نقطہ نظر

ہاشم پورہ سانحہ: تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو!

راحت علی صدیقی قاسمی

عیاری، مکاری، چال بازی سیاسی رہنماوں کی رگوں میں خون کی مانند دوڑتی ہے ۔مطلب پرستی ان کی گھٹی میں شامل ہے ، جذبات سے کھیلنا ان کی فطرت ہے ،دھوکہ بازی اور شر انگیزی ان کی حکمت عملی ہے ،زبان پر کچھ دل میں کچھ اور چہرے پر تاثرات کچھ ،ذہن میں خیالات کچھ اور ان کے چہروں پر ان کے خیالات و تفکرات کو نہیں پرکھا جاسکتا ،ان کی اداؤں سے ان کے مزاج کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے ،ماہر سیاسی رہنما ان اوصاف میں مکمل ہوتے ہیں ،جس میں یہ خوبیاں نہیں ہیں وہ موجودہ دور میں سیاست کے میدان کا معتبر نام نہیں ہوسکتا ،ان خوبیوں کے حامل سیاست داں ہرآن کوئی نہ کوئی گھنائونا کھیل رچتے رہتے ہیں اور اسے حکمت عملی کا نام دیتے ہیں ،جس میں انسانیت کا قتل ہوتا ہے ،آدمیت کی شان و شوکت مجروح ہوتی ہے ۔

اس کے وقار کو ٹھیس لگتی ہے ،انسانیت کا خون گندے پانی کی طرح بہہ جاتا ہے ،اس پر کوئی افسوس ،درد نہ تکلیف ،اگر کچھ ہوتا ہے تو اس حکمت عملی کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی بھرپور کوشش اور کرسی کے پایوں کو مضبوط کرنے کی فکر ،سیاسی محل تعمیر کرنے کی خواہش ،چاہے یہ محل انسانوں کی لاشوں پر ہی کیوں نہ تعمیر ہو ،کچھ ایسا ہی بھیانک منظر 1987میں میرٹھ سے متصل ہاشم پورہ کی سرزمین نے دیکھا ،ہندو مسلم فسادات کی زد میں پورا خطہ سلگ اٹھا تھا ،آگ کے شعلے آسمان چھورہے تھے ،گھروندے خاک میں تبدیل ہوچکے تھے ،انسانیت دم توڑ چکی تھی، وقت کی رفتار فسادات کو مزید بھڑکا رہی تھی ،تحفظ ،انتظام و انصرام کی کوششیں ناکام ہوتی محسوس ہورہی تھیں ۔

اسی دوران اس زمین پر ایسا واقعہ پیش آیا، جو انتہائی درد انگیز ،تکلیف دہ ،تڑپانے والا تھا ،تصور کے گھوڑے بے لگام ہونے کے باوجود ،خیالات میں تلاطم برپا ہونے پر بھی یہ کیفیت ذہن و دماغ خیالات و تصورات کے قریب سے بھی نہیں گذر سکتی تھی ،اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا ،محافظ ہی قاتل ہوں گے ،آگ بجھانے کے لئے جن کو متعین کیا گیا ہے ،وہی گھروں کو جلا کر خاکستر کردیں گے ،مگر فلک ساکت، زمیں متحیر دیکھتے رہیے ،یہی ہوا پی ایس سی کے اہلکاروں نے ہاشم پورہ میں گھس کر 55مسلم نوجوانوں کو ٹرک میں بیٹھا لیا ،کسی کی عزت، کسی کا پیار، کسی کا ہمسایہ، کسی کا رفیق و عزیز اس سے جدا کرکے لے جایا گیااور ان تمام کو قطار میں کھڑا کرکے گولیوں سے بھون دیا گیا ،جمہوریت کہاں ہے ؟انسانیت کہاں ہے ؟ہندوستان کا وقار و عظمت کہاں ہے ؟آزادی کی قربانیوں کا صلہ کہاں ہے ؟

یہی تو سرزمین تھی جس نے جنگ آزادی کے لئے بگل بجایا تھا ،یہی تو افراد تھے جن کے بزرگوں کی تربتوں پر آج تک میلے لگتے ہیں ،ان کی شہادت کو یاد کیا جاتا ہے ،اس قربانی کا کیا یہی بدلہ ہے؟اس خواب آزادی کی حقیقت کیا اتنی بدصورت ہے ،سوالات چیختے ہیں ، جوابات کی تاب کون لا سکتا ہے ؟55افراد کا قتل کردیا گیا ،ایک شخص زندہ بچا جس نے اس دلدوز واقعہ سے لوگوں کو روشناس کرایا ،درد و غم کی کہانی سے ان کے قلوب کو مضمحل کیا ،مسلمانوں کی چہیتی سیاسی جماعت کانگریس برسر اقتدار تھی ،جس کے تمام لیڈر مہاتما گاندھی سے لے کر اندرا گاندھی، سنجیو وسنجے تک تمام لیڈران مسلمانوں کی محبت کا دم بھرتے تھے اوراسی دور حکومت میں یہ واقعہ پیش آیا ،بھیڑئے کے چہرے سے نقاب اتر گیا ، حقیقت کھل کر سامنے آگئی- قصۂ درد سناتے ہیں ،یہ فسانہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ ابھی تودرد و غم کا گہرا سمندر ہے ،جس میں متاثرین ہر پل غوطہ زن ہوتے رہے ،انصاف کی صدائیں بلند ہوئیں تو اتر پردیش حکومت نے انصاف کی گہار لگائی ،وقت گذرتا رہا ۔

بچپن جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکا، جوانی بڑھاپے کا روپ لے چکی ،بڑھاپا موت کی چادر تان کر محو خواب ہوگیا ، انصاف کی جد و جہد پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکی اور عدلیہ نے تمام ملزمین کو ثبوتوں کی قلت کی بنا پر آزادی کا پروانہ دے دیا ،حالانکہ اس عرصۂ دراز میں زیادہ تر سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی ہی برسر اقتدار رہی اور سیکولر ہونے مسلمانوں کی ہمدرد ہونے کا نعرہ لگاتی رہی ،ان کے ووٹ کے بل پر کرسی پر ’’براجمان‘‘ ہوتی رہی ،ملائم سنگھ نے کارسیوکوں پر گولیاں چلاکر مسلمانوں کو اپنا زر خرید غلام بنا لیا اور پوری قوم ملائم کی تسبیح پڑھنے لگی ،حالانکہ ملائم سنگھ نے ان 55افراد کو انصاف دلانے کی کیا کوشش کی ؟کیا حکمت عملی اپنائی؟ کیا تدبیر کی کسی کے علم میں نہیں ہے ؟کوئی نہیں جانتا -کارسیوکوں پر گولی چلانا ،ریلیوں میں مسلمانوں کی حمایت کا نعرہ لگانا ،مرنے پرمعاوضہ کے بدلے میں لاشیں خریدنا ،کیا یہی محبت ہے ؟

اپنا پن اسی کو کہتے ؟یہی تو کیا ملائم سنگھ نے ،اگر واقعتا انصاف کی کوشش کی ہے ،تو عدلیہ کے اس جواب کے کیا معنی ہیں ،استغاثہ کی جانب سے ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی بناء پر ان افراد کو بری کیاجاتا ہے ،کہاں گئے ثبوت؟ کیا انہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا ؟یہ اس سرزمین پر قتل و غارت گری کا یہ واقعہ وجود پزیر ہی نہیں ہوا ،قدم رکھیے ہاشم پورہ کی سرزمین پر ،اندازہ کیجئے ان کے درد و غم کا ،ان افراد سے گفتگو یہ احساس کراتی ہے ،جیسے کل ہی یہ واقعہ وجود پذیر ہوا اور قلب میں بے چینی پیدا ہوجاتی ہے اور اس واقعہ کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے ۔پھر سوال کیجئے ،اپنے ان لیڈران اور ان جماعتوں سے جو آپ کی محبت کا دم بھرتے ہیں کہ ثبوت کہاں گئے؟

محبت کے نام پر ایسا گندا کھیل کیوں ؟حکومت آپ کی ہے ،پولیس آپ کی ہے ،وکیل آپ کا ہے ،حفاظت آپ کی ہے ،پھر ثبوت کہاں ہیں ؟کیا سرکاری خزانے کا پانچ لاکھ روپیہ کسی شخص کی جان کی قیمت ہو سکتا ہے ؟عجب فلسفہ ہے آپ کا ۔مظفرنگر فساد آپ کی حکومت میں ، اخلاق کا قتل آپ کی حکومت میں ، سہارنپور فساد آپ کے دور حکومت میں ،لیکن مسلمان آپ ہی کا دیوانہ ہے ،مسلمان کو کیا دیا سماج وادی نے لاشوں کی قیمت کے سوا اور چند خوبصورت وعدوں کے سوا؟ مگر محبت میں کوئی کمی نہیں ۔کلیم کا یہ شعر صد فی صد درست ہے :

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

            بہرحال یہ تو ملائم سنگھ کا اپنا منشاء و مقصد تھا ،جس میں وہ کامیاب بھی رہے ،لیکن اگر بات کی جائے دنیا کی سب سے مہذب ،شائستہ ،تعلیم یافتہ قوم کی جو ہر محاذ پر دھوکہ کھاتی رہی ،حالانکہ مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ دھوکہ کھاتا ہے ،نہ دھوکا دیتا ہے تو پھر ایسا کیوں ہوا؟ جان لیجئے وہ قومیں جو میدان عمل میں آنا نہیں چاہتیں ،جو اپنے کاموں کو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچنا چاہتیں ،اپنی ضروریات کے لئے حکمت عملی مرتب کرکے عمل پیرا نہیں ہونا چاہتی ،اپنی خامیوں اور کوتاہیوں پر کام نہیں کرنا چاہتی ،اپنے مسائل کو حل نہیں کرنا چاہتی ،ہاتھ پر ہاتھ دھرے لوگوں کے رحم و کرم پر زندہ رہنا چاہتیں ہیں ،اپنے مسائل کا حل دوسروں سے چاہتیں ہیں ،ان کا یہی حال ہوتا ہے ، منظرنامہ پر ان کی درد بھری داستانیں ایسے ہی ثبت ہوتی ہیں اور اس طرح انہیں محبت کے نام پر چھلا جاتا ہے ،جذبات کا  استحصال کیا جاتا ہے ،تمناوں کامحل ریت کا گھروندا بنا دیا جاتا ہے ،خاص طور پر اس وقت مسلمانوں کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے اور اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے کمر بستہ ہونے کی ضرورت ہے ،ورنہ لوگ مسلمانوں کی لاشوں پر اسی طرح اپنے محل تعمیر کرتے رہیں گے اور ہر روز دادری ،بابری ،ہاشم پورہ ، گجرات ،دربھنگہ جیسے سانحات وقوع پزیر ہوتے رہیں گے اور انصاف کے نام پر انتظار کے سوا کچھ بھی میسر نہیں آئے گا ،کمر کسئے ،اٹھئے ،آگے بڑھئے ،متحد ہوجائیے ،کسی پر بھروسہ مت کیجئے ،اپنے کاندھوں اور حکمت عملی پر بھروسہ کیجئے اور اقبال کے ان مصرعوں کو اپنے ذہن میں رکھئے اوروہ وقت بھی یاد کیجئے جب یہ کہے گئے :

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے

مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close