نقطہ نظر

ہندوستان میں بڑھتی اور پاکستان میں کم ہوتی شدت پسندی

ندیم عبدالقدیر

ہندوستان اپنی رواداری کیلئے تو پاکستان اپنی شدت پسندی کیلئے دنیا میں پہچان رکھتے ہیں، لیکن اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ دونوں ممالک میں گنگا الٹی بہہ رہی ہے ۔ایک طرف پاکستان شدت پسندی سے پیچھا چھڑانے کی کوششوں میں مصروفِ عمل ہے اورتو دوسری طرف ہم سیکولرزم کے تاج سے بیزاری کا اظہار کررہے ہیں۔

پاکستان دھیرے دھیرے ہی سہی، اپنی شدت پسندی کی شناخت سے ابھرنے کی سعی کررہا ہے ۔اسے اب بھی ایک طویل سفر درکار ہے لیکن اس بات میں اب شک نہیں رہا کہ پاکستان کو شدت پسندی کے نقصانات کا مکمل نہیں تو، کافی حد تک ادراک بہر حال ہوچکا ہے ۔ دوسری طرف ہمارے ملک میںگزشتہ تین سال سےسماج میں شدت پسندی اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے ۔

ایک وقت تھا جب پاکستان میں دہشت گردی اس عروج پر پہنچ چکی تھی کہ دہشت گردوں نے مہمان کرکٹ ٹیم پر ہی حملہ کردیاتھا ۔2009ء میں پاکستان میں سری لنکا کی ٹیم پر دہشت گردانہ حملے کے بعد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا بائیکاٹ کردیا گیا تھا  ۔کوئی بھی ملک پاکستان کی سر زمین پر کرکٹ میچ کھیلنے کو تیار نہیں تھا ۔ اسے غیر محفوظ ملک شمار کیا جانے لگا تھا ۔ یہ سارے الزامات غلط بھی نہیں تھے کسی بین الاقوامی ٹیم پر دہشت گردانہ حملے سے زیادہ بری بات اور کیا ہوسکتی ہے ۔ دہشت گردی کا ابلیسی چہرہ پشاور میں اسکول پر دہشت گردانہ حملے میں نظر آیا۔بچے اسکول سے سیدھے جنت چلے گئے۔ اس حملے نے پاکستانی عوام ، حکومت، فوج اور اربابِ اقتدار کو دہلا کر رکھ دیااور شاید تب ہی انہیں  احساس ہوا کہ دہشت گردی کی تباہ کاریاں کس قدر ہولناک ہوسکتی ہیں۔

پاکستان میں شدت پسندی کا قلع قمع کرنے اور حالات معمول پر لانے کی جدو جہد شروع ہوئی۔لوگوں میں مذہبی جنونیت پر لگام ڈالنے کی سوچ پروان چڑھی۔ حکومت کی طرف سے بھی ساتھ ملا ۔آہستہ آہستہ ہی سہی پاکستان نےاپنا الٹا سفر شروع کیااور آخر کارگزشتہ ہفتہ ورلڈ الیون کا میچ کراکے اسلامی ملک نے اس ضمن میں ایک سنگ میل پارکرلیا۔ حالانکہ اس سے پہلے 2015ء میں زمبابوے کی ٹیم نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا ، لیکن ورلڈ الیون کے دورہ سےعالمی سطح پر پاکستان کی شبیہ میں نیا نکھار آیا ہے۔
یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ اپنی سرزمین پر بین الاقوامی میچ کرالینا کوئی بڑا معرکہ نہیں ہے ،لیکن جب بین الاقوامی سطح پر آپ کا بائیکاٹ کیا جارہا ہو ،دیگر ممالک کی حکومتیں اپنی ٹیم کو آپ کی زمین پر بھیجنے کیلئے رضا مند نہیں ہو۔ایسے حالات  میں یہ بڑی اہمیت کا حامل بن جاتا ہے ۔

 اس میچ کے بعد عین ممکن ہے کہ دیگر ٹیمیں بھی پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کیلئے رضا مند ہوں۔ اگر آسٹریلیا، انگلینڈ ، جنوبی افریقہ اور ہندوستان جیسی ٹیمیں بھی پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کیلئے  راضی ہوتی ہیں تو اس سے  پاکستان کے دہشت گردی کے داغ کو مٹانے میں کافی مدد ملے گی۔ کرکٹ کے سہارے پاکستان اپنی دہشت گردی کی امیج سے نجات حاصل کرنے کی شروعات کرسکتا ہے۔ ’ورلڈ الیون اور پاکستان ‘ کے میچ کو پاکستان میں جو پذیرائی حاصل ہوئی وہ بھی خوش کن ہے ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عوام ایک خوش حال اور ترقی یافتہ پاکستان کے خواہش مند ہیں۔

 ایک طرف جہاں پاکستان میں شدت پسندی سے اظہارِ بیزاری نظر آرہی ہے تو وہیں دوسری طرف ہم شدت پسندی کی راہوں پر گامزن دکھائی دے رہے ہیں۔ ہمارے یہاں دن بدن بڑھتی شدت پسندی نئی بلندیوں کو سر کررہی ہے ۔

رواں سال یعنی 2017ء میں ہندوستان اور پاکستان میں دو اہم فیصلے ہوئے۔ ہندوستان میں  طلاق ثلاثہ پر پابندی لگا کر مسلمانوں کیلئے علیحدہ سول قوانین کو ختم کرنے کی شروعات ہوگئی جبکہ پاکستان میں پارلیمنٹ نے ہندو میریج ایکٹ منظور کرکے ہندوؤں کو علیحدہ شناخت دے دی۔اس کے علاوہ ہمارے یہاں اورنگ زیب روڈ کا نام بدل دیا گیا تو پاکستان میں بھگت سنگھ کے نام پر ان کے گاؤں کے چوک کا نام رکھنے کی مہم تیز ہورہی ہے ۔

ہمارے یہاں مسلم تہواروں پر وزیر اعظم کی طرف سے مبارکباد کی روایت رہی ہے ، لیکن کچھ سال سے وزیر اعظم عید اور عید الاضحی پر مسلمانوں کو مبارک باد دینا خلافِ اصول سمجھنے لگے ہیں جبکہ پاکستان میں وزیر اعظم نواز شریف عید ملن کے پروگراموں میں شرکت کی ہے۔

2011ء میں پاکستان میں سب سے زیادہ شدت پسند صوبہ ’خیبر پختون خوا‘ کے نصابی بورڈ کے چیئرمین فضل الرحیم مروات نے کہا کہ   نصابی کتابوں سے فرقہ پرستی کو حذف کرنے کا سلسلہ ہم نے شروع کردیا ہے ۔ نصابی کتابوں میں غیر مسلموں کی شبیہ مسخ کرنے کی باتوں  ہٹا دیا گیا ہے ۔ یہاں ہندوستان میں معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ ہم نصابی کتابوں کو، جو اب تک فرقہ پرستی سے پاک تھیں،زہر آلود کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ ایسی ہی ایک نصابی کتاب میں اذان کو صوتی آلودگی کا سبب بتایا گیا ۔  ہم ایسے سماج میں بدلتے جارہے ہیں جہاں فرقہ پرستی کارِ ثواب سمجھی جانے لگا ہے اور سیکولرزم ایک گالی بن گئی ہے ۔

 گوری لنکیش کا قتل اور اس کے بعد اس قتل پر کی گئی بدنما تنقید یں ہندوستان کے سیکولر چہرے کو داغدار کررہی ہیں۔ انہیں ’کتیا‘ تک کہنا اور ایسے گھناؤنے کام کرنے والوں کو وزیر اعظم کے ذریعے ’فالو ‘ کرنا ہمیں اسی شدت پسندی کی طرف دھکیل رہا ہے جہاں سے پاکستان اب ابھرنے کی کوشش کررہا ہے ۔اپنے مذہب کی عظمت کے ترانے گانا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن جب ایک مذہب کی تکریم کیلئے دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو ہراساں کرنے کی شرط لگادی جاتی ہے تو  ظلم و ستم کا بازار گرم ہوتا ہےجس کی کوکھ سے ہجوم زنی کا آسیب جنم لیتا ہے۔

گزشتہ سال پاکستان میں ماہِ رمضان میں افطار سے پہلے ایک ہندو ضعیف کے سرِ عام کیلا کھانے پر پولس کانسٹبل نے اسے بری طرح مارا تھا ۔ ہجوم نے اس وقت ضعیف کی مدد کی، انہیں اسپتال پہنچایا۔  اتنا ہی نہیں بلکہ پولس کانسٹبل کی اس حرکت کے خلاف ایک مہم چلائی گئی ۔ کانسٹبل کو ملازمت سے معطل کرکے گرفتار کرلیا گیا۔ اِدھر ہمارے یہاں گائے کے گوشت کی افواہ پر مسلمان قتل کردئیے جانے لگے ہیں، جو پہلے نہیں ہوتا تھا۔ معاملہ تب اور بھی سنگین ہوجاتا ہے جب اقتدار کی مسند پر بیٹھے لوگ کسی طرح ایسے تشدد کو جوازفراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہمارے یہاں کئی بار دیکھا جارہا ہے ۔

 آخر میں ایک بات اور، سری لنکا ٹیم پر حملہ کرنے والی تنظیم لشکر جھنگوی کے سربراہ اور حملہ کے ماسٹر مائنڈ ملک اسحاق کو پاکستان نے 2015ء میں موت کے گھاٹ اتار دیا دوسری طرف ہمارے یہاں کرنل پروہت اور سادھوی پرگیہ کو رہا کردیا گیا۔ اگرہم  اسی رفتار سے چلتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب ہم ایک ’ہندو پاکستان‘ بنا بیٹھیں گے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم عبدالقدیر

فیچر ایڈیٹر (روزنامہ اردوٹائمز ، ممبئی)

متعلقہ

Back to top button
Close