نقطہ نظر

کفر یکجا ہورہا ہے اور مسلمان ہیں جدا جدا

عبدالعزیز

 ہندستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے گروجی گرو گولوالکر تھے جو آر ایس ایس کے دوسرے سربراہ تھے۔ اس وقت مرکز کی حکومت گولوالکر کے فلسفوں کو عملی جامہ پہنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ آر ایس ایس برہمنوں کی تنظیم ہے۔ برہمنوں کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ ان کے اندر چودہ خصوصیات ہیں جو یہودیوں کی خصوصیات سے ملتی جلتی ہیں ۔ ہندستان میں آر ایس ایس اور ان کی ذیلی تنظیمیں جو منصوبہ رکھتی ہیں ٹھیک اسی قسم کا منصوبہ یہودیوں اور صیہونیوں کی اسرائیلی حکومت رکھتی ہے۔ اسرائیل کا ’گریٹر اسرائیل‘ بنانے کا منصوبہ ہے جس میں عراق، اردن، فلسطین اور سعودی عرب کی سر زمین شامل ہے۔ اسی طرح سنگھ پریوار کا ’اکھنڈ بھارت‘ کا منصوبہ ہے جس میں پاکستان، بنگلہ دیش ، نیپال اور سری لنکا کی ریاستیں شامل ہیں ۔

جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کے زمانے میں ہندستان کی خارجہ پالیسی فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت میں تھی اور فلسطینیوں کی تحریک کی بھی ہندستان حمایت کرتا تھا مگر 1992ء میں نرسمہا راؤ نے جو آر ایس ایس کی ذہنیت رکھتے تھے ہندستان میں اسرائیل کو سفارت خانہ کھولنے کی اجازت دے دی۔ اس وقت سے اسرائیل اور ہندستان کے تعلقات بڑھنے لگے۔ اٹل بہاری واجپئی کی حکومت میں تعلقات میں اضافہ ہوا۔ اٹل جی کی حکومت مخلوط تھی جس میں دوسری پارٹیاں بھی شامل تھیں جس کی وجہ سے آر ایس ایس کے منصوبہ کا خاکہ میں پورے طور پر رنگ بھرنا ممکن نہیں تھا۔ اس وقت ملک میں نریندر مودی کی حکومت ہے جو حقیقت میں آر ایس ایس یا برہمنوں کی حکومت ہے۔ اس حکومت کا پورا رجحان اور رویہ یہودی یا صیہونی نواز ہے۔

نریندر مودی کی دوستی اسرائیل سے کوئی نئی قسم کی نہیں ہے۔ مسٹر مودی نے پہلے عرب کے شیخوں اور سعودی عرب کے بادشاہ سے ملاقاتیں کیں ۔ ان کو اپنا دوست بنایا۔ امریکہ کا دورہ کیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ سے بھی گہری دوستی کی۔ تین سال کی مسلسل کوششوں کے بعد اب اسرائیل سے جو درپردہ سیاست ہورہی تھی وہ کھل کر کرنے کی پوزیشن میں نریندر مودی آگئے ہیں ۔ اب برہمنوں ، یہودیوں اور امریکہ کے صیہونیوں کی پوری کوشش ہوگی کہ دنیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو سازش کر رہی ہے وہ کھل کر سامنے آجائے اور اسلام اور مسلمانوں کو ہر طرح سے کمزور کرنے کی کوشش کرے۔ آر ایس ایس کے کئی وفود اسرائیل جاچکے ہیں ۔ یہودیوں کی تنظیموں اور اسرائیلی حکومت کے سربراہوں سے اسلام اور مسلمان کے موضوعات پر کافی باتیں کرچکے ہیں ۔

عرب دنیا کے عوام اس چیز سے بخوبی واقف ہیں لیکن ان کی حکومتیں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی حفاظت کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ان دونوں کے رحم و کرم سے ہی وہ محفوظ رہ سکیں گی کیونکہ انھیں اپنے عوام کے ساتھ ساتھ اخوان المسلمون اور حماس سے خطرہ لاحق ہے۔ یہ دو تنظیمیں اسرائیل کے وجود کے خلاف ہیں ۔ حماس کی تنظیم تو غازہ پٹی میں اسرائیلیوں اور یہودیوں کی زبردست مزاحمت کر رہی ہے۔ اخوان عربوں کو اسرائیل اور امریکہ کے عزائم سے ہوشیار اور بیدار کرتے ہیں ۔ قطری حکومت ان دو تنظیموں کی مذمت نہیں کرتی بلکہ حمایت کرتی ہے جس کی وجہ سے شیخوں اور سعودی عرب کے بادشاہ اور اس کے بیٹے محمد بن سلمان (ولیعہد) کی طرف سے قطر کا مقاطعہ رمضان کے مہینہ کے شروع سے جاری ہے۔ عرب ممالک کی حکومتیں شیعہ اور سنی کے نام پر دست و گریباں ہیں جبکہ اسرائیل اور امریکہ ان ممالک کو کمزور بناکر ان پر حکومت کر رہے ہیں اور ان کو نیست و نابود کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں ۔

ہندستان میں مسلمانوں کی کیا حالت ہے وہ لکھنے یا بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں جو کچھ ہورہا ہے وہ مسلمان نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور کانوں سے سن رہے ہیں بلکہ محسوس کر رہے ہیں اور ظالموں کی ظالمانہ حرکت کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں ۔ اکٹھا ہوکر مسلمان کچھ اپنے بھلا کیلئے سوچیں ، یہ بھی کرنے سے قاصر ہیں ۔ اس طرح کفر مجتمع ہو رہا ہے اور مسلمان بکھرے ہوئے ہیں یا بکھر رہے ہیں ۔ یہودیوں کی کیا تاریخ ہے اور کیا ان کی شرارتیں سمجھنے اور پڑھنے کی ضرورت ہے۔

’’جس طرح شیطان اور شرارت لازم اور ملزوم ہیں اسی طرح سازش اور یہودیت دونوں لازم اور ملزوم ہیں۔ یہودیوں نے اپنی قوم کو محفوظ رکھتے ہوئے دنیا بھر کے لوگوں کے خلاف جو منصوبہ بند نقشہ بنایا ہے اس کا نام ’صیہونی پروٹوکال‘ ہے۔ اس کو خفیہ رکھنے کی بہت کوششوں کے باوجود ان کو پہلے ہی قدم پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، یعنی انہی کے اندر کی ایک خاتون نے اس کی بھنک پاکر ان کے منصوبے کو باہر فاش کر دیا اور یہ اس لئے کہ وہ یہودی النسل نہیں تھی؛ چنانچہ اس کے اندر ضمیر موجود تھا اور انسانیت سے محبت بھی تھی۔صیہونی پروٹوکال کا کسی غیر یہودی کے پاس ہونا اس کے قتل کیلئے کافی تھا، لیکن اللہ کی مرضی اب یہ چیز بازار میں موجود ہے۔

 اللہ تعالیٰ کافروں کی مثال گردن میں طوق پڑے ہوئے انسان کی طرح دیتا ہے جو ان کی ٹھوڑی تک ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے قدم کے پاس نہیں دیکھ سکتے ہیں اور ان کے آگے اور پیچھے دیوار کھڑی کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ دور کی چیز بھی نہیں دیکھ سکتے۔ چنانچہ ان کے شان و گمان میں بھی نہ ہونے پر ان کے راز ظاہر ہوگئے اور دور تک دیکھنے کی بات صرف Calculation پر مبنی ہے جو دھیرے دھیرے غلط ثابت ہوتے جارہے ہیں مگر جہاں تک اللہ نے ان کو ڈھیل دی ہے وہاں تک ان کو کچھ کامیابی بھی مل رہی ہے۔

 ان کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق دنیا کے سارے انسان ان کی غلامی کیلئے پیدا کئے گئے ہیں ۔ اور یہ سارے انسان در اصل انسان کی شکل میں جانور ہیں ۔ ایک حد تک یہ بات درست بھی ہے؛ کیونکہ انھوں نے انسانی نفسیات کا جو مطالعہ کیا ہے وہ انہی لوگوں کو سامنے رکھ کر کیا ہے جن کے بارے میں خود اللہ نے کہا ہے کہ وہ چوپایوں کے جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں اور ان میں خود یہودی بھی شامل ہیں ؛ چنانچہ یہ سارے انسان بلکہ Sub Human Psycology ہے۔ ابھی تک ان کو Human Psycology سے واسطہ ہی نہیں پڑا ہے۔ اسی لئے وہ اپنے Calculation پر اتنا اعتماد رکھتے ہیں جیسے 2 اور 2چار ہوتا ہے، لیکن جب ان کا مقابلہ Human Psycologyسے ہوگا تو دنیا دیکھے گی کہ ان کے سارے منصوبوں کی عمارت یکایک اس طرح ڈھیگی تاش کے پتوں سے بنا گھروندہ ان کی ہزاروں سالہ منصوبہ بندی چند دنوں میں خاک میں مل جائے گی‘‘۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close