نقطہ نظر

کیا گوری لنکیش کے بعد رویش کمار؟

عالم نقوی

یرقانی دہشت گردوں کا اگلا نشانہ،کیا  رویش کمار ہوں گے ؟  کیا انہیں گالیاں اور دھمکیاں دینےوالوں کوپردھان منتری نریندر مودی کی حمایت حاصل ہے ؟ مودی کے نام رویش کے خط اور’ دی وائر‘ کی رپورٹ  تو یہی اشارہ دیتی ہے۔ انہوں نے اپنے کھلے خط میں لکھا ہے کہ ’’ دکھ کی بات ہے کہ غیر شریفانہ زبان استعمال کرنے اور دھمکی دینے والے کچھ لوگوں کو آپ فالو کرتے ہیں !اجاگر ہوجانے اور سب کو پتہ چل جانے کے بعد بھی انہیں فالو کرتے ہیں !بھارت کے پردھان منتری کی صحبت میں ایسے لوگ ہوں ، یہ نہ تو آپ کو زیب دیتا ہے نہ آپ کے عہدے کے وقار کو۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی گفتگو کا معیار دن بدن گرتا جارہا ہے جس میں آپ کی قیادت میں چلنے والی تنظیموں کے افراد اور آپ کے بھکتوں کے علاوہ مخالف تنظیموں کے لوگ بھی شامل ہیں ۔ اس انحراف اور پستی کے شکار لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ کسی خاص صلاحیت ہی کی بنا پر آپ سوشل میڈیا  پر ان  لوگوں کو فالو کرتے ہوں گے۔ مجھے پوری امید ہے کہ دھمکانے،گالیاں دینے  اور سخت فرقہ پرستانہ باتیں کرنے کی صلاحیت آپ کے ذریعے انہیں فالو کرنے کا سبب ہرگز نہ ہوگی۔ آپ کی مصروفیت سمجھ سکتا ہوں لیکن آپ کی ٹیم تو آپ کو  اتنا بتا ہی سکتی ہے کہ آپ  کسی ایسے شخص کو ٹویٹر پر فالو نہ کریں جو آپ کے وقار کو ٹھیس پہنچا رہے ہوں ۔

بھارت کا پردھان منتری ایسے لوگوں کو فالو کرے جسے آپ پر تنقید کرنے والوں کو  زندہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہوہپرگز آپ کے اور آپ کے عہدے کے شایان شان نہیں ۔ میں نے جب سے altnews.in پر پڑھا ہے کہ ’اُوم دَھرم رَکشَتی رَکشَتی ‘نام کے وہاٹس اَیپ گروپ میں جو لوگ مجھے کچھ مہینے سے بھدی  بھدی گالیاں  اور دھمکیاں دے رہے تھے،فرقہ پرستانہ باتیں کر رہے تھے اور مجھ جیسے دیش بھکت  اور دوسرے صحافیوں کو ’دہشت گرد ‘ بتا رہے تھے، اُن میں سے کچھ کو آپ ٹویٹر پر فالو کرتے ہیں ، میں  توسہم گیا ہوں پردھان منتری جی ! اِس وہاٹس اَیپ گروپ پر جو کچھ لکھا جارہا ہے اگر میں اُسے پڑھوں تو سننے والے کان بند کر لیں گے۔ یہاں تک کہ خواتیں صحافیوں کے لیے بھی جس زبان کا استعمال کیا گیا ہے وہ تو اور زیادہ  شرم ناک ہے !میں جب بھی اس گروپ سے الگ ہونے کی کوشش کی تو ’پکڑ اِسے ‘، بھاگ رہا ہے، مار اِسے ‘  ٹائپ کی زبان کا استعمال کرتے ہوئے مجھے واپس جوڑ دیا گیا۔ اس طرح کی سیاست نے سوشل میڈیا میں اور سڑکوں پر جو یہ بھیڑ تیار کی ہے وہ ایک دن پورے سماج کے لیے اور خاص کر خواتین کے تحفظ کے لیے ایک بڑا چیلنج بننے والی ہے۔ ان کی گالیاں بیشتر خواتین مخالف ہوتی ہیں اور اتنی شدید فرقہ وارانہ عصبیت رکھتی ہیں کہ ’آپ تو اسے بالکل برداشت نہ کر سکیں گے کیونکہ آپ ہی نے کہا ہے کہ آپ 2022 تک دیش سے فرقہ پرستی کا صفایا کر دینا چاہتے ہیں ‘!

اب میرا آپ سے ایک سوال ہے۔ آخر آپ نیرج دوے اور نِکِھل دَدِھیچ کو کیوں فالو کرتے ہیں ؟ altnews.in کے پرتیک سنہا اور نیلیش پروہت کی تفتیش بتاتی ہے کہ نیرج دوے راجکوٹ (گجرات ) کا رہنے والا ہے اور ایک ایکسپورٹ کمپنی کا مینیجنگ ڈائرکٹر ہے اور آپ مودی جی اُسے فالو کرتے ہیں ! جب میں نے اسے لکھا کہ اتنی گندی زبان کا استعمال نہ کیا کیہجیے تو لکھتا ہے کہ ’’مجھے دکھ ہے کہ تو اب ھی تک زندہ ہے ‘‘! اور اس سے پہلے نکھل ددھیچ کے بارے میں تو کتنا کچھ لکھا جا چکا ہے۔ گوری لنکیش کے قتل کے بعد اس نے جو کچھ لکھا تھا آپ کو ضرور پتہ ہوگا لیکن آپ اب بھی اسے فالو کرتے ہیں !بی جے پی کے آئی ٹی سل کے سربراہ امِت مالویہ نے میرے بارے میں ایک فیک نیوز (جھوٹی خبر ) بھی اس سے شئیر کی تھی۔ altnews.in نے اسے بھی اجاگر کیا لیکن امت مالویہ نمے کوئی شرمندگی نہیں ظاہر کی۔ اور اس نکھل ددھیچ کے ساتھ تو آپ کے کئی وزیروں کی تصویریں بھی ہیں ۔ ’اوم دھرم رکشتی رکشتی ‘ گروپ کے اور بھی کئی ایڈمن ہیں ایک آکاش سونی ہیں اور ایک کا نام ’آر ایس ایس۔ ٹو ‘ہے !

آکاش  سونی کے ساتھ بھی آپ کے کئی وزیروں کی تصویریں ہیں جنہوں نے میرے علاوہ راجدیپ سر دیسائی، برکھا دت اور ابھیسار شرما کے فون نمبر بھی اپنے پیج پر ڈال دیے ہیں اس سے پہلے بھی آپ کی تنظیم کے لیڈروں نے مجھے دھمکیاں دی ہیں لیکن میں نے آپ کو خط نہیں لکھا اب اس لیے لکھ رہا ہوں کہ میں آپ سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اب میری جان کو بھی خطرہ ہے ؟ حال ہی میں ہندستان ٹائمز کے ایڈیٹر بابی گھوش کو آپ کی نا پسندیدگی کی وجہ سے چلتا کر دیا گیا لوگ کہتے ہیں کہ اب میری باری ہے ! لیکن اس بات کو یقین کرنے کا میرا دل نہیں چاہتا کہ بھارت کا ایک طاقتور پردھان منتری میرے جیسے ایک معمولی صحافی کی نوکری لینا چاہتا ہے۔ میرے لیے تو خیر یہ ایک سوبھاگیہ کی بات ہوگی لیکن آپ بھارت کی عظیم جمہوریت کی خاطر ایسا نہ ہونے دیں ورنہ لوگ کیا کہیں گے کہ  بھارت جیسے  ایک مہان لوک تنتر میں میرے جیسے معمولی شخص کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں ہے ؟ کیا اب ایک صحافی کی نوکری کا فیصلہ بھی  وزیر اعظم اور وزیر مالیات کی سطح سے ہوا کرےگا؟  میں وہاٹس ایپ گروپ کی دھمکیوں کو ان ہی واقعات سے جوڑ کر دیکھتا ہوں ۔

اگر آپ ان لوگوں کو فالو نہ کر رہے ہوتے  تو یقیہن جانیے میں کبھی آپ کو یہ خط نہ لکھتا۔ میرے پاس المونیم کا ایک بکس ہے جسے لے کر میں موتیہاری (بہار) سے دلی آیا تھا۔ ان ستائیس برسوں میں ایشور نے مجھے  بہت کچھ دیا ہے مگر المونیم کا  وہ بکس اب بھی میرے پاس ہے جسے لے کر میں آرام سے موتیہاری واپس جا سکتا ہوں لیکن بہر حال خاندان کی ذ،مہ داریاں بھی ہیں اور روزگار کی فکر کسے نہیں ہوتی۔ بڑے بڑے فنکار ستر پچہتر سال کے ہو کر بھی اشتہار کے ماڈل بنتے رہتے ہیں تاکہ چار پیسے کما سکیں جب اتنے امیر کبیر لوگوں کو پیسوں کی فکر ستاتی ہے تو میں بھلا اف فکر سےئ آزاد کیسے ہوسکتا ہوں مجھے بھی ہے۔ لیکن۔ مجھے سڑک سے پیار ہے۔ میں سڑک پر آکر بھی سوال کرتا رہوں گا۔ چمپارن آکر باپو نے یہی مثال تو قائم کی تھی کہ اقتدار خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اور جگہ کتنی بھی انجان ہو۔ اخلاق کی طاقت سے اقتدار کے سامنےکوئی بھی کھڑا ہوسکتا ہے ! میں بھی اُسی مٹی کا ایک معمولی سا ریزہ ہوں !میں کسی کو ڈرانے کے لیے سچ نہیں بولتا۔ باپو کہتے تھے کہ جس سچ میں غرور شامل ہوجائے وہ سچ نہیں رہ جاتا۔ میں خود کو اور زیادہ سَہَج سَرََََل بنانے کے لیے سچ بولتا ہوں میں اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے سچ بولتا ہوں ۔ اقتدار کے سامنے بولنا اس ہمت کا اظہار ہے جس کا حق دستور دیتا ہے اور جس کے محافظ ہیں ! اگر آر نکھل ددھیچ، نیرج دوے اور آکاش سونی کو جانتے ہیں تو ان سے اتنا پوچھ لیجیے کہ کہیں ان کا یا انکے کسی اور گروپ ممبر کا مجھے مار نے کا ارادہ تو نہیں ہے ؟ آپ کا خیر خواہ رویش کمار۔ این ڈی ٹی وی  انڈیا۔ ‘‘

کاش کوئی رویش کمار کو یہ بتاتا کہ مسلمانوں کے سب سے بڑے لیڈر  کہ جن سے بڑا اور کوئی لیڈر نہیں  حضرت محمد ﷺ کا فرمان ہے کہ۔ ’’ جابر سلطان جابر کے سامنے سچ بولنا  سب سے بڑا جہاد ہے‘‘ !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close