ملی مسائلنقطہ نظرہندوستان

گستاخی معاف! ذمے دارمولوی بھی ہیں!

صادق رضامصباحی

یقین جانیے، اترپردیش میں بی جےپی کی زبردست جیت سے مجھے دوہری خوشی حاصل ہوئی ہے۔پہلی خوشی اس بات کی کہ مسلم ووٹ بینک ٹوٹ پھوٹ کربکھرگیااوردوسری خوشی اس بات کی کہ ضمیر فر و ش اورمفادپرست ملائوں کواپنی اوقات معلوم ہوگئی۔ میں ہمیشہ اس بات کاقائل رہاہوں کہ ہمیں پہلےاپنے گریبان میں جھانکناچاہیے، اگریہ چاک نظرآئے توپہلے اس کودرست کرناچاہیے۔ دوسروں کوکوسنے سے کچھ حاصل ہواہے اورنہ ہوسکتاہے۔ بی جے پی کی جیت کوسازش سے تعبیرکرنے والوں کاسیاسی شعوراتنابانجھ ہے کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ زمینی حقائق کیاہیں۔ دیکھاجائے توہمارے مسلم اشرافیہ طبقے کوابھی تک پالیسی سازی اورمنصوبہ بندی کی ہوابھی نہیں لگی ہے۔ پالیسیوں اورمنصوبہ بندیوں کالفظ سے توہروقت ’’دردمندوں ‘‘کی زبانیں تررہتی ہیں مگران لفظوں کی معنویت کیاہے اوران پرکیسے عمل کیاجاتاہے،  ۹۰فی صدلوگ اس سے عملاًبےخبرہیں اوراگرباخبرہیں بھی توکرنانہیں چاہتے۔ ان کوبس تقریروں اوربیان بازیوں کوشوق ہے اوراسی میں پوری قوم کونچاتے رہتے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ سب ہوتاکیوں ہے اوراس کاعلاج کیاہے ؟

قائدبنائے نہیں جاتے بلکہ قائدپیداہوتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی کہ ہم نے کائدکوقائدمان لیاہے۔ ظاہرہے کہ کائد(یعنی دھوکہ باز)دھوکہ ہی دے گا،قیادت کیوں کرکرے گاکیو ں کہ اسے قیادت کی ابجد بھی نہیں معلوم۔ دوسری بات یہ ہےکہ قائددرحقیقت ایک بہترین سامع ہوتاہے مگرہمارے قائدوں کوسننے سے زیادہ بولنے کاشوق ہےاوربولنے سے زیادہ چھپنے کاشوق۔ جب معاملہ یہ ہوتونتائج ہمیشہ الٹے ہی نکلتے ہیں اورنوٹ کرلیجیے، جب تک ایسے ضمیرفروش ملت پرمسلط رہیں گے تب تک نتائج الٹے ہی نکلیں گے، اس میں ذرہ برابربھی تبدیلی نہیں ہوگی۔ آئیے جائزہ لیں کہ الیکشن کے موقع پرجن مولویو ں نے اپنے اپنےمفادکی خاطرمختلف پارٹیوں کے لیے ووٹنگ کی اپیلیں کیں، وہ بے بصیرت کیوں ہیں اوران کاسیاسی شعوربانجھ کیو ں ہے؟

ان بے چاروں کویہ بھی نہیں معلوم کہ کسی پارٹی کے حق میں ووٹنگ کی اپیل کیوں، کب اورکیسے کی جاتی ہے اورکن مراحل کے طے کرنے کے بعدلوگوں کوپارٹی کے حق میں ہموارکیاجاتاہے۔ چندماہ قبل ایک ایسے ہی عالم نماسے میں نے پوچھ لیاکہ آپ جس پارٹی کے حق میں لوگوں سے ووٹ مانگ رہے ہیں، اس کی وجہ کیاہے، آپ کی سیاسی سوچ کیاہے، آپ کے علاقے کے مسائل کیاہیں، آبادی کتنی ہے، تعلیمی فیصدکیاہے، بے روزگاری کتنی ہے، ووٹرس کتنے ہیں، گزشتہ سالوں میں کتنے فیصدتک ووٹنگ ہوتی رہی ہے، آپ نے کتنی بارزمین پراترکرکام کیاہے اورمستقبل میں آپ کی سیاسی پارٹی کی جیت کی صورت میں مسلمانوں کی ترقی کے لیے آپ کے پاس ایجنڈہ کیاہے۔وغیرہ وغیرہ۔پہلے آپ ان سب باتوں سے آگاہی حاصل کیجیے اس کے بعدکسی بھی پارٹی کے لیے مہم چلائیے، کانفرنس کیجیے اورپارٹی کی انتخابی مہم میں حصہ لیجیے۔ جب تک آپ کویہ سب چیزیں نہیں معلوم ہوں گی تب تک آپ کسی پارٹی کےلیے مسلمانوں کوکیسے تیارکرسکتے ہیں۔

میری بات سے آں موصوف اتنے خفاہوئے کہ یہاں وہاں شکایات کادفترکھول کربیٹھ گئے اورآج تک خفابیٹھے ہیں۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ میرادعویٰ ہے کہ جتنے بھی مولویوں نے اپنے اپنے مفادکے لیے الگ الگ پارٹی کے حق میں ووٹنگ کی اپیل کی ہے ان میں سے 99 فی صد اسی خانے میں آتے ہیں۔ مجھے بتائیے کہ کیامیں نے غلط کہاتھا ؟۔یوپی الیکشن میں مسلمانوں کے بدترین حالات اوربی جے پی کی جیت کے پیچھے صرف اورصرف ضمیرفروش ملائوں کاہاتھ ہے جنہوں نے قوم کواندھیرے میں رکھا،کوئی پالیسی نہیں بنائی، کوئی زمینی کام نہیں کیابلکہ الیکشن کے موقع پرصرف بیان بازی کرکے ماحول کوگرم کیااوربرادران وطن کومتحدکرنے کی کوشش کی۔ جب کہ دوسری طرف بی جے پی لیڈران کئی مہینوں سے مسلسل وہاں زمینی کام کرتے رہے، لوگوں سے ملتے جلتے رہے، محنت کرتے رہے۔وہ صرف الیکشن کےموقع پرباہرنہیں نکلے جب کہ ہمارے عالم نمالوگ الیکشن سے ایک دومہینے پہلے اپنے بِلو ں سے باہرآئےاوراپنی سیاسی دوکان چمکانی شروع کردی۔ نتیجہ کیاہوا؟بی جے پی کی زبردست منصوبہ بندی اورزمینی کام نے ایک طرف توان ملائوں کی اوقات ظاہرکردی اوردوسری طرف مسلمانوں کوبے حیثیت کرکے رکھ دیا۔بی جے پی کی جیت میں ہمارے لیے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ ہمیں بی جےپی کو گالی دینےاورکوسنے کے بجائے بی جےپی کی پالیسی سازوں کی حکمت عملی اورمنصوبہ بندی سے ضرورسیکھناچاہیے۔ اگرہم اب بھی ہم نے نہیں سیکھا توسیکھنے کاوقت کب آئے گا؟

 بڑی جسارت کے ساتھ عرض کررہاہوں کہ آج سیاسی لیڈران اورعالم نمالوگوں میں کوئی فرق نہیں رہ گیاہے۔ عوام کوبیوقوف بنانے میں دونوں ایک ہیں، سب کے اپنے اپنے مفاد ہیں اگرچہ نوعیتیں مختلف ہیں۔ اصل میں ہوتایہ ہے کہ پارٹی کاکوئی ذمے دارجب کسی عالم نماکومسلمانوں کاقائدسمجھ کرپارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دیتاہے اورہتھیلی پرچانددکھاتاہے تویہ جناب اسی کے ہوکررہ جاتے ہیں۔ گویا اندھے کے ہاتھ بٹیرلگ گئی ہو۔کسی کوجھولی الیکشن سے پہلے بھردی جاتی ہے اورکسی کوالیکشن کے بعدتک کاانتظارکرایاجاتاہے۔ ہرالیکشن میں یہی ہوتاآیاہے اوریہی ہوتارہے گا۔کتنی مضحکہ خیزبات ہے کہ متحد ہوکرعوام سے ووٹنگ کی اپیل کرنے والے خودہی متحدنہیں ہیں اورعوام کومتحدہونےکی دعوت دے رہے ہیں۔ کسی نے سماج وادی کی حمایت کی، کسی نے بہوجن سماج پارٹی کی، کسی نے کانگریس کی توکسی نے کسی دوسری پارٹی کی۔ جناب عالی !پہلے خودتومتحدہوجائیے اس کے بعدعوام سے متحدہونے کی اپیل کیجیے۔ یہ اسی کانتیجہ ہے کہ الیکشن میں مسلمانوں کی حیثیت کم ہوتی جارہی ہے۔ مجھے مسلم سیاسی لیڈروں سے کوئی گلہ نہیں کیوں کہ وہ دنیادارلوگ ہیں مگرآپ تودین دارہونے کادعوی کرتے ہیں۔ آپ کیوں گرگٹ  کی طرح اپنارنگ بدلنے لگتے ہیں۔ ؟

اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ملت کی پرواہ کسی کونہیں، ملت کوزندہ رکھنے کی حکمت عملی کسی کے پاس نہیں، سب اپنے آپ کوزندہ رکھے کی کوشش کرتے ہیں اورنتیجہ یہ ہوتاہے ایک دن خودمرجاتے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف کے لوگ اپنی انفرادی شناخت سے زیادہ اپنی قوم کی شناخت کومستحکم کرنے میں لگے رہے، انہوں نے اپی ذات کی پرواہ نہ کی بلکہ اپنی قوم کی پرواہ کی اسی لیے مہینوں پہلے پالیسیاں بنائی گئیں اورایک اندازے کے مطابق آرایس ایس کے ۶لاکھ کارکن یوپی میں اتارے گئے جوبرادران وطن کومتحدہوکربی جے پی کے لیے ووٹ دینے کی گزارشات کرتے رہے۔ ظاہرہے جومحنت کرے گاپھل اسی کوملے گا۔ہم نے محنت ہی نہیں کی توروکیو ں رہے ہیں۔ ہم نے الیکشن سے پہلے تیاری کیوں نہیں کی، ہمارے کتنے لوگوں نے اپنے اپنے علاقوں کے لیے بی جےپی کواقتدارسے دوررکھنے کے لیے کام کیا۔؟اس لیے ہمیں بی جے پی کوکوسنے کے بجائے خودکواوراپنے کائدین کو کوسنا چاہیے جنہوں نے اپنی بددماغی،مفادپرستی، ضمیرفروشی اوربے سلیقگی سے مسلم ووٹوں کومنتشرکرادیااورمسلمانوں کوبی جےپی کے لیڈران کی پالیسیوں اورمنصوبہ بندیوں کی داددینی چاہیے جنہوں نے ہندئوں کا ایک ایک ووٹ سمیٹ کربی جےپی کے کھاتے میں ڈلوادیا۔

آپ خودغورکریں گے توحقیقت تک پہنچ جائیں گے کہ ہمارے ملائوں صرف اپنی فکرہے، اپنی قوم کی نہیں ا س لیےوہ خودکوزندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ملت کونہیں، اوراس کانتیجہ اللہ نے دکھادیا کیوں کہ ا فرادکاوجودملت کے وجودسے قائم ہوتاہے اورجب ملت ہی قائم نہیں رہتی تووہ کیوں کرقائم رہ سکتے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ نسبتاًبڑے یانام نہادبڑے خودکوزندہ رکھنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں ؟

یہ سب اندرسے کھوکھلے ہوتے ہیں، ان کی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہوتی، یہ دوسروں کی بیساکھیوں کے سہارے چلتے ہیں اورجب بیساکھی نہیں ملتی تو انہیں اپناوجودقائم رکھنامشکل ہوجاتاہے۔ اسی لیے یہ لوگ کسی بڑے آدی، بڑے پارٹی،بڑی خانقاہ، بڑے ادارے اوربڑی تنظیم سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔ ایسانہیں کہ ان کے اندرذاتی خوبیاں نہیں یایہ بذات خوداپنی حیثیت منوانہیں سکتے۔ ان کے اندریہ دم خم موجودہوتاہے مگرمحنت کرنے سے گھبراتے ہیں، یہ وقت سے پہلے عزت، شہرت اوردولت سمیٹ لیناچاہتے ہیں، ظاہرہے یہ بالکل غیر فطری ہے۔ہرچیزوقت پرہی ملتی ہے اوراگرآپ نے غیرفطری طور پر اسے حاصل کرنے کی کوشش کی ہےتوپھریہ آپ کے پاس وقتی طورپرہی رکتی ہے اورجہاں سے آتی ہے وہاں واپس چلتی جاتی ہے لیکن آپ کواس کی سزا بھکتنے پرمجبورکردیتی ہے۔

بی جےپی کی فتح دراصل ایسے ملائوں کے لیے درس عبرت ہے لیکن وہ درس عبرت حاصل نہیں کریں گے کیوں کہ سبق لیناتوانہوں نے سیکھاہی نہیں، یہ دوسروں کوتواحتساب کی دعوت دیں گے مگرخوداحتساب نہیں کریں گے۔ اورسچی بات یہ ہے کہ ہمیں ان سے احتساب کی توقع رکھنی ہی نہیں چاہیے کیوں کہ احتساب قائدکرتاہے، کائدنہیں۔

یوپی میں مسلم ووٹ بینک ٹوٹ کربکھرگیا،اسے یقیناًبکھرہی جاناچاہیے تھا کیوں کہ جب تک یہ زندہ رہے گامسلم ووٹ بینک کی سیاست ہوتی رہے گی اورہندتوازندہ رہے گا،فرقہ پرست اس کے سہارے زہراگلتے رہیں گے اوربردران وطن کے دلوں میں نفرت کابیج بوتے رہیں گے۔ اس لیے مسلم ووٹ بینک جتنی جلدی ٹوٹ پھوٹ کاشکارہوجائے اتناہی بہترہے۔ اگرمسلم ووٹ بینک کی سیاست زندہ رہی توبیس فیصدووٹ ۸۰فی صدووٹوں کامقابلہ کرنہیں سکتے، شکست اس کامقدرہے ہی۔ الیکشنو ں میں مسلمانوں کی حیثیت روزبروزکمزورہونے کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے، نوٹ کرلیں اسے۔

الیکشن ہوچکا،نتائج بھی آچکے، یوگی آدتیہ ناتھ وزیراعلیٰ بھی بن چکے مگرابھی تک مسلمانوں میں تشویش ہے۔ حالاں کہ انہیں اس پرتشویش نہیں ہونی چاہیے بلکہ اپنےملائوں کی ضمیرفروشی، سیاسی بےبصیرتی اورمفادپرستی پرتشویش ہونی چاہیے۔ جب تک ہمارے درمیان ایسے لوگ رہیں گے تب تک اطمینان رکھیے، کچھ تبدیل ہونے والانہیں، آپ بس میٹنگیں کرتے رہیں گے، غصہ اتارتے رہیں گے، خاکے بناتے رہیں گے مگران خاکوں پرعمل زندگی میں کبھی نہیں ہوگاکیوں کہ کوئی بھی بڑاکام کرنے کے لیے براہ راست عوام سے جڑناپڑتاہےجب کہ ہمارے اکثرعلماکاحال یہ ہے کہ وہ اپنے حجروں سے ہی نہیں نکلتے وہ عوام کے درمیان کیاخاک کام کریں گے۔ میں ایسے درجنوں مولویوں کوجانتاہوں جوسلام میں پہل کرنے پراپنی کسرشان سمجھتے ہیں۔ اورجب یہی لوگ اسٹیجوں پر آتے ہیں تودھنواں دارتقریریں ایسی کرتے ہیں، لگتاہے کہ سارے جہا ں کےدردانہی کے دل میں پنہاں ہے۔ پہلے ان مفافقت پیشہ لوگوں کوپہچانیے پھربی جے پی اورآرایس ایس جیسی مضبوط پارٹیوں سے لوہا لیجیے۔

اب 2017کے بعدبراوقت کوئی نہیں آنے والا، ابھی توآغازہے، بہت کچھ ہوناباقی ہے۔ مسلک کے دائرے میں مقیدلوگ نہ پہلے کچھ کرسکے تھے اورنہ آج کررہے ہیں اورنہ کل کچھ کریں گے اس لیے ایسے ضمیرفروشوں سے کوئی توقع مت رکھیے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close