کیا سوشلزم ایک مثالی معاشی نظام ہے؟

احید حسن

سوشلزم ایک پرانا نظریہ ہے جس کی بنیاد سیاسی طور پر یہ ہے کہ معاشرہ (ریاست) کو فرد پر فوقیت ہے، اور اگر ریاست کا انتظام بہتر طور پر چلانا ہے تو تمام طرح کے ملکیتی حقوق ریاست کے پاس ہونے چاہیں اور فرد کو ریاست کے ایک آلہ یا ٹول کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ مختلف النوع معاشی وسیاسی خیالات اور تمام وسائل دولت، ذرائع پیداوار اور اشیاء صرف کو بجبر ریاست کی تحویل میں لے لینا وغیرہ کو اس کے مفہوم میں شامل سمجھاجاتا ہے۔

البتہ اس کی تعریف کی تعیین میں بڑا اختلاف ہے۔ سوشلزم کی آج تک کوئی ایسی واضح اور متعین تعریف نہیں کی جاسکی ہے جسے تمام اشتراکی مفکرین اور اس کے علم بردار رہنماؤوں نے بالاتفاق تسلیم کرلیا ہو۔ پروفیسر جوڈ (Joad)کے الفاظ میں ’’سوشلزم اس ٹوپی کی مانند ہے جو اپنی شکل وصورت کھوچکی ہے اور یہ اس لیے کہ ہر کوئی اسے اپنے سر پر منڈھنے میں مصروف ہے۔ ‘‘
(سوشلزم یا اسلام: پروفیسر خورشید احمد، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی۔ 1982ء ص :18)

  سوشلزم کو بالکل سادہ الفاظ میں یوں سمجھ سکتے ہیں کہ :

’’ اس کی بنیاد اس نظریہ پر ہے کہ تمام وسائل ثروت سوسائٹی کے درمیان مشترک ہیں ۔ اس لیے افراد کو فرداً فرداً ان پر مالکانہ قبضہ کرنے اور اپنے حسب منشاء ان میں تصرف کرنے اور ان کے منافع سے تنہا متمتع ہونے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اشخاص کو جو کچھ ملے گا وہ محض ان خدمات کا معاوضہ ہوگا جو سوسائٹی کے مشترک مفاد کے لیے وہ انجام دیں گے۔ سوسائٹی ان کے لیے ضروریات زندگی فراہم کرے گی اور وہ اس کے بدلہ میں کام کریں گے۔(سود، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی۔ اکتوبر 1994ء ص 15)

سوشلزم کے مطابق رائے عامہ ہموار کرکے سیاسی اقتدار پر قبضہ کیا جائے گا اور قانون سازی کے ذریعہ بتدریج جائیدادوں ، صنعتوں اور تجارتوں کو بعض حالات میں بلا معاوضہ اور بعض حالات میں معاوضہ ادا کرکے اجتماعی ملکیت بنالیا جائے گا۔ اندرا گاندھی نے اسی طریقۂ کار سے معاشی اصلاحات کرنے کی کوشش کی تھی۔        کمیونزم کا طریقۂ کار انقلابی اور جبری ہے۔ اس کا خیال ہے کہ جمہوری طریقوں سے یہ تغیر نہیں ہوسکتا۔ نادار اور محنت پیشہ طبقہ کو لے کر ملکیت رکھنے والے طبقوں سے جنگ کی جائے گی اور ان کی ڈکٹیٹر شپ ختم کی جائے گی، جائیداد وغیرہ زبردستی چھین لی جائے گی اور جو بھی مزاحمت کرے گا اسے موت کے گھاٹ اتاردیا جائے گا۔ سارے طبقات ختم کرکے سب کو ایک ہی طبقہ یعنی اپنے ہاتھ سے کام کرکے روٹی کمانے والا طبقہ بنادیا جائے گا۔ پھر جب انقلاب مکمل ہوجائے گا تو حکومت اور جبر کے بغیر سارے شعبے باہمی رضامندی اور مشاورت سے چلتے رہیں گے۔
اس نظریہ کا حوالہ ارسطو اور دوسرے یونانی فلاسفروں تک پہنچایا جاتا ہے، ابتدا یہ ایک سیاسی نظریہ تھا جس کا مقصد بادشاہوں کو مضبوط کرنا تھا  اور اب بھی اس سے حکمران مضبوط ہوتے ہیں کیونکہ سوشلسٹ حکومت ایک مقرر اجرت دینے کے بعد باقی سب دولت اپنے قابو میں رکھتی ہے۔کارل  مارکس نے,, داس کیپیٹل,, نامی کتاب کے ذریعہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت پر تنقید کی اس کی خامیاں بیان کی اور ریاستی ملکیت کا متبادل معاشی نظام پیش کیا جبکہ اپنی کتاب ,,کمیونسٹ مینی فیسٹو,, کے ذریعے متبادل سیاسی نظام پیش کیا۔ اس لیے سوشلزم کی اس برانچ کو کمیونزم کہا جاتا ہے۔

یہ نظریہ بڑے دعؤوں کے سا تھ پیش کیا گیا۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ وہ اتنا بودااور لغو تھا اور اس کے اندر اتنے تضادات تھے کہ فوراََ ہی اس کا تا ر پود بکھر گیا۔ جب اس کو عملی زندگی میں لایا گیا، تو قدم قدم پر اس کی غلطیاں نمایاں ہونے لگیں ۔ لوگوں نے دیکھا کہ اس کے اصولوں کو حقیقی صورت حال پر منطبق کرنا ممکن نہیں ہے ‘‘۔ (سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ وحید الدین خان، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی، اگست 1972ء ص 28)

یہ نظام دنیاکے کئ ممالک میں بری طرح فیل ہوا۔روس کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہوتاہے۔ 1922ء سے 1991ء  تک وہاں دستو ر کے مطابق اشتراکیت کے اصول نافذ رہے۔ روس کو ترقی اور شہرت اسی زمانے میں ملی اور کم وقت میں تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کرنے والے مما لک میں اس کا شمار کیا جاتاہے۔ 1917ء میں سرخ انقلاب کا آغاز ہوا اور 1922ء تک جنگی حالت رہی۔ پھر 30؍دسمبر 1922ء میں باقاعدہ سوشلسٹ ریاست کا اعلان ہوا۔ اسے دو ادوار میں تقسیم کیا گیاہے :

  پہلا دور 1922ء تا 1944ء، یہ ابتدائی اور ارتقائی دور کہلاتاہے۔ اس دور میں گویا پہلی بار سوشلسٹ اصول وافکار اور اس کے عملی مظاہرے سے دنیا کو متعارف کرایاگیا۔        دوسرا دور 1944ء تا 1991ء، یہ روس کی ترقی کا دور ہے۔ تقریباََ تیس ممالک نے اپنے یہاں سوشلزم کے اصولوں کو نافذ کیا۔ سوویت یونین (USSR)کا قیام عمل میں آیا لیکن جس تیز رفتاری سے روس نے ترقی کی تھی اتنی ہی جلد ی زوال بھی آیا کیونکہ سوشلزم کے اصولوں میں اصلاً انسان کی معاشی ضرورتوں اور مسائل کا واقعی حل نہ تھا اور اس کے اصول فطرت کے اصولوں سے متناقض بھی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آخر زمانے میں خود اہل روس بھی اس سے متنفر ہوئے اور بغاوت کا اعلان کردیا۔ میخائل گوربا چوف نے وہ کتابیں لکھیں جن میں سوشلزم کو کنڈم کیا اور پھر ایسے حالات بنتے گئے کہ 26؍دسمبر1991ء کو سوشلزم نظام کے خاتمہ کا اعلان کردیا گیا۔

انیسویں صدی میں مغربی تہذیب کو عروج حاصل ہوا۔ بہت سے باطل نظریات کو فروغ ملا۔ ان میں عقلیت پسندی، مادہ پرستی، لادینیت، سیکولرزم، نیشنلزم اور جمہوریت خاص طورپر قابل ذکر ہیں ۔ سوشلزم بھی اسی دور کی پیداوار ہے اور جدید جاہلیت کا حصہ ہے۔ بعض استحصالی ذہن رکھنے والی شخصیتوں اور مفکرین کی پشت پناہی میں اس نظریہ نے دنیا کے ایک بڑے حصے کو متاثر کیا۔ حتیٰ کہ مسلم ممالک کی سیاسی پالیسیوں میں سوشلسٹ افکار درآئے، لیکن خود اس نظریہ اور اس کے اصولوں میں استحکام نہ ہونے کی وجہ سے اس کی بنیادیں متزلزل ہوگئیں ۔ جس کی عملی مثال اور حقیقی شہادت خود سوویت یونین کا ختم ہوجانا ہے۔ سوشلسٹ ممالک کی دی گئی فہرست سے اندازہ ہوتاہے کہ ستر اسی سال میں سوشلسٹ انقلاب آیا، سوویت یونین کا قیام ہوا اور اسی مختصر عرصہ میں سب کا وجود مٹ گیا۔ دو ڈھائی سو ممالک کے درمیان صرف 5 ممالک ایسے رہ گئے جہاں سوشلزم کے نفاذ کا سرکاری اعلان ہے۔ اگر ان کا سوشلزم کے بنیادی اور قدیم اصولوں کی روشنی میں گہرائی سے جائزہ لیں تو شاید حقیقت کچھ اور نظر آئے گی۔ قریبی تنا ظر میں مائونوازوں اور نیکسلائٹ گرو پ ,,کے تعلق سے یہ دیکھیں کہ عوام ان کو کس نظر سے دیکھتی ہے، تو سچائی دگر گوں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقت پسند حضرات اب اسے فرسودہ اور ناقابل عمل نظریہ کی حیثیت سے جانتے ہیں ۔
اشتراکیت یعنی سوشلزم نے دنیاکوکیادیا؟

خوداس کے سب سے بڑے داعی اورمرکزروس، جوسویت یونین کہلاتاتھا،کے خاتمے کے موقع پرروس کے صدریلسن نے کہا:
,,کاش اشتراکیت (UTOPAIN)نظریے کاتجربہ روس جیسے عظیم ملک میں کرنے کے بجائے افریقہ کے کسی چھوٹے رقبے میں کرلیاگیاہوتا،تاکہ اس کی تباہ کاریوں کوجاننے کے لیے چوہتر (74)سال نہ لگتے۔“

اسی طرح مشرقی جرمنی میں لوگوں نے دیواربرلن کوتوڑکراشتراکیت کی ناکامی کاعملاًاعتراف کیا۔

اشتراکیت صرف معاشی یاسیاسی نظام نہیں ،بلکہ یہ ایک مستقل فلسفہ، مرتب،مربوط اورتمام مذاہب سے مختلف ایک الگ نظریہ حیا ت ہے، جوسیاست ومعیشت، اخلاق ومعاشرت،مابعدالطبیعی تخیلات وعقائد اور انسانی زندگی کے ہرشعبے میں رہنمائی کامدعی ہے۔
کارل مارکس(Karl Marx)نے، جوایک ٹھیٹھ یہودی خاندان سے تعلق رکھتاتھااورساری عمراحساس محرومی کاشکاررہا،اپنے ساتھی فریڈرک اینجلزکے ساتھ مل کراشتراکیت کے نام سے جوفلسفہ مرتب کیااس میں دوچیزیں نمایاں ہیں :

1… سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نفرت وبغاوت

2… دین ومذہب کی حقارت،بیزاری اورعداوت

اس فلسفے کی روسے”اشتراکی حکومت“ایک ایسی آمریت اور ڈکٹیڑشپ ہے،جونہ خداکے سامنے جواب دہ سمجھی جائے،نہ عوام کے سامنے،جوکسی مذہب کی پابندہونہ اخلاق کی،آئین کی پابندہو نہ قانون کی،اس مطلق العنان ڈکٹیٹرشپ نے فردکے ساتھ وہ سلوک کیاجوکسی مشین کے بے جان پرزے کے ساتھ کیاجاتاہے۔پیشے اوراظہاررائے کی آزادی اورانفرادی ملکیت چھین کراس کواتناگھونٹ دیاکہ اس کی فطری آزادی بھی سلب ہوکررہ گئی۔

رسدوطلب کے قدرتی قوانین کاانکارکرکے اس کی جگہ حکومتی منصوبہ بندی کوہرمرض کاعلاج قراردیا،حالاں کہ انسانی زندگی اورمعاشرے کوسینکڑوں ایسے مسائل درپیش رہتے ہیں ،جس میں انسان کی وضع کی ہوئی منصوبہ بندی ناکام ہوجاتی ہے اوراس منصوبہ بندی کے نتیجے میں فردومعاشرہ ایک غیرفطری اورمصنوعی نظام کے جال میں پھنستاچلاجاتاہے اوروسائل چندبرسراقتدارافرادکے قبضے میں چلے جاتے ہیں ،ذاتی منافع کے محرک کوختم کردینے سے فکروعمل دونوں میں سستی اورکاہلی کے جراثیم پیداہوجاتے ہیں اورلوگ ظالم وجابرحکومتوں کے ایسے شکنجوں میں پھنستے ہیں جہاں کسی کوپھڑپھڑانے اورچیخنے چلانے کی آزادی بھی حاصل نہیں ہوتی۔

سوشلسٹ ریاست یا تو سوشل ڈیموکریٹک ہوتی ہے یا Proletarian Dictatorship۔ سوشل ڈیموکریسی میں مزدور تنظیمیں حکومت میں سرمایہ داروں کی حلیف اور ساتھی ہوتی ہیں ۔ سیاسی عمل میں مزدور تنظیموں کی شمولیت کا مقصد یہ ہو تا ہے کہ سرمایہ دارانہ عمل کے فروغ میں وہ رکاوٹ نہ ڈالیں اور اقتدار میں شرکت سے اس بات کو یقینی بنائیں کہ مزدور بھی سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل سے مستفید ہوں ۔ سوشل ڈیموکریٹک ریاست میں اس بات کی دانستہ کوشش کی جاتی ہے کہ مزدور سرمایہ دار بن جائے۔ وہ حرص اور حسد کو قدر کے طور پر قبول کرلے اور انفرادی فیصلہ سرمایہ دارانہ عقلیت کی بنیاد پر کرے۔ مزدور سرمایہ کی بڑھوتری برائے بڑھوتری کے عمل کو عقل کا تقاضا سمجھے اور اپنا مفاد اس بات میں جانے کہ سرمایہ کی بڑھوتری تیز سے تیز تر ہوتی چلی جائے۔ کیوں کہ جتنا یہ عمل تیز ہوگا اتنا ہی خواہشات نفسانی کے حصول کے ذرائع پیدا ہوں گے۔ اور مزدور زیادہ سے زیادہ تصرف فی الارض کے مکلف ہوں گے۔

سچ یہ ہے کہ یہ اشتراکیت  بھی مرض کے اسباب کی تشخیص ٹھنڈے دل و دماغ سے نہ کرسکی، اس سے چھوٹے چھوٹے سرمایہ دار بے شک ختم ہوگئے، لیکن ان کی جگہ ایک بڑا سرمایہ دار وجود میں آیا اور اس سے پیداوار کا تھوڑا اور اقل قلیل حصہ محنت کش عوام کے ہاتھ آیا، باقی تمام دولت اور پیداوار کو حکمراں جماعت نے اپنے گھروں میں جمع کرلیا۔

زمام کار گرمزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا
طریق کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

الحاصل معیشت و اقتصاد کے حوالے سے انسانی مشکلات کا حل نہ اس کے پاس تھانہ اس کے پاس وہ اگر افراط تھی تو یہ تفریط، مزدور کسان اگر سرمایہ دارانہ نظام میں مظلوم و مقہور تھے، تو اشتراکی نظام میں بھی وہ کچھ کم بے بس نہیں ۔

کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین افراد بدترین کرپشن اور بے راہ روی کا شکار ہوگئے  اس کی واضح ترین مثالیں لینن، اسٹالن اور ماؤ نے فراہم کیں ۔ جو نہایت ظالم، خود غرض، سفاک اور بددیانت حکمران ثابت ہوئے۔

سوشلسٹ اور لبرل معاشروں کی اخلاقی پستی یکساں ہیں ۔ دونوں معاشروں میں حرص اور حسد کا راج ہوتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کی مجبوریوں اور کمزوریوں سے فائدہ اٹھاکر اپنا مطلب نکالتے ہیں ۔ سوشلزم کایہ دعوی کہ ذاتی ملکیت کو ختم کرکے سرمایہ دارانہ ظلم کو ختم کیا جاسکتا ہے یہ قطعاً غلط ثابت ہوا۔ لینن اور اسٹالن اور ماؤ نے بڑے پیمانے پر نجی کاروبار کو ختم کرکے معاشی عمل کی بنیاد ریاستی منصوبہ بندی پر رکھی۔ لیکن اس سے سرمایہ دارانہ ناانصافیوں میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ ایک منصوبے کے تحت معیشت (Planned economy) میں اقتدار نجی سرمایہ داروں کے ہاتھوں سے نکل کر ریاستی نوکر شاہی کے ہاتھ میں منتقل ہوگیا۔ اور ریاستی نوکر شاہی بھی اپنے اقتدار کو استعمال کرکے معیشت کو لُوٹنے میں مصروف ہوگئی۔ لبرل اور سوشلسٹ معاشرہ میں عام آدمی بھی استحصال پسند، خود غرض، لالچی اور عیاش ہوتا ہے، دونوں معاشروں میں قدر مشترک جنسی بے راہ روی اور ہوس پرستی ہے، اخلاقی اور روحانی پستی کے لحاظ سے ایک عام سوشلسٹ شہری ایک لبرل شہری سے ذرہ برابر مختلف نہیں ہوتا۔

پرولتاری ڈکٹیٹر شپ میں عوامی جمہوریت قائم ہوتی ہے۔ حکمران جماعت پرولتاری طبقہ کی نمایندگی کا دعویٰ کرتی ہے اور پرولتاری طبقہ انسانیت کی نمایندگی کا دعویٰ کرتا ہے اس ریاست میں بھی فیصلے عوام کی خواہشات کی تکمیل کے لیے کیے جاتے ہیں اور چوں کہ خواہشات کی تکمیل کا واحد ذریعہ بڑھوتری سرمایہ ہی ہے لہٰذا ریاستی عمل اور پالیسی کا جواز بڑھوتری سرمایہ ہی قرار پاتی ہے۔ لبرل اور سوشلسٹ ریاستی ڈھانچوں کی یہی مماثلت اس بات کی ضمانت فراہم کرتی ہے کہ لبرل اور سوشلسٹ ریاستوں میں کبھی جنگ نہیں ہوتی۔ آج دنیا میں چین امریکا کا سب سے بڑا حلیف ہے۔ اس نے کبھی بھی امریکی بربریت کا براہ راست مقابلہ نہیں کیا۔ نہ افغانستان میں ، نہ عراق میں ، نہ لاطینی امریکا میں ، نہ مشرق بعید میں ۔ اس کے برعکس چین نے کھربوں ڈالر امریکا میں رکھے ہوئے ہیں جو امریکی معیشت کا بہت بڑا سہارا ہیں ۔

حوالہ جات:
http://www.urduweb.org/mehfil/threads/اسلام-اور-سوشلزم-کا-موازنہ.59998/
http://mazameen.com/perspective/%D8%B3%D9%88%D8%B4%D9%84%D8%B2%D9%85-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%85%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%B9%DB%81.html
http://www.farooqia.com
http://www.rejectingfreedomandprogress.com/what-is-socialism

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔