نقطہ نظر

کشمیر کے پھولو! اپنے کو برباد نہ کرو

ہم اپنے کشمیری بھائیوں اور بیٹوں سے دل کے درد کے ساتھ کہتے ہیں کہ جن لیڈروں نے آزادی کا خواب دکھایا ہے ان کا احترام تو کرو لیکن ان سے یہ بھی معلوم کرو کہ جب حیدر آباد آزاد ریاست نہ رہ سکی تو کشمیر کو کون آزاد کردے گا؟

حفیظ نعمانی

ہندوستان کا کوئی مسلمان ایسا نہیں ہوگا جسے کشمیری مسلمانوں سے محبت نہ ہو اور ان کی جوان لاشوں کا بوجھ وہ اپنے کاندھوں پر نہ محسوس کرتے ہوں۔ اس وقت ہندوستانی بر ّی فوج کے سربراہ جنرل راوت کا وہ انٹرویو سامنے ہے جو انہوں نے انڈین ایکسپریس کو دیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کشمیر کو آزادی ملنے کے بارے میں سوچنا بھی خود فریبی ہے۔ جو لوگ یہ نعرہ لگا رہے ہیں وہ کشمیری نوجوانوں کے بھی دشمن ہیں اور ملک کے بھی۔

ہم کشمیر سے اندرونی طور پر کیا واقف ہوتے کہ قدرت نے یہ انتظام کردیا کہ ہمارے بھتیجے میاں عبید الرحمن جو دہلی میں مرکزی حکومت کے ایک اہم عہدہ پر تھے ان کا تبادلہ جموں کردیا گیا۔ وہ تین سال جموں میں رہے پھر انہیں سری نگر بھیج دیا گیا اس طرح جموں اور کشمیر کو چھ برس انہیں اندر سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ بھی خوش نصیبی تھی کہ وہ پریس انفارمیشن کے چیف تھے جن کا سابقہ اخبارات، رسائل اور میڈیا کے ہر شعبہ سے رہتا تھا۔ ان سے ملی ہوئی معلومات کے بعد سوائے سر پکڑکر رونے کے اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ سیکڑوں واقعات اور معلومات میں سے معاملہ کو سمجھنے کے لئے بس اتنا کافی ہے کہ نوجوان لڑکوں نے اسے تفریح کا موضوع بنا لیا ہے کہ چند لڑکے اچھے خاصے کسی ہوٹل میں بیٹھے چائے پی رہے ہیں اور آپس میں باتیں کررہے ہیں۔ پھر جب اٹھیں گے تو سب مل کر نعرہ لگائیں گے آزادی۔ آزادی۔ آزادی۔ اور اپنے اپنے ٹھکانوں پر چلے جائیں گے۔

کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ وہ آزادی جس کے لئے سرنگوں میں چھپ کر منصوبے بنائے جاتے ہیں مسلمانوں کے وہ کشمیری ہوں یا غیرکشمیری بزرگوں نے ریشمی رومال کی تحریک چلائی یا روٹی تحریک چلائی اور ناکام ہوئے تو برسوں انگریزوں کی قید میں گذارے یا مالٹا میں برسوں نظر بند رہے یا مولانا حسرت موہانی کے بقول؎

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی

اک طرف تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی

یا مولانا اسماعیل اور مولانا عبدالقیوم کا یہ بیان کہ کولھو چلاتے چلاتے اتنا پسینہ بہہ جاتا تھا کہ خود اپنے پائوں پھسلنے لگتے تھے۔ یا اپنے ملک سے دور کتنے بزرگ گرفتار کرکے مالٹا بھیجے گئے جہاں سے پھر نہ وہ واپس آئے اور نہ ان کی کوئی خبر آئی۔

آزادی کا نعرہ کوئی فلمی گانا ہے جسے کشمیری نوجوانوں نے تفریح یا ملک کی حکومت اس کے لیڈروں اور فوج کے افسروں کو چڑانے کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ شیخ محمد عبداللہ واقعی آزادی چاہتے تھے لیکن کشمیر کے اس وقت کے بعض لیڈر کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں جیسا کہ تھوڑا سا حصہ پاکستان کے قبضہ میں ہے۔ لیکن آج کے تعلیم یافتہ کشمیری نوجوانوں کو ہندوستان کی تاریخ پڑھنا چاہئے کہ جب ملک کی تقسیم کا فیصلہ ہوا تو ریاستوں کے بارے میں یہ طے ہوا کہ جس کی سرحد جس ملک سے ملتی ہو اور جس کے راجہ یا نواب اور باشندوں کی اکثریت جس ملک کے ساتھ جانا چاہے وہ اس ملک کا حصہ ہوجائے۔ یہ بھی تاریخ ہے کہ حیدر آباد سے انگریزوں کا معاہدہ تھا کہ وہ جب جائیں گے تو اسے آزاد کرکے جائیں گے۔ لیکن حیدر آباد نے آزادی کے لئے لاکھوں جانیں قربان کردیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انگریز نے جب جانے کا فیصلہ کیا تو ان کے اقتدار کی وہ حیثیت نہیں رہ گئی تھی کہ وہ طاقت کے بل پر اپنی بات منوا سکیں۔ حیدر آباد کے مسلمانوں نے ناسمجھی کی اور سردار پٹیل نے خون کی ندیاں بہادیں۔ اور آج مسلمانوں کی وہ سب سے بڑی ریاست ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ہے۔

یہ کشمیری نوجوانوں کو سوچنا چاہئے کہ جب حیدر آباد آزاد نہ رہ سکا تو کشمیر کو کون آزادی دے دے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ پنڈت نہرو نے ایک بار نہیں بار بار کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کرائی جائے گی اور کشمیر کا فیصلہ کشمیری کریں گے۔ لیکن کشمیر کے بیٹوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ پنڈت نہرو بھی ہندو تھے انہیں بھی یاد تھا کہ وہ اور ان کے باپ دادا آٹھ سو برس مسلمانوں کے غلام رہے ہیں۔ یہ بات بحث کی ہے کہ مسلمان بادشاہوں کا رویہ کیسا تھا؟ آج ہندوستان میں بچوں کو جو پڑھایا جارہا ہے وہ اس کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کے اقتدار کی کیسی تصویر پیش کی جارہی ہے۔

ہم اپنے کشمیری بھائیوں اور بیٹوں سے دل کے درد کے ساتھ کہتے ہیں کہ جن لیڈروں نے آزادی کا خواب دکھایا ہے ان کا احترام تو کرو لیکن ان سے یہ بھی معلوم کرو کہ جب حیدر آباد آزاد ریاست نہ رہ سکی تو کشمیر کو کون آزاد کردے گا؟ اور پاکستان سے جو لیڈر رشتہ جوڑنا چاہتے ہیں کیا انہیں یہ نظر نہیں آرہا کہ وہ پاکستان جس کے معنیٰ لاالہ الااللہ بتائے گئے تھے اس کے سربراہ زرداری، مشرف، نواز شریف اور عمران خاں جیسے لوگوں میں سے کوئی بنے گا۔ کیا ان میں کوئی ایک بھی ہے جو نماز پڑھتا ہو، روزے رکھتا ہو یا اسلام کی بنیادی باتوں پر عمل کرتا ہو؟ کئی برس ہوئے آصف زرداری صدر کا الیکشن جیتے تھے جس وقت نتیجہ سنایا گیا تو دن کے تین بجے تھے رمضان شریف کا مہینہ تھا ہم نے خود ٹی وی پر دیکھا کہ مٹھائی کے ڈبوں کے ساتھ عورتوں نے ان کو مٹھائی کھلائی اور بھنگڑہ ناچ ناچا۔ یہی زرداری جن کی بیوی بے نظیر وزیراعظم تھیں تو ان کو مسٹر دس فیصدی کہا جاتا تھا۔ نواز شریف سب سے بڑے بے ایمان اور عمران خان کی تیسری دیندار عبادت گذار بیوی دو چار مہینے بھی نہ رہ سکیں اور اب انکے گھر میں ان کے پیارے کتے واپس آگئے۔

کشمیر کے پھول کی طرح خوبصورت بچوں سے اس کے علاوہ کیا کہیں کہ پنڈت نہرو پر بھروسہ کرکے صرف شیخ عبداللہ نے ہی دھوکہ نہیں کھایا بلکہ ہر اس مسلمان نے کھایا جو ان کے برہمن خون سے واقف نہیں تھا اور جنہوں نے مسٹر جناح کی مخالفت کی اور آخر تک پاکستان بننے کے خلاف رہے۔ پھر جب حکومت ان کے ہاتھ میں آگئی تو بقرعید سے دو دن پہلے رات کے 12  بجے دارالعلوم دیوبند میں گایوں کے لئے چھاپہ مارا۔ اور قربانی کے مسائل کا جو اشتہار چھپا تھا اس میں لکھا تھا کہ گائے بھینس اور اونٹ میں سات حصے ہوتے ہیں اسے اس لئے ضبط کرلیا کہ گائے کیوں لکھا؟ یہ وہی دیوبند تھا جہاں کانگریس کا ہر بڑا لیڈر حضرت مدنی کی تاریخ کیلئے ماتھا رگڑتا تھا۔ شیخ عبداللہ نے دھوکہ کھایا تو وہ بھی انسان تھے اور نہرو جی کو مسلمانوں کا دوست سمجھتے تھے۔ ہم ہاتھ جوڑکر اپیل کرتے ہیں کہ خدا کیلئے پتھر پھینک دو اور اس آزادی کیلئے جان قربان نہ کرو جو کبھی نہیں ملے گی۔

ہندوستان میں کشمیر کے علاوہ جو کروڑوں مسلمان ہیں ان سے بھی کہا گیا تھا کہ جو مسلمان ہندوستان میں رہیں گے وہ سب کے برابر ہوں گے۔ لیکن کشمیری مسلمان دیکھ رہے ہیں کہ ہریانہ میں اس پر وبال ہورہا ہے کہ سرکاری زمین پر نماز کیوں پڑھ رہے ہو؟ اُترپردیش میں ہائی کورٹ اور حکومت کا حکم ہے کہ اذان کی آواز لائوڈ اسپیکر سے اتنی ہلکی ہو کہ عمارت کے باہر نہ جائے مسلم یونیورسٹی بند پڑی ہے کہ مسٹر جناح کا فوٹو 1938 ء سے کیوں لگا ہوا ہے؟ جامعہ ملیہ اسلامیہ پر حملے ہورہے ہیں کہ اقلیتی کردار ختم کیا جائے۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن ہندوستان کے مسلمان اللہ کی عبادت کے لئے مسجدوں کی طرف دوڑ رہے ہیں اور اپنے محلہ کی مسجد کو عالیشان بنا رہے ہیں اور سب کچھ اپنے پروردگار سے مانگ رہے ہیں۔ ہم یہی مشورہ اپنے کشمیریوں کو دیں گے کہ بڑوں کی غلطی کی بات نہ کرو انہیں دھوکہ دیا گیا ہے۔ دھوکہ دینا بیشک گناہ ہے لیکن دھوکہ کھانا انسان کی مجبوری ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close