نقطہ نظر

گاندھی کے قاتل ہی گوری لنکیش کے قاتل ہیں

عادل فراز

بنگلور میں پانچ ستمبر کو بیباک و حق گو صحافی گوری لنکیش کا بہیمانہ قتل ہندوستان کی موجودہ بدتر سیاسی و سماجی صورتحال کو واضح کرتاہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ صورتحال نئ ہے۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد پورا ملک افراتفری اور انارکی کا شکار ہے۔ محسوس ہوتاہے کہ بی جے پی 2019 سے پہلے طے شدہ پالیسی اور منصوبوں کو کلی یا جزوی طورپر عمل میں لانا چاہتی ہے تاکہ اگر وہ آئندہ انتخابات میں فاتح نہیں بھی ہوتی ہے تب بھی سنگھ کے دربار میں سرخرو رہے گی اور اگر 2019 میں دوبارہ کامیاب ہوکر اقتدار پر قابض ہوتی ہے تو  وہ اپنے نظریات اور پالیسیوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے نافذ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زعفرانی لیڈر یک زبان ہوکر ’’ہندتوو‘‘ کے نفاذ کا مطالبہ کررہے ہیں۔ مسلم علاقوں اور محلوں کے نام بدلے جارہے ہیں اور مزاحمت و انقلاب کا جذبہ رکھنے والوں کو یا تو اغوا کرلیا جارہاہے یا پھر انکا بے دریغ قتل کردیا جاتاہے۔

حال ہی میں گاندھی کے قاتلوں نے نریندر دامولکر،کووند پانسرے اور ایم ایم کلکرنی جیسے بیباک افراد کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ صحافیوں کی سرکوبی اور قتل کا سلسلہ جاری ہے۔دلتوں اور اقلیتوں کو دہشت زدہ کرنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے آزمائے جارہے ہیں۔ مذہبی جنون کو ہوا دی جارہی ہے۔ قانون کےنام پر مسلح بے چہرہ بھیڑ سڑکوں اور گلیوں میں دھڑا دھڑ فیصلے کرتی گھوم رہی ہے۔پولیس زعفرانی ٹولے کی زرخرید غلام نظر آتی ہے اور آئین کے نام پر بھگواا بریگیڈ کا قانون تھوپا جارہاہے۔جو لوگ تحریک آزادی کے حامی نہیں تھے آج وطن کے وفاداربنے بیٹھے ہیں اور وطن کے لئے قربانیاں دینے والوں کو غدار بتاکر ملک چھوڑ نے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ایسا پہلی بار ہورہاہے کہ وطن دشمنوں اور آئین ہند کو تسلیم نہ کرنے والوں کو ہی ملک کی باگ ڈور سونپ دی گئی ہے اور ہم اندھے بہرے اور گونگے بنےہوئے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مہاتماگاندھی کے قاتل ملک کے اقتدار پر مسلط ہیں اور ہمارا سماج انکی سیاسی پزیرائی میں مصروف ہے۔

گوری لنکیش کے قتل پر ہمارا سماج غم و اندوہ میں ضرور ڈوبا ہوا ہے مگر ابھی انقلاب اوربغاوت کا جذبہ ناپید ہے کیونکہ ظالمانہ دور اقتدار میں ہم ایسے واقعات و حادثات کا انتظار کررہے ہوتے ہیں اور جو منصوبہ بند واقعات رونما ہوتے ہیں وہ ہماری توقع کے خلاف نہیں ہوتے اس لئے جذبۂ بغاوت بیدار نہیں ہوپاتا۔ایسے واقعات رونما ہونے کے بعد ہم اپنا سماجی فریضہ سمجھتے ہیں کہ دو چار موم بتیاں لیکر یا ایک دو جھنڈے و بینر اٹھاکر قاتلوں کے خلاف احتجاج کریں، انکی گرفتاری کا مطالبہ کریں، انصاف کی مانگ کریں اور پھر واپس اپنے روزمرہ کے کاموں پر لوٹ جائیں تاکہ پھر ایک ایسے ہی واقعہ کے رونما ہونے کا انتظار کریں۔ ہم نے دیکھاہے ان ریلیوں اور احتجاجات کو جو صرف تنظیموں کے نام زندہ رکھنے، انارکی پھیلانے اور میڈیا میں کوریج حاصل کرنےکے لئے کئے جاتے ہیں۔ یقینی طورپر ان ریلیوں میں کچھ لوگ اخلاص کے ساتھ بھی شامل ہوتے ہیں مگر انکے آرگنائزرز کبھی مخلص نہیں ہوتے۔ دوسرے دن اسٹالوں سے اخبار جمع کررہے ہوتے ہیں تاکہ اخبار کے تراشے فائلوں میں محفوظ کئے جاسکیں اور صحیح وقت پر انہیں کیش کیا جاسکے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح احتجاج اور یلیوں کی کامیابی کے بعد آرگنائزرخوشی کے مارے پھولے نہیں سماتے ہیں گویا وہ ظلم اور دہشت گردی کے خلاف نتیجہ کی پرواہ نہیں کرتے بس انکی ریلی کامیاب ہونی چاہئے اور کوریج اچھی ہو۔ قتل اور قتل کے بعد ہونے والے احتجاجات کی خبریں چھاپنے والے اور کوریج کرنے والے کہیں نا کہیں یہ پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس واقعہ کو دکھانے کی پہل انہوں نے کی ہے۔ ایسی صورتحال صرف بزنس اور ذاتی تشہیر کو فروغ دیتی ہے جذبۂ انقلاب بیدارنہیں کرتی۔

ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ گوری لنکیش کےقتل کے بعد ہونے والے احتجاجات کا کوئ مطلب نہیں ہے۔ابھی ہمارا سماج پوری طرح مردہ نہیں ہواہے۔ یقیناََیہ احتجاجات کا سلسلہ ظاہر کرتاہے کہ کم از کم ابھی ہم قاتلوں کے ساتھ نہیں ہیں۔ انکی سوچ کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ بھیڑکی کھال میں کوئ بھی بھیڑیا اقتدار کی کرسی پر براجمان ہو مگر ہم آج بھی فسطائیت اور ظلم و بربریت کے خلاف سڑکوں پر نکل کر اپنی زندگی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ آخر کب تک بے گناہ اسٹوڈینس،سماجی خدمت گاروں، صحافیوں اور اقلیتوں کے قتل عام پر ہم فقط احتجاج کرتے رہیں گے ؟۔آخرہم کس دن کے منتظر ہیں اور ابھی کیا کچھ دیکھنا باقی ہے ؟۔فقط احتجاج ہی ہر مسئلے کا حل نہیں ہے۔

نجیب کی گمشدگی ہنوز ایک ان سلجھی گتھی ہے۔ دلتوں پر آج بھی اکثریتی طبقہ کے لوگ وحشت ناک طریقوں سے ظلم ڈھارہے ہیں۔ گئو رکشا کے نام پر غنڈہ گردی نہیں بلکہ دہشت گردی جاری ہے۔ بابری مسجد اور رام مندر کے مسئلے پر سیاسی کھیل شروع ہوچکاہے اور فرقہ واریت کا جن ایک بار پھر بوتل سے باہر ہے کیو نکہ 2019 کا الکشن سر پر ہے۔ ہجومی دہشت گردی کو بڑھاوا دیا جارہاہے۔ ملک کے حالات بدلنے اور ترقیاتی ایجنڈے پر کام کرنے کے بجائے انارکی پھیلائی جارہی ہے اور ہم صرف روایتی احتجاج کررہے ہیں۔ اب احتجاجات کا وقت نہیں ہے بلکہ ملک کو فرقہ پرستی، فسطائیت، طوائف الملوکی اور زعفرانی دہشت گردی سے بچانے کی ضرورت ہے۔ ان لوگوں کی کوششوں کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے جو عدم برداشت کے نام پر سرکار کے ناقدین اور اپوزیشن کو باالکل ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ انکی من مانی، بربریت و دہشت گردی اور ناکام سیاسی ایجنڈہ کے خلاف کوئ ملک گیر تحریک شروع نہ ہونے پائے۔ زعفرانی حکمت عملی کو بے نقاب کرنے کے لئے اروند کیجریوا ل اور رویش کمار جیسے لوگ کھڑے نہ ہوں۔ لایعنی پالیسیوں اور فرقہ وارانہ حکمت عملی کے نتیجہ میں ملک بے راہ روی کا شکار ہوتا ہے تو ہو مگر انکی تنقید کرنے والے ہر شخص پر دیش دروہ کا الزام لگاکر یا تو چپ کرادیا جائے یا فرضی مقدمے لگاکر رزق زندان کردیا جائے اور اگر کسی کی بیباکی حد سے گزرنے لگے تو اسکا بہیمانہ قتل کرادیاجائے۔ یہ اسرائیلی طرز حکومت ہے جسے یرقانی تنظیمیں ملک میں نافذ کررہی ہیں، اس طرح مودی کے دورہ ٔ اسرائیل کے حقیقت بھی بے نقاب ہوجاتی ہے۔

ہمیں گوری لنکیش کے قتل پر بیحد افسوس ہے مگر ابھی گوری لنکیش کی طرح نہ جانےکتنے صحافی، سوشل ورکرز،دلت اور اقلیتی طبقہ کے لوگ ہیں جنکےقتل کی منصوبہ سازی کی جارہی ہوگی۔ زعفرانی ٹولے کو کسی سیاسی جماعت سے خطرہ نہیں ہے کیونکہ ہر سیاسی جماعت کا چہرہ نقاب کے پیچھے ایک جیسا ہی ہے۔ وہ گوری لنکیش، ہیمنت کرکرے اور رویش کمار جیسے بیباک اور حق گو افراد کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ برسر اقتدار جماعت نے ملک کو کس راہ پر خطر پر ڈال دیاہے۔ ہمیں یقین ہے کہابھی  اس ملک کےعوام اتنےبے حس اور مردہ ضمیر نہیں ہوئے ہیں کہ قاتلوں کو نہ پہچان سکیں اور پہچان کر انہیں کیفر کردار تک نہ پہونچا سکیں۔ ابھی گوری لنکیش جیسی ہزاروں بیباک خواتین سماج میں موجود ہیں۔ ابھی رویش کمار اور اپوروآنند جیسے صحافی زندہ ہیں۔ ابھی ہمینت کرکرے کا خون رنگ لائے گا،ابھی اخلاق کے قاتلوں اور دلتوں کے مجرموں کو سزا ملنا باقی ہے۔ ہمیں یقین ہے ہندوستان میں ایک بار پھر انقلاب آئے گا اور ضرور آئے گا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح زعفرانی دہشت گردی بھی ختم ہوگی اور ہندوستان کو اس دہشت گرد ٹولے سے نجات ملے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close