز احمد سمیت چھ پولس والے مارے گئے ہیں ۔ اتنے بڑے حادثہ کو انجام دینے کے بعد ملی ٹینٹ وہاں سے فرار ہونے میں بھی کامیاب رہے۔ کئی دنوں بعد جاکر پتہ چلا کہ اس حملے کا گنہگار بشیر لشکری کسی دوسری جگہ سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں مارا گیا۔

اس واقعہ کے اگلے دن میں نے کئی لوگوں سے بات کی اور جاننا چاہا کہ پولس والے بھی تو کشمیری ہی ہیں ، پھر کشمیری ملی ٹینٹ اپنے ہی بھائیوں کو کیوں مار رہے ہیں ؟ کولگڑھ میں مارے گئے اچھہ بل کے ایس ایچ او کے بارے میں وہاں کے زیادہ تر لوگوں کی رائے اچھی نہیں تھی۔ مقامی لوگوں نے ان کے خلاف جو الزامات لگائے، میں ان کا یہاں ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ ہاں ، اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ ملی ٹینٹ حملے میں فیروز احمد کے مارے جانے پر مقامی لوگوں کو بہت زیادہ افسوس نہیں تھا۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ ملی ٹینٹوں نے فیروز احمد کو تقریباً 10 دن پہلے ہی الٹی میٹم دے دیا تھا کہ وہ ان کو نشانہ بنانے والے ہیں ۔

حیرانی مجھے اس بات کی تھی کہ اننت ناگ شہر سے اچھہ بل کو جانے والی سڑک پر دن کے اجالے میں ملی ٹینٹوں نے اتنے بڑے واقعہ کو انجام دیا۔ ان کی یہ کارروائی تقریباً دو گھنٹے تک چلتی رہی، پھر بھی اُس پولس پارٹی کی مدد کے لیے اس وقت نہ تو کوئی دوسری پولس ٹیم پہنچی اور نہ ہی کوئی فوجی یا نیم فوجی دستہ۔ جب کہ اس وقت سب کو معلوم ہے کہ کشمیر کا اننت ناگ ضلع ’ہاٹ بیڈ‘ بنا ہوا ہے۔ وہاں تقریباً ہر روز کہیں نہ کہیں ملی ٹینٹوں اور سیکورٹی دستوں کے درمیان کوئی نہ کوئی بڑا حادثہ ضرور پیش آتا ہے۔ ابھی حال ہی میں اسی اننت ناگ ضلع میں امرناتھ یاتریوں کی ایک بس پر بھی حملہ کیا گیا، جس میں 7 یاتریوں کی ہلاکت اور متعدد دیگر کے زخمی ہونے کی خبر ملی اور اب پورے ملک میں اس کی مذمت ہو رہی ہے۔

ایسے میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آج پورے کشمیر میں ملی ٹینٹ کیوں کھلے عام گھوم رہے ہیں ، کون انھیں پناہ دے رہاہے؟ کشمیریوں کے دل سے موت کا ڈر کیوں نکل چکا ہے اور فوجی کیوں سہمے ہوئے ہیں؟ سیاست کون کر رہا ہے؟

’’جب ایک فوجی نے کہا، سنبھل کر جانا …‘‘-  پڑھیں اگلی قسط میں ۔



⋆ قمر تبریز

قمر تبریز
ڈاکٹر قمر تبریز کا تعلق سیتا مڑھی بہار سے ہے۔ آپ معروف صحافی اور قلم کار ہیں اور راشٹریہ سہارا، عالمی سہارا، چوتھی دنیا، اودھ نامہ اور روزنامہ میرا وطن سمیت مختلف اخبارات سے وابستہ رہ چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے