نقطہ نظر

کیا یہ دجال ہے؟

مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

ایک تصویر بہت دنوں سے سوشل سائٹس اور ’’واٹس اپ‘‘ وغیرہ پر گشت کررہی کہ جس پر یہ لکھا ہے کہ اسرائیل میں یہ ایک آنکھ والا بچہ پیدا ہوا ہے، جو دجال ہوسکتا ہے، اور ہمارے زمانے میں ہی دجال کا ظہور ہوسکتا ہے۔ یہ بات اس قدر عام ہوئی ہے کہ گوگل سرچ پر ’’Dajjal Baby‘‘ لکھتے ہی اس بچے کی بہت سی تصویریں سامنے آجاتی ہیں ۔

رسول اللہ ﷺ نے دجال کےاحوال کی اتنی عمدہ وضاحت فرمادی ہے کہ آپ کی امت کے لئے اس کا پہچاننا آسان ہے، دجال کے بارے میں جو یہ مشہور ہےکہ اس کی ایک آنکھ ہوگی اس کا یہ مطلب نہیں ہےکہ صرف چہرہ پر یا پیشانی پرایک ہی آنکھ درمیان میں ہوگی، جیسا کہ اس تصویر میں ہے، بلکہ اس کی دونوں آنکھیں جیسا کہ عام انسانوں کی آنکھوں کی ساخت ہوتی ہے اسی کے مطابق ہوں گے البتہ اس کی دونوں آنکھیں عیب دار ہوں گی، بائیں آنکھ کانی ہوگی، جس میں روشنی کم ہوگی، اور داہنی آنکھ میں آنکھ کی پتلی ظاہر نہیں ہوگی، بلکہ اوپر سے موٹی جلد ہوگی(معجم طبرانی کبیر مسند احمد)

صحیحین اور دیگر کتب حدیث کی روایت میں کانے پن کا تذکرہ داہنی آنکھ کے بارے میں ہے، بہر حال دونوں آنکھوں میں سے ایک آنکھ کانی ہوگی، اور ایک آنکھ اوپر کے جلد سے بند ہوگی، جس کی کیفیت علامہ ابن حجر عسقلانیؒ نے یہ بیان کی ہے کہ آنکھ پر جما ہوا گوشت ہوگا (فتح الباری :۱۳؍۹۷)

 قاضی عیاضؒ نےدجال کے بارے میں مروی متعدد احادیث کی روشنی میں فرمایا ہے کہ اس کی داہنی آنکھ کانی ہوگی جس میں بینائی کم ہوگی، اوربائیں آنکھ چمکتے ہوئے ستارے کے مانند ابھری ہوئی ہوگی(فتح الباری :۱۳؍۹۷)

بہر حال اتنی بات تو واضح ہے کہ اس کی پیشانی یا چہرے کے درمیان صرف ایک آنکھ نہیں ہوگی، اسلئے اس ایک آنکھ والے بچے کو یا کسی ایک آنکھ والے انسان کو دجال کہنا یا سمجھنا درست نہیں ہے۔

جہاں تک دجال کے پیدا ہونے کی بات ہے تو روایات میں اس کے پیدا ہونے کے بجائے اس کے ظاہر ہونے اور نکلنے کی بات کہی گئی ہے، ایک روایت میں ہے کہ دجال روئے زمین کے ایک ایسے حصہ سے نکلے گا جو مشرق میں واقع ہے اور جس کو خراسان کہاجاتا ہے (ترمذی: ۲۲۳۷) نیز رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ابن صیاد نامی شخص کے بارے میں کئی صحابہ کی رائے تھی کہ یہ دجال ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے اسے دجال کہتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ اس پر نکیر نہیں فرماتے تھے(بخاری ومسلم) صحابہ کی اس رائے کی اس سے مزید تقویت ہوئی کہ ’’معرکہ حرہ‘‘ کے موقع پر وہ لاپتہ ہوگیا، اور بہت تلاش کے باوجود نہ مردوں میں ملا نہ زندوں میں۔

اگر واقعی ابن صیاد ہی دجال ہے توپھر وہ پیدا ہوچکا ہے، پیدا ہونے والا نہیں ہے، اسی طرح تمیم داری رضی اللہ عنہ کے واقعہ سے بھی پتا چلتا ہے کہ دجال پیدا ہوچکا ہے جو قرب قیامت میں ظاہر ہوگا، انہوں نے ایک جزیرہ میں ایک شخص کو مخصوص کیفیات میں بندھا ہوا دیکھا، جس سے انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو اس نے جواب دیا : میں دجال ہوں ، جب حضرت تمیم داریؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپﷺ نے اس کی تصدیق کی اور منبر پر تشریف لے جاکر صحابہ کو پورا واقعہ سنایا۔ ( ابوداؤد: ۴۳۲۵)

علامہ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ ان دونوں کے درمیان اس طرح تطبیق ہوسکتی ہے کہ دجال تو وہی ہے جسے حضرت تمیم داری نے جزیرہ میں بندھا ہوا دیکھا، اور ہو سکتا ہے کہ ابن صیاد وہ شیطان ہو جو دجال کے زمانہ میں دجال کی صورت میں ظاہر ہوگا(فتح الباری:۱۳؍۳۲۸)

اس لئے پیدائشی نقص کے ساتھ پیدا ہونے والے کسی بچے کو دجال کہنا مناسب نہیں ہے، جب کہ اس میں دجال کے اوصاف موجود نہ ہوں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

استاذ حدیث وفقہ جامعہ عائشہ نسوان حیدرآباد ، الہند

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close