نقطہ نظر

کیا قطر کو فلسطینی کاز کی حمایت کی سزا دی جا رہی ہے؟

 ام  عمارہ  

قطر کی ناکہ بندی جاری ہے۔ سعودی عرب ، امارات اور مصر کے ساتھ ساتھ تین چار چھوٹے ممالک بھی قطر کو یکہ و تنہا کرنے میں اپنا پورا دم خم لگائے ہوئے ہیں ۔ اس گھیرابندی اور بائی کاٹ کی شروع میں جو وجہ بیان کی گئی وہ یہ تھی کہ قطر کا جھکائو ایران کی طرف ہے اور وہ خلیجی ممالک کے مصالح کے برخلاف ایران کے مصالح کی دفاع میں کام کر رہا ہے۔اگر ایران سے تعلق ہی جرم ٹھہرا تو یہ نزلہ پہلے کویت اور عمان پر گرنا چاہئے تھاجو کہ صرف رسمی سفارتی تعلقات ہی نہیں رکھتے بلکہ وہاں کے سربراہان کے لئے اپنی پلکیں بھی بچھاتے ہیں ۔ ایران کے قوت سے ٹکرانے کا جب حوصلہ نہ رہا تو نزلہ قطر جیسی چھوٹی ریاست پر گرانے کی کوشش کی گئی۔ اس پابندی سے پہلے ہی عرب میڈیا بالخصوص میں سعودی عرب اور امارات کے اخبارات کے ذریعہ ایسا ماحول بنایاگیا جیسے قطر کو اگر اچھی طرح سے سبق نہیں سکھایا گیا تو سعودی عرب، یواے ای اور بحرین کا وجود خطرے میں ہے۔ یواے ای کے ولی عہد محمد بن زاید نے فوری طور پر جدہ کے لئے اڑان بھری تو سعودی وزیر خارجہ الجبیر نے قاہرہ کا رخ کیا تاکہ بیک وقت سرکاری بیانات سے پوری دنیا میں قطر کی ’دہشت گردی ‘کی پشت پناہی کے خلاف ایک واضح پیغام دیا جا سکے۔

امریکی صدر کے کل کے ٹویٹ کے ذریعہ تو اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ اس پوری دھماچوکڑی کے پیچھے امریکہ بہادر کا ہاتھ ہے۔ گذشتہ ماہ میں ریاض سمٹ میں انہوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں یہ اشارہ دیا تھا کہ ’دہشت گردی ‘کی فنڈنگ پر فوری لگام لگائی جائے اور پچاس سے زائد مسلم سربراہوں کی موجودگی میں القاعدہ اور داعش کے ساتھ ساتھ فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کو بھی دہشت گردوں کے زمرے میں شامل کیا تھا۔ لیکن اس وقت کسی بھی مسلم حکمراں کی جانب سے اس پر زیر لب بھی احتجاج کرنے کی جرات سامنے نہیں آئی۔ صدر ٹرمپ نے کل کے ٹویٹ کے ذریعہ یہ بتایا کہ ’’مشرقِ وسطی کے حالیہ اپنے دورے میں میں نے یہ کہا تھا کہ انتہاپسندانہ رجحانات اور نظریات کی مزید فنڈنگ کی گنجائش اب نہیں ۔

اس وقت سربراہان نے قطر کی طرف اشارہ کیا۔ ذرا دیکھو۔‘‘ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر آج پیرس پہنچے ہیں اور وہاں سے انہوں نے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ عندیہ دیا ہے اور یہ خوش خبری بھی سنائی ہے کہ سعودی عرب اور حلیف ممالک کی قطر کے خلاف کاروائیاں اس کو راہِ راست پر لے آئیں گی اور وہ اپنی سرزمین سے حماس اور اخوان کے ’دہشت گردوں ‘ کو نکال باہر کرے گا۔ تاریخ کا کتنا بڑا المیہ ہے کہ وہی سعودی عرب جس نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد امریکہ کا حقہ پانی بند کر دیا تھا اور شہید ملک فیصل سے اس وقت کے امریکی صدر نے جب ازراہِ مزاح یہ سوال کیا کہ ہمارا جہاز آپ کے ائیرپورٹ پر بغیر ایندھن کے کھڑا ہے ، کیا آپ ہمیں ایندھن لینے کی اجازت دیں گے؟ تب شہید ملک فیصل نے یہی جواب دیا کہ میں بھی بڑھاپے کی دہلیز پر ہوں ۔ مسجد اقصیٰ میں دو رکعت نماز ادا کرنے میں کیا آپ ہمارا تعاون کریں گے۔ لیکن اب وہی سعودی عرب صرف فلسطین اور فلسطین کے کاز کی لڑائی لڑنے والوں ہی کو نہیں بلکہ ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو بھی سبق سکھانا چاہ رہا ہے۔

 حماس تو صیہونی ریاست کے گلے کی ہڈی ہے اور 2012 کے غزہ پر حملے میں انہیں اپنی اوقات بھی سمجھ میں آگئی ہے کہ باوجود اس کے کہ اسرائیل کے پاس جدید ترین عسکری آلات ہیں ، وہ غزہ کے باشندوں کو جھکا نہ سکے۔ تو اب انہوں نے مسلم دنیا میں اپنے حلیف تلاش کر لیے ہیں جو حماس کی کمر توڑنے اور ان کے وجود کو ختم کرنے کے لئے صیہونی ریاست سے آگے ہیں ۔ امریکہ میں یواے ای کے سفیر یوسف ال عتیبہ کے طشت از بام ہونے والے ای میل سے یہ بات تو اور وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ قطر کے سلسلے میں کی جانے والی یہ کاروائی دو چار دس کی دن کی کہانی نہیں اور نہ ہی صدر ٹرمپ کے حالیہ دورے کے نتیجہ میں ہے بلکہ اس کا پلاٹ کئی مہینوں سے تیار کیا جا رہا تھا اور اس میں امریکہ میں پائی جانے والی صیہونی لابی نے خصوصی کردار ادا کیا ہے۔

 قطر کے موجودہ امیر شیخ تمیم ہی نہیں بلکہ سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ نے بھی فلسطینی کاز کی ہمیشہ حمایت کی ہے اور 1967 کی جنگ کے بعد وہ پہلے عرب حکمراں ہیں جنہوں نے 1999 میں غزہ پٹی کا سرکاری دورہ کیا اور اس وقت کے فلسطینی صدر یاسر عرفات نے پرجوش استقبال کیا۔ اسی طرح سے اسرائیل کے غزہ پر جارحانہ حملے کے بعد 2012 میں ایک ہائی پروفائیل ڈیلیگیشن کے ساتھ دوبارہ دورہ کیا تاکہ انسانی بنیادوں پر قطر غزہ کی تعمیر نو میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ حماس اور فتح کے درمیان پائی جانے والی کھائی کو بھی اس چھوٹے سے خلیجی ملک میں پاٹنے کی کوشش کی اور ایک میز پر دونوں طرف کے قائدین کو جمع کیا۔

سعودی عرب اوراس کے حلیف ممالک کے پریشر کے نتیجہ میں اگر قطر حماس اور اخوان کے رہنمائوں کو دیش نکالا کرتا ہے تو کیا یہ ممالک ترکی کو بھی اپنا دوسرا نشانہ بنائیں گے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close