نقطہ نظر

گود میں بیٹھے شیوراج سنگھ چوہان کی تصویر کے پانچ تجزیے

رویش کمار

 پہلا تجزیہ: مدھیہ پردیش کے ان دو پولیس اہلکاروں کو تہہ دل سے مبارک باد، جنہوں نے اپنے وزیر اعلی کو گود میں اٹھا رکھا ہے. وزیر اعلی کی نکتہ چینی یا اس تصویر پر حظ اٹھانے والے یہ نہ دیکھ پائے کہ اس تصویر میں ایک کو چھوڑ کر باقی سب اپنا فرض نبھا رہے ہیں، بلکہ وزیر اعلی کو گود میں اٹھانے والے دونوں ہی جوان ہنس رہے ہیں. دونوں نے مشکل سے اپنی ہنسی روک رکھی ہے، گویا وہ وزیر اعلی کو گود سے اتار کر خوب ہنسنا چاہتے ہوں. ان کا پیٹ پھٹنے والا ہو. بلکہ دونوں سپاہیوں کے پیچھے سفاری سوٹ میں جو جوان نظر آ رہے ہیں، وہ سرکاری مشینری کی یہ پرفیكٹ تصویر پیش کر رہے ہیں. جو کام کر رہا ہے، وہ ہنس رہا ہے. جو کام نہیں کر رہا ہے، وہ ایسے دم پھلا ئے ہے، جیسے وہی کام کر رہا ہے.

دوسرا تجزیہ: اب آتے ہیں تصویر کے اہم کردار یعنی وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان پر. تصویر دیکھ کر دو باتیں نظر آئیں. پہلا کہ وزیر اعلی ذرا بھی بے چین نہیں ہیں، بلکہ عادی لگ رہے ہیں. دوسرا، اگر پہلی بار گود میں بیٹھے ہیں تو اس لحاظ سے بھی ان کا پرفامنس اچھا ہے. ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر کھڑکی سے ویران اداس تباہی پر پھیلے آب وحیات کو دیکھنے کی تصویر کی جگہ یہ تصویر کتنی اچھی ہے. وہ وہاں سے سیلاب کا معائنہ کر رہے ہیں جہاں سے سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگ معائنہ کرنے والے ہیلی کاپٹر کو آنکھ پر انگلیوں کے چھجے بنا کر دیکھا کرتے ہیں.

تیسرا تجزیہ: پانی کی سطح سبھی کے گھٹنے سے کافی نیچے دکھائی دے رہا ہے. جہاں پر وزیر اعلی کو گود میں اٹھایا گیا، وہاں تو پانی نارمل ہے. خطرے کے نشان سے کافی نیچے. جانچ ہونی چاہئے کہ ایسی جگہ پر گود میں اٹھانے کی ہدایت کس نے دی یا سپاہیوں نے انتہائی جوش میں اپنے وزیر اعلی کو گود میں اٹھا لیا. کیا یہ سپاہی اپنے وزیر اعلی کو کم گہرے پانی سے زیادہ گہرے پانی کی طرف لے جا رہے تھے؟ اگر ایسا ہے تو معاملہ خطرناک لگتا ہے. میں صرف تصویر کی بنیاد پر تجزیہ پیش کر رہا ہوں. معلومات کی بنیاد پر نہیں.

shiv raj 2

چوتھا تجزیہ: ایک اور تصویر ہے جس میں شیوراج سنگھ کے پاؤں پانی میں ہیں. ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاؤں پڑتے ہی پانی نے اپنے قدم پیچھے کھینچ لئے ہیں. اس تصویر میں وہ گود میں نہیں ہیں، مگر اس بار ان کا جوتا کسی کی گود میں ہے. وزیر اعلی کو گود میں اٹھانے والے دونوں سپاہی فریم سے باہر ہیں، بلکہ غائب ہیں. خدا جانے کہیں معطل نہ ہو گئے ہوں! سفاری سوٹ والے سیکورٹی اہلکار کو جوتے اٹھانے کا موقع ملا ہے. سیکورٹی اہلکار نے اس لیے جوتے اٹھائے ہوں گے، کیونکہ وزیر اعلی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پاجامہ اٹھا رکھا ہے. ان کا ہاتھ فری نہیں ہے، ورنہ وہ اپنے جوتے خود ہی اٹھاتے. اب ایک ساتھ پاجامہ بھی اٹھاؤ اور جوتا بھی، میرے خیال سے میڈیا یہ کبھی نہیں سمجھ پائے گا.

سی ایم کے پیچھے کے سارے لوگ اپنے جوتے میں ہیں. وہ آرام سے اسی پانی میں چل رہے ہیں جس میں وزیر اعلی کے اعتبار سے ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ کمر بھر پانی میں چلے جا رہے ہوں. یہاں تک کہ جس کے کندھے پر وزیر اعلی کے جوتے کا بوجھ ہے، اس نے بھی اپنے جوتے نہیں اتارے ہیں. کہیں ایسا تو نہیں کہ اس سیکورٹی کے پاس کئی جوڑی جوتے ہیں اور سی ایم کے پاس ایک جوڑی ہی. اس کے علاوہ میری نظر وزیر اعلی کا جوتا اٹھائے سیکورٹی اہلکار کے بغل میں چل رہے ایک خاکی دھاری پولیس اہلکار پر پڑی. اس کے دونوں پاؤں خالی تھے، جوتے سے آزاد. تب سے سوچ رہا ہوں کہ اس کے جوتے کس نے اٹھا رکھے ہوں گے!

پانچواں تجزیہ: سیاسی زندگی میں ہر تصویر سے تشہیر نہیں ہوتی ہے. پھر بھی کچھ اشتہار تو ہو ہی جاتا ہے. شکریہ شیوراج جی، عوامی زندگی میں مزاح کا موقع دینے کے لئے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close