نقطہ نظرہندوستان

ہندو شدت پسندی کو چھپانے کے لیے بنیادی آزادی کا ڈھونگ 

ندیم عبدالقدیر

  سب سے پہلے ہالینڈ کا ایک واقعہ سنئے۔ جنوری ۲۰۱۷ء میں ہالینڈ کے  ایک چرچ میں فحش فلم کی شوٹنگ کی گئی۔ یہ بات چرچ والوں کو بعد میں پتہ چلی۔ چرچ انتظامیہ بھڑک اٹھا اور فلم ڈائریکٹر کے خلاف مقدمہ دائر کردیا (ہجوم زنی کے ذریعے ڈائریکٹر کا قتل نہیں کیا گیا)۔ چرچ نے فلم پروڈکشن کی اس حرکت کو چرچ اور عیسائی مذہب کی بے حرمتی قرار دیا۔ معاملے کی شنوائی ہوئی اور ہالینڈ کی عدالت نے اس مقدمہ کو یہ کہہ کر خارج کردیا کہ ہمارے ملک میں مذہبی جذبات مجروح کرنے کا کوئی قانون نہیں ہے    اس لئے چرچ میں نیلی فلم کی شوٹنگ کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔  عدالت نے ڈائریکٹر کو با عزت بری کردیا۔  ہالینڈ دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے ہم جنسی کو جائز قرار دیاتھا۔ یہاں  ۹۰ ؍ فیصد سے زیادہ  عیسائی آبادی ہے۔ ۹۰؍فیصد سے زیادہ عیسائی آبادی رکھنے والا ملک ہالینڈ  اگر ہم جنسی کو جائز قرار دیتا ہے یا پھرغیر ازدواجی جنسی تعلق کو جرم کے زمرے سے باہر رکھتا تو وہ اس بات کا حق بھی رکھتا ہے کیونکہ وہ واقعی   آزادانہ خیالات کے ان اصولوں پر کاربند ہے جہاں بنیادی آزادی کا  ضابطہ ہر معاملے  پر عائد ہوتا ہے، حتیٰ کہ اکثریت کے مذہب پر بھی۔ آزاد خیالی  میں کم و بیش یہی حال یوروپ کے تمام ممالک کا ہے۔ ان کے یہاں مذہبی عقیدت (خواہ وہ  اکثریت کا ہی مذہب کیوں نہ ہو) کوئی معنی نہیں  رکھتی ہے۔ کیا آپ ہمارے یہاں ایسی بات کی توقع کرسکتے ہیں؟

 سال ۲۰۱۸ء ہمارے ملک  میں کئی طرح سے  اہم رہا ہے خصوصاً عدلیہ کی بلند بارگاہ سے ظہور پذیر ہونے والے فیصلوں کے معاملوں میں۔ اس سال ہماری عدلیہ پر انفرادی آزادی کا جو جوش دیکھا گیاآزاد خیالی کا ایسا جنون اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔ کیا آپ نے سوچا ہے کہ اچانک ہی ہماری عدلیہ کے دل میں نجی آزادی کے خیالات کیوں انگڑائی  لینے لگے؟ کیوں بنیادی آزادی کی ترنگ عدلیہ کے ہوش و حواس پر چھا گئی ؟

جوشِ آزاد خیالی  کا جو بھوت ہم پر سوار ہے۔ ایسا بھوت صرف یوروپ کے سماج میں ہی پایا جاتا ہے۔

زیادہ تریوروپی ممالک اس کے زیر اثر ہیں، لیکن یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب  یوروپ   اس کی بات کرتا ہے  تو  وہ اس کا اطلاق تمام شعبہ حیات پر کرتا بھی ہے۔ یوروپ میں آزادی تمام معاملوں میں مانی جاتی ہے۔ وہاں مذہب کے نام پر کسی ایک مذہب کی اجارہ داری کو بھی آزادی کے خلاف ماناجاتا ہے جبکہ   ہمارے یہاں معا ملہ بالکل مختلف ہے۔

یوروپی ممالک عیسائی اکثریت ہونے کے باوجود بھی عیسائی عقیدت کو دیگر مذاہب کے ماننے والوں پر تھوپنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مذہب، عقیدت ہرایک کا نجی  معاملہ ہے، جس میں کسی کو، حتیٰ کہ حکومت کو بھی دخل دینے کا حق نہیں ہے۔ یہی نظریات آگے چل کر جنسی معاملوں میں  بھی آزادی تک جاپہنچتے ہیں۔ وطن عزیز میں حالات  اس کے برعکس ہے۔ یہاں ہندو دھرم کی عقیدت دیگر مذاہب پر جابرانہ انداز میں تھوپی جاتی ہے۔ یہاں ہندو اسمیتا، ہندو جذبات، ہندو عقیدت، ہندو احساسات اور ہندو بالا دستی   کی اپنی ٹھوس حیثیت اور حقیقت ہے جن سے ہر کوئی خوفزدہ رہتا ہے۔ ہندوعقیدت کا انحراف اچھے سے اچھوں کو بہت مہنگا پڑسکتا ہے اور جب ہندو عقیدت کی بات ہوتی ہے  تب کسی کو بھی انفرادی آزادی کی دیوی کا خیال نہیں آتا ہے۔

 یوروپ میں انفرادی آزادی کسی بھی فرد کے کھانے پینے، کپڑے پہننے، گھومنے پھرنے اور من پسند شادی سے شروع ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں ان معاملات پر انفرادی آزادی ختم ہوجاتی ہے۔

ہمارے یہاں گائے ہندو دھرم میں مقدس مانی جاتی ہے اسلئے گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگادی جاتی ہے اور کسی طرم خان میں بھی دم نہیں ہوتا ہے کہ وہ اسے چیلنج کردے کہ گائے کا گوشت کھاناانسان کی شخصی آزادی کے زمرے میں آتا ہے۔ یوروپ میں شریک حیات منتخب کرنے کی آزادی کے بطن سے ہی ہم جنسی کی ولادت ہوئی۔ ہمارے یہاں ہم جنسی کی تو آزادی ہے لیکن کسی مسلم لڑکے کو ہندو لڑکی سے شادی کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ نہ صرف یہ کہ آزادی نہیں ہے بلکہ اس من پسند کی شادی کو ’لو جہاد‘ کا نام بھی دے دیا گیا ہے۔ ’لوجہاد‘ کا مفروضہ ہمارے یہاں انفرادی آزادی کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔ آزاد خیالی  پر جس مکاری کا مظاہرہ ہمارے ملک میں کیا جارہا ہے ایسا دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں ہورہا ہے ۔

یہاں حقیقی بنیادی آزادی نہیں بلکہ اس  کی آڑمیں صرف یہ دکھانے کی کوشش ہے کہ ہم بھی یوروپ کی طرح  آزاد خیالی کے حامی  ہیں۔ یوروپ کی طرز پر ہم بھی بنیادی  آزادی کا پرچم بلند کررہے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ ہماری آزاد خیالی  اور یوروپ کی آزاد خیالی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یوروپ میں جہاں اس میں ایماندارانہ طور پر فرد کی بنیادی آزادی مقصد ہے وہیں ہمارے یہاں انفرادی آزادی کا استعمال درحقیقت  ملک میں مسلم مخالفت کی شدت پسندی کے رجحان پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ عدلیہ کے دل میں اگر واقعی نجی آزادی کی سونامی اٹھی ہے تو وہ گائے کے ذبیحہ پر پابندی کو ہٹانے کی ہمت اب تک کیوں نہیں جٹا پائی، بلکہ گزشتہ چند سال میں تو   مزیدکئی ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگا دی گئی، اور کئی ریاستوں میں گائے کے ساتھ بیل کے ذبیحہ کو بھی روک دیا گیا۔ عدلیہ میں کبھی اتنی جرأت نہیں ہوئی کہ وہ ان پابندیوں کو انسان کے کھانے پینے کی آزادی قرار دیتے ہوئے ان پابندی کو ہٹاسکے۔

اِدھر آزادانہ خیالات کی ایسی لہر اٹھی کہ اس نے غیر ازدواجی جنسی رشتہ اور ہم جنسی تک کو انسانی آزادی قرار دے دیا لیکن گائے کے  گوشت کھانے کو انسانی آزادی قرار نہیں دے سکا۔

حال ہی میں عدلیہ کے ذریعے غیر ازدواجی جنسی رشتہ تک کو نجی آزادی قرار دینا انتہائی حیرت انگیزرہا کیونکہ یہ  عمل امریکہ جیسے ملک کی ۲۰؍ریاستوں میں آج بھی جرم ہے، یعنی ہمارے یہاں بنیادی آزادی کی ایسی للک اٹھی ہے کہ ہم امریکہ سے بھی آگے نکل گئے۔ یہ سب کچھ اتفاقاً ہورہا ہے یا کچھ منصوبہ بندی ہے۔ کیا ایسی ایماندارانہ اور آزادانہ سوچ عدلیہ پر اُس وقت بھی حاوی رہے گی جب وہ بابری مسجد معاملے کا فیصلہ کرے گی؟ اس بات میں شک و شبہات اسلئے قوی ہیں کیونکہ حال ہی میں اسماعیل فاروقی معاملے میں عدالت نے مسجد کو اسلام کا جز ماننے سے انکار کرکے عین ہندو شت پسندوں کے موافق فیصلہ دیا۔ زمین کی تحویل کو جائز قرار دینے  کا کام عدالت یہ دلیل دئیے بغیر بھی کرسکتی تھی لیکن اس نے مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو روندنا زیادہ اہم سمجھا۔ قرائن بتاتے ہیں کہ بابری مسجد معاملے کا فیصلہ عنقریب ہے۔ ۲۰۱۹ء کے عام انتخابات سے پہلے ہی بابری مسجد کا فیصلہ آسکتا ہے اور عدالت نے اسماعیل فاروقی معاملے میں زمین مسلمانوں کو حوالے نہیں کرکے اور مسجد کو اسلام کا جز نہیں مان کر اشارہ بھی دے دیا ہے۔ اگر بابری مسجد کا فیصلہ مسلمانوں کے خلاف آتا ہے تو بین الاقوامی سطح پرہندوستان کی شبیہ شدت پسند مذہبی ملک کی بن سکتی ہے   اسلئے ضروری ہے کہ اس سے پہلے اپنی شبیہ کو آزاد خیال ملک کی بناکر پیش کی  جائے، تاکہ شدت پسندی کے تاثر کو کافی حد تک زائل کرنے میں مدد ملے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم عبدالقدیر

فیچر ایڈیٹر (روزنامہ اردوٹائمز ، ممبئی)

متعلقہ

Back to top button
Close