نقطہ نظر

کلام غالب اور اعتکاف

ڈاکٹر سلیم خان

تبلیغی نصاب کے فضائل اعتکاف میں غالب کا شعر پڑھ کر حیرانی ہوئی تو سوچا کیوں نہ  غالب اور رمضان کے متعلق کچھ معلومات حاصل کی جائے۔ حضرت غالب اپنے روزوں سے متعلق ازخودرقمطراز ہیں ’’دھوپ بہت تیز ہے۔ روزہ رکھتا ہوں مگر روزے کو بہلاتا رہتا ہوں۔ کبھی پانی پی لیا ، کبھی حقہ پی لیا ، کبھی کوئی روٹی کا ٹکڑا کھا لیا۔ یہاں کے لوگ عجب فہم رکھتے ہیں۔ میں تو روزہ بہلاتا ہوں اور یہ صاحب فرماتے ہیں کہ تُو روزہ نہیں رکھتا۔ یہ نہیں سمجھتے کہ روزہ نہ رکھنا اور روزہ بہلانا اور بات ہے‘‘۔غالب نے اپنے قطعات میں  بھی روزے  نہیں رکھنے کی مختلف توجیہات پیش کی ہیں  مثلاً؎

افطارِصوم  کی   کچھ   اگر   دستگاہ    ہو
اس شخص کو ضرور ہے روزہ رکھا  کرے
جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہو
روزہ   اگر   نہ  کھائے   تو   ناچار کیا  کرے

یہاں غالب افطار صوم دستیاب کرنے کی صلاحیت سے محروم لوگوں کے روزہ نہ رکھنے کا جواز پیش کرتے ہوئے راہِ فرار اختیار کرتے ہیں ۔  اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہ روزے کی فرضیت کے منکر تھے بلکہ کچھ اور مجبوریوں کا بہانہ بنا کرانہوں نے روزے سے رخصت لینے کی کوشش کی اور اپنے  ایک  قطعہ میں اس کا اظہار بھی کیا  ؎

سامان ِخور و خواب کہاں  سے لاؤں
آرام  کے  اسباب  کہاں  سے  لاؤں
روزہ  میرا  ایمان   ہے   غالب  لیکن
خس خانہ و برف آب کہاں سے لاؤں

دورِ جدید کی اصطلاح میں یوں کہیے کہ دن بھر ائیر کنڈیشن کی سہولت کے ساتھ شام میں دعوتِ افطار کا اہتمام بھی ہو  تو غالب میاں روزہ  ہر گزترک  نہ کریں۔  غالب کےپرستار  ان کی مذکورہ  تحریر اور قطعات  کو  ملامتی صوفیوں کے رویہ کی مصداق ٹھہراتے  ہیں ۔ ان صوفیاء  میں سے  ایک مشہور بزرگ کے ماہِ رمضان کے دوران  کسی شہر میں پہنچنے  پر بہت سارے لوگ استقبال کے لیے جمع ہوگئے۔ بزرگ  نے بھرے مجمع میں  اپنے خرقے سے شراب کی بوتل نکال کرنوش فرمانا  شروع کردیا۔  لوگ تف تف کرتے لوٹ گئے۔ ایک مرید خاص  نے پریشان ہوکر سوال کیا  ’’ یہ آپ نے کیا کردیا؟‘‘ انہوں نے جواب دیا  دیکھو میں  ضعیف ہوں اور اوپر سے  مسافر بھی  ہوں اس لیے مجھ  پر روزہ  ویسے ہی فرض نہیں ہے، اورجس  شراب کی بوتل کو دیکھ کر لوگ لوٹ گئے اس میں فقط پانی ہے۔ مرید نے پوچھا لیکن آپ نے ایسا کیا ہی کیوں؟ بزرگ بولے  میں نےیہ حرکت اس لیے کی کہ لوگ مجھے ولی اللہ نہ سمجھیں ۔ اپنے  نفس کو قابو میں رکھنے کے لیے یہ ضروری تھا ۔

غالب کے مداحوں کی وکالت پر یقین  کرکے اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ غالب نے نہ صرف روزوں کا اہتمام کیا بلکہ اعتکاف بھی کیا تو اس کا انکار بھی مشکل ہے اس لیے ان کی ایک غزل اعتکاف کے مختلف مراحل  کی کیفیات کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ بیان کرتی ہے عام طور پر معتکف کو اللہ کا مہمان کہا جاتا ہے لیکن غالب اس ترتیب کو بدل دیتے ہیں  ۔ وہ سال میں ایک بار دنیا سے کٹ کر اپنے رب سے جڑ جانے کا ارادہ اس لیے کرتے ہیں  کہ ؎

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوے     

 جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوے

عشق حقیقی کےتناظر  میں یہ اشعار  ایک نیا  جہاں تعمیر کرتے ہیں  ۔ قلب انسانی میں اگر رب کائنات کی مہمانی ہو تواس  نور علی نور بزم میں چراغاں تو ہونا ہی ہے۔  تزکیہ نفس کی خاطر  اعتکاف کی نیت سے  مسجد کی جانب رواں دواں غالب کے دل کی کیفیت  ملاحظہ فرمائیں ؎

دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے

  پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوے

اپنی سیہ کاریوں پر نادم بندہ جب ایک پروانے کی مانند   اپنی ذات کی ملامت کرتے ہوئے خالق و مالک کا طواف کرتا ہے تو اس کا کبر وغرور ، انا و خود پسندی سب  چور چور ہوجاتی ہے۔ پندار کا صنم کدہ اسی طرح نیست و نابود ہوجاتا ہے کہ جیسے فتح مکہ کے دن ۲۰ رمضان کو خانہ کعبہ بتوں کی آلودگی سے پاک  صاف ہوگیا تھا۔  دوران اعتکاف جب اللہ سے دل لگ جاتا ہے توانسان اپنا سب کچھ (صرف مادی مال و متاع نہیں بلکہ عقل و دل و جاں بھی)  کس طرح  مالک حقیقی کی نذر کردینا چاہتا ہے اس کا بیان دیکھیں   ؎

پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب 

 عرض متاع عقل و دل و جاں کیے ہوے

اعتکاف سے دمِ واپسی کا منظر اور حسرت و یاس کی کیفیت کو  تو غالب نے کچھ اس طرح بیان کردیا کہ مولانا زکریا صاحب مدظلہُ  بھی اس کو نصاب میں شامل کرنے سے خود کو نہیں روک سکے؎

پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں 

سر زیر بار منت درباں کیے ہوے

سچ تو یہ ہے کہ معتکف کے قلبی کیفیت کا اس سے بہتر اظہار اردو شاعری میں تو شاید ہی میسر آئے۔ یہ  معاملہ  عید کی رات ختم نہیں ہوجاتا۔ اعتکاف تو اختتام پر پہنچتا ہے مگر ارمان جوان رہتا ہے اور اس کا اظہار یوں  ہوتا ہے ؎

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن      

 بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوے

ایسے میں جب لوگ ان کی دلجوئی کرتے ہیں۔ انہیں   سمجھاتے بجھاتے ہیں تو وہ اپنی   ناراضگی کا اظہار اس طور پر کرتے ہیں ؎

غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے   

  بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوے

چچا غالب کی اس وکالت پر اگر کوئی واعظ ناراض ہوجائے تو  وہ اپنے مداحوں کو صبرو سکون  کا مشورہ اس طرح  دیتے ہیں ؎

غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہے

 ایسا بھی کوئی ہے جسے اچھا کہیں سبھی

مرزا غالب نے اعتکاف کیا یا نہیں یہ تو عالم الغیب کے سوا کوئی نہیں جانتا لیکن ان کی یہ  غزل اگر معتکف حضرات کے پیش نظر رہے تو انہیں اس عظیم عبادت کے فیوض وبرکات سے استفادے میں مدد ملے گی اور وہ قرب خداوندی کی فرحت ومسرت   سے محظوظ ہوں گے۔  ان کےروزوشب  کی نمازیں،  روزے  اور دعائیں مستجاب خاطر ٹھہریں گی۔ معراج سے  نبی کریم ﷺ اپنے ساتھ امتیوں کی ایسی  معراج (یعنی نمازکا تحفہ) لے آئےکہ جس میں بندہ اپنے رب سے سرگوشیاں   کیوں کرتا ہے۔  اس حقیقت کی منظر کشی اور اس کے سبب غالب کا توکل و  اعتماد ملاحظہ فرمائیں ؎

اس کی امّت میں ہوں مَیں، میرے رہیں کیوں کام بند      

  واسطے جس شہ کے غالبؔ! گنبدِ بے در کھلا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close