نقطہ نظرہندوستان

کشمیر 2017: غموں کی گھٹائیں مصائب کی آندھی

ابراہیم جمال بٹ

نہایت افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ سال رواں (2017ء)کے پہلے نصف حصہ میں کشمیر جابجا مقتل بنا رہا، مقتل بھی ایسا کہ جس میں نہ صرف نہتے مقامی جوان جان بحق ہوئے بلکہ عسکریت سے وابستہ جنگجو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس کی بھینٹ چڑھتی رہی اور اس کے علاوہ علاقائی پولیس سے وابستہ کئی اہلکار بھی ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ بھارتی فوج سے وابستہ کئی نوجوان بھی کام آئے۔ گزشتہ چھ ماہ میں کہیں عسکریت پسندوں کے ساتھ مسلح جھڑپیں ہوئیں، کہیں احتجاجی مظاہرین پر گولیاں چلیں، جب کہ کہیں کہیں پر پولیس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان سارے خو نریز واقعات میں من جملہ انسانیت لہو لہاں ہوتی رہی ہے۔ جنگجوئوں اور فوج کے درمیان انکائونٹر کے مقامات پر ایک طرف گولیاں اور مارٹر شیلنگ ہوئی، دوسری جانب فورسز کے خلاف عین مسلح تصادموں کے دوران عوامی مظاہرے پھوٹتے ہیں، اس بیچ ایک جانب کشمیری جنگجو نوجوان مارے جاتے ہیں اور دوسری جانب عوام گولہ باری کی زد میں آتے ہیں، مظاہرین پر گولیاں اورپیلٹ چھروں کا استعمال بالعموم ہو تا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف جنگجو نوجوانوں کا لہو سرزمین وطن کو ترکر تا ہے بلکہ عام انسان کی جانیں بھی تلف ہوجاتی ہیں، کئی ایک زخمی ہوکر عمر بھر کے لئے معذور بھی ہوجاتے ہیں۔ بھارتی فوج اور پولیس سے وابستہ اہلکار بھی اس مقتل کی نذر ہو جاتے ہیں۔ رواں سال کے چھ ماہ اسی مقتل کی آدم خوری میں گزر گئے۔

غرض یہ کہ وادیٔ کشمیر میں انسانیت کا خون اس قدر سستا ہوتا جارہا ہے مگر ارباب ِ اقتدار میں سے کسی کو بھی فکر ہے نہ غم کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ان چھ ماہ کے دوران کشمیر وادی کی زمین اس خون انسانی سے اتنی تر بتر ہوگئی کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہاں کے ندی نالے اب پانی کے بجائے خون اُگل دیں گے۔ عسکریت پسند، عام شہری اور پولیس وفوجی اہلکاروں کے مارے جانے کی خبریں آئے روز کا معمول بن چکا ہے۔ ڈر اور خوف کی اس کیفیت میں کرسی والوں کی طرف سے دعوے ہورہے ہیں کہ ’’کشمیر کے حالات جلد ہی سدھر جائیں گے‘‘ مگر زمینی سطح پر حقائق انہیں جھٹلا رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ انسانیت کے اس بہتے لہو کو روکنے کی تدابیریں اختیار کی جاتیں، اس میں مزید اضافہ لانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے حالیہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کشمیر وادی میں فوج کو عسکریت سے وابستہ نوجوانوں کو ختم کرنے کے لیے تین ماہ کا وقفہ دیا جاتا ہے۔ اسی مہلت کا نتیجہ ہے کہ جموں وکشمیر میں قتل وغارت گری کا بازار گرم ہو چکا ہے۔ ماہ جنوری سے عموماً اور ماہ جون کی ابتدا سے لے کر آج تک خصوصاًہر روز کسی نہ کسی طرح انسانیت کا قلع قمع کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

یکم جنوری کو جب صبح لوگوں نے اخبار اٹھایا تو سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ ’’چوگل ہندوارہ میں پولیس پار ٹی پر ایک حملے کے دوران پولیس اہلکار بنام عبد الکریم مارا گیا۔اسی طرح 6؍ جنوری کو ماچھو بڈگام میں ایک جھڑپ کے دوران مقامی جنگجو کمانڈر مظفر اقبال نائیکو عرف مظہ مولوی مارا گیا۔ 10؍ جنوری کو حاجن میں ایک جھڑپ کے دوران ایک غیر شناخت شدہ جنگجو مارا گیا۔ 16؍جنوری کو آوورہ پہلگام میں ایک خون ریز جھڑپ کے دوران تین مقامی جنگجو عادل احمد ریشی ساکن بجبہاڈہ، عابد احمد شیخ ساکن تکی پورہ اور مسعود احمد شاہ ساکن بیورہ بجبہاڈہ جان بحق ہو گئے۔19؍جنوری کو حاجن میں فوج کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران ایک جنگجو ابو موسیٰ عرف مصعیب مارا گیا۔ 24؍ جنوری کو ایک خون ریز جھڑپ کے دوران شہامہ آلسٹینگ میں دو جنگجو جان بحق ہو گئے۔

جنوری کے بعد ماہ فروری کی 4؍ تاریخ کو سوپور میں ایک جھڑپ کے دوران مقامی جنگجو اظہر خان عرف غازی عمر ساکن نتہ نوسہ کپوارہ اور سجاد احمد لون عرف بابر ساکن عادی پورہ بومئی سوپور حیات جاوداں پاگئے۔ 12؍ فروری کے دن ایک خون ریز جھڑپ میں چار جنگجوجن میں مدثر احمد عرف عاصم ساکن ریڈونی بالا، وکیل احمد ٹھاکر ساکن ہری گام، فاروق احمد بٹ ساکن چک داسند اور محمد یونس لون ساکن ہاورا کولگام کے علاوہ دو عام شہری اشفاق مجید ریشی ساکن بجبہاڈہ اور مشتاق احمد یتو ساکن سری گفوارہ بجبہاڈہ جان بحق ہوگئے۔ اس کے علاوہ دو بھارتی فوجی بھی اس جھڑپ میں کام آگئے۔ اسی طرح کے دواور واقعات میں 14؍ فروری کوحاجن اور ہندواڑہ میں جھڑپوں کے دوران تین فوجی اور چار جنگجو از جان ہو گئے۔ 23؍ فروری کو شوپیان میں ایک جھڑپ کے دوران ایک عام خاتون جانہ بیگم ساکن چتراگام شوپیان کے علاوہ چار فوجی از جان ہو گئے۔

ماہ مارچ کی 4؍تاریخ کو جب لوگوں نے صبح اخبار پڑھا تو ایک بڑی خبر یہ پائی کہ ’’مرن چوک پلوامہ میں گرنیڈ حملہ، جس کے نتیجے میں ایک راہ گیر محمد ایوب وانی ساکن گوسو پلوامہ شہید ہو گیا۔ ۵؍مارچ کو ترال میں ایک معرکہ کے دوران دو جنگجو عاقب احمد بٹ عرف عاقب مولوی ساکن ہائن ترال اور ایک غیر ملکی جنگجو جان بحق ہو گئے جب کہ اس دوران ایک پولیس اہلکار منظور احمد ساکن سلام آباد اوڈی بھی مارا گیا۔ ۹؍مارچ کو پدگام پورہ پلوامہ میں ایک جھڑپ کے دوران ۲؍عام شہری جن میں نویں جماعت کا طالب علم عامر نذیر وانی ساکن کاکہ پورہ پلوامہ اور23؍ سالہ نوجوان جلال الدین ساکن ٹہب پلوامہ کے علاوہ دو جنگجو جہانگیر احمد گنائی عرف سیف اللہ ساکن قوئل پلوامہ اور محمد شفیع وگے عرف احسان ساکن بانڈی پورہ پلوامہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ 15؍ مارچ کے دن کپواڑہ میں ایک جھڑپ کے دوران ایک معصوم بچی کنیزہ دختر خوشی محمد ساکن بٹہ پورہ ہایہامہ کپواڑہ کے علاوہ تین جنگجو جان بحق ہو گئے۔ 26؍ مارچ کو پدگام پورہ پلوامہ میں ایک خون ریز جھڑپ کے دوران 2؍جنگجو فاروق احمد حرا ساکن نازنین پورہ شوپیان اور رئیس احمد کاچرو ساکن بلوراجپورہ پلوامہ جان بحق ہو گئے۔ 28؍ مارچ کو ایک جھڑپ کے دوران ایک جنگجو توصیف احمد ماگرے ساکن کولگام کے علاوہ تین عام نوجوان زاہد رشید گنائی ساکن باربگ چاڈورہ، عامر فیاض وازہ ساکن وازہ محلہ واتھورہ چاڈورہ اور اشفاق احمد ساکن رنگریٹ جان بحق ہوگئے۔

ماہ اپریل کی تیسری تاریخ کے دن اخبار کی سرخیوں میں ایک اہم سرخی یوں تھی ’’نوہٹہ میں پولیس پارٹی پر حملے کے دوران ایک پولیس اہلکار شمیم احمد ساکن گریز بانڈی پورہ ہلاک‘‘   ضمنی انتخابات کے سلسلے میں 9؍ اپریل کے روز الیکشن بائیکاٹ کے دورا ن فورسز کی فائرنگ سے 8؍ عام شہری جانیں گنوا بیٹھے۔ 15؍اپریل کو بتہ مالو سرینگر میں ایک راہ گیر سجاد حسین شیخ ساکن چندوسہ دودھ بگ بارہمولہ پر اندھا دھند فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔ مذکورہ نوجوان فٹ پاتھ پر وازہ وان بیچتا تھا۔ 22؍ اپریل کو چاڈورہ معرکہ آرائی میں 2؍جنگجو یونس مقبول گنائی ساکن باتری گام چرار شریف اور غیر ملکی ابو علی جان بحق ہو گئے۔ اسی طرح 30؍ اپریل کو خانیار سرینگر میں پولیس پارٹی پر ایک حملے کے دوران ایک عام شہری غلام محمد خان ساکن الٰہی باغ سرینگر جو کہ 45؍ سال کا تھا جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

اپریل کے بعد ماہ مئی کی 2؍ تاریخ کو جنوبی کشمیر کے پم بائی کولگام میں جموں وکشمیر بنک کی کیش گاڑی کے ساتھ پولیس گاڑیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 5؍پولیس اہلکار اور 2؍بنک ملازمین جان گنوا بیٹھے۔ مارے گئے پولیس اہلکار میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر بشیر احمد، کانسٹیبل فاروق احمد، کانسٹیبل محمد قاسم، کانسٹیبل مظفر احمد اور کانسٹیبل اشفاق احمدشامل تھے جب کہ 2؍بنک ملازمین مظفر احمد لاوے اور جاوید احمد ڈار تھے جو جان بحق ہوئے۔ 5؍مئی کو کپواڑہ میں فورسز کیمپ پر فدائن حملہ کے بعد جب مقامی آبادی جنگجوؤں کی لاشوں کا مطالبہ کرنے کے لیے احتجاج کر رہے تھے تو فوج نے لوگوں پر اپنی طاقت کا استعمال کر کے 60؍سالہ بزرگ محمد یوسف بٹ ساکن پنزگام کپواڑہ کو جاں بحق کردیا۔ اسی دوران 5؍ مئی کو باس کجن شوپیان میں فوجی جو کہ ایک سول سومو گاڑی میں سوار ہو چکے تھے پر گولیوں کی بوچھاڑ کے نتیجے میں سومو ڈرائیور نظیر احمد شیخ ولد احد شیخ ساکن کچہ ڈورہ شوپیان جان سے گیا۔ 6؍مئی کو میر بازار اسلام آباد میں ایک خونریز جھڑپ کے دوران لشکر کمانڈر فیاض احمد جان کے علاوہ ایک عام شہری محمد حسین ڈار ساکن ملہ پورہ اسلام آباد جان بحق ہو گئے۔ 14؍مئی کو واری پورہ ہندوارہ میں ایک مختصر سی جھڑپ کے دوران 2؍جنگجو جان بحق ہو گئے۔ 19؍مئی کو گڈورا پلوامہ میں ایک نوجوان محمد یوسف لون کی پراسرار طور پر ہلاکت ہوئی جس کے بارے میں لوگوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورسز کی طرف سے زیر حراست قتل ہے۔ 27؍ مئی کو سیمو ترال میں ایک خون ریز جھڑپ کے دوران دو جنگجو جاں بحق ہو گئے جن میں ایک معروف نوجوان حزب کمانڈر سبزار احمد بٹ اور اس کا ساتھی فیضان احمد ساکنان ترال شامل تھے۔ جب کہ اسی لمحے احتجاج کے دوران ایک نوجوان عاقب احمد ساکن ترال اور ایک اور نوجوان حافظ قرآن عاقب مولوی پر راست گولیاں چلا کر انہیں ابدی نیند سلا دیا گیا۔ ماہ مئی کی آخری تاریخ کو آرونی میں مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں 2؍شہری جان بحق ہو گئے۔

یکم جون سوپور میں ایک خون ریز معرکہ آرائی میں دو جنگجو اعجاز احمد میر ساکن براٹھ کلاں سوپور اس کے اس کا ساتھی بشارت احمد شیخ ساکن بومئی سوپور ابدی نیند سلا دئے گئے۔ 3؍جون کو جموں شاہراہ پر قاضی گنڈ کے قریب فوجی کانوائے پر اچانک حملے کے دوران دو فوجی مارے گئے۔ 5؍جون کو سمبل بانڈی پورہ میں ایک فدائن حملے کے دوران چار جنگجو مارے گئے۔۶؍جون کو غنہ پورہ شوپیان میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان ایک جھڑپ میں ایک مقامی 16؍ سالہ نوجوان عادل فاروق ماگرے جان بحق ہو گیا۔

یکم جون سوپور میں ایک خون ریز معرکہ آرائی میں دو جنگجو اعجاز احمد میر ساکن براٹھ کلاں سوپور اس کے اس کا ساتھی بشارت احمد شیخ ساکن بومئی سوپور ابدی نیند سلا دئے گئے۔ 3؍جون کو جموں شاہراہ پر قاضی گنڈ کے قریب فوجی کانوائے پر اچانک حملے کے دوران دو فوجی مارے گئے۔ 5؍جون کو سمبل بانڈی پورہ میں ایک فدائن حملے کے دوران چار جنگجو مارے گئے۔۶؍جون کو غنہ پورہ شوپیان میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان ایک جھڑپ میں ایک مقامی 16؍ سالہ نوجوان عادل فاروق ماگرے جان بحق ہو گیا۔ 16؍جون کو آرونی میں مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں 14؍ سالہ معصوم سمیت دو نوجوان جان بحق ہو گئے۔ اسی دوران اچھہ بل اسلام آبادمیں پولیس گاڑی پر دھاوا بول کر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت ۶؍پولیس اہلکار جن میں فیروز احمد ڈار ایس ایچ او، کانسٹیبل شبیر احمد، کانسٹیبل تصویر احمد، کانسٹیبل شیراز احمد، ایس پی اومحمد آصف، ایس پی او سبزار احمد شامل ہیں، کی جانیں چلی گئیں۔ 21؍جون کو سوپور میں ایک معرکہ آرائی کے دوران دو جنگجو گلزار احمد لون عرف ابراہیم اور باسط احمد میر عرف طاہر اابدی نیند سوگئے۔ 22؍جون کو کاکہ پورہ میں فوج کے ساتھ جھڑپ کے دوران تین جنگجو جان بحق ہو گئے۔ 23؍ جون کو جامع مسجد سرینگر کے باہر ایک ڈی ایس پی پولیس محمد ایوب پنڈت کو مشکوک حالات میں موت کے گھاٹ اْتارا دیا گیا۔ 24؍جون کو پانتہ چھوک میں سی آر پی ایف گاڑی پر حملہ کر کے ایک فورسز اہلکار کو ہلاک کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ وہ جانیں جو سرحدی علاقوں میں تصادم وغیرہ کے دوران چلی جاتی ہیں جن میں جنگجو وفوجی اہلکار دونوں شامل ہیں، کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔ مزید پوری وادی میں ان واقعات کے دوران سینکڑوں کی تعداد میں احتجاج کر رہے عام لوگوں پر طاقت کا استعمال کر  کے زخمی کر دیا گیا جن میں کئی درجنوں نوجوان ایسے زخمی ہوچکے ہیں کہ ابھی تک یا تو ہسپتالوں میں پڑے ہوئے ہیں یا گھر وں میں معذوری جیسی صورت حال کی زندگی جی رہے ہیں۔ گزشتہ شش ماہی دورانیہ کی سرسری اور جزوی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ کشمیر کی جنگ میں عام لوگوں کے علاوہ فوجی اور پولیس اہلکار بھی ہمیشہ کے لئے آنکھیں موندھ گئے ہیں۔ انسانیت کے ناطے دیکھیں تو ہر باضمیر انسان کی آنکھ مقتل ہائے کشمیر کی مصروفیت پرخون کے آنسو بہا تا نظر آ رہی ہے۔ اگرچہ یہ سلسلہ برابر 1989ء سے جاری ہے تاہم حالیہ چھ ماہ کے دوران جو آئے روز قتل وغارت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت قطعی طور دلچسپی نہیں رکھتی ہے کہ کشمیر کا حل ڈھونڈ کر برصغیر میں امن امان بحال ہو۔

 اگرچہ بھارت کی مرکزی حکومت کی طرف سے بار بار اس بات کا اعادہ ہوتا ہے کہ ’’کشمیر وادی میں حالات عنقریب سدھرجائیں گے‘‘ لیکن اصل صورت حال اُس سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ہر دو روز بعد کئی کئی نوجوان مارے جا رہے ہیں، گویا یہ ایک ایسا مستقل سلسلہ چل پڑا ہے جس میں ہر طرف نقصان ہی نقصان نظر آرہا ہے۔ صحیح تر الفاظ میں کہیں تو انسان ہی مر ر ہے ہیں، چاہے وہ عسکریت پسند ہوں یا عام شہری، چاہے وہ فوجی ہو یا پولیس اہلکار۔ قابل غور امر یہ ہے کہ بھارت کی موجودہ بھاجپا حکومت اور ریاست جموں وکشمیر کی حکومت انسانی خون کی اس ارزانی پر ایک ہی راہ پر دکھائی دے رہے ہیں، تاہم خون آشام حالات ایک ایسے لاوے کو اندرہی اندر پکا رہے ہیں کہ جو کبھی بھی اس قدر دھماکہ خیزی اختیار کر ے کہ نہ صرف بھارت اور پاکستان کو بلکہ عالمی امن کو اپنی لپیٹ میں لے کر تباہ وبربادی کا فرستادہ بن جائے۔ موجودہ بے قابو حالات میں اس خوف ناک لاوے کے منطقی نتائج تاڑ کر اصلاح احوال کی بجائے آر پار سے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیاں کر کے مارنے اور مرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اگرچہ یہ دھمکیاں ابھی زبانوں تک ہی محدود ہیں لیکن جو غلط بات بار بار دہرائی جائے وہ کبھی نہ کبھی عملی صورت میں بھی بلا سوچے سمجھے آ ہی ٹپکتی ہے اور یہ کوئی قیاسی بات نہیں بلکہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت بھی ہے۔ تاریخ کا آئینہ ہمیں دکھاتاہے کہ کشمیر حل کو ٹالتے ہوئے کس طرح پاک بھارت تعلقات کبھی گرم ہوتے ہیں اور کبھی نرم، ان دونوں ممالک کے درمیان آج تک جتنی بھی جنگیں ہوئیں، ان کی اصل وجوہ کیا بنیں؟ یہی آپسی خونین رقابتیں، ہٹ دھرمیاں، ہم ہستی اور عالمی چوہدریوں کی نفس پر ستانہ بدمعاشیاں۔

بہرحال جموں وکشمیر کے لوگ اس ساری صورت حال سے بے خبر نہیں بلکہ اچھی طرح سے باخبر ہیں کہ کس طرح بار بار انہیں اپنے پیدائشی حق ’’آزادی‘‘ سے محروم کر کے کچلا دبایا جا رہا ہے۔ پچھلے تیس برسوں سے کس پیرائے میں کشمیری نسل کو اپنوں اور اغیار سے مٹانے کی سازشیں عملائی جارہی ہیں، اس سے پوری دنیا واقف ہے لیکن اس ساری صورت حال کو اچھی طرح دیکھنے کے باوجود بھی وہ لوگ اَن دیکھی کر رہے ہیں جنہوں نے نام نہاد امن وآشتی اور اتحاد واتفاق کی وہ جھنڈی اُٹھا رکھی ہے جس کے سائے تلے نہ کبھی مجلس اقوام کے دور میں امن وامان قائم ہو سکا ہے اور نہ ہی موجودہ اقوام متحدہ کے زمانے میں اس کی کوئی امید کی جا سکتی ہے۔

 اقوام متحدہ جسے کسی دور میں ایک عالم دین ومفکر نے ’’اقوام متفرقہ‘‘ کا لقب دیا تھا، کی کشمیر،فلسطین و میانمار اور دیگر مسلم خطہ ہائے مخاصمت کے بارے میں خاموشی ہی بتاتی ہے کہ اس کے پر چم تلے کوئی مسلم مسئلہ حل نہیں ہونے والا ہے بلکہ یہ اندھی عالمی طاقتوں کی ایک ایسی لونڈی بن چکی ہے جس کا اٹھنا بیٹھا اس کی مرضی پر منحصر ہے۔ بہر صورت ریاست جموں کشمیر کوزیر بحث چھ ماہ کے دوران جس صورت حال کا سامنا ہے، اس سے صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت کے علاوہ عالمی طاقتوں نے تہیہ کر لیا ہے کہ چاہے کشمیر میں رہنے والے لوگ ماریں جائیں یا موت سے بدتر زندگی گزاریں، ہر حال میں ناحق کا ہی ساتھ دیا جائے گا۔ عملی صورت حال یہی ہے بلکہ ان چھ ماہ کے دوران جو درجنوں کی تعداد میں کشمیر میں مارے جاچکے ہیں، جن میں عام شہری، عسکریت سے وابستہ نوجوان، مقامی پولیس اہلکار اور فوجی بھی شامل ہیں، اس پر بجائے افسوس کے اور سوچ بچار کے الٹا بھارت کی مرکزی حکومت اور عالمی طاقتوں کی جانب سے مظلوموں کو دھمکیاں مل رہی ہیں، مقامی سطح کی مجبورانہ عسکری جدوجہد کو اب’’ گلوبل دہشت گردی‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے، ریاستی سطح پر عام شہریوں کی قتل وغارت گری کو’’ امن دشمن عناصر کی کارستانیاں ‘‘کہہ کر حقیقتیں چھپانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ حتیٰ کہ مقامی پولیس سے وابستہ اہل کاروں کی افسوس ناک ہلاکتوں سے کشمیر میں خانہ جنگی برپا کرنے کی سازشیں رچی جا رہی ہیں۔ فورسز کو مرکزی حکمرانوں کی طرف سے ’’سہ ما ہی مہلت ‘‘سے وادی کشمیر میں جاری سیاسی مزاحمت کوکچل دیا جانا کشمیر مسئلہ کا کوئی حل ہے ہی نہیں، یہ ایک ایسی زعفرانی سوچ ہے جس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔

حقیقت حال یہ ہے کہ جو کام پچھلے تیس سال کی خون آشامیوں سے نہیں ہو سکا، وہ اب دو ماہی قتل وانہدام سے کہاں پایۂ تکمیل تک پہنچ سکتا؟ اس کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ دونوں بھارت اور پاکستان کو کشمیر حل کو پہلی ترجیح دینا ہوگی اور اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے خلوص، سیاسی عزم واستقامت، امن پسندی، نیک ہمسائیگی کے جذبے سے آگے آنا ضروری ہے۔ تب ہی یہ ممکن ہے کہ اس اہم عالمی مسئلہ کا کوئی متفقہ، دیرپا اور کوئی قابل قبول حل نکالا جاسکے، ورنہ دھمکیاں یا دوسرے جارحانہ طریقے اختیار کرنے سے نہ ہی یہ مسئلہ آج تک دب سکا ہے اور نہ ہی دب سکے گا بلکہ آج تک جتنا اس مسئلہ کو دبانے کی کوششیں کی گئیں اُتنا ہی یہ مسئلہ اپنا وجود انسانی لہو، تباہیوں اور بربادیوں کی قیمت پرمنواتا رہا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Back to top button
Close