نقطہ نظر

ہندوستانی مسلمانوں کی ذمہ داری

عزیر احمد

ہندوستانی مسلمان کی حالت کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے کہ آزادی کے بعد سے لیکے اب تک کبھی بھی مسلمانوں کو ہندوستان میں اتنی کسمپرسی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہوگا جتنی کہ آج کل کررہے ہیں ، حالات سے واقفیت رکھنے والے بخوبی جانتے ہوں گے کہ مسلمان آج ہندوستان میں کس جگہ پہ کھڑے ہیں ، ہر جگہ سے ان کی تعداد گھٹ گئی ہے، پارلیامنٹ، پولیس، بیوروکریسی، ویسے تعداد تو پہلے بھی کبھی ان کی مجموعی آبادی کے اعتبار سے مناسب نہیں رہی ہے، لیکن پھر 2014 الیکشن کے بعد مزید کمی آ گئی ہے، رہی سہی کسر بقیہ صوبوں میں بی.جے.پی کی حکومت آنے پوری ہوگئی ہے.

اگر اس وقت پورے ہندوستان کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ چھوٹے چھوٹے عہدوں سے لیکے بڑے بڑے عہدوں تک ہر جگہ سنگھ کے آدمی بیٹھے ہوئے ہیں ، ہندوستان کے لئے اس سے زیادہ بدقسمتی کی بات کیا ہے کہ ہندوستان کے سب سے زیادہ معزز اور محترم تینوں اعلی عہدوں پہ بھی انہیں کے لوگ فائز ہیں ، یہ سب کیسے ہوا، کیوں ہوا، اس کی پوری الگ داستان ہے، ہاں بنیادی بات صرف اتنی سی ہے کہ کل کی وہ تنظیم جس پہ کبھی پابندی عائد تھی اور جسے عام آدمی ملک مخالف تسلیم کیا کرتے تھے، وہی آج ملک کے سیاہ وسفید کی مالک اور سب سے بڑی نیشنلسٹ پارٹی ہے.

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے پر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ملک کا ماحول کافی زہر آلود ہوچکا ہے، یہاں کی فضاؤں میں نفرت گھل چکی ہے، برادران وطن کا آپس میں ایک دوسرے کے تئیں اعتماد اٹھ چکا ہے، اب تو لوگ ٹرینوں میں مرغے کا بھی گوشت لے جاتے ہوئے ڈرنے لگے ہیں کہ کیا پتہ کب گائے کے گوشت کے نام پہ ان کے ساتھ حادثہ ہوجائے، جانچ کا کیا ہے، وہ تو بعد میں ہوتا ہی رہے گا.

اس طرح کی صورت حال میں مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ آ کھڑا ہوتا ہے کہ آخر مسلمان کیا کریں ، کیا الگ سیاسی پارٹی بنالیں ، یا پھر جو قومی اور ملکی سطح کی پہلے سے موجود پارٹیاں ہیں انہیں میں اپنا مستقبل ڈھونڈنے کی کوشش کریں ، سوال کا جواب تو تھوڑا سا مشکل ہے، کیونکہ جتنے لوگ ہیں اتنے ہی ان کے آراء ہیں ، اور ہر ایک کے پاس اپنے دلائل ہیں ، لیکن دو تین دن قبل میرے آبائی گاؤں میں ایک حادثہ ہوا، اس کے بعد سے میرے دل میں یہ خیال نہایت ہی شدت سے جاگزیں ہوگیا ہے کہ الگ مسلم پارٹیاں یا کوئی بھی پارٹی حل نہیں ہے، اصل چیز پاور ہے، اور یہ پاور ایک چھوٹے لیول سے لیکے بڑے لیول تک جب تک مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہوگا، مسلمان اسی طرح لاچاری اور مجبوری کی زندگی گزارتے رہیں گے.

ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے پاور کا حصول سیاست کے ذریعہ قدرے مشکل ہے، کیونکہ جیسے ہی مسلمان میدان میں آتے ہیں ، نفرت کا بازار گرم ہوجاتا ہے، فرقہ وارانہ سیاست عروج پہ پہونچ جاتی ہے، اس لئے جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس وقت مسلمانوں کو نہایت ہی خاموشی سے کام کرنے کی ضرورت ہے، اور اس کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ لانگ ٹرم پلاننگ کیا جائے، اور یہ پلاننگ ایک چھوٹے لیول یعنی گاؤں سے لیکے جمیعت و جماعت غرضیکہ ہر سطح پہ کی جاسکتی ہے اور اس پلاننگ کا بنیادی تھیم مسلم بچوں کو بیوروکریسی، پولیس، عدلیہ اور میڈیا میں یہ پہونچانا ہے، اور یہ کام اس وقت تک کبھی نہیں ہوسکتا ہے جب تک مسلمانوں میں اجتماعیت کا شعور بیدار نہیں ہوگا، ذمہ داری کا احساس ہی انسان کو کچھ کرنے پہ آمادہ کرتا ہے، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ہر شخص کو ذمہ دار قرار دیا تھا، اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں کل قیامت کے دن سوال کئے جانے کے بارے میں بھی بتلایا تھا، یقینی طور پہ ہندوستان میں اپنی متحدہ شناخت کو نہ صرف تلاش کرنا بلکہ اس کی بقاء کے لئے جد وجہد کرنا بھی تمام مسلمانوں کی متحدہ ذمہ داری (Collective Responsibility) ہے.

یہ بات ہر شخص کو جاننا چاہیئے کہ ہندوستان میں اصل حکومت بیوروکریٹ ہی چلاتے ہیں ، چہرے تو صرف مہرے ہوتے ہیں جو وقت وقت پہ بدلتے رہتے ہیں ، آر.ایس.ایس نے بیوروکریسی پہ اپنی پکڑ بنانے کے لئے بہت محنت کی ہے، ادارے اور انسٹیٹیوشنز قائم کئے، بہترین کوچنگ سینٹرز کی بنیاد رکھی، گراؤنڈ لیول پہ کام کیا، ہماری جمعتیوں یا جماعتوں کی طرح صرف ہوائی باتیں نہیں کیں ، اور آج حال ایسا ہے کہ پولیس، بیوروکریسی اور عدلیہ غرضیکہ ہر جگہ انہیں کے افراد بیٹھے ہوئے ہیں ، مسلمان کہتے ہی رہ گئے "ان الحکم الا للہ”، کہ صرف اللہ کا ہی حکم چلے گا، بقیہ اس کے سامنے کوئی بھی قانون کوئی بھی دستور نہیں مانا جائے گا، نتیجہ کے طور پہ مسلمانوں نے اپنے بچوں کو لاء (قانون) کی تعلیم دلائی ہی نہیں ، یا جس نے تعلیم حاصل کی بھی، معاشرے نے اس کی بے اعتنائی کی، اب حالت یہ ہے کہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹس یا دیگر نچلی سطح کے کورٹس میں مسلمان بطور جج بہت کم ہی دکھائی دیتے ہیں ، مسلمانوں کے لئے اس سے زیادہ افسوس کی بات اور کیا ہوگی کہ ان کے خود کے پرسنل لاء کا کیس ایک غیر مسلم لڑتا ہے، مطلب تیس کروڑ مسلمان مل کے بھی ایک بہترین وکیل پروڈیوس کرنے کے قابل نہیں ہیں .

ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں کے پاس افراد نہیں ہیں ، یا مسلمانوں کے بچے پڑھنے والے نہیں ہیں ، مگر یہ ایک بہت ہی تلخ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے جو پڑھنے والے بچے ہیں ، یعنی جو محنت سے پڑھتے ہیں وہ مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے یا بالکل غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے ہیں ، جن کے پاس اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ بہترین کوچنگ سینٹرز میں ایڈمیشن لے سکیں یا یو.پی.ایس.سی کی تیاری کے لئے کتابیں ہی خرید سکیں ، اور پھر گھریلو اور معاشی ہریشانیاں اتنی ہوتی ہیں کہ وہ چاہ کر بھی تیاری نہیں کرپاتے ہیں ، حالانکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ ہمدرد، اور زکوة فاؤنڈیشن وغیرہ ایسے بچوں کے لئے کافی مددگار ہیں ، مگر پھر بھی یہ ناکافی ہیں ، مسلمانوں کو مزید اسی طرز پہ کام کرنے کی ضرورت ہے، زکوة فاؤنڈیشن مشعل راہ ہے، اسی طرز پہ دیگر قسم کے انسٹیٹیوشنز قائم کرنے اور زکوة کے پیسے کو ایک بہتر مقصد کے حصول کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے، جو نہ صرف بیوروکریسی کے لئے تیاری کروائے، بلکہ جیوڈیشری، لاء، میڈیا اور دیگر چیزوں میں بھی اپنے افراد کے داخلے کے لئے کوشش کرے.

جیوڈیشری یا لاء یہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے، ورنہ سارے عہدوں پہ اگر سنگھ کے آدمی بیٹھیں گے تو شکایت نہیں ہونی چاہیئے، کیونکہ جب اپنے افراد نہیں ہوں گے تو کسی اور کے افراد خالی جگہ کو پر ہی کریں گے، اب چاہے وہ سنگھ آئیڈیالوجی کے ہوں یا لبرل.

میڈیا ایک بہت بڑی طاقت ہے، گاؤں دیہات کے علاقوں میں ایک چھوٹے سے پترکار سے بھی پولیس کے افراد کے ڈرتے ہیں ، اس میں اپنے افراد کو داخل کرنا بہت ضروری ہے، جامعہ ملیہ ماس کمیونیکشن کے شعبے میں بہت اعلی درجہ پہ فائز ہے، مگر پریشانی یہ ہے کہ اس کا فیس اتنا ہائی ہے کہ ہم جیسے لوگ تو صرف خواب دیکھ سکتے ہیں ، ایڈمیشن نہیں لے سکتے ہیں .

مسلمان ہندوستان میں اگر ان پالیسی ساز اداروں پہ قابض ہوجائیں تو یقینا مستقبل بڑا خوشگوار ہوسکتا ہے، ورنہ نوشتئہ دیوار تو پھر کچھ اور ہی ہوگا.

یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ میرے کہنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں ہے کہ مسلمان سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیں ، بالکل سیاست میں رہیں اور قومی دھارے سے جڑ کر رہیں لیکن اپنے لئے کچھ Priorities (اولویات) اختیار کرلیں ، ان اولویات میں میں سے سب سے اہم جیوڈیشری، بیوروکریسی اور پولیس وغیرہ کے محکموں میں اپنے افراد کو داخل کرانا ہے، یہ اہم اس وجہ سے ہیں کہ اسے خاموشی کے ساتھ اور فل پلاننگ کے ذریعہ کرنا ہے، جب کہ سیاست چیخ پکار اور بے ہنگم شور و غل کا نام ہے، اس میں ہر پانچ سال پہ تقدیریں بدل جاتیں ہیں جب کہ دیگر محکموں میں ایک مرتبہ داخلے کے بعد پھر ان سے الگ ہوپانا ریٹائرمنٹ کے ذریعہ ہی ممکن ہے، ہاں تبادلہ، ٹرانسفر یا کچھ دنوں کے لئے معطلی الگ بات ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عزیر احمد

Student of Arabic language and litreture at Jawaharlal Nehru University, New Delhi.

متعلقہ

Back to top button
Close