نقطہ نظر

کیا رام مندر بنے گا؟

سالک ادیب بونتی

ان کےپاس طاقت ہے، اختیارہے، لوگ ہیں اور حکومت کی مدد بھی ہے، اس پسِ منظرمیں ایک سوال یہ کھڑا ہوتاہے کہ پھر وہ مندر بناکیوں نہیں رہےہیں؟

کیا انھیں کسی کا خوف ہے؟

کیاانھیں کوئی خطرہ ہے؟

جی نہیں….. ایسا کچھ نہیں وہ مندربنائیں گےہی نہیں اور نہ ہی مسجد بننےدیں گے….کیونکہ اگرایساہوجائے تو ان کی سیاست کی دوکان بند ہوجائےگی …. اگر یہ سچ ہے تو رام مندرکو لےکریہ شعلہ بیانیاں اور احتجاج کی کیفیت کیوں؟

صرف اس لیے کہ ملک کاماحول گرم رہے،مسلمانوں کو خوف میں ڈالاجائے اور کسی بھی طرح انھیں بھڑکایاجائے… صرف اسی مقصد سے رام مندرکی آڑمیں دنگےاور فرقہ وارانہ فسادکاماحول پیداکیاجارہاہے۔

ہمیں کیاکرناچاہیے؟

راستےمیں چلتےہوئے کسی درخت کی شاخ اگر آڑے آئے توآپ کیاکرتےہیں؟ یہی نا…کہ سر جھکایااور آگے بڑھ گئے… یہ گریز کی ایک فطری مثال ہے جوہمیں یہ بتاتی ہے کہ حالات اگرخلاف ہوں تو ٹکرانے کےبجائے گریز کی راہ لی جائے….

مشتعل ہوکرجواب دےکرپہلےہی بہت نقصان ہوچکاہے..خدائےبرترسےخودکوجوڑیں، حالات کو سمجھیں… اپنےبچوں کومثبت اندازمیں سمجھائیں… اینٹ کاجواب پتھرسے دینےکی کوشش میں دشمن عناصر کومدد فراہم نہ کریں…

ان شاءالله دن بدلیں گے، حالات بدلیں گے اور یہ سارامنظربدلے گا …. شرط ہے کہ ایمان اور اتحاد کی سبیل پرخود کوڈال دیاجائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close