نقطہ نظر

ہم سدھرتے کیوں نہیں؟

ممتاز میر

  قریب ایک دہائی سے جب بھی عید قرباں کا موقع آتا ہے اردو اخبارات اور صحافی جاگ پڑتے ہیں اور قوم کو نصیحت کرتے ہیں کہ ’’صرف‘‘ ایک سال کے لئے مسلمان بڑے جانوروں کی قربانی بند کردیں تاکہ حکومت کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو سکے۔ ہم خود بھی اس طرح کے لکھاریوں میں شامل ہیں اور یہ سلسلہ کم و بیش 10؍12 سالوں سے چل رہا ہے۔ مگر صد فی صد مسلمانوں نے آج تک اس کو مان کر نہ دیا۔ مگر جب سے سے مودی جی آئے ہیں بڑے بڑے دھاکڑ مسلمان بھی اس پر عمل کرنے لگے ہیں۔ دراصل زبردست کا ٹھینگا سر پر ہوتا ہے اسلئے ماننا ہی پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر تین طلاق کو ہی لے لیجئے۔ زبردست نے جب ٹھینگا سر پر رکھا تو اب ہمارے علماء کرام کہنے لگے ہیں کہ قرآن میں تو تین طلاق کا ذکر ہی نہیں ہے۔ قرآن تو کہتا ہے ۔۔الطلاق مرتٰن۔ بس افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے مجتہد یہ اجتہاد اس وقت کر رہے ہیں جب زبردست اپنا ٹھینگا ان کے سروں پر رکھ رہا ہے۔ خوف خدا اس اجتہاد کا محرک نہیں ۔سوری, بات کہیں اورجا رہی ہے۔۔

مسلمانوں کو یہ نصیحت دئے جانے کی وجہ یہ تھی کہ مسلم صحافی ۔لکھاری اور دانشور یہ سمجھتے تھے کہ اگر مسلمان بڑے جانور کھانا چھوڑدیں اور ان کی قربانی کرنا چھوڑدیں گے تو حکومت کو زر مبادلہ کی پریشانی ہوگی۔ بیف اور بڑے جانوروں کی کھالیں بھی میسر نہ آئیں گی اور دونوں کے ایکسپورٹ سے ملنے والے زر مبادلہ میں بھاری کمی واقع ہوگی۔ممالک غیر میں چھوٹے جانوروں کے مقابلے بڑے جانوروں کے چمڑے کی طلب زیادہ ہے۔ وہ مہنگا بھی بکتا ہے اور زر مبادلہ بھی خوب کما کر دیتا ہے ۔

مودی جی نے آتے ہی گائے کاٹنے پر پابندی عائد کر دی سوائے ان ریاستوں کے جہاں بی جے پی کو گائے کا گوشت کھانے والے عوام کے ووٹوں کی ضرورت ہے۔ اس طرح ملک میں دو قسم کے قوانین چل رہے ہیں ۔اس میں تعجب کی بات نہیں ہے ۔بی جے پی پارٹی ہی ایسی ہے۔بہرحال مسلمانوں کی یہ آرزو پوری نہیں ہوئی کہ ان کے بیف نہ کھانے سے حکومت مصیبت میں پڑ جائے گی اور ملک کو زر مبادلہ کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ بلکہ یہ ہوا کہ جب سے مودی جی بر سر اقتدار آئے ہیں تب سے بیف اور لیدر ایکسپورٹ مین دن دونی رات چوگنی ترقی ہوئی ہے۔ ابھی کچھ ہفتے پہلے کی رپورٹ ہے کہ ملک اب بیف ایکسپورٹ کے معاملے میں دنیا میں تیسرے نمبر پر آگیا ہے ۔یہ کیسے ہوا ؟

صاحب! یہ مودی جی اور بی جے پی کا چمتکار ہے۔جس ملک میں گنپتی جیسی سرجری پر یقین کیا جا تا ہو ۔اور مودی جی کہہ بھی چکے ہیں کہ ہماارے دیش میں تو ہزاروں سالوں سے پلاسٹک سرجری اور آرگن ٹرانسپلانٹیشن کا وجود ہے ورنہ انسان کو ہاتھی کو سر لگانا کیسے ممکن ہوتا۔وہاں دیش واسیوں کو بیف کے لئے ترسا کر ودیش بھیجنا کونسی بڑی بات ہے۔ابھی کل ہی کی بات ہے کہ بی جے پی کے ایک بڑے لیڈر کی گئو شالہ میں 200 گائیں مردہ پائی گئیں ۔ان گایوں کا کیا ہوگا؟ حلال حرام کا مسئلہ مسلمانوں کے لئے ہے۔بقیہ دنیا کے لئے تو سب کچھ حلال ہے  پھر سوچئے تو بی جے پی کے لیڈروں نے بڑی بڑی گئو شالائیں کیوں بنا رکھی ہیں ؟

بھئی !بیف اور لیدر کا ایکسپورٹ بڑھاناکھیل تھوڑا ہی ہے ۔مگر اس طرح گایوں کو تڑپا تڑپا کر مارنا ،پھر برآمد کردینا بڑا ظالمانہ طریقہ ہے۔مگر مسلمانوں کی دشمنی میں سب چلتا ہے۔۔۔خیر۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جنھیں یہ کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ یہ صاحب ایمان نہیں ۔ مگر ایمان والے کیا کر رہے ہیں ۔ہم کئی بار لکھ چکے ہیں کہ ہم جانور قربان نہیں کرتے۔ پیسے قربان کرتے ہیں ۔عملاً ہوتا یہ ہے کہ جب عید قرباں قریب آتی ہے اپنی جیب کی گنجائش دیکھ کر ہر شخص بازار سے  جانور خرید لاتا ہے اور قربان کرتا ہے ۔اب تو قربانی کی نیت بھی عنقا ہو چکی ہے اوراس کی جگہ نمائش کی نیت لے رہی ہے اور یہ نمائش کی نیت پچھلے کئی سالوں سے مسلمانوں کے لئے مسائل کھڑے کر رہی ہے۔پال کر جانور سے پیار کرنا اور اسے قربان کرنے والے لوگ لاکھوں میں ایک آدھ ہو تو ہو ۔پھر جانور کی قربانی میں مسائل پیدا کئے جارہے ہیں یہاں تک کہ انسانی جانیں خطرے میں پڑ رہی ہیں تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ براہ راست پیسے ہی غریبوں و مسکینوں میں بانٹ دئے جائیں ۔مگر آج تک کسی نے اس پر کان نہ دھرا اور نہ آئندہ امید ہے کہ کوئی اس پر کان دھرے گا ۔کیونکہ جانوروں کی قربانی سے ان کے مفادات وابستہ ہیں ۔

  اب ادھر کوئی 2؍3 سال سے ایک نئی تدبیر مسلمانوں کے دماغوں میں پنپ رہی ہے۔متعدد شہروں کے رفقاء نے یہ بات ہمارے سامنے رکھی کہ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم چونکہ یہاں اپنے وطن میں بڑے جانوروں کی قربانی نہیں کر سکتے اور بکرے کی قربانی ہر مسلمان کے بس کی بات نہیں ۔اسلئے کوئی کمیٹی ،کوئی تنظیم یا کوئی جماعت پورے ملک کے مسلمانوں سے پیسے جمع کرے اور کسی غریب مسلم ملک میں ،جیسے کہ افریقی ممالک ہیں ،بھیج دیا جائے ۔جہاں قربانی بھی ہو جائے اور اپنے بھائیوں کی مدد بھی۔حیرت ہے کہ جو بات آج ہماری عوام سوچ رہی ہے وہ دس سال پہلے کیوں نہ سوچ سکی ؟وجہ یہ ہے کہ ہمارے علماء نے ہماری عوام کی تربیت ہی ایسی کردی ہے کہ وہ ڈنڈے کھانے کے بعد ہی درست سمت میں سوچ سکتی ہے ۔مگر عمل اس کے بعد بھی نہیں کرتی۔جن رفقاء نے مذکورہ بالا تجویز پیش کی ہے انہی میں سے کچھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ تجویز تو لاجواب ہے مگر ہمارے علماء اس پر کسی حالت میں عمل پیرا نہ ہونگے۔ کیوں ؟کیونکہ وہ قوم اور جانور دونوں کی کھال کھینچنا چاہتے ہیں ۔اپنے گھر بھرنے کے لئے۔کسی غریب مسلم ملک میں اگر پیسے بھیج دئے جائیں تو پھر ان کی آمدنی کا کیا؟ہمارا کہنا یہ ہے کہ وہ اپنے پیسے منہا کرکے بھیجیں ۔ویسے کیا ضروری ہے کہ اس معاملے میں علماء کرائم کی مدد لی جائے۔ہم اپنی تنظیمیں بنائیں اور اس کے تحتکام کریں ۔

  چند سالوں پہلے ہم اپنے 4 رفقاء کے ساتھ دہلی گئے تھے ۔جاتے جاتے راستے میں آگرہ میں ایک مدرسے میں 24؍24 گھنٹوں کے لئے مقیم ہوئے تھے۔ ہم نے وہاں دیکھا کہ منتظمین کے زیر استعمال دو لکژری کاریں ہیں ۔ جن میں سے ایک Tavera مع ڈرائیور کے ہماری خدمت پر معمور کی گئی تھی۔ آپ سوچئے ان کی آمدنی کیا ہوگی؟اتنی آمدنی اتنے ہی بڑے عصری تعلیمی ادارے کی ہمیں آج تک کہیں نظر نہ آئی کہ اس کے منتظمین بھی ایسی گاڑیاں رکھ سکیں ۔ اب تو مدرسوں پرمدرسہ بورڈ سے بھی سرکاری نعمتوں کا نزول ہو رہا ہے ۔ ہم یہاں مدھیہ پردیش میں کچھ ایسے مدرسے بھی دیکھتے ہیں جو ایک کمرے میں 25؍30 طلبا کے ساتھ ان ہی نعمتوں کے حصول کی خاطر چلتے ہیں ۔ ظاہر ہے ایسی ’’پر خلوص اور مقدس‘‘ آمدنی کو کون چھوڑ سکتا ہے ۔اب اس تناظر میں بیقہی شعب الایمان کی اس حدیث کو دیکھئے جس میں حضور  ﷺ  فرماتے ہیں کہ ایک دور ایسا آئے گا جس میں اس زمین کی پیٹھ پر تمھارے علمادنیا کی بدترین مخلوق ہوں گے۔سارے فتنے وہیں سے جنم لیں گے اور لوٹ کر وہیں جائیں گے۔۔۔۔لوگ کہتے ہیں کہ وہ دور ابھی نہیں آیا ۔اور ہم سمجھتے کہ یہی وہ دور ہے۔ اس لئے ہم برسوں سے لکھتے آرہے ہیں کہ اب بر صغیر تو کیا ایشیا میں امت مسلمہ کہیں پائی نہیں جاتی۔اب اسلام کی نشاۃ الثانیہ مغرب سے ہوگی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close