نقطہ نظر

گلبرگ سوسائٹی قتل عام فیصلہ-عدالتوں سے ہی انصاف ہار جاتا ہے

حفظ الرحمن لطف الرحمان تیمی

28 فروری 2002ء كوانجام دئے گئے گلبرگ سوسائٹی قتل عام كا فیصلہ احمداآباد  كی خصوصی عدالت نے آخركار سنا ہی دیا ۔ اس معاملہ میں جن چھیاسٹھ  لوگوں پر فرد جرم عائد كیا گیا تھا عدالت نےان میں سے صرف چوبیس لوگوں كوہی مجرم قرار دیا ہے اور بقیہ 36 لوگوں كو بری كر دیا ہے ، چار افراد كی سماعت كے دوران ہی موت ہو گئی تھی اور ایك شخص  شروع سے ہی فرار ہے۔چودہ سال تك چلے اس لمبے معاملے میں كل 338 افراد كی گواہی لی گئی ، حالانكہ سنوائی 22 ستمبر 2015 كو ہی ختم ہی گئی تھی لیكن فیصلہ 2 جون كو سنایا گیا ہے۔قابل غور ہے كہ عدالت نے اپنے اس فیصلے میں صرف گیارہ لوگوں كو ہی دفعہ 302 كے تحت  قتل كا مجرم قرار دیا ہےبقیہ تیرہ مجرمین كو قتل كے الزام سے بری كرتے ہوئے  صرف فساد پھیلانے  كا ہی قصوروار  ٹھہرایا گیاہے، آنے والے چھ جون كو خصوصی عدالت ان تمام مجرمین كے  سزا كی تعیین كرے گی ۔

گلبرگ سوسائٹی قتل عام ان نومعاملوں میں سے تھا جس كے ٹرائل پر   سپریم كورٹ نے 26 مارچ 2008 كے اپنے ایك فیصلے میں كیس كی سنگینی كو دیكھتے ہوئے ہیومن رائیٹس كمیشن كی شكایت پر روك لگا دی تھی ، عدالت نے جہاں سی بی آئی كے سابق چیف آر كے راگھون كی قیادت  میں پانچ افراد پر مشتمل  ایس آئی ٹی كی تعیین كی  وہیں ان معاملوں كی نگرانی بذات خود كرنے كی بھی یقین دہانی كرائی ۔عدالت عالیہ كے حكم كی تعمیل كرتے ہوئے  سات سال كے بعدایس آئی ٹی نے ان معاملوں  كو دوبارہ كھولااور اس كی از سر نو جانچ شروع كی ، بالآخر اس نے 14 مئی 2010 كو اپنی پہلی رپورٹ اور 15 مارچ 2012 كو حتمی رپورٹ تمام تفصیلات كے ساتھ عدالت كے حوالے كر دیا۔

ایسا مانا جاتا ہے كہ اگر سپریم كورٹ نے ان مقدمات كی نگرانی نہیں كی ہوتی یا ایس آئی ٹی كی تشكیل كا حكم صادر نہیں كیا ہوتا تو شاید گلبرگ سوسائیٹی، نرودا پاٹیا اور بیسٹ بیكری جیسے مقدمات سے مجرمین یا تو بآسانی بری ہو جاتے یا اس سفاكانہ  جرم میں ملوث بابو بجرنگی اور مایا كوڈنانی جیسے ہائی پروفائیل لوگوں كو پولیس كبھی گرفتار كرنے كی ہمت ہی نہیں دكھاتی ۔گلبرگ سوسائٹی كے مذكورہ معاملہ میں بھی انسپكٹر كے جی اردا، بی جے پی کونسلر وپن پٹیل، وی ایچ پی لیڈر اتل وید، كانگریس کونسلر میگھ جي چودھری كی گرفتاری ایس آئی ٹی كے ذریعہ ہی عمل میں آئی ، اسی طرح ذكیہ جعفری كے ذریعہ اپنے شوہراحسان جعفری اور ان كے ساتھ مارے گئے 68لوگوں كے قتل كی سازش میں سابق وزیر اعلی گجرات،حالیہ وزیر اعظم ہند  نریندر مودی كا نام لئے جانے كے بعد سپریم كورٹ نے ایس آئی ٹی كو یہ بھی حكم صادر كیا كہ وہ اس الزام  كی بھی تحقیق كرے كہ دو روز تك چلے اس خونی كھیل میں ریاستی مشنری كا كیا رول تھا ، چنانچہ 27 مارچ 2010 كو نریندر مودی كو ایس آئی ٹی كے بلاوے پر اس كے سامنے حاضر ہوكر پوچھے گئے  سوالوں كا جواب دیتے ہوئے  اپنی  صفائی پیش كرنی پڑی۔

بہر كیف اتنی لمبی لڑائی اور انتظار كے بعد آئے اس فیصلہ پر مظلومین اپنے آپ كو ٹھگا ہوا محسوس كر رہے ہیں ، ایك طرف ذكیہ جعفری نے جہاں یہ كہا ہے كہ وہ اس فیصلہ سے خوش نہیں ہیں اور وہ اوپر ی عدالت میں اس فیصلہ كو چیلنج كریں گی ، وہیں فیروز پٹھان جنھوں نے اپنے گھر كے پانچ افراد كو اپنی آنكھوں  كے سامنے دم توڑتے دیكھا تھا،كہا ہے كہ یہ انصاف ادھورا ہے ۔كیونكہ فروز پٹھان اور ان جیسے دوسرے چشم دید گواہوں نے جن لوگوں كو اصل مجرم بتایا تھا وہی لوگ بری كر دیے گئے ہیں۔مثلاگجرات پولس كے انسپكٹر كے جی اردا(جو ایس آئی ٹی كی گرفتاری كے وقت ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بن گئے تھے)جن كے بارے میں چشم دید گواہوں نے بتایا كہ اس نے صرف بلوائیوں كو اس قتل عام كو انجام دینے كی اجازت ہی نہیں دی بلكہ لاشوں كو جلانے كا حكم بھی اسی نے دیا تھا اور  گواہوں كے مطابق دنگائیوں كی قیادت كرنے والا  بی جے پی كاؤنسلر  وپن پٹیل ،ان دونوں  كو عدالت نے بری كر دیا ہے۔

 جہاں تك قانونی نقطہ نظر سے اس كیس كو دیكھنے كی بات ہے تو اس فیصلہ میں دو چیز  یں كافی اہم ہیں۔ پہلی یہ كہ عدالت نے اس قتل عام كے مجرمین كے اوپرسے 120B كی دفعہ(منصوبہ بند سازش كے تحت انجام دیا گیاجرم) كو ساقط كر دیا ہے، بہ لفظ دیگر مجرمین كو  اب زیادہ سےزیادہ عمر قید كی  سزا ہو سكتی ہے ۔سب سے زیادہ تعجب خیز امر یہ كہ عدالت نےاس حملہ كو منصوبہ بند سازش كےتحت  ماننے  سے انكار كر تے ہوئے مجرمین كے وكلاء كی اس دلیل كو ترجیح دیا كہ گلبرگ سوسائٹی قتل عام كو انجام دینے والے بذات خود وہاں جمع ہوئے تھے ۔ حالانكہ ایس آئی ٹی نےصاف طور پر اپنی رپورٹ میں اس كی وضاحت كی تھی كہ صرف یہ معاملہ ہی نہیں بلكہ پورا گجرات فساد منصوبہ بند تھا جس میں چن چن كر مسلم علاقوں كو ٹارگیٹ كیا گيا تھا۔دوسری اہم چیز یہ ہے كہ كیا ایس آئی ٹی كی جانچ اور سفارشات خود اس قابل نہیں تھی كہ انھیں من وعن قبول كر لیا جائےیا معززججوں كاكردار بھی سوالیہ نشان كے دائرے میں آتا ہے؟

چوں كہ یہ معاملہ كہیں نہ كہیں  ایس آئی ٹی كی رپورٹ پر منحصر تھا لیكن ایس آئی ٹی كا المیہ یہ تھا كہ  شروع سے ہی اس پر انگلیاں اٹھتی رہیں۔سب سے پہلے  خصوصی پبلك پروسیكیوٹر آر كے شاہ نے مارچ 2010ء میں یہ الزام لگاتے ہوئے استعفی دے دیا تھا  كہ "ایس آئی ٹی  اور ٹرائل جج ملزمین كے تئیں نرم گوشہ ركھ رہے ہیں، ایس آئی ٹی  گواہوں كے ساتھ ہمدردی كا رویہ ركھنے كے بجائے اسے الٹا  ڈرا دھمكا رہی ہے اور ثبوت كا استغاثہ كے ساتھ اشتراك بھی نہیں كر رہی ہے "۔عدالت عالیہ نے ان كے اس الزام كی سنگینی كو دیكھتے ہوئے اس كیس كی سماعت پر  ایك بار پھر سےروك لگا دیا۔ مذكورہ فیصلے سے ان دعووں كو بھی تقویت مل رہی ہے جس میں یہ كہاگیا تھا كہ ایس آئی ٹی نے ویسی ہی رپورٹ بنائی ہے جیسا گجرات حكومت چاہ رہی تھی  بلكہ حكومت كے اعلی عہداران كی نظروں سے گذرنے كے بعد ہی ایس آئی ٹی نے اپنی رپورٹ جمع كرائی ہے ۔اسی طرح سینیر وكیل راجورامچندرن جن كو سپریم كورٹ نے نریندر مودی كے خلاف لگائے گئے الزامات كی جانچ كے لئے مقرر كیا تھا ، انھوں نے ایس آئی ٹی كی پوری جانچ پر ہی سوالیہ نشان لگا تے ہوئے  یہ دعوی كیا تھا كہ نریندر مودی كے کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کے لئے کافی دستیاب ثبوت ہیں ، لیكن ایس آئی ٹی نے جان بوجھ كر نریندر مودی كو بچانے كا كام كیا ہے۔

سوال یہ اٹھتا ہے كہ ظلم كا شكار ایك انسان اپنی فریاد لے كر كہاں جائے ؟ دنیا كی سب سے بڑی جمہوریت كا اتنا ہائی پروفائیل كیس جس كی نگرانی سپریم كورٹ نے كیا ہو ، اس كے باوجود بھی اگر مظلوموں كو انصاف نہیں ملے اور كلیدی مجرمین بری كر دیے جائیں تو اسے جمہوریت كی ہار ہی سے تعبیر كریں گے۔ پولیس كا حال یہ ہے كہ عوام كو اس پر ذرہ برابر بھی اعتماد نہیں ہے یہی وجہ ہےكہ چھوٹے سے چھوٹےمعاملےمیں بھی عوام سی بی آئی یا دوسری ایجنسیوں سے جانچ كی مانگ كر نے لگتی ہے ، ابھی حال ہی میں عام طور سے مسلم دشمن پارٹی كی شناخت ركھنے والی بی جے پی كے وزیر قانون نے یہ اعتراف كیا ہے كہ پولیس مسلم نوجوانوں كو دہشت گردی كے جھوٹے معاملے میں جان بوجھ كر پھنساتی ہے ، سیاسی لیڈران كا یہ حال ہے كہ ان میں سے  ستر سے اسی فیصد پر كوئی نہ كوئی مقدمہ چل رہا ہے ، میڈیا كسی نہ كسی پارٹی سے منسلك ہے یا پھر یہ كہ حكومتوں كے بدلنے كے ساتھ ہی ان كے سر بھی بدل جاتے ہیں ۔آخر ایك عام انسان كہاں جائے؟ كس سے مدد كی گہار كرے ؟ ساری امیدوں كامحور صرف ان عدالتوں سےہی تو ہے اور اگر یہاں بھی كوئی ظلم كا مارا  اپنے آپ كو ٹھگا ہوا محسوس كرے تو پھر ملك كامستقبل كیا ہوگا؟ویسے میں جب كسی سپریم كورٹ كے بعض سابق جج ہی یہ مانتے ہوں كہ پچاس فیصد ججز بھی بد عنوان ہیں اور پھر اس قسم كے فیصلے آتے ہوں تو یہ سوال كافی گہرا ہو جاتا ہےكہ عام آدمی امیدوں كی فصل لگائے تو كیسے؟حالیہ فیصلہ پر منور رانا كا شعر یاد آتا ہے

  عدالتوں سے ہی انصاف سرخرو ہے مگر

عدالتوں سے ہی انصاف ہار جاتا ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفظ الرحمان لطف الرحمان تیمی

مضمون نگارامام محمد بن سعود یونیورسٹی، ریاض میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور ان دنوں حرم کعبہ کے امامین کی ترجمانی پر مامور ہیں۔

متعلقہ

Close