نقطہ نظرہندوستان

کیا آر ایس ایس کا مسلم بچیوں کو اپنی بہو بنانے ہدف پورا ہو رہا ہے؟  

نازش ہما قاسمی

غالباً ۲۸؍ نومبر ۲۰۱۷ کو آر ایس ایس سے وابستہ تنظیم "ہندو جاگرن منچ” نے مسلم لڑکیوں کو بہو بنانے کا اپنا ہدف مقرر کیا تھا اور پریس کانفرنس کے ذریعہ کہا تھا کہ ہم تقریباً چھ ماہ میں 2100 مسلم لڑکیوں کو ہندو گھرانوں کی بہو بنائیں گے۔ اس وقت ہندو جاگرن منچ  اترپردیش کے صدر اجّو چوہان نے کہا تھا کہ ’’لو جہاد کو منہ توڑ جواب دینے کا وقت اب آ چکا ہے۔ اب انہیں کے انداز میں جواب دیا جائے گا۔ اس نے کہا تھا کہ ہم صوبے کے تمام اضلاع میں تنظیم کے لئے ہدف طے کریں گے۔ صوبے بھر میں 6 مہینوں کے اندر کم از کم 2100 مسلم لڑکیوں کو بہو بناکر ہندو گھروں میں لایا جائے گا۔ یہ ہدف کوئی زیادہ بڑا نہیں ہے؛ لہٰذااسے آسانی سے پورا کیا جا ئے گا۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ہمارے رابطے میں تقریباً 150 ہندو لڑکے ہیں جن کی دوستی مسلم لڑکیوں سے ہے۔ وہ شادی کرنا چاہتے ہیں؛ لیکن خوف کی وجہ سے ایسا نہیں کر پا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ہم پہلے ان کی شادی کرائیں گے اور انہیں پوری طرح تحفظ فراہم کریں گے، اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ہم لوگوں کے گھر گھر جاکر یہ اپیل کریں گے کہ مسلم لڑکیوں کو بہو بناکر لائیں، جو ہندو مسلم لڑکی کو بہو بنائے گا وہ اپنے دھرم کے لئے بڑا کام کرے گا۔

مسلمان لو جہاد کے لئے اپنی شناخت چھپا کر ہندو دھرم کی لڑکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ جب کہ ہندو لڑکے کسی طرح کا فرضی کام نہیں کریں گے۔‘‘  تقریباً اس بیان کو ایک سال کا عرصہ ہونے جارہا ہے۔ ہندوتوا کے عزائم مکمل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اس ہدف کا ثمرہ آر ایس کو اب ملنے لگا ہے؛ کیوں کہ کثیر تعداد میں مسلم لڑکیاں ہندو لڑکوں سے شادیاں کررہی ہیں۔ عموماً کالج ویونیورسٹی میں پڑھنے والیاں اور کمپنیوں میں کام کرنے والی مسلم لڑکیاں ان کا شکار بن رہی ہیں۔ آخر ہماری لڑکیاں ہندو لڑکوں کی محبت میں کیسےپھنسیں؟ کیوں کر ان کے ہاتھوں لگیں ؟ کون ہے اس کا ذمہ دار؟ کیا اس کی ذمہ داری مسلم تنظیموں پر عائد ہوتی ہے؟ یا والدین پر جو اپنی بیٹیوں پر لگام نہیں کستے؟ جب سے یہ معاملہ اُٹھا ہے۔ مسلمانوں میں تکلیف کا احساس ہورہا ہے؟ خوف محسوس کیا جارہا ہے کہ آخر کیا ہوگا؟ کیا ہماری بچیاں بھی ان کا شکار ہوجائیں گی؟ کیا ہماری نسلیں بھی غیر مسلم بچے پیدا کریں گی، یہی بچے آگے چل کر مسجد میں سجدہ کرنے کے بجائے مندر میں ماتھا ٹیکیں گے، ایک خدا کو پوجنے کے بجائے لاکھوں بتوں کی پرستش کریں گے؟

 کچھ لوگ اس ارتداد کی ذمہ داری علما پر عائد کررہے ہیں تو وہیں کچھ والدین پر؛ لیکن اس کی اصل ذمہ داری واقعی والدین پر عائد ہوتی ہے۔۔۔ علماء تو مجالس و محافل میں اس جانب توجہ دلاتے رہیں ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت جگہ جگہ اصلاح معاشرہ کانفرنس کا انعقاد کیاگیا جس میں بڑی تعداد میں مسلم پرسنل لا بورڈ سے جڑی ہوئی خواتین نے گھر گھر جاکر اسلام کی آفاقیت اور عورتوں کا اسلام میں مقام سے واقف کرایا، پھر یہ کیسے زَد میں آگئیں؟ یقیناً اس کے ذمہ دار والدین ہیں انہوں نے اگر اپنے بچوں پر قابو پایا ہوتا؟ ان کی مناسب طریقے سے دیکھ ریکھ کی ہوتی۔ اپنی لڑکیوں کے چال چلن، ان سے ملنے والی سہیلیوں کے عادات و اطوار پر گہری نظر رکھ کر اگر بروقت کارروائی کی ہوتی تو شاید اتنی بڑی تعداد میں مسلم بچیاں غیروں کے ہاتھوں نہیں لگتیں۔

ارتداد کی خبریں سن کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ با حجاب لڑکیاں ماتھے پر تلک لگائے ہوئے لڑکوں کے ساتھ بائیک پر گھوم رہی ہیں؟ کیا یہ اسلام کا مذاق نہیں ہے؟ کیا مسلمانوں پر چوٹ نہیں ہے۔ کہاں گئی غیرت ایمانی ؟ کیا ہم اپنی بچیوں پر قابو نہیں پاسکتے؟ لیکن نہیں، ہم ہی ان بچیوں کے بگاڑ کا سبب بنے ہیں۔ گھروں میں ٹیلیویژن ساتھ میں بیٹھ کر دیکھتے رہے، جہاں مخرب اخلاق مناظر پیش کیے جاتے تھے وہیں ہماری بچیاں والدین اور بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر ان مخرب اخلاق مناظر پر تبصرے کررہی تھیں۔ ہم نے ٹی وی سیرئل کے ذریعے مسلم نان مسلم پیار کو پروان چڑھایا، دلوں سے اسلام کی عظمت ختم کی، بھائی بہن کے مقدس رشتوں کا پامال ہونا یہیں سے شروع ہوا، اور جب ہماری لڑکیاں کالج ویونیورسٹی میں گئیں تو وہاں کھلا ماحول ملا، مخلوط تعلیم ملی، آزادی ملی، کوئی پوچھنے اور روکنے ٹوکنے والا نہیں رہا اس لیے انہوں نے مسلم لڑکوں کے سا تھ ساتھ غیر مسلم لڑکوں سے دوستیاں گانٹھیں اور ان کے پیار کے جھانسے میں آگئیں۔ بہت سارے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جہاں غیر مسلم لڑکوں نے مسلم لڑکیوں سے شادی کی اور اس کے بعد اپنا مطلب پورا ہوتے ہی انہیں چھوڑ دیا۔ اب یہ بچیاں کہاں جائیں؟ والدین بدنامی کے ڈر سے قبول کرنے کو تیار نہیں، وہ سازش کی شکار لڑکیاں تباہی کے ایک ایسے دہانے پر پہنچ چکی ہوتی ہیں جہاں دونوں طرف کھائی ہوتی ہے اور وہ ارتداد کی ہی حالت میں خودکشی کرنے کو مجبور ہوجاتی ہیں۔

وہ عفت نشیں بہنیں جو پردے میں رہ کر شہزادیاں تھیں آج یوٹیوب، ٹک ٹاک اور دیگر موبائل اپلیکشن کے ذریعے اپنے حسن کا مظاہرہ کررہی ہیں، انتہائی گھٹیازبان کا استعمال کرکے برقع واسلام کو بدنام کررہی ہیں۔ بوائے فرینڈاور گرل فرینڈ بن کر اسلامی رشتوں کا  مذاق بنا رہی ہیں۔ آخر اس کی روک تھام کیسے کی جائے؟ یہ سوال اہم ہے۔ والدین اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنے بچوں کو بنیادی اسلامی تعلیمات سے آگاہ کریں۔ ان کے چال چلن اور کپڑوں پر دھیان دیں۔ انہیں موبائل فون سے دور رکھیں۔ ان کے دوستوں اور ساتھ میں پڑھنے والوں پر نظر رکھیں۔ بچیاں ہیں غلطیوں کاصدور ممکن ہے؛ لیکن اس غلطی پر بروقت تنبیہ کریں۔ مسلم تنظیمیں اسکول وکالج کا قیام کریں، یونیورسٹیاں قائم کریں، جہاں اسلامی ماحول میں عصری تعلیم ممکن طریقے پر دی جاسکے؛ ورنہ وہ دن دور نہیں جب ارتداد کی آندھی اچھے اچھے گھروں کو اپنی زَد میں لے لے گی اور ہماری بچیاں سازش کا شکار ہوکر مرتد ہوتی رہیں گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. اتنے تشویش کی بات نہیں۔۔وقت اور حالات کے ساتھ معاشرتی اور تہذیبی سطح پر تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے۔۔۔۔ویسے مسلمانوں کے ساتھ بھی ایک بڑا المیہ ہے کہ اسلام میں اتنے فرقے ہیں کہ خود ایک دوسرے کو کافر و مرتد سمجھتے ہیں۔۔۔۔توایسی صورت میں اگر لڑکیاں ہندووں سے شادی کرتی ہیں تو ہنگامہ کیوں۔۔؟؟؟ پہلے اپنے گھر میں مسالک و عقاید کی جو دیوارکھڑی کررکھی ہے اسے گرایں پھرقوم کے بارے میں سوچیں۔۔۔کم از کم مسلمان لڑکیاں کسی غیر مسلک میں شادی کرنے کے عذاب سے کہیں زیادہ خود کو ہندووں سے شادی کرنے میں تحفظ محسوس کریں گی۔۔۔۔

متعلقہ

Close