کمرشلائیذڈ دین

ابوعطیہ

(ٹورنٹو، کینیڈا)

بارہویں صدی عیسوی میں سب سے پہلے وینس میں یہ تصور ابھر ا کہ کسی کی نئی دریافت یا مصنوعی طور تجارتی پیمانے  پر تیار شدہ جنس کو پیٹنٹ(Patent)کروایا جائے تاکہ اس سے وابستہ تما  م مالی فوائد اس شے، طریقہ کار یا  آئیڈیا کے موجد کو پہنچیں۔ بعدازاں چودھویں صدی عیسوی میں انگریزوں نے  بھی اس طریقہ کو اپنا لیا اور بادشاہِوقت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ کسی شے کو پیٹنٹ (Patent)کرنے کا حکم صادر کرسکتا ہے۔ ا س کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ  ایک شخص یا  کمپنی ایک پروڈکٹ(Product) تیار کرتی ہے تو اسے اس بات کا حق ہے کہ وہی اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھائے اور جو پیسہ یا تحقیق یا محنت اس نے تیاری میں صرف کی اسکا اسے مناسب منافع حاصل ہو۔ اور یہ دنیا کے ہر شعبہ میں اصول کارفرما ہے کہ جو کسی بھی شے پر اپنی علمی اور عملی محنت سے تصرف حاصل کرتا ہے اسے اسکی کاوشوں کا صلہ ملنا چاہیئے خواہ وہ کسی تجارتی انوسٹمنٹ کی صورت میں ہو یا علمی تحقیق کی صورت میں ہو یا تصنیف و تالیف کی صورت میں ہو۔ دینِ اسلام بھی افراد کا یہ حق تسلیم کرتا ہے کہ انہیں ان کی اجرت انکا پسینہ خشک ہونے سے قبل دی جانی ضروری ہے یعنی بروقت اجرت ادا ہو۔ دوسری طرف  قرآنِ کریم میں ان لوگوں کیلئے انذار ہے جو دوسروں کی محنت کا کریڈٹ لینے  کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ فرمایا

تُو اُن لوگوں کے متعلق جو اپنی کارستانیوں پر خوش ہو رہے ہیں اور پسند کرتے ہیں کہ اُن کی اُن کاموں میں بھی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کئے۔ (ہاں) ہرگز اُن کے متعلق گمان نہ کر کہ وہ عذاب سے بچ سکیں گے جبکہ اُن کے لئے دردناک عذاب (مقدر) ہے۔ سورۃ آل عمران آیت  189

یعنی کسی کی محنت پر ڈاکا مارنا تو دور کی بات ہے مسلمان کو یہ بھی زیب نہیں دیتا کہ کسی اور کی محنت پر خود داد طلب کرے۔ چنانچہ یہ سنہری تعلیم ہر قسم کی چربہ سازی کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ چنانچہ انہیں بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کیلئے موجودہ زمانہ میں اس قسم کے قوانین بنائے گئے تاکہ ہر شخص اپنی محنت کا حقیقی اجر پائے خواہ وہ تجارت میں اپنا مال لگانے کی صورت میں ہو یا کسی علمی تحقیق یا کسی نئے آئیڈیا کی صورت میں ہو۔ تاہم بہت سے افراد از خود اپنی محنت کو رفاہِ عامہ کی بھلائی کیلئے وقف کردیتے ہیں اور اس پر کسی قسم کے اجر کی خواہش نہیں رکھتے چنانچہ بہت سے اعلیٰ سائنسدانوں نے اپنی تحقیقات اور کاوشوں کو عامۃ الناس کی بھلائی کیلئے وقف کردیا اور اپنے آئیڈیاز یا ایجادات کو پیٹنٹ نہیں کروایا۔ اسکی ایک مثال پولیو  ویکسین کے موجد کی ہے جس نے اپنی ویکسین پر کسی اجرت کا مطالبہ نہ کیا۔اسلام بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ ایک نیکی کا درجہ یہ ہے کہ انسان اپنی بھلائی کا جو اس نے بندوں سے کی ہوتی ہے بسا اوقات اجر کا طالب ہوتا ہے یا کم ازکم وہ اس بات کی خواہش کرتا ہے کہ وہ اسکے احسان مند ہوں مگر جو بندگانِ خد ا نیکی کی اس سے اعلیٰ راہوں پر قدم مارنے والے ہوتے ہیں وہ اگر کسی سے بھلائی کریں تو انکا مقصود یہی ہوتا ہے کہ

ترجمہ :ہم تمہیں محض اللہ کی رضا کی خاطر کھلا رہے ہیں، ہم ہرگز نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ کوئی شکریہ۔ سورۃ الدھر آیت  10

 یعنی جو کچھ ہم اہلِ دنیا سے بھلائی کررہے ہیں اس کا اجر ہم ان سے کسی بدلہ یا احسان مندی کے جذبات کی صورت میں نہیں چاہتے بلکہ صرف اور صرف خدا کی توجہ چاہنے کے لئے یہ نیکی کے کام بجا لارہے ہیں۔

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا کہ انسان کن کن چیزوں کو پیٹنٹ کر سکتا ہے۔ کیا وہ اشیاء جو خدا تعالیٰ نے انسانوں کی بقا اور فائدہ کیلئے تخلیق کی ہیں انہیں بھی پیٹنٹ (Patent)کیا جا سکتا ہے جیسے روشنی، ہوا، پانی، اور دیگر قدرتی ذخائر وغیرہ۔ روشنی کو چھوڑ کر باقی دیگر اشیاء بھی ایک رنگ میں پیٹنٹ(Patent) ہیں اگرچہ یہاں مالکانہ حقوق کسی فرد کو نہیں بلکہ ریاست کو حاصل ہیں، جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ تمام سمندری علاقے بھی ایک خاص حد بندی کے ساتھ کسی نہ کسی ملک کی سمندری حدود میں داخل ہیں۔ یہاں تک کہ کسی ملک کی فضا میں بھی کوئی اور ملک بغیر اجازت کے دخل اندازی نہیں کرسکتا یہی وجہ ہے کہ پاکستان امریکہ سے اپنی فضائی حدود کی خلاف پر مسلسل سراپا احتجا ج رہتا ہے۔ چنانچہ ثابت ہؤا کہ سوائے روشنی کہ آج کے دور میں انسان نے خدا کی تخلیق کردہ ہر شے پر اپنی ملکیت انفرادی طور پر یا ملکی طور پر قائم کرلی ہے۔ اور اپنی اس مملوکہ شے کے استعمال پر افراد اور ممالک کسی قدر معاوضہ وصول کرتے ہیں، تاکہ انفرادی یا ملکی معیشت ترقی کرے۔جوں جوں توانائی کے متبادل ذرائع  کے حصول کی تلاش میں شمسی توانائی کا استعمال ترقی   کررہا ہے  عین ممکن ہے روشنی  پر بھی انسان اپنا حق جمانا شروع کردے، اور اسکی یہ انفرادیت بھی باقی نہ رہے۔

اب یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ باقی اشیاء کیطرح مذہب یا مذہبی عقائد بھی کسی خاص فرد یا گروہ کی ملکیت سمجھے جاسکتے ہیں ؟جیسا کہ اوپر ذکر گزر چکا ہے کہ اشیاء کی ملکیت کا سوال تب پیدا ہوتا ہے جب ان کے ساتھ کوئی مالی منفعت منسلک ہو اور یہ ملکیت جنم لیتی ہے ایک عرصہ دراز تک کسی مقام یا خطہء زمین یا نئے نظریات یا خیالات پر تسلط سے۔ اگر مزید گہری نظر سے دیکھا جائے تو یہاں دریافت اور ایجاد اورطاقت کے اصول کارفرما نظر آتے ہیں جن کے ذریعہ افراد یا اقوام کسی زمین یا شے پر اپنا حق جماتی ہیں۔جو بھی کسی خطہ زمین کا پہلے کھوج لگانے میں کامیاب ہو جائے یا کسی نئی ایجاد یا خیال کا بانی ہو وہ اسے اپنی ملکیت گردانتا ہے اور بغیر کسی معاوضہ کے کسی کو اِن اشیاء کے استعمال کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ دنیا میں جتنے بھی مذاہب موجود ہیں وہ کسی فرد یا قوم کے خود ساختہ نہیں بلکہ ہر ایک اپنے آپ کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے یہاں تک کے وہ بانیانِ مذاہب جن کے ذریعہ اِن مذاہب کا پیغام عامۃ الناس تک پہنچا وہ بھی انہیں خدا کی طرف سے سمجھتے تھے اور کبھی بھی اپنی ذات کی طرف منسوب نہ کیا بلکہ یہی ایک بات انکے منجانب اللہ اور خدا کی ہستی کا بھی ثبوت ہے کہ اگر اِن بانیانِ مذاہب کے پیشِ نظر کوئی دنیاوی منفعت مقصود ہوتی تو اپنے انقلابی خیالات کا کریڈٹ خدا تعالیٰ کو دینے کی بجائے وہ خود اپنی ذات کو دیتے۔ نہ صرف یہ بلکہ اپنے عقائد اور خیالات کی ملکیت کے عوض معاوضہ وصول کرتے۔ خلاصہ کلام یہ کہ اگر مذہب پر خدا کے علاوہ کوئی اپنی ملکیت کا حق جتا سکتا تو وہ انبیاءِکرام کا گرو ہ تھا مگر انھوں نے اپنے طرزِ عمل سے ثابت کیا کہ جس مذہب کی طرف وہ بلا رہے ہیں اسکے بدلہ میں انھیں سوائے خدا کی رضا کے سوا کسی اجر کی خواہش نہیں۔

بار بار قرآن کریم  مختلف انبیاء کے ذکر  میں یہ قول انکی طرف منسوب کرتا ہے :

یٰقَوْمِ لَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْراً

اے میری قوم! میں تم سے اس (خدمت) پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔ (سورۃ ھود آیت 52)

اور یہ امر ان کی مخلصانہ کوششوں کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی مالی فوائد کا حصول نہیں۔ تاہم جب مذاہب پر ایک زمانہ گزر جاتا ہے تو ایک ایسا طبقہ جنم لیتا ہے جو مذہب کو بھی اپنی ملکیت سمجھنے لگ جاتا ہے تاکہ اپنی معیشت کے سامان پیدا کرے۔

ستارھویں، اٹھارویں صدی میں دنیا کی مختلف اقوام نے دنیا کی نئی زمینوں کی دریافت کرکے وہاں پر اپنے قبضے جمائے اور نئی ایجادات کرکے ان کو پیٹنٹ کرکے ہمیشہ کیلئے اپنی کمائی کا ذریعہ بنالیا۔ انڈیسٹریل ریولیوشن(Industrial Revolution)  کے نتیجہ میں لوگوں کا میعارِ زندگی بہتر ہونے لگا اور بعدازاں یہی ایجادات دیگر اقوام کو فروخت کرکے مزید بیش بہا منافع کمانے کا موجب ہوئیں۔ دوسری برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں اس دور میں اپنے تنزل کے بھیانک دور سے گزر رہے تھے۔ مسلمانوں میں سے ایک طبقہ نے تو جدید علوم کے سیکھنے کی طرف توجہ کی اور بالآخرانفرادی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو گئے، جبکہ ایک دوسرے گروہ نے برملا طور پر جدید سائنسی علوم کی مخالفت کی اور اسکے حصول کے خلاف فتوے دئیے اور جب دیکھا کہ اب کوئی سامانِ معیشت نظر نہیں آتے تو اسی مذہب کو اپنے رزق کے حصول کیلئے آلہء کار کے طور پر استعمال کیا۔ دراصل جدید علوم کے حصول کی مخالفت میں بھی یہی راز تھا کہ لوگ اگر خود ہی پڑھ لکھ کر دینی و دنیاوی معلومات حاصل کرنے کے قابل ہو گئے تو انہیں کون پوچھے گا،   اگر لوگوں نے قرآن و حدیث کا ترجمہ پڑھ لیا تو اِن کے فتاویٰ کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں باوجود لکھوکھ ہا کی تعداد میں دینی مدرسے ہونے کے آپ کو یہاں کی مختلف علاقائی زبانوں میں قرآن وحدیث یا دیگر اہم دینی کتب کے تراجم بہت ہی کم دکھائی دینگے۔ اور یوں آہستہ آہستہ یہ گروہ مذہب کا نام نہاد ٹھیکیدار بن بیٹھا کیونکہ اسکی ملکیت نہ زر تھا نہ زمین تھی اور نہ ہی جدید علوم کا خزانہ۔ چنانچہ انہوں نے اس شے کو اپنی ملکیت بنانے کی ٹھانی جسے ابھی تک مسلمانوں میں  بطور تجارت استعمال کرنے کی کسی اور کو نہ سوجھی تھی۔اگرچہ دیگر مذاہب کا مطالعہ کیا جائے تو وہاں بھی یہی عمل کارفرما نظر آتا ہے کہ بانئ مذہب کے ایک زمانہ کے بعد ایک گروہ نے اسے اپنی روزی کا ذریعہ بنایا، تاہم مسلمانوں میں اسکی بد ترین مثال برصغیر پاک و ہند میں ملتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کا دھیا ن تو کبھی اس طرف نہ گیا کہ قرآنِ کریم سنا کر اسکا معاوضہ وصول کرتے یا نماز، روزہ و دیگر عبادات کو پیٹنٹ کروالیتے اور بعدازاں ہرایک سے انکے استعمال پر بھاری رقمیں بٹورتے، یا قرآنی آیات کے تعویذ بنا کر اپنی دکانداری چمکاتےیا  جو کتاب آپ کے پاس ہے اسکے جملہ حقوق محفوظ کروالیتے اپنے یا اپنی اولاد یا صحابہ کے نام۔ جب کوئی غریب لاچار آتا تو کیوں نہ آپ بجائے جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر روزی کمانے کے چند ایک تعویذ بازار میں بیچنے کا مشورہ دیتے۔ ہمارے اس دور کے مذہبی رہنماؤں کو ہی یہ راز پتہ چلا کہ مذہب تو ایک قیمتی سرمایہ ہے جس کے نتیجہ میں ایک نہایت منافع بخش کاروبار شروع کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ جس نے قرآن و حدیث پڑھنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی اس نے کسی جانور کو دفن کرکے وہاں مزار کھڑا کرکے اپنی دکان قائم کرلی۔ لوگ آئے، لنگر تقسیم کئے، چڑھاوے چڑھائے، نذریں مانی اور اِن صاحب کے وارے نیارے ہوگئے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ ایسا سرمایہ تھا جسمیں نقصان کا چنداں اندیشہ نہ تھا، نقصان تو تب ہوتا جب کچھ خرچ کیا ہوتا، یہاں تو صرف یہ ترکیب سوجھنے  کیلئے قلیل سی عقل کے سوا کچھ خرچ ہی نہ ہؤا تھا۔ چنانچہ جب اوروں نے بھی دیکھا کہ یہ تجارت بڑی نفع مند ہے اور ایک مزار نما دکان پر گاہکوں کی کافی تعداد ہو گئی ہے تو کچھ فاصلے پر ایک اور دکان کھل گئی۔ ایک اور مزے کی بات اس کاروبار کی یہ تھی کہ دیگر ایسیٹ کی طرح نہ صرف اس کی مارکیٹ ویلیو تھی بلکہ گدی کے نام سے یہ اگلی نسل میں بھی منتقل ہو سکتا تھا۔ بس پھر کیا تھا جا بجا دکانیں کھلنی شروع ہو گئیں۔ جن کو یہ کاروبار پسند نہ آیا انھوں نے کہیں قرآن خوانی کر کے یا بچوں کو قرآن پڑھا کر پیسے کمانے شروع کئے۔ یہ وہ وقت تھا جب مغرب میں آئے دن نئی نئی انڈسٹری وجود میں آ رہی تھی۔ گاؤں گاؤں، شہر شہر کارخانے اور ملز لگ رہی تھیں، نئی نئی کمپنیاں مختلف ناموں سے رجسٹر ہو رہی تھیں، جبکہ دوسری جانب ہمارے اس خطے میں گلی گلی، کوچہ کوچہ میں نئے نئے مدرسے، اور خانقاہیں کھولی جارہی تھیں۔ دونوں کا مقصد ایک ہی تھا کہ زیادہ سے زیادہ کسٹمر بنا کر اپنی تجارت کو فروغ دیا جائے۔ تاہم پہلی قسم کی تجارت کا کم ازکم یہ فائدہ ضرور تھا کہ عوام الناس کا بھی میعارِ زندگی بہتر ہونے لگا، لیکن یہ دوسری قسم کی مذہب کے نام پر بلکہ یوں کہنا چاہئے مذہب کی تجارت میں سوائے تاجر کے اور کسی کو فائدہ نہ ہؤا۔

 اسی اثناء میں یہ واقعہ رونما ہؤا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے ایک ملک دنیا کے نقسہ پرابھرا۔ پہلے پہل تو مذہب کے تاجروں نے اس کی سخت مخالفت کی کیونکہ انھوں نے دیکھا کے اس ملک کے حصول کی کوشش کرنے والے اکثر ان کی طرح مذہبی تاجر نہیں بلکہ ذرا مختلف خیالات کے ہیں، تاہم اس ملک کے وجود میں آنے کے بعد معلوم ہؤا کہ یہاں تو بہت وسیع مارکیٹ انکے سامنے ہے اور مقابل پر کسی اور مذہب کا تاجر بھی نہیں، لہذا یہاں دکان خوب چمکے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہؤا۔ اب انکے پاس ایک اور نہایت اہم دلیل تھی کہ چونکہ یہ خطہء زمین مذہب کے نام پر حاصل کیا گیا ہے جس پر ان کی مکمل اجارہ داری مسلم شدہ ہےلہذا انہیں بھی اسکے کما حقہ‘ شیئر دئیے جائیں۔ اب تک مذہب کوبطور تجارت استعمال نہ کرنے والے اور جدید دنیاوی علوم کے حصول کے حامی تعلیم یافتہ اور سرمایہ دار طبقہ کو بھی یہ احساس ہو چکا تھا کہ عوام الناس خواہ مذہب کے اصولوں کو اپنی روز مرّہ زندگی میں اپنے پاؤں تلے روندے تاہم پھر بھی انہیں نسل در نسل ورثہ میں ملنے کی وجہ سے مذہب کے ساتھ وابستگی ضرور ہے۔ اس لئے ریاست کو کامیاب طریق پر چلانے اور پبلک سپورٹ حاصل کرنے کیلئے مذہب کا صرف نام استعمال کرنے میں چنداں حرج نہیں۔ لیکن چونکہ تمام مذہب پر اجارہ داری کے جملہ حقوق ایک مذہبی گروہ کے ہاتھ میں تھے اور انھیں ان کا معاوضہ دئیے بغیر اسکا نام استعمال کرنا ایسا ہی تھی جیسا کہ کسی کمپنی کی پیٹنٹ پروڈکٹ کو از خود تیار کرکے مارکیٹ میں فروخت کرنا۔ لہذا اِس سرمایہ دار طبقہ نے مذہب کے ٹھیکہ داروں کو انکی منہ بولی قیمت دے کر وقتا فوقتاً اپنی ضرویات کے حصول کیلئے اسکے حقوق کچھ عرصہ کیلئے خریدے، تاکہ عوام یا کسٹمر انکے جھانسہ میں آکر انہیں ووٹ دے کر انہیں طاقت کے ایوانوں میں بھجواسکیں۔مذہب کا  یہ کمرشلائیذڑ استعمال محض ایک مفروضہ نہیں بلکہ  مختلف مواقع پر یہ امراِن مذہبی تاجروں کی گفتگو سے خود عیاں ہو جاتی ہے۔ مثلاً 1974 کی قادیانی مسئلے پر ہونے والے اسمبلی کی کارروائی میں امام جماعت احمدیہ کے اس موقف پر کہ دنیا کی کسی عدالت یا اسمبلی کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی فرد یا جماعت کے مذہب کا فیصلہ خود کرے ، جرح کرتے ہوئے اٹارنی جنرل یحیٰ بختیار کی طرف سے یہ مثال پیش کی گئی کہ لیور برادر کا برینڈ نیم ہے اگر کوئی اور اسی نام سے اپنی پروڈکٹ بیچے گا تو کورٹ کو حق حاصل ہوگا کہ وہ مداخلت کرےگویا کہ اسی طرح گورنمنٹ پاکستان کو حق حاصل ہے کہ ایسی قانون سازی کرے کہ اسلام کا برینڈ نیم کوئی اور استعمال نہ کرے۔یعنی  اسلام کے نام پر حاصل ہونے والی ریاست  کو مذہب کے جملہ حقوق بھی ورثہ میں ملے ہیں لہذا اگر کوئی  اسلام کی ایسی  تصویر (پروڈکٹ) مارکیٹ میں فرووخت کرے گا جو حکومتِ پاکستان سے تصدیق  شدہ نہ ہو تو یہ ایک قابلِ گرفت جرم ہو گا۔ ذوالفقار علی بھٹو  کے دور میں جہاں دیگر انڈیسٹری اور اداروں کو نیشنلائز کرنے کے عمل کا آغاز ہؤا وہ بالآخر مذہب کی نیشنلائزیشن  پر جا کر ختم ہؤا، مذہب اب کسی فرد یا گروہ کا ذاتی معاملہ نہ تھا بلکہ حکومتِ وقت کو اسکے جملہ حقوق پر مکمل تسلط تھا۔چنانچہ ایک جمہوری حکومت نے اپنے اِن اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ایک گروہ کو دائرہ اسلام  سے خارج کرکے  اسلام کی اعلیٰ خدمت سر انجام دی، اور رہی سہی کسر ایک اور  مجاہد ِ اسلام نے اِس  مذہب کی تجارت  کو مزید قانونی شقوں سے تحفظ فراہم کر کے پوری کردی۔ اور یوں اسلام کی شان و شوکت کے ایک  اور سنہری دور کا   آغاز ہؤا، جس  کے خواب ہمارے اسلاف نے برسوں پیشتر دیکھے تھے۔ جس طرح مارکیٹ میں کوئی جنس لانے سے قبل حکومت سے لائسنس لینا ضروری ہے اسی طرح  یہ طے پایا کہ اس مملکتِ خداداد میں صرف حکومت سے پاس شدہ اور لائسنس یافتہ اسلام اس ملک میں رائج ہوگا۔خواہ کوئی خدا کی توحید اور محمدﷺ کی خاتمیت پر کتنا ایمان رکھتا ہو، تمام ارکانِ اسلام و ارکانِ ایمان کا پابند ہواُسے ہرگز مسلمان کہلانے کا حق نہیں اگر وہ حکومتِ پاکستان کی طے شدہ اسلام کی تعریف  کے اندر نہیں آتا۔ گویا کہ مذہب جس کا تعلق انسان کے دل اور ایمان کے ساتھ ہے  اور فقط بندے اور خدا کا معاملہ ہے، اب حکومتِ وقت کو حق حاصل ہے کہ وہ اس میں ازخود مداخلت کرے اور لوگوں کو اُن کے مسلمان اور صحیح العقیدہ مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ جاری کرے۔معلوم نہیں کہ حکومت نے ایک اور ترمیم شدہ قانون جاری کیوں  نہ کیا کہ آئندہ ہر مسلمان کی تدفین کے وقت اس کا شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بھی ساتھ رکھنا لازمی ہے تاکہ فرشتوں کو حساب کتاب میں وقت ضائع کرنے کی بجائے الٰہی نور سے آراستہ حکومت کی  طرف سے جاری شدہ مسلمانی کی مہر دیکھ کر کسی کے جنتی یا دوزخی ہونے کے احکامات جاری کرنے میں آسانی ہو۔

پاکستان میں 1974 میں دینِ اسلام کے نیشنلائز یا کمرشلائز ہونے کے بعد یہاں اِس انڈسٹری میں فارن انوسٹمنٹ بھی بڑی تیزی سے ہونے لگی۔ خصوصاً صدر ضیاءالحق  کے  دور میں سعودی عرب اور بعض دیگر مشرقِ وسطیٰ کے دین کے ٹھیکیدار ریاستوں نے دل کھول کر اِس تجارت میں اپنا پیسہ لگایا یہاں تک کہ کچھ ہی عرصہ  میں  پاکستان اِس انڈسٹری میں نہ صرف خود کفیل ہو گیا بلکہ  یہاں سے پروڈکٹ بیرونی  دنیا کو ایکسپورٹ کی جانے لگی۔ سعودی مال اور خام مال سے تیار شدہ اِس انڈسٹری کی بعض مشہور پروڈکٹ جیسے اسامہ بن لادن، خالد شیخ اور اجمل قصاب  وغیرہ نے پوری دنیا میں اپنی دہشت کا سکہ جما کر پاکستان کا نام روشن کرنے اعلیٰ خدمات سرانجام دیں۔ یہ وہ پاکستان کی اسلامی انڈسٹری کی نایاب پروڈکٹس ہیں  جن کی وجہ سے پاکستان ساری دنیا میں جانا و پہچانا جاتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو  اس کے تانے بانے  کسی نہ کسی رنگ میں پاکستان  کی اِس انڈسٹری سے  جا ملتے ہیں۔

ہم نے اپنی 60 سالہ تاریخ میں اسلام  کا نام استعمال کرتے  ہوئے کبھی  اپنی سیاسی تحریکات کو نظامِ مصطفیٰ کا نام دیا، اور کبھی اپنے اقتدار کو اسلامی نظام کے نفاذ کے نام پر طول دیا۔ اپنی سیاست چمکانے کیلئے عشقِ رسول کے نعرے لگائے۔ اپنے پڑوسی ملک سے لڑائی کو حق و باطل کی جنگ قرار دیا خواہ اس پڑوسی ملک میں ہماری آبادی سے دوگنی تعداد میں مسلمان بستے ہوں،یہانتک کہ اس پڑوسی ملک پر برسانے کیلئے ہتھیارو ں کو بھی مشاہیرِ اسلام کا نام دیا۔اپنی دکانوں کے نام مکہ، مدینہ اور دیگر مذہبی  شعائر کے نام  سے تبدیل کئے تاکہ زیادہ سے زیادہ گاہک متوجہ ہوں۔ رشوت کا نام ہدیہ اور نذرانہ  جبکہ سود کا نام منافع رکھ کر اسلامی بینکاری کی بنیاد ڈالی۔کسی زمین پر قبضہ کرنے کیلئے مسجد کے نام پر عمارت کھڑی کردی، پرانی دشمنی کا حساب چکانے کیلئے توہینِ رسالت  یا توہینِ قرآن کا الزام لگا کر کسی کو اند ر کرواد یا۔جہاں ایک طرف دین کے نام نہاد علماء نے مذہب کو قابلِ فروخت شے کے طور پر بازار میں متعارف کرایا وہاں عوام الناس میں سے اسکے خریداروں نے بھی اِس کو ایک جنس کے طور پر تصور کیا۔جس طرح ہماری جیب میں پیسے ہوں تو بازار سے کوئی بھی شے خرید سکتے ہیں بعینہ ہم لوگوں نے یہ خیال کیا کہ مذہبی فرائض سے بھی سبکدوش ہونے اور حصولِ ثواب کیلئے  دینِ اسلام کی تعلیم پر عمل سے زیادہ پیسے کی ضرورت ہے تاکہ  معاوضہ کے عوض دوسروں سے مذہبی فرائض کی بجاآوری کرائی جائے۔ چنانچہ ذی ثروت طبقہ نےقرآن پڑھنے کی بجائے مدرسہ کے بچوں کو بلا کرکرایہ پر قرآن خوانی  کرالی یا کسی مزار پر لنگر تقسیم کرکے اپنے گناہ معاف کرا لئے، یا میلاد منعقد کروا کراپنی عبادات کی کوتاہی کا کفارہ ادا کردیا۔جس بچارے سے کچھ نہ ہو سکا   اُس نے عشقِ رسول کے نام پر ہونے والے جلسے جلوس میں شامل ہوکر چار دکانوں یا بسوں کو آگ لگا کر  یا پھر توہینِ رسالت یا توہینِ قرآن کے کسی ملزَم  کو گلیوں میں گھسیٹ کر اپنی قوتِ ایمانی  کا ثبوت دیا۔ ہمارے ہاں مذہب کی یہ تجارت اتنی پھلی پھولی کہ اگر اندازہ لگایا  جائے تو شاید پاکستان کی کسی انڈسٹری سے اتنا ریونیو (Revenue) جنریٹ (Generate) نہ ہوتا ہو جتنا کہ مذہب کے نام پر کی جانے والی تجارت سے  اور نہ ہی کسی انڈسٹری سے اتنی جاب پیدا ہوتی ہوں جتنی کہ مذہب کے نام پر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں، جہاں مسجد کے امام سے لیکر مارکیٹ میں اپنے خطبات اور نعتیں بیچنے والے اور قرآن پڑھانے کا معاوضہ  لیکر گزر بسر کرنے والے اور بھاری معاوضہ کے عوض من پسند کے فتاویٰ جاری کرنے والے، تعویذ گنڈے کرنے والےاورجن نکلالنے والے عاملین  وغیرہ سب شامل ہیں۔جدید ٹیکنالوجی کا بھی سب سے مؤثر استعمال اِسی تجارت کو مزید فروغ دینے کیلئے  کیا گیا۔آج کوئی اخبار  یا ٹی وی چینل ایسا نہیں جہاں مذکورہ بالا پیشہ جات  سے تعلق رکھنے والے افراد کے اشتہارات موجود نہ ہوں۔تاہم اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ہم لوگ اپنے قول کے سچے ہیں، ہم نے اسلام کے نام پر اس ملک کو حاصل کیا چنانچہ آج ہمارے ہاں اسلام کا صرف نام ہی ہے۔

بقول مولانا حالی

رہادین باقی نہ ایمان باقی

ایک اسلام کا رہ گیا ام باقی



⋆ ابوعطیہ

مدیر

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

تعلیم کے مقاصدمیں طلبا کی ترقی شامل ہے۔ مذہبی، سماجی، اخلاقی، معاشی وغیرہ ترقی کے لئے تعلیم ہی ذمے دار اور اہم کردار ادا کرتی ہے۔ علم انسان کو انسانیت کا سبق سکھاتا ہے۔ تہذیب،تمیز اور شرافت، حق و باطل میں میں تمیز، صراط المستقیم پر چلنا، سلیقہ اور شعور وغیرہ تمام اخلاقی اقدار بہترین تعلیم کی شکر گزار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے