نقطہ نظر

کمزور طبقات: غور و فکر کے چند پہلو

راحت علی صدیقی قـاسمی

جمہوری نظام میں عدلیہ سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے، اس کی عزت و حرمت تمام خواہشات جذبات و احساسات سے بڑھ کر ہے، لوگ پھانسی کا پھندا چوم لیتے ہیں ، طوق و سلاسل میں جکڑے ہوئے سلاخوں کے پیچھے زندگی گذارتے ہیں ، زندگی کی رونق سے محروم ہو جاتے ہیں ، کثیر رقم بطور جرمانہ ادا کرتے ہیں ، بسا اوقات زندگی کا بیشتر حصہ جیل میں گذارنے کے بعد رہائی ملتی ہے، زندگی اتھل پتھل ہوجاتی ہے، اس صورتِ حال کے باوجود کوئی زبان یہ جرأت نہیں کرتی کہ عدلیہ کی شان میں گستاخی کرے، اس کی عزت و حرمت کو پامال کرے، جذبات کے نیزے سے اس کی تقدیس کا دامن تارتار کردے، اگر کوئی شخصیت جرأت کرے اور اس قبیح فعل کا ارتکاب کرے، تو وہ ہدف ملامت اور باعث عتاب قرار پاتی ہے.

کائنات کے تمام جمہوری ممالک نظام عدلیہ کو نعمت غیر مترقبہ خیال کرتے ہیں ، اپنے مسائل، زندگی کے اتار چڑھاؤ سے پیدا شدہ تلخ نتائج، رشتوں کی تلخیاں ، جرائم کی سختیاں تمام مشکلات میں عدلیہ ہی کو اعتماد کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، اسی کو انصاف کا معتبر ذریعہ سمجھتے ہیں ، ہمارے ملک میں بھی آزادی کے بعد سے یہی طریقہ رائج  ہے، اسی کو بہتر خیال کیا گیا، بہت سے معاملات کو جج اور وکیل حاصل نہ ہونے کے باوجود لوگ اس پر سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں لیکن۲؍اپریل کو تاریخ کے سینہ پر ایک کاری زخم لگا، ایک ایسا واقعہ رونما ہوا، جس کی مثالیں ہندوستانی تاریخ میں چیدہ چیدہ نظر آئیں گی، عدلیہ کے فیصلے کے خلاف زبانیں دراز ہوئیں ،نعرے لگے، حقوق کی دہائی کے نام پر نظام زندگی معطل کردی، گاڑیاں نذر آتش کردی گئیں ، سڑکوں پر سناٹا پسرا رہا، لوگ بھوک سے بلبلائے، مریضوں کو دوا میسر نہ آسکی، وہ تکلیف کی شدت سے نڈھال ہوئے، ملک بھر سے خبریں موصول ہوتی رہیں ، کہیں پولیس والوں کو پیٹا گیا، کہیں ریلوے کی پٹریاں اکھاڑ دی گئیں ، ٹرینوں کو روک دیا گیا، لوگ زخمی ہوئے، جانیں گئیں ، پورا معاملہ آپ کے علم میں ہے، سپریم کورٹ نے نچلے طبقات سے متعلق قانون (انسدادِ زیادتی) میں ترمیم کی، جس کی وجہ سے ایس سی ایس ٹی کے زمرہ میں شامل افراد آگ بگولہ ہوگئے، بھارت بند کا اعلان کیا گیا، جو انتہائی مشکل صورت حال کا باعث بنا، 10 افراد کی موت ہوئی، کثیر تعداد میں لوگ زخمی ہوئے، اربوں کا نقصان ہوا، جو یقینی طور پر باعث تکلیف ہے، بے شک دلت طبقات کے ساتھ ملک میں ظلم و زیادتی کے واقعات رو نما ہوئے ہیں ، انہیں ذلیل و خوار کیا گیا ہے، کہیں آخری رسومات ادا کرنے سے بھی روکا گیا ہے، کہیں گھوڑی پر بیٹھنے کی وجہ سے زدو کوب کیا گیا ہے، کہیں گؤ کشی کے نام پر پٹائی کی گئی ہے، ریگنگ کے نام پر خودکشی کرنے پر مجبور کیا گیا ہے.

مختلف واقعات ہیں ، جو کمزور طبقات کے مشکلات ومسائل کو نمایاں کرتے ہیں ،ان کے درد و تکلیف کو عیاں کرتے ہیں ، ان کے صبر کا پیمانہ لبریز کرتے ہیں ، اسی لئے عرصئہ دراز سے ان کے مسائل پر توجہ بھی دی جاری ہے، انہیں مختلف رعایتیں اور سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں ، اب عدلیہ کو یہ احساس ہوا کہ مذکورہ بالا قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے، لوگوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے، معاملہ یک طرفہ رخ اختیار کرلیتا ہے، اس لئے اس ضابطہ کو ترمیم کردیا جائے، فیصلہ آنے کے بعد سے ہی سیاست بھی شروع ہوئی اور دلت طبقات کے جوش و جذبہ میں تحریک ہوئی، جو ایک بڑے نقصان کا روپ دھار کر ظاہر ہوئی، اس رویہ اور اس طرز عمل کو کیا کہا جائے بڑا سوال ہے؟ کیا یہ درست ہے؟ کیا اسے جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟

کیا ظلم و زیادتی تکلیف و مسائل عدلیہ کی مخالفت کو روا کریدتے ہیں ؟ اگر جواب ہاں میں دیا جائے تو نظام عدلیہ معطل ہوجاتا ہے، اس کی اہمیت و وقعت ہی باقی نہیں رہتی ہے،جمہوریت کی چولیں ہل جاتی ہیں ، پورا نظام بوسیدہ عمارت کی مانند ہوجاتا ہے اور اگر نا میں جواب دیا جائے جیسا کہ مناسب اور قرین قیاس ہے تو دلتوں پر مظالم کی طویل داستان وکیل بن کر سامنے کھڑی ہوجاتی ہے، لیکن اس کمزور طبقہ نے جو طاقت کا مظاہرہ کیا ہے، مفکرین دانتوں تلے انگلیاں دبانے پر مجبور ہوگئے، مزے کی بات تو یہ کہ سب  بڑا مسئلہ سیاسی رہنماؤں کے لئے ہے، دلتوں کو ناراض کریں تو کیسے کریں ، کرسی کے تین پائے تو انہیں کے دم پر قائم ہیں ، اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے بی جے پی نے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی ہے.

راہل گاندھی نے بھی اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، دلتوں سے محبت کا اظہار کیا اور کہا دلتوں کو دبانا، انہیں کمزور رکھنا بی جے پی اور آرایس ایس کے خون میں ہے،ان جملوں کے ذریعہ راہل نے بھی موقع پر چوکا لگایا مایاوتی کہاں پیچھے رہ سکتی تھیں ، انہوں نے موقع غنیمت جانا اور چھکا لگانے کی کامیاب کوشش کی اور ان کے جذبات نے کچھ اس طرح لفظوں کا جامہ پہنا کہ اگر وقت رہتے حکومت کاروائی کرتی تو بند کی نوبت نہ آتی اور توڑ پھوڑ آگ زنی کا موقع ہی فراہم نہ ہوتا، ساتھ ہی انہوں نے تشدد کے واقعات سے دلتوں کو بری کرنے کی بھی کوشش کی، ان کی نظر میں تشدد کوئی اور کر رہا تھا، کیوں نہ ہو دلتوں کی مسیحا جو ٹھہریں.

بہرحال تمام سیاسی رہنماؤں کے بیانات قریب قریب اسی نوعیت کے ہیں ، دلتوں کی کثرت نے تمام سیاسی پارٹیوں کو مجبور کردیا، ان کی تحقیر کا جملہ تک کسی پارٹی میں کہنے کی جرأت نہیں ہے، تحقیر تو دور کی بات حقیقت بیانی بھی کرنے کی جسارت نہیں کی گئی، کیا کرسی کی چاہت پورے ملک پر غالب آگئی ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونا یقینی ہے۔ میرٹھ سے اس معاملے میں بہوجن سماج پارٹی کے یوگیندر ورما کو گرفتار کیا گیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی رہنماؤں نے اپنے مفاد کے لئے آگ میں گھی ڈالنے کی کوشش کی، ورنہ اس طرح کے واقعات بھی اخبارات کی سرخیاں بنیں کہ لیڈر نے سمجھایا اور عوام گھروں کی جانب لوٹ گئے، لیکن ایسے واقعات کم ہی سنے گئے ۔ بہرحال تشدد کے واقعات نے ملک کی شبیہ کو نقصان پہنچایا ہے،عدلیہ کے وقار کو ٹھیس لگائی ہے، اس کے علاوہ غور وفکر کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ ایسے وڈیوز گردش کررہے ہیں جو یہ ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ انتظامیہ کے افراد نے گاڑیاں جلائیں ، خود ہنگامہ کیا، پھر یہ جرم دلتوں پر مڑھ دیا گیا، لیکن ان ویڈیوز کی کیا حیثیت ہے؟

اس پر گفتگو کرنا مشکل ہے، پھر کن علاقوں میں ایسا ہوا یہ کہنا انتہائی دشوار ہے، البتہ اس پورے معاملے کا حساس پہلو انتظامیہ طرز کار ہے، بھارت بند کا اعلان کیا جاچکا تھا، خدشات تھے، آثار و قرائن خوف زدہ کرنے والے تھے، اس کے باوجود اس صورت کا مشاہدہ ہونا انتظامیہ کی ناکامی کا پتہ دیتا ہے، جاٹوں کے تشدد میں انتظامیہ کی یہی صورت حال تھی، بابا رام رحیم کی گرفتاری پر انتظامیہ ناکام ثابت ہوئی، کاس گنج میں بھی خاطر خواہ نتائج نہیں تھے، مظفرنگر فساد میں بھی یہی ہوا تھا، پورے ملک میں تشدد ہوا سب سے زیادہ پریشانیاں انتظامیہ کے سر آئیں ، پولیس اہلکاروں کو سب سے زیادہ محنت کرنی پڑی، لیکن وقت رہتے کوشش کر لی جاتی تو یہ صورت حال نہ ہوتی، اس واقعہ نے ہمیں بہت سے پہلوؤں پر سوچنے کے لئے مجبور کردیا ہے، دلتوں کو نقصان تھا، تشدد کی راہ نہیں اختیار کرنی چاہئے تھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے اپنا احتجاج پرسکون انداز میں درج کرتے، سیاسی رہنما ملک کے مفاد کو ترجیح دیتے، عوام کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے، جس طرح انتخابات کے دوران ریلیاں نکالتے ہیں ، عوام سے مخاطب ہوتے ہیں ، ایسا آج کیوں نہیں کیا گیا؟

ٹیکنالوجی کے دور گھر میں بیٹھ کر بھی خطاب کیا جاسکتا تھا، انتظامیہ کو بھی چاق و چوبند رہنا چاہیے تھا، صورت حال کو اس نوعیت تک نہیں پہنچنے دینا چاہیے تھا، مستقبل میں اس طرح کی صورت حال سے مقابلہ کرنے کے لئے ٹھوس حکمت عملی بنائی جائے اور ملک کے وقار کو عدلیہ کے وقار کو ہر شئے پر مقدم رکھا جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close