نقطہ نظر

کیا اس گھر کو بھی گھر کے چراغ سے آگ لگے گی

وزیراعظم سے کون کہے کہ پھانسی تو بعد میں دیجیے گا پہلے گھر کو تو سنبھالیے۔

حفیظ نعمانی

پورے ملک میں شور اور دبائو کے بعد مودی کابینہ نے اس بات کو مان لیا جسے مینکا گاندھی نے سب سے پہلے کہا تھا کہ 12 سال سے کم عمر کی بچیوں کے ساتھ منھ کالا کرنے والوں کو پھانسی دی جائے۔ یہ صحیح ہے کہ ملک بہت بڑا ہے اور ہر فیصلہ کی تعریف کرنے والے کم اور اس پر تنقید کرنے والے زیادہ ہوجاتے ہیں۔ مرکزی کابینہ نے فیصلہ کرلیا کہ 12 سال یا اس سے کم عمر کی بچیوں کے ساتھ ریپ کی سزا پھانسی ہوگی اور ابتدائی تحقیقات سے آخری فیصلہ پر عمل تک صرف 10 مہینے ملیں گے۔ یعنی اگر الزام صحیح ہے تو مجرم کو پھانسی دے دی جائے گی۔

جس وقت اُنائو اور کٹھوعہ کے دردناک معاملات پر پورے ملک میں احتجاج ہورہا تھا اس وقت مرکز کی کابینہ کے وزیر سنتوش گنگوار صاحب کی زبان میں بھی کھجلی ہوئی اور انہوں نے کہہ دیا کہ اتنے بڑے ملک میں ایک یا دو واقعات ایسے ہوجائیں تو بات کا بتنگڑ نہیں بنانا چاہئے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ایک کابینہ کا رکن ایسی بچکانہ بات کہے جبکہ آئے دن میڈیا میں دکھایا اور بتایا جارہا ہے کہ ہر دن شرمناک حرکتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ اور اس کا سبب یہی بتایا گیا ہے کہ جرم کرنے والے زیادہ تر چھوٹ جاتے ہیں یا سزا کی بات ہوتی ہے تو اس میں اتنے دن لگ جاتے ہیں کہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ گناہگار کو کس جرم کی سزا ملی ہے؟

اپنے ملک کا حال یہ ہے کہ ابھی کسی ایک مقدمہ کی خصوصی عدالت میں پہلی اینٹ بھی نہیں رکھی گئی کہ یہ بحث چھڑ گئی کہ قتل کی سزا پھانسی ہے تو پھانسی کے واقعات میں کتنی کمی آئی؟ اور کہنے والے یہ بھی کہنے لگے کہ پھانسی کی سزا کو قانون میں شامل کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ ہم ہمیشہ سخت سزا کے حق میں رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں بیشک قتل کی سزا موت ہے لیکن پھانسی دی کہاں جاتی ہے؟ نہ جانے کتنے وہ مجرم آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں جن کو سب سے بڑی عدالت پھانسی کی سزا دے چکی ہے اور صدر جمہوریہ نے رحم کی درخواست مسترد بھی کردی ہے مگر اس میں ہر قدم پر مگر لگا دیا گیا ہے اس لئے پھانسی نہیں دی گئی۔ پنجاب کے ایک وزیراعلیٰ کی گاڑی بم سے اُڑانے والے ایک سکھ کو پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔ سردار منموہن سنگھ وزیراعظم تھے اور سردار پرکاش سنگھ بادل پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے۔ وہ آئے اور وزیراعظم سے پنجابی میں کہہ دیا کہ پھر پنجاب کو آپ ہی سنبھالئے گا۔ اور ایک جملہ نے کام کردیا اور یہ کہہ کر اس کی پھانسی کو عمرقید میں بدل دیا کہ اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ہم گنانے بیٹھیں تو درجنوں نام گنا دیں گے لیکن حاصل کیا؟ اب بھی مسئلہ وہی ہے کہ پھانسی کا قانون بنانا عدالت کا پھانسی کی سزا دینا اور پھانسی پر لٹکا دینا یہ سب الگ الگ ہیں۔ اگر وہی ہوا جو ہر پھانسی کی سزا میں اب تک ہوا ہے تو یہ واقعہ ہے کہ کچھ بھی نہیں ہوگا۔ اور اگر یہ فیصلہ کرلیا جائے کہ 10  مہینے پورے ہوتے ہی پھانسی دے دی جائے گی اور ایک ہفتہ میں سو دو سو آوارہ مجنوں پھانسی پر لٹک جائیں تب ہم معلوم کریں گے کہ اثر ہوا کہ نہیں ہوا؟

ابھی صرف مرکزی حکومت کی کابینہ نے پاس کیا ہے اور قانون نہیں بنا ہے بلکہ حکومت کو آرڈی نینس لانا پڑا ہے اور یہ بحث شروع ہوگئی کہ سزائے موت میں تکلیف کم کس میں ہوگی۔ زہریلا انجکشن لگادیا جائے، گولی ماردی جائے یا پھانسی پر لٹکایا جائے؟ ہم نہیں جانتے کہ یہ سزا دی جارہی ہے یا انعام؟ مسئلہ یہ ہے کہ جس بچی کو بیہوشی کے انجکشن مسلسل دیئے گئے ہیں اور گلا گھونٹنے کے بعد پتھر سے بھی اس کے سر کو کچلا گیا ہے اس کے قاتلوں کے بارے میں یہ بحث کیوں نہیں ہورہی کہ کس طرح اور کس کس طریقہ سے مارا جائے؟ اور پورا منظر ٹی وی کے ہر چینل پر دکھایا جائے تاکہ تڑپ تڑپ کر مرنے کا منظر سب دیکھ لیں اور پھر ایسی حرکت کرتے وقت سوچیں کہ اگر پکڑے گئے تو ہمارے ساتھ بھی یہ ہوگا۔ ہندوستان میں جس چیز نے پھانسی کو بے اثر کیا ہے وہ یہی جذبہ ہے کہ مرنے والے کو کم سے کم تکلیف ہو جبکہ سزا یہ ہے کہ جان کے بدلے جان، کان کے بدلے کان، آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک۔ یعنی تم نے جس طرح مارا ہے تم کو بھی اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ بے رحمی کے ساتھ ماراجائے۔

اب تک جموں کے کٹھوعہ کی یہ خبر گونج رہی تھی کہ کرائم برانچ کی رپورٹ میں جن کے نام دیئے گئے ہیں وہ سب اس جرم میں شریک نہیں تھے اور اس لئے کرائم برانچ کی چارج شیٹ کی مخالفت میں ہندو ایکتا منچ بنایا گیا تھا جس میں بی جے پی کے وزیر اور ورکر آگے آگے تھے۔ اب یہ خبر گشت کرائی جارہی ہے کہ اس آٹھ سالہ بچی کے ساتھ کسی نے منھ کالا نہیں کیا۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ پھر ایک مندر میں اسے ایک ہفتہ تک رکھ کر کیا اس کی پوجا کی؟ حکومت بی جے پی کی ہے پھانسی کا قانون بی جے پی نے بنایا ہے اب تک جن پر الزام ہے وہ بی جے پی کے ہیں اور اب وہ ہر بات سے انکار کررہے ہیں تو سزا کسے دی جائے گی؟

یہی اُنائو میں ہورہا ہے کہ سی بی آئی نے 14 دن اپنے پاس رکھ کر ایم ایل اے اور دوسروں سے جو کچھ معلوم کیا ہے مقدمہ اس کی بنیاد پر چلے گا اور عدالت فیصلہ کرے گی کہ اس نابالغ لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ میں کون کون شامل تھا اور لڑکی کے باپ کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے کا جرم کس کس نے کیا ہے؟ پولیس، سی بی آئی اور عدالت ابھی اس پر غور ہی کررہی ہے کہ اُنائو اور بانگر مئو میں جلوس نکلنے لگے جس میں بینروں پر لکھا ہے کہ "gekjk fo/kk;d funksZZ”k gS”   ہمارا ایم ایل اے بے قصور ہے۔ اب تک جموں کی بھیڑ اور وہاں کے وکیل جلوس نکال رہے تھے اب اُنائو میں جلوس نکل رہے ہیں کہ ہمارا ایم ایل اے بے قصور ہے اور پدماوت نام کی فلم کے دکھانے نہ دکھانے کے معاملہ میں ہندو عوام فیصلہ کرچکے ہیں کہ سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نہیں جنتا ہے اور ہوگا وہ جو جنتا کہے گی۔ ابھی تک تو وزیراعظم نے پارٹی لیڈروں کو نصیحت کی تھی کہ میڈیا کو بے وجہ بیان نہ دیں۔ اب وہ یہ بتائیں کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کون سی ہے۔ اور جو بھی ہے اس سے بھی معلوم کیا جائے کہ کم عمر کی بچیوں کے ساتھ منھ کالا کرنے والوں کو کون سی سزا دی جائے؟ اور جو لگ ہاتھوں میں بینر لے کر اور نعرے لگاتے ہوئے جلوس نکال رہے ہیں اور زانیوں کی حمایت کررہے ہیں ان بی جے پی کے ورکروں کو وزیراعظم سزا دیں گے یا انعام۔ وزیراعظم سے کون کہے کہ پھانسی تو بعد میں دیجئے گا پہلے گھر کو تو سنبھالئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close