کلام اقبال اور قومیت

ڈاکٹر خالد مبشر

مغرب میں بیسویں صدی کے افق پرجس نظریے نے سب سے زیادہ شدت اور توانائی کے ساتھ سر ابھاراوہ’ نظریۂ قومیت‘ ہے۔اس نظریہ کی رو سے ایک خاص جغرافیائی خطے میں جب کسی ایک نسل، رنگ، زبان یا تہذیب وثقافت سے تعلق رکھنے والا انسانی گروہ باہم بود وباش اختیار کرتا ہے تو اس گروہ کو قوم کہتے ہیں ۔یہاں تک تو بات ٹھیک ہے لیکن اس سے آگے قومیت کا جو نظریہ ہے وہ بنی آدم کے لئے نہایت خطر ناک ہے۔ اس خاص نظریۂ قومیت کے نزدیک اپنی قوم کے مفادات تمام انسانی اور آفاقی اقدار پر مقدم ہیں ۔ اپنے قومی مفادات کے حصول کے لئے سب کچھ جائز ہے۔ بلکہ ساری دنیا پر اپنی قوم کے غلبہ وتسلط کی خاطر ہر قسم کا اقدام قومی فریضے میں شامل ہے۔ یہ ہے قومیت کا وہ مغربی تصور جس کے نتیجے میں روئے زمین پردوعالم گیر جنگیں بپا ہوئیں اور بھیانک قتل، خون، فساداور تباہی و بربادی کی تاریخ لکھی گئی۔

اقبال ابتدائی دور میں وطنیت نواز شاعر تھے۔ نیا شوالہ، ہندوستانی بچوں کا گیت، ترانۂ ہندی اور تصویر درد و غیرہ نظموں میں یہ رنگ دیکھنے کو ملتا ہے جو مغربی تصور قوم اور ہندو وطن پرستی کے مماثل ہے۔ لیکن جب اقبال انگلستان گئے تو انہیں محسوس ہوا کہ قوم پرستی اور عالم اخوت دونوں باہم متصادم جذبات ہیں ۔ وطن پرستی کی ایک منفی اور محدود ذہنیت ہے جو وحدتِ آدم اور انسان دوستی کے تصور سے متناقص ہے۔اور اس تصور کا سب سے بڑا نقصان عالمِ اسلام کو ہورہا ہے۔ بطورِ خاص جب ترکی کے خلاف عالم عرب نے برطانیہ کی حمایت کی تو اقبال نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ سب بے اعتدالی مغربی تصورِقومیت کی دین ہے۔

چنانچہ اقبال نے نیشنلزم یا قومیت کے اس نئے تصورکی سختی سے مخالفت کی، جس کی بنیاد جارحانہ نسل پرستی ، متعصبانہ وطنیت اور فسطائی غلبہ پسندی کے رجحان پر قائم تھی:

اقوامِ جہاں میں ہے رقابت تو اسی سے

تسخیر ہے مقصود تجارت تو اسی سے

خالی ہے صداقت سے سیاست تو اسی سے

کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے

اقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے تو اس سے

قومیتِ اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے

اقبال نے قومیت کا جو تصور پیش کیا اس کی بنیادرنگ ونسل، قبیلہ ،زبان اور وطن کے بجائے قرآنی اور اسلامی نظریۂ اجتماعیت پر استوار ہے۔ان کے نزدیک قوم بمعنی ملت ہے اور قرآنی اصطلاح میں اس کو امت بھی کہا گیا ہے۔انہوں نے واضح پیغام دیا:

بتانِ رنگ و خوں کو توڑکر ملت میں گم ہو جا

نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی

ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے نوعِ انساں کو

اخوت کا بیاں ہوجا، محبت کی زباں ہوجا

یہ ہندی، وہ خراسانی، یہ افعانی، وہ تورانی

تو اے شرمندۂ ساحل، اچھل کر بے کراں ہو جا

اقبال کے نزدیک مغربی تصورِ قومیت اور اسلامی تصورِ قومیت میں کوئی نقطۂ اتصال نہیں پایا جاتا۔ مغربی نیشنلزم– خودغرضی، موقع پرستی ، استحصال، جبری تسلط اور مفاد پرستی سے عبارت ہے جب کہ اسلامی ملت کی اساس اعلی انسانی اقدار،وحدتِ آدم، جذبۂ ایثار وقربانی اور محبت و اخوت پر استوار ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں :

اپنی ملت کو قیاس اقوامِ مغرب پر نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی

اخوت کی جہاں گیری، محبت کی فراوانی

نسل گر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئی

اڑ گیا دنیا سے تو مانندِ خاکِ رہ گذر

اس دور میں اقوام کی صحبت بھی ہوئی عام

پوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدتِ آدم

تفریقِ ملل حکمتِ افرنگ کا مقصود

اسلام کا مقصود فقط ملتِ آدم

مکہ نے دیا خاکِ جنیوا کو یہ پیغام

جمعیتِ اقوام ہے جمعیتِ آدم

اقبال نے وحدتِ امت کو تمام مسائل کے تدارک کے لئے بطور پالیسی اختیار کرنے پر زوردیا ہے:

ربط و ضبطِ ملتِ بیضاہے مشرق کی نجات

ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر

اقبال نے قوم کی بنیاد مذہبی اقدار پر رکھی ہے:

قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں

جذبِ باہم جو نہیں ، محفلِ انجم بھی نہیں

دامنِ دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں

اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی

اقبال کے نزدیک قومیت کی سب سے مستحکم جڑیں اسلامی عقا ئد اورشعائر میں پیوست ہیں :

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک

حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک

کیا بڑی بات تھی، ہوتے جو مسلمان بھی ایک

اقبال کی فراستِ مومنانہ اور بصیرتِ عارفانہ وطنیت پر مبنی قوم پرستی کے باطن میں ان مہلک عناصر کو دیکھ لیتی ہے جو دین اسلام کے لئے زہر ہلاہل ہے اور ساری انسانیت کے لئے تباہ کن بھی۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں :

ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیرہن اس کاہے، وہ مذہب کا کفن ہے

یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیبِ نوی ہے

غارت گرِ کاشانۂ دینِ نبوی ہے

بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے

اسلام ترا دیس ہے، تو مصطفوی ہے

اقبال کی نظر میں مرد مومن کا وجود زمان ومکان کی حدود وقیود کاپابند نہیں ۔وہ مقام اور ملک و وطن کی حصار بندیو ں کا تابع ہونے کے بجائے ایک عالمی اور آفاقی گروہ کا فرد ہوتا ہے، ایک ایسا گروہ جس کی نگاہ فلک رس، جس کی طبیعت کار آشیاں بندی سے بے نیازاور جس کے قدم ہر لمحے مائل بہ ہجرت اور سفر پسند ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اقبال نے ترانۂ ہندی کے بعد ترانۂ ملی لکھا ۔جس کے کچھ اشعار یوں ہیں :

چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا

مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے

آساں نہیں مٹانا نام ونشاں ہمارا

تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں

خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا

ذیل کے دو اشعار میں سرحدوں سے پرے اقبال کی قومیت کاتصور ملاحظہ ہو:

درویشِ خدا مست نہ شرقی ہے، نہ غربی

گھر میرا نہ دلی، نہ بخارا، نہ سمر قند

مومن کے جہاں کی حدنہیں ہے

مومن کا مقام ہر کہیں ہے

اقبال کو یہ گہرا شعور تھاکہ مغربی اور اسلامی تصورِ قومیت میں محض جزوی اور فروعی نہیں بلکہ اساسی فرق ہے۔ چنانچہ انہوں نے واضح طور سے کہا کہ :

نرالا سارے جہاں سے اس کو عرب کے معمار نے بنایا

بنا ہمارے حصارِ ملت کی اتحاد وطن نہیں ہے

کلام اقبال کے مطالعے سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ وہ مغربی تصور ِقومیت کے سخت گیر ناقد تھے اور اس تصور کو انسانیت کے لئے ہلاکت خیز سمجھتے تھے لیکن یہاں اس نازک فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے کہ اقبال وطن پرستی کے مخالف ہیں ،وطن دوستی کے نہیں ۔چنانچہ وہ خود اخیر تک ایک اچھے وطن دوست شاعر رہے ۔مثلا جب انہوں نے1931 میں اپنے بیٹے جاوید کے نام ایک نظم لکھی تواس کا ایک شعر یہ بھی تھا:

اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں

سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر

اوران کے آخری دور کی نظم’’ شعاع امید‘‘ میں سورج کی ایک شوخ کرن کہتی ہے:

چھوڑوں گی نہ میں ہند کی تاریک فضا کو

جب تک نہ اٹھیں خواب سے مردانِ گراں خواب

خاور کی امیدوں کا یہی خاک ہے مرکز

اقبال کے اشکوں سے یہی خاک ہے سیراب

چشمِ مہ و پرویں ہے اسی خاک سے روشن

یہ خاک کہ ہے جس کا خزف ریزہ دُرِ ناب

اس خاک سے اٹھے ہیں وہ غوّاصِ معانی

جن کے لئے ہر بحرِ پُر آشوب ہے پایاب

مذکورہ اشعار سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاکِ ہند شاعر کے خوابوں کی سرزمین بھی ہے اور اس سر زمین سے اس کو جذباتی تعلق بھی ہے ۔

الغرض شاعر کو اس بات کا شعور ہے کہ وطن پرستی اور وطن دوستی میں کیافرق ہے۔یہ اقبال ہی کا کمال ہے کہ اس کی آنکھوں کو فرنگی نیشنلزم کی چمک دمک چوندھیا نہ سکی۔  بھلا خاک ِمدینہ و نجف جس کی آنکھ کاسرمہ ہواس کو جلوئہ دانشِ فرنگ کیوں کر خیرہ کرسکتا ہے۔ تصورِ قومیت اس عہد کاسب سے بڑا عذابِ دانش تھالیکن اقبال اس آتشِ نمرودسے بھی مثل خلیل سلامت نکل آئے۔جب کہ اس زمانے کے بڑے بڑے شیوخ اور  مفسرینِ قرآن بھی وطن پرستی کے شعلوں سے اپنے دامنِ افکار کو محفوظ نہ رکھ سکے۔

عذابِ دانشِ حاضر سے باخبر ہوں میں

کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیل



⋆ خالد مبشر

خالد مبشر
ڈاکٹرخالد مبشرشعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلا میہ ، نئی دہلی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. لفظ قوم عربی زبان سے ہے جو کہ فارسی اور دیگر زبان میں بھی مستعمل ہے بشمول اردو…
    انسان مادہ اور ذہن کا مرکب ہے مادہ کی بقاء کے لیے ہمیں مادی وسائل جیسے کھانا پینا وغیرہ درکار ہوتے ہیں ویسے ہی ذہنی بقاء کے لیے مابعد الطبیعاتی وسائل جیسے عقائد و مذہب ضروری ہوتے ہیں…
    اب جاننا ہے کہ قوم دین، مذہب، عقیدے سے بنتی ہے یا وطن، ملک، مملکت سے؟
    جب کسی وطن ،ملک، سلطنت میں عقائد کی بنیاد پر قانون سازی کی جائے گی تو مخالف عقائد کے شخص کو اپنے عقائد میں مکمل آزادی کے ساتھ رہنا ناممکن ہوجائے گا… چونکہ نظریہ سے ہی گروہ تشکیل پاتے ہیں اور جتنے گروہ ہونگے اتنے ہی نظریات….. نظریات و عقیدہ و افکار باہم ملتے جلتے ہونگے تو ایک قوم تشکیل پائے گی….
    اسی ضمن میں قرآن مجید سورۃ الشعراء کی چند آیتیں پیش کرکے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں..

    وَإِذْ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰ أَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

    اور یاد کرو جب تمہارے رب نے موسی کو ندا فرمائی کہ ظالم لوگوں کے پاس جا

    قَوْمَ فِرْعَوْنَ أَلَا يَتَّقُونَ
    جو فرعون کی قوم ہے کیا وہ نہ ڈریں گے.

    اس آیت مبارکہ میں قوم ِ فرعون کو ظالم کہا گیا اور فرعون کی قوم کہہ کر مخاطب کیا گیا نسلی و نسبی یا وطنی اعتبار سے نہیں بلکہ یہاں نظریاتی اور فکری اعتبار سے کہا گیا…..

    اقبال کی شاعری بھی اس بات کی مصداق ہے کہ:

    قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
    جذبِ باہم جو نہیں محفل ِ انجم بھی نہیں

    ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ:

    بہ مصطفی برساں خويش را کہ ديں ہمہ اوست
    اگر بہ او نرسيدي ، تمام بولہبي است
    اے مسلمان!
    تو وطنیت کا جدید نظریہ اختیار مت کر جس کی رو سے قومیت کی بنیاد وطن ہے، بلکہ سرکار دو عالم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم کو حزر جاں بنا اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد وطن نہیں ہے بلکہ کلمہ توحید ہے یعنی ساری دنیا کے مسلمان ملت واحدہ ہیں اور اس لئے وہ کسی غیر مسلم قوم کے ساتھ مل کر متحدہ قومیت نہیں بنا سکتے.
    اے مسلمان! اگر حضور صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات سے استفادہ نہ کر سکا یا ان کی روح سے آگاہ نہ ہو سکا تو پھر تیرا علم و فضل سب بیکار ہے بلکہ وہ تیری گمراہی کا باعث ہو جائے گا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے