نقطہ نظر

ہندوستانی مسلمان: میڈیا اور سیرت رسول

انس بدام

حال ہی میں The wire ہندی کی ویب ساںٔٹ پہ ونود دُوا صاحب کا ایک وڈیو دیکھ رہا تھا جس میں انہوں نے Trollingپر اظہار خیال کیا تھا۔ اس میں وہ ایک یو ٹیوب وڈیو کا تذکرہ کرکے بے جے پی کے آں ٔی ٹی سیل کے کچھ فیکٹ بتا رہے تھے کہ کس طرح سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا میں پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں ۔دراصل میں اسی مذکورہ وڈیو کی بات کر رہا ہوں جن کے حوالے سے ونود دوا صاحب گفتگو کر رہے تھے۔

ہم نے یو ٹیوب پہ اسے سرچ کیا تو وہ معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ Dhruv Rathee تھے جو سیاسی، سماجی اور ماحولیاتی اویرنیس پھیلانے کا کام کرتے ہیں اور خاص کر سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا کے پروپیگنڈے اور جھوٹے وا یرل میسیجز اور  فیک وڈیوز کا فیکٹ اور  حقیقت کا پردہ فاش تتھیوں اور ایویڈنس کے آدھار پہ کرتے ہے۔

انہوں نے اپنے وڈیو میں بے جے پی کے آں ٔی ٹی سیل کی سٹریٹیجی کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔وہ بتلاتے ہے کہ بی جے پی والے اپنی کسی بات کو سوشل میڈیا پہ اور مین سٹریم میڈیا میں پھیلانے کے لیے اپنے آں ٔی ٹی سیل کھ ہزاروں ورکرز کو کس موقع پر، کونسی ٹویٹ اور پوسٹ کرنی ہے اس کا ای میل کرتے ہیں اور کس پوسٹ پہ اور کس کمینٹ پہ کتنے روپے ملیں گے اس کی آفر کی جاتی ہے۔(یہاں اس کی تفصیل کا موقع نہیں آپ یوٹیوب پہ Dhruv Rathee‌: BJP IT Cell exposed والا وڈیو دیکھ سکتے ہیں۔)

دوسری بات، ابھی کچھ دن پہلے واٹس ایپ پہ ایک اردو نیوز پیپر کی ایک کٹنگ موصول ہوئ جس میں ذکر تھا آر ایس ایس کی سوشل میڈیا فوج کا ۔میں اس کٹنگ سے کچھ اقتباس نقل کرتا ہوں ۔

"سوشل میڈیا پر ہندؤوں اور ہندوتوا کی حفاظت کے لیے بڑی سینا بننے جارہی ہے۔اس فوج کا قیام آر ایس ایس اور بے جے پی سے منسلک تنطیم سے کیا جاۓ گا۔”

"اس کے قیام کا مقصد باں ٔیں بازو نظریہ اور اسلام ازم سے حوصلہ افزا لوگوں سے ہندوتوا کو بچا سکیں ۔سوشل میڈیا پر بننے جارہی اس سینا کو مشق کرایا جاۓ گا کہ کس طرح ہندؤوں کے خلاف لوگوں کو اکسانے والوں سے نمٹا جا سکے۔”

"اور سوشل نیٹورکنگ ساں ٔٹوں ٹویٹر، فیسبک، واٹس ایپ اور انسٹا گرام پر یہ سینا اپنی گہری نظر رکھے گی۔”

اب ان دونوں باتوں اور ان جیسی بہت سی باتوں کو مد نظر رکھ کر ہم مسلمان اپنا جاں ٔزہ لیں کہ ہم حق کے علمبرداروں نے اس فیلڈ میں کس قدر کام کیا ہے؟

باطل اپنے غلط نظریات کو پھیلانے کی جتنی کوشش کرتا ہے کیا ہم حق پرست اس کا دسواں حصہ بھی کر رہے ہیں؟

کیا ہمارے یہاں ایسی فوجوں کے قیام کے بارے سوچا جاتا ہے؟

کیا ہمارے تعلیمی ادارے اس لاں ٔن کے ماہرین کو جنم دے رہے ہیں؟

کیا ہمارے تعلیمی اداروں میں راں ٔج الوقت اور مؤثر ترین دعوتی ہتھیار میڈیا کے بارے میں کوئ کورسس چلاۓ جاتے ہیں؟

ہمارے اکثر دانشور اور مفکرین کی زبانوں سے ہم یہ سنتے چلے آ ٔے ہیں کہ یہ دور عقلیت کا ہے،  محسوسات کا ہے، ہمیں آج کی زبان میں اسلام کو پیش کرکے غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‌۔لیکن کیا اس سلسلے میں کوں ٔی ٹھوس اقدامات کیے گں ٔے ہیں ؟[یا صرف باتیں ہی باتیں ہیں!]

ہمارے تعلیمی نصاب میں وقت کے تقاضوں اور مصلحت کے پیش نظر میڈیا،  راں ٔج الوقت زبان و اسلوب، مارڈن لاجک کے کورسس شروع کیے جا رہے ہیں ؟ (چند ایک اداروں نے اس سلسے میں حوصلہ افزا اقدامات کیے ہیں لیکن وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں )
کیا ہم نے اپنے عوام کو دین و دعوت کے اس اہم تقاضے کی جانب متوجہ کیا ہے؟ عوام تو نماز، روزہ، زکوۃ اور حج اور  تبلیغ دین کے مروجہ اسلوب کو ہی دین کا کام سمجھتی ہیں ۔انہیں کسی نے بتایا کہ زمانے کی مروجہ زبان،  تکنیک، اسلوب اور دشمن کے مقابلہ کے لیے دشمن سے اعلیٰ ہتھیار سے کام لے کر دفاع اسلام اور اشاعت اسلام کا کام بھی دین کا کام ہے؟

آ ٔیے اب کچھ سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے آں ٔینے میں جھانک کر اپنا جاں ٔزہ لیں ۔

پاکستان کے ایک معروف و مشہور عالم دین حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اسی موضوع پر کچھ سال پہلے ایک مضمون لکھا تھا، جی چاہتا ہے کہ پورا مضمون نقل کردوں لیکن خوف طوالت کے پیش نظر کچھ اقتباسات نقل کرنے پر اکتفا کرتا ہوں:

"غزوۂ احزاب میں مشرکین کا محاصرہ ناکام ہوا اور عرب قبائل کا متحدہ لشکر مدینہ منورہ کو تاخت و تاراج کرنے کی حسرت دل میں لیے بے نیل مرام واپس پلٹنے پر مجبور ہو گیا۔ اس پر جناب سرور کائناتؐ نے صحابہ کرامؓ کو یہ بشارت دی کہ یہ مکہ والوں کی آخری یلغار تھی، اس کے بعد مشرکین عرب کو مدینہ منورہ کا رخ کرنے کی جرأت نہیں ہوگی، اب جب بھی موقع ملا ہم ادھر جائیں گے۔ البتہ ہتھیاروں کی جنگ میں ناکامی کے بعد اب مشرکین ہمارے خلاف زبان کی جنگ لڑیں گے، عرب قبائل ہمارے خلاف شعر و ادب کی زبان میں منافرت پھیلائیں گے اور خطابت و شعر کے ہتھیاروں کو استعمال میں لائیں گے۔* اتنی بات کر کے جناب نبی کریمؐ نے صحابہ کرام سے دریافت کیا کہ ہتھیار کی جنگ میں تو تم نے میرا بھر پور ساتھ دیا، اب زبان و ادب اور شعر و خطابت کی جنگ میں تم میرا کتنا ساتھ دو گے؟

یہ سن کر انصار مدینہ میں سے تین بزرگ اٹھے اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ جنگ ہم لڑیں گے اور مشرکین کا مقابلہ کریں گے۔ یہ حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت کعب بن مالکؓ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ تھے جن کا شمار ممتاز شعراء میں ہوتا تھا۔ انہوں نے زبان و ادب اور شعر و خطابت کے محاذ پر مورچہ سنبھالا اور مشرکین کو اس میدان میں بھی شکست سے دو چار کیا۔ ان کے چوتھے ساتھی حضرت ثابت بن قیس بن شماسؓ تھے، غضب کے مقرر اور بلا کے خطیب تھے، انہیں خطیب الانصار کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا، خطیب رسول اللہ کہا جاتا تھا، اور ملت اسلامیہ کی تاریخ میں خطیب اسلام کے لقب سے بھی سب سے پہلے انہیں مخاطب کیا گیا۔

یہ اس دور کا میڈیا تھا کہ شعراء اور خطباء اپنے قبائل کی مدح اور دشمن قبائل کی مذمت میں شعر کہتے۔ یہ مقابلے مشترک اجتماعات میں ہوتے تھے اور بسا اوقات ان مقابلوں کے لیے خاص محفلوں کا اہتمام بھی کیا جاتا تھا۔ جو خطباء اور شعراء مقابلہ جیت جاتے ان کے قبائل کی برتری کا اعتراف کیا جاتا تھا۔

"جب جناب نبی اکرمؐ ہزاروں صحابہ کرامؓ سمیت بیت اللہ کے عمرۃ القضاکے لیے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپؐ اونٹنی پر سوار تھے جس کی مہار حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے تھام رکھی تھی۔ وہ مہار پکڑے مکہ کی وادی میں اتر رہے تھے اور کافروں کی مذمت میں اشعار پڑھتے جا رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے دیکھا تو آگے بڑھ کر آہستہ آواز میں عبداللہ بن رواحہؓ کو روکنے کی کوشش کی،کہا کہ اب بیت اللہ شریف سامنے ہے شعر پڑھنا چھوڑ دو، نبی کریمؐ نے یہ آواز سن لی اور اوپر سے کہا کہ اے عمر چھوڑو اسے شعر پڑھنے دو۔ اس لیے کہ اس کے اشعار کافروں کے سینوں میں تیروں سے بھی زیادہ صحیح نشانے پر لگ رہے ہیں ۔

یہ اس دور کی میڈیا کی جنگ تھی، زبان و ادب کی جنگ تھی، شعر و خطابت کی جنگ تھی، اور اس دور کے ذرائع ابلاغ اور صحافت کی جنگ تھی ~جسے جناب نبی اکرمؐ نے نظر انداز نہیں کیا بلکہ اس کی اہمیت کو محسوس کیا، اس چیلنج کو قبول کیا، اس چیلنج کے مقابلے کی صلاحیت رکھنے والے حضرات کو آگے کیا، ان کی حوصلہ افزائی کی، پشت پناہی فرمائی اور اس طرح زبان اور ادب کی اس جنگ میں مشرکین عرب کو چاروں شانے چت کر دکھایا۔”

"مشرک شعراء کی طرف سے جناب نبی کریمؐ کی ھجو میں کوئی کلام سامنے آتا تو جناب نبی کریمؐ کے حکم سے حضرت حسان بن ثابتؓ مسجد نبویؐ میں منبر رسولؐ پر کھڑے ہو کر اس کا جواب دیتے۔بخاری کی روایت ہے کہ ایک موقع پر حضرت حسان بن ثابتؓ منبر رسول ؐ پر کھڑے ہو کر اسی نوعیت کے اشعار پڑھ رہے تھے جبکہ نبی اکرمؐ سامنے سا معین کی صف میں تشریف فرما تھے اور حسان بن ثابتؓکو یہ کہہ کر داد دے رہے تھے کہ شعر کہتے رہو جبریل علیہ السلام تمہاری مدد کے لیے تمہاری پشت پر کھڑے ہیں ۔”

آگے ان واقعات کی روشنی میں تحریر فرماتے ہے:

"آج پھر ذرائع ابلاغ اور میڈیا کا محاذ ہمارے سامنے ہے اور اس کا چیلنج ہمیں بار بار اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک اس کا صحیح طور پر ادراک نہیں کیا گیا۔ محدث جلیل حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ ہمارے دور کے پہلے بزرگ تھے جنہوں نے اس ضرورت کا احساس کیا اور صحافت کی زبان اور اسلوب کو سیکھنے کی اہمیت پر مختلف مضامین میں روشنی ڈالتے ہوئے جامعہ اسلامیہ عربیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں اس کے لیے تخصص کا کورس شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ تخصص کا یہ کورس شروع ہوا جس کے نتیجے میں دیگر جامعات میں بھی تخصص کے مختلف کورسز کا آغاز ہوا جو آج بھی جاری ہیں ۔ لیکن ان میں سے کوئی کورس بھی علماء کرام اور طلبہ کو آج کی زبان اور آج کے اسلوب سے روشناس کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کر رہا جس کی وجہ یہ ہے کہ نہ تو کورسز کے شرکاء کو آج کی زبان اور اسلوب سے شناسائی رکھنے والے اساتذہ مہیا کیے جاتے ہیں ، نہ مطالعہ و تحقیق کے لیے ضروری مواد اور کتابیں میسر آتی ہیں ، اور نہ ہی آج کی زبان اور اسلوب میں لکھنے پڑھنے کی عملی مشق کا کوئی اہتمام موجود ہے۔”

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

6 تبصرے

  1. بہت خوب مضمون ہے جناب

    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

  2. بہت خوب میرے بھائی. اللہ اور ترقی سے نوازے.

Close