نقطہ نظر

کیا کمل ہاسن اور رجنی کانت بدعنوانی ختم کر سکیں گے؟

فیصل فاروق

دوستو، تمل ناڈو کی سابق وزیراعلیٰ اور انا ڈی ایم کے سربراہ آنجہانی جے للتا کی موت نے تمل سنیما کی دو اہم شخصیات کو اپنے سیاسی مقاصد کو نمایاں کرنے کیلئے حوصلہ افزائی کی ہے۔ اگرچہ معروف اداکار کمل ہاسن نے اپنی سیاسی جماعت قائم کی، تاہم ابھی تک سپر سٹار رجنی کانت انتظار کر رہے ہیں۔ دونوں ہی اداکارتمل ناڈو کے آئندہ انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے کریں گے۔

ویسے بھی ہندوستان میں فلمی دنیا اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ یہ سلسلہ جنوبی ریاست تمل ناڈو سے شروع ہوا جہاں ایم جی راما چندرن، جے للتا، وجنتی مالا بالی اور شیوا جی گنیشن سیاست میں اترے اور خود کو منوایا۔ کانگریس پارٹی سے ایم پی رہ چکے بہترین اداکار چیرنجیوی اب بھی سیاسی طور پر سرگرم ہیں۔

جبکہ آنے والے سالوں میں امتیابھ بچن، ونود کھنہ، راجیش کھنہ، دھرمیندرر، ہیما مالنی، راج ببر، پریش راول اور کئی دوسرے اہم اداکار قومی سیاست میں اپنا رنگ جماتے نظر آئے۔ اس فہرست میں اب اور دو بڑے ناموں کا اضافہ ہو گیا ہے۔ ایک طرف جہاں کمل ہاسن کمل ہاسن اپنے پرستاروں کے ہمراہ پہلے ہی سماجی فلاح و بہبود کے کئی کاموں میں مصروف عمل ہیں۔ وہیں دوسری جانب رجنی کانت کے تمل سیاست میں گہرے سیاسی تعلقات اور بے انتہا مقبولیت ہے۔

دونوں فلمی اداکار سنیما کے بڑے پردے سے تمل ناڈو کے دھول بھرے علاقوں کا سفر کر کے حقیقی مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ گزشتہ دنوں کمل ہاسن نے ان کی پارٹی کے نظریات پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سماج کے ہر طبقے کیلئے اچھی تعلیم چاہتے ہیں اور ذات پات کی سیاست کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

اپنی سیاسی پارٹی لانچ کرتے وقت کمل ہاسن نے کہا کہ اتنے سالوں تک میں فلموں میں پیسوں کیلئے کام کرتا رہا۔ لوگوں نے مجھے اتنا پیاردیا لیکن میں انہیں کچھ نہیں دے سکا۔ اب میں اپنی پوری زندگی لوگوں کیلئے وقف کرنا چاہتا ہوں۔ میں عوام کی خدمت زندگی بھر کر سکتا ہوں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اداکار کمل ہاسن اور رجنی کانت سسٹم میں پھیلی بدعنوانی سے اپنا دامن بچا سکیں گے؟ کیا ان کی سیاسی جماعتیں بدعنوانی سے محفوظ رہ سکیں گی؟ کیوں کہ بدعنوانی کسی بھی سیاسی جماعت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ دہلی اس کی ایک اچھی مثال ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

فیصل فاروق

فیصل فاروق کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close