نقطہ نظر

ہر مسلمان نظر آنے والا مسلمان نہیں ہوتا

حفیظ نعمانی

حکومت کے بجٹ سیشن کا افتتاحی خطبہ دیتے ہوئے صدر محترم نے دخترانِ اسلام کے بارے میں کچھ ایسی باتیں کہہ دیں کہ کروڑوں مسلم خواتین نے انہیں انتہائی توہین آمیز قرار دیا اور 29  مسلم خواتین تنظیموں نے ایک پریس کانفرنس کرکے صدر سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے خطبہ سے ان باتوں کو حذف کریں۔

 یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ صدر کا کوئی خطبہ اور کوئی تقریر ان کے جذبات و خیالات کی ترجمان نہیں ہوتی اس کا ایک ایک لفظ حکومت کی طرف سے تیار کرکے دیا جاتا ہے اور وہ صرف اسے پڑھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ خطبہ میں جو کہا گیا ہے کہ ’’مسلم خواتین کا احترام کئی دہائیوں تک سیاسی نفع و نقصان کا بندھک رہا۔ اب ملک کو انہیں اس صورت حال سے آزادی دلانے کا موقع ملا ہے۔ میری حکومت نے تین طلاق کے سلسلہ میں ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ جلد ہی اس کو قانونی شکل دے دے گی۔ تین طلاق پر قانون بننے کے بعد مسلم بہنیں، بیٹیاں عزت کے ساتھ بے خوف زندگی گذار سکیں گی۔‘‘

دانشور مسلم خاتون ڈاکٹر اسما زہرا نے پریس کانفرنس میں میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ ہم سب حیران ہیں کہ آخر صدر جمہوریہ نے یہ کیسا بیان دیا ہے جو نہ صرف مسلم خواتین بلکہ پورے اسلام پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان سے کس نے کہا کہ مسلم خواتین دہائیوں سے قید کی زندگی گذار رہی ہیں۔ جبکہ وہ آزاد ہیں اور زندگی کے ہر شعبہ میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر محترم نے مسلم خواتین کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ محترمہ یاسمین فاروقی نے کہا کہ میں رات بھر سوچتی رہی کہ کیا صدر جمہوریہ بھی اس طرح کی بات کہہ سکتے ہیں؟

بات اصل میں یہ ہے کہ ہندو لیڈر اور ہندو عوام یہ نہیں جانتے کہ ہر مسلمان مسلمان نہیں ہوتا۔ ہمیں یا کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہے اور وہ نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ یا تو مفتیانِ کرام کرسکتے ہیں یا پاک پروردگار۔ سیدھا سیدھا آسان پیمانہ یہ ہے جو مسلمان نماز پڑھتا ہو، رمضان کے روزے رکھتا ہو، اپنے گھر والوں کے حقوق ادا کرتا ہو، اگر سرکاری یا غیرسرکاری ملازم ہے تو اپنے فرائض انجام دیتا ہو، اور نمک حرامی نہ کرتا ہو، جھوٹ نہ بولتا ہو، غیبت نہ کرتا ہو، چوری نہ کرتا ہو، نشہ نہ کرتا ہو، کسی کو نقصان نہ پہونچاتا ہو بلاشبہ وہ مسلمان ہے۔ لیکن ہندو کے لئے کوئی پابندی نہیں ہے کہ وہ اگر یہ یہ یہ کرتا ہو اور یہ یہ یہ نہ کرتا ہو تو وہ ہندو ہے اور نہ کرتا ہو تو ہندو نہیں ہے۔

اُترپردیش کے ایک سابق ڈپٹی اسپیکر رام نرائن ترپاٹھی جو ہمارے بہترین دوستوں میں سے تھے عصری تعلیم کے علاوہ اپنے مذہب کے بارے میں بھی بہت و اقف تھے۔ ایک بار ان سے بہت تفصیل سے گفتگو ہوئی انہوں نے ہم سے کئی سوال کئے ہم نے بتایا کہ روزہ کیسی عبادت ہے اور اس کی حفاظت کتنا مشکل کام ہے۔ ہم نے اس کے ٹوٹ جانے سے لے کر مکروہ ہوجانے تک پوری تفصیل بتائی۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہ کیا کرنے اور کیا کیا ماننے یا کہنے سے مسلمان مسلمان نہیں رہتا۔ ترپاٹھی جی سے ہم نے جب معلوم کیا کہ ہندو دھرم میں وہ کون کون سی باتیں ہیں جن کے کرنے سے ہندو ہندو نہیں رہتا بلکہ ناستک ہوجاتا ہے۔ ہم نے کہا کہ یہ بات ہم اس لئے معلوم کررہے ہیں کہ ہم پریس کا کاروبار کرتے ہیں ہر طبقہ کے لوگوں سے تعلقات ہیں ان سے بھی جو ہمارے برتنوں میں چائے بھی نہیں پینا چاہتے اور ان سے بھی جو ہماری پلیٹ میں سے گوشت کی بوٹی نکال کر کھا لیتے ہیں۔ ان سے بھی جو منگل کو نہ شیو کرتے ہیں نہ گوشت کھاتے ہیں اور پیاز تو کسی بھی دن نہیں کھاتے لیکن کسی مندر کی طرف جھانکتے بھی نہیں۔ اور ان کے لڑکے ان کے سامنے منگل کو شیو بھی کرتے ہیں شراب بھی پیتے ہیں اور گوشت بھی کھاتے ہیں۔ بہت تفصیل کے بعد انہوں نے کہا کہ جب تک ہندو کہے کہ میں ہندو ہوں وہ ہندو ہے۔ اگر تم نماز پڑھنے روزہ رکھنے قرآن یاد کرنے کے بعد بھی کہو کہ ہم ہندو ہیں تو ہم تمہیں ہندو مانیں گے۔

ہم ترپاٹھی جی کے بارے میں جتنا جانتے ہیں اس کی بناء پر کہہ سکتے ہیں کہ وہ وزیراعظم اور صدر جمہوریہ سے بھی علم میں زیادہ ہی ہوں گے۔ ذہین اتنے تھے کہ وہ ہمارے ساتھ بھوپال گئے تھے ہم نے تخلصؔ بھوپالی سے ملایا انہوں نے چند کتابیں دیں۔ وہیں کہا کہ حفیظ کا دوست ہوں مگر اُردو نہیں جانتا لیکن آپ کو ایک ہفتہ کے بعد اُردو میں اپنے قلم سے کتابوں کی رسید بھیجوں گا اور انہوں نے دس دن کے بعد ایک خط ان کو اور ایک مجھے اُردو میں لکھ کر بھیجا۔

ملک کے ہندو لیڈر مسلمانوں کے بارے میں بھی یہی سمجھتے ہیں کہ وہ جب تک اپنے کو مسلمان کہیں وہ مسلمان ہیں۔ اور جن نام کی مسلم عورتوں نے ان سے ملاقاتیں کرکے جو منھ میں آیا کہا اسی کو انہوں نے اسلام سمجھ لیا اور تقریر لکھوادی۔ یہ جتنی بھی برقع پہنے ہوئے یا بغیر برقع والی اور میک اپ سے اپنے کو پرکشش بنائے ہوئے لیڈروں کے آگے پیچھے گھوم رہی ہیں ہم نہیں کہہ سکتے کہ ان میں سے کتنی مسلمان ہیں؟

ملک کے جس وزیراعظم کو اچانک طلاق شدہ مسلم عورتوں سے ہمدردی ہوگئی ہے وہ بھول گیا کہ جس عشرت جہاں کو دو دن فارم ہائوس میں رکھنے کے بعد مارا گیا تھا کہ وہ مودی کو قتل کرنے آرہی تھی اور سہراب الدین کی بیوی کوثر اس کا تو صرف یہ قصور تھا کہ اس نے دیکھا تھا کہ اس کے شوہر اور اس کے ہندو دوست کو کس نے مارا پھر اسے زمین کھا گئی۔ وزیراعظم بتائیں کہ کیا وہ مسلم عورتیں نہیں تھیں؟  جن 29  خواتین تنظیموں نے پریس کانفرنس کی ہے وہ چاہیں تو دہلی میں کروڑوں حقیقی مسلمان  خواتین کو بلاکر سنوا دیں کہ جتنی آزادی انہیں ہے ہندو عورت اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ مودی جی کو اگر کچھ کرنا تھا تو وہ ان ہندو لڑکیوں کے لئے کرتے جو کم جہیز لانے کے جرم میں جلائی جارہی ہیں۔ ماری جارہی ہیں یا شادی کے بعد بھی ماں باپ پر بوجھ بنی بیٹھی ہیں کیونکہ ان کے باپ کے پاس شوہر کی کار کیلئے پیسے نہیں ہیں۔ وہ شاید بھول گئے کہ ہریانہ کی بیڈمنٹن کھلاڑی سائنا نہوال نے کہا تھا کہ میرے پیدا ہونے کے بعد تین برس تک میری دادی نے میرا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔ کیا مودی جی نے کسی مسلمان لڑکی کے منھ سے بھی سنا ہے؟ رہی طلاق تو صرف ایک بہانہ ہے اس کی آڑ میں وہ ان عورتوں کو جو کہنے کی مسلمان ہیں انہیں آلۂ کار بنانا چاہ رہے ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اگر مودی جی صدر کا خطبہ لکھوانے سے پہلے اسلام کی کوئی ایک کتاب بھی پڑھ لیتے تو وہ یہ سب نہ لکھواتے ہندو جب بیٹی کی شادی کرتا ہے تو کنیادان کرتا ہے اور مسلمان نکاح کی گرہ باندھتا ہے جسے عورت بھی چاہے تو خلع کے ذریعہ کھلوا سکتی ہے اور مرد طلاق کے ذریعہ کھول سکتا ہے یہ سب ہندو عورت کو نصیب نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close