نقطہ نظر

کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

حفیظ نعمانی

وزیر اعظم یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ ان کا نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا فیصلہ ملک کے لئے مفید نہیں ہے۔ اب دیوالی کے رونے والے تو رو دھوکر بیٹھ گئے کہنے والوں نے کہا کہ ایسی پھیکی دیوالی زندگی میں نہ دیکھی اور نہ بھگوان کبھی دکھائے۔ لیکن گجرات کے ہی نریندر مودی کہہ رہے ہیں کہ اقتصادی اصلاحات اور کڑے فیصلوں کے باوجود ملک کی معیشت درست سمت میں بڑھ رہی ہے۔ اس کا ثبوت وہ یہ دے رہے ہیں کہ کوئلہ اور بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاری بھی بڑھی ہے اور غیرملکی کرنسی 30  ہزار کروڑ ڈالر سے 40  ہزار کروڑ ہوگئی ہے۔ اور انہوں نے اس پر خوشی ظاہر کی ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے دولت تجوریوں سے نکل کر بینکوں میں آگئی ہے۔

ہم کبھی حکمراں نہیں رہے لیکن جن کے ہاتھ میں حکومت ہوئی ان سے تعلق رہا یہ ہمیشہ دیکھا کہ ہم زمین کا حال بتاتے رہے اور وہ آسمان کی طرف اشارہ کرکے دکھاتے رہے کہ بادل برسنے دو ہر پیٹ میں اتنی روٹی آجائے گی کہ ہر چوپال سے آلہا اودَل کی آوازیں آئیں گی۔

ہم نے تو دیوالی سے ایک رات پہلے سورت کے ایک بازار کا حال ٹی وی پر دیکھا بتانے والا بتا رہا تھا کہ جس سڑک پر ہم سواری میں بیٹھ کر جارہے ہیں یہاں دیوالی سے چار دن پہلے پیدل چلنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی کاندھے سے کاندھا چھلتا تھا۔ یہ جو گودام آپ دیکھ رہے ہیں یہ رات میں بھر جاتے تھے اور دن میں خالی ہوجاتے تھے۔ کپڑے کا کوئی مل ایسا نہیں تھا جو 24  گھنٹے نہ چلتا ہو اور اب پانچ گھنٹے بھی مشکل سے چل رہا ہے۔ باہر کا خریدار اپنے گھر بیٹھا ہے۔ اب تک لاکھوں کی بکری ہوجاتی تھی اب دیکھئے جی ایس ٹی اور کیا دکھائے؟ پہلے 18  فیصدی ٹیکس لگایا اب مہربانی کرکے 12  فیصدی کردیا جبکہ کپڑے پر کبھی کوئی ٹیکس نہیں  لگا۔

سنا تھا گجرات میں مودی جی نے ایسے حکومت کی ہے کہ ان کے خلاف بولنے والے کی زبان کاٹ دی جاتی تھی۔ ہاردِک پٹیل نام کا نوجوان جب اپنی برادری کے ریزرویشن کے لئے میدان میں آیا تو گجرات دَہل گیا تھا۔ بعد میں اس کے ساتھ وہ برتائو کیا جس کا انجام یہ ہے کہ وہ کہہ رہا ہے کہ میں سیاست میں نہیں آئوں گا صرف باہر سے مدد کردوں گا۔ دیوالی گجرات کی ہی نہیں لکھنؤ میں ہمارے بچوں نے بتایا کہ صرف پوجا کا سامان اور بچوں کی ضد کی وجہ سے آتش بازی کا سامان تو بکا اُن کے علاوہ جوتے کپڑے گھروں کی سجاوٹ کا سامان جو چیزیں سب سے زیادہ بکتی تھیں ان کے بجائے سونا بکا شاید وہ اس لئے کہ اس میں گیا کیا وہ تو کاغذ کی دولت کو سونے میں بدل دیا؟ پھر بھی دکانداروں نے کہا کہ بھاری کم بکا اور ہلکا زیادہ۔

وزیر اعظم نے دیوالی سے 12  دن پہلے معمولی سی رعایتیں کی تھیں جن کو انہوں نے دیوالی سے پہلے دیوالی قرار دے دیا جبکہ وہ ان کی بہت بڑی غلطیوں میں سے معمولی سی کمی تھی۔ ملک کے ہر طبقہ میں جتنا شور ہوا ہے اور گجرات کے الیکشن پر بھی اس کا اتنا اثر نظر آرہا ہے کہ سماج وا دی پارٹی بھی پانچ سیٹیں لڑنے کی بات کررہی ہے اور راہل گاندھی کی ریلی میں ترنگے کم اور گجراتی برادریوں کے جھنڈے زیادہ نظر آرہے تھے اور راہل جے بھیم کا نعرہ لگاکر اعلان کررہے تھے کہ دلت ان کے ساتھ آگئے ہیں۔ ایسی حالت میں مودی کچھ اور تبدیلی کرتے لیکن دشواری یہ ہے کہ اب اگر وہ کچھ کرتے ہیں تو ان کا احسان نہیں بلکہ یشونت سنہا کا خط اور ارون شوری کا جملہ کہ ڈھائی آدمی حکومت چلا رہے ہیں اور ان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ کوئی نہیں ہے۔

وزیر اعظم اور وزیر مالیات دونوں نے ایک بار نہیں بار بار کہا کہ جی ایس ٹی سے ہر چیز سستی ہوجائے گی اور سارا ملک کہہ رہا ہے کہ ہر چیز مہنگی ہوگئی اور جو کہا تھا کہ مذہبی کتابوں اور رسالوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اس کی کہانی بھی سن لیجئے کہ ہمارے والد نے ایک مذہبی رسالہ نکالا تھا جو اب بھی نکل رہا ہے اب سب سے چھوٹے بھائی اسے دیکھ رہے ہیں انہوں نے نومبر کے الفرقان میں اعلان کیا ہے کہ روز افزوں بڑھنے والی مہنگائی کس قدر بھیانک رُخ اختیار کرچکی ہے اس کا سب کو اندازہ ہوگا اس پر مزید ایک نیا معمہ جی ایس ٹی کے نام سے بھی آگیا جس کی وجہ سے کاغذ پلیٹ میکنگ چھپائی اور بائنڈنگ کا خرچ بھی ایک دم سے بڑھ گیا۔ اور بیرونی ممالک کے ڈاک خرچ میں غیرمعمولی اضافہ کردیا کہ جس پر پہلے 45  روپئے کا ٹکٹ لگتا تھا اب 73  روپئے لگے گا۔

اب یہ نہیں معلوم کہ یہ سازش وزیر اعظم کی ہے یا آر ایس ایس کی اس طرف سے دھیان ہٹائو ایک سے کہلائو کہ تاج محل بنانے والا ہندوئوں کا دشمن اور ملک کا غدار تھا دوسرے سے کہلائو کہ وہ تو مندر ہے اور چار جمہوروں کو بھیجو کہ وہ جاکر پوجا کریں ۔ تاریخ تو بتاتی ہے کہ وہاں شاہ اور ملکہ کی قبر ہے اب پوجا ان میں سے کس کی کی جارہی ہے؟ یہ وہ جانیں ۔ اور ایک وزیر کو کرناٹک میں لگادو کہ ٹیپو سلطان کی جتنی کردار کشی کرسکتا ہو کرے اور زانی کے معنی نہ جانتے ہوئے بھی ٹیپو کو زانی کہے ہندوئوں کا قاتل کہے۔ بات صرف یہ ہے کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی جو بھیانک غلطی ہوئی ہے ان کے بجائے تاج محل اور ٹیپو سلطان پر لوگ بحث کریں ۔ زنا عربی کا لفظ ہے اس کا مطلب ہے کسی غیرعورت سے ہم بستری کرنا وہ غیرمذہب کی ہو یا اپنے مذہب کی۔

اٹل جی نے ایک بار کہا تھا کہ کنوارے تو ہم بھی ہیں پھر کہا تھا کہ ہم نے شادی نہیں کی ہے لیکن کنوارے نہیں ہیں ۔ انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ زانی ہیں ۔ اسلام میں زنا کی سزا 100  کوڑے ہیں مرد اور عورت دونوں کو اگر شادی شدہ ایسی حرکت کریں تو اس کی سزا سنگسار ہے ’’پتھر مار مارکر جان سے مار دینا۔‘‘ ہندوستان میں جو قانون ہے وہ جبریہ رشتے پر ہے۔ اسلام میں کوئی رعایت نہیں ہے۔ اسی لئے کوئی کتنا ہی بڑا مجاور اور بابا ہو عالم ہو اس پر بلاتکاری کا الزام نہیں لگا اور ہندو بابا جسے بھی پکڑا جاتا ہے اس کے ساتھ لڑکیوں کی کہانی ضرور نکلتی ہے۔ مسلمان بادشاہ ہو یا فقیر ہو وہ چار شادی تو کرسکتا ہے زنا نہیں کرتا کیونکہ مرنے کے بعد جو میدانِ حشر میں پیدا کرنے والے کا سامنا ہوگا تو حساب دینا ہوگا۔

وہ ہندو جو شاہجہاں اور ٹیپو سلطان پر الزام لگا رہے ہیں ان کا دھرم ہے کہ مرنے کے بعد جل جائیں گے اور پھر دنیا میں ایم ایل اے، ایم پی، وزیر یا کارپوریٹر بن کر آئیں گے اور اسی طرح آتے جاتے رہیں گے۔ یہ بحث ہے نہیں بنائی گئی ہے صرف اسی لئے کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر رونا گانا بند ہو لیکن جو زخمی ہیں جن کی تھالی سے دیسی گھی ہٹ گیا جو چار گھنٹے نوٹ گنتے تھے اب 20  منٹ میں گن کر دُکان بند کردیتے ہیں وہ جی ایس ٹی کو کیسے بھول جائیں ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close