نقطہ نظر

کیا ذرائع ابلاغ کا قلعہ ناقابلِ تسخیر ہے؟

جس طرح وہ لوگ مسلم سماج  کے اندر مقبول ہیں اسی طرح ہم  بھی غیر مسلمین کے درمیان  قبول عام  کیوں حاصل نہیں کرسکتے؟

ڈاکٹر سلیم خان

یہ ایک حقیقت ہے کہ  سوشیل میڈیا کے ذریعہ مودی بھکتوں نےعوام  کا دماغ خراب کررکھا ہے لیکن اس زہر کا تریاق بھی ذرائع ابلاغ ہی  میں ہے؟ میڈیا کے لوہے کو اسی سے کاٹا جاسکتا ہے؟ لیکن سوال یہ ہے کہ  غیر مسلم سماج  تک ہماری آواز کیسے  پہنچائی جائے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے  کے لیے ہمیں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ   ہم کن غیر مسلمین کی ویڈیو دیکھتے  ہیں  اور کیوں ؟ اس میں شک نہیں کہ ارنب گوسوامی کا شورو شغف، روہت سردھانا کی طنزو تشنیع اور سدھیر چودھری کے الزام و اتہام کو برداشت کرنا ایک ابتلاء  وآزمائش ہے مگر کیا سچ نہیں ہے کہ مسلمانوں میں این ڈی ٹی وی  کے رویش کمار کی ویڈیو ذوق وشوق سےدیکھی جاتی ہے۔  دی  وائر کے ونود دوا  کی ویڈیو زکا  شدت سےانتظار رہتاہے۔ دی کوئنٹ کے سنجے پاگولیا کی  ویڈیو زہم   خود اپنے دوست و احباب  کو بھیجتے ہیں اور  للن ٹاپ کے سوربھ دویدی کی ویڈیو ز کو دیکھنے کے بعد دل خوش ہوجاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جس طرح وہ لوگ مسلم سماج  کے اندر مقبول ہیں اسی طرح ہم  بھی غیر مسلمین کے درمیان  قبول عام  کیوں حاصل نہیں کرسکتے؟اب وجوہات پر آئیں تو رویش کمار ہمیں اس لیے اچھا لگتا ہے کہ وہ صرف  اپنے  ہندو سماج کو درپیش  مشکلات  کا رونا رونے کے بجائے ہمارے مسائل بھی اٹھاتا ہے۔ بحث کے دوران   غیرجانبداررہتا اور تمام تر مخالفت کے باوجود دلیری کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹا رہتا ہے۔ اس  میں ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ غیر مسلمین کے اندر مقبول ہونے کے لیے ہمیں اپنے کنویں سے باہر نکل کر ان لوگوں کے مسائل کو بھی  اٹھانا پڑے گا جن تک رسائی مطلوب ہے۔ ورنہ  وہ ہماری بات پر کان نہیں دھریں گے۔ ایسے میں  خود کو تنقید سے بالاتر نہیں رکھاجا سکتا۔ ارنب کی طرح شور غوغا کیے بغیر جذبات سے  عاری گفتگو کرنی ہوگی   ورنہ وہ بھی ہم سے نفرت کریں گےنیز  بھکتوں کی مخالفت، گالی گلوچ اور دھمکیوں  کی پرواہ کیے بغیر مستقل مزاجی سے کام  کرنا  ہوگا۔

ونود دوا کی طرح مشہور ہونے کے لیے سلگتے ہوئے قومی مسائل کو اٹھانا پڑے گا۔ معروضی  جائزہ  لے کر مسائل کے پیچھے کارفرما مقاصد کی نقاب کشائی کرنی ہوگی تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ اگر ونود دوا چند گھسے پٹے موضوعات پر لگی بندھی باتیں کہتے رہیں تو لوگ جن گن من کی بات سے بھی اسی طرح اوب جائیں گے جس طرح وزیراعظم کے من کی بات سے بور ہوگئے ہیں۔ سوچنے والی بات یہ   ہے کہ ایک پوری فوج مودی جی کو ان کے من کی بات لکھ کر دیتی ہے اور خوب ریہرسل کےبعد اسےپیش کیاجاتاہے اس کے باوجود مہینے میں ایک دن بھی وہ خوراک  قابل برداشت  نہیں ہے جبکہ ہفتے میں چار دن ونود دوا کو شوق سے سنا جاتا ہے۔ فی زمانہ  ویڈیو نےاردو رسم الخط کے جاننے کی رکاوٹ دور کرکےترسیل کو سہل بنا دیاہے۔

 دی کوئنٹ کے سنجے پاگولیا کی  ویڈیوز جنگل کی آگ  کےمانند پھیل جاتی ہے اور اس کی ترویج و اشاعت  میں ہم بھی ہاتھ بنٹاتے ہیں۔ اس کی وجہ    ان کی تحقیق و تفتیش  اور اعدادو شمار کی روشنی میں ہمہ جہت بحث ہے۔اس  سےنفس مسئلہ بالکل دو اور دو چار کی طرح واضح ہوجاتا ہے۔ سنجے کا  سادہ اور آسان لب و لہجہ قلب و ذہن  کو مسخر کرلیتا ہے۔ اس میں  نہ چودھری کی  بہتان طرازی ہوتی  ہےاور نہ سردھانا کی اوچھی منطق۔ ایسا ہی معاملہ للن ٹاپ کے  سوربھ دیویدی کا ہے۔ یہ نوجوان دفتر میں بیٹھ کر کھچڑی پکانے کے بجائے اپنی ٹیم کے ساتھ میدان میں اتر جاتا ہے۔ عوام و خواص سے نہایت دلچسپ سوالات کے ذریعہ اپنی بات نہایت خوبصورتی سے لوگوں تک پہنچا دیتا ہے۔ جن لوگوں کا  للن ٹاپ کے دیویدی سے سابقہ نہ پڑا ہوا ان کےلیے مشورہ  ہے کہ جب  بہت مصروف ہوں تو اس کی ویڈیو نہ دیکھیں،  یہ جادو مصروفیت کو بھلا دیتا ہے۔   امت کے باصلاحیت نوجوان اگر آگے بڑھیں  تو رویش، ونود، سنجے یا سوربھ ہی کی طرح غیر مسلمین میں مقبول ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ویسی ہی محنت و مشقت سے اپنی صلاحیتوں پروان چڑھانا ہوگا۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس بکھیڑے میں پڑنا چاہتے ہیں یا صرف  گریہ و زاری اورسینہ کوبی کو کافی و شافی  سمجھتے ہیں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close