نقطہ نظر

ہولی بروز جمعہ

حفیظ نعمانی

یہ ہمارے اختیار کی بات نہیں ہے کہ چاند کی کس تاریخ کو دن کون سا ہو اور کون تہوار کس دن منایا جائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عید جمعہ کے دن پڑجاتی ہے اور حج بھی جمعہ کے دن پڑجاتا ہے اگر جمعہ کو حج پڑجاتا ہے تو عام شہرت ہوجاتی ہے کہ حج اکبر نصیب ہوگیا۔ علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ صرف اس لئے ہے کہ حضور اکرمؐ نے حجۃ الوداع جس سال کیا تھا اس سال جمعہ کو حج ہوا تھا۔ ورنہ حج اکبر اور حج اصغر کچھ نہیں ہے۔

ہم بیٹھے تھے یہ لکھنے کے لئے کہ اس سال اتفاق سے جس دن ہولی کا رنگ کھیلا جائے گا اسی دن جمعہ ہے۔ عام طور پر ہر مسجد میں ظہر کی نماز جس وقت پڑھی جاتی ہے جمعہ کی نماز اس سے کچھ پہلے پڑھنے کا معمول ہے۔ مساجد میں جمعہ کی نماز ساڑھے بارہ بجے بھی ہوتی ہیں اور تھوڑے تھوڑے فرق کے ساتھ دو بجے بھی ہوتی ہیں۔

ہولی کے دن کسی تنازعہ سے بچنے کیلئے اچھا یہ ہے کہ کسی بھی مسجد میں ڈیڑھ یا دو بجے سے پہلے نماز نہ ہو۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ عام طور پر رنگ کھیلنے والے بارہ بجے سے نہانا شروع کردیتے ہیں اور ایک گھنٹہ میں نہا لیتے ہیں۔ ایک بات یہ بھی برسوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اب رنگ کھیلنے والے بچے بھی ان لوگوں پر رنگ نہیں ڈالتے جو منع کردیتے ہیں۔ ہمارا مکان قیصر باغ میں ہے اور جتنے بھی بھینس کے دودھ کا کاروبار کرنے والے ہیں وہ شہر سے باہر ہیں۔ ہم برابر دیکھ رہے ہیں کہ وہ دس بجے کے قریب دودھ لے کر آتے ہیں اور ان کے کپڑوں پر رنگ کی ایک بوند نہیں ہوتی۔

ملک کے حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے سیاسی پارٹیاں بھی ضروری نہیں کہ ہمیشہ ایک جیسا ماحول رکھیں 26 جنوری کو کاس گنج میں ترنگا یاترا نکالنے اور ایک پروگرام جو برسوں سے ہوتا آیا ہے اسے بگاڑنے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ لیکن مودی جی نے اپنی ناکامیوں کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لئے 2019  ء کے الیکشن کا شوشہ چھوڑ دیا ہے وہ چاہتے ہیں کہ اب نہ کوئی نوٹ بندی کی بات کرے نہ جی ایس ٹی کی۔ اور یہ بھی اسی مہم کا حصہ ہے کہ اُترپردیش میں آئندہ تین برسوں میں 40  لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا یہ بات وہ وزیراعظم کہہ رہے ہیں جو ایک مہینہ پہلے عاجز آکر کہہ چکے تھے کہ اگر پکوڑے بناکر بیچو تب بھی دو تین سو روپئے روز کما سکتے ہو۔ کون ہے جو اس خبر سے خوش نہ ہوگا لیکن اعلان تو 2014 ء سے سنتے آرہے ہیں اور پورے ملک نے صرف وعدوں پر ہی چار سال گذار دیئے۔

 آیئے پھر ہولی کی بات کریں کہ اگر کوئی ناسمجھ بچہ یا کوئی بڑا بھی کسی نماز کو جانے والے پر رنگ ڈال دے تو اگر کپڑے اتنے بھیگ جائیں کہ نماز نہ پڑھ سکے تو بغیر کوئی ہنگامہ کئے واپس آجائیں اور اگر صرف نام کے لئے رنگ پڑجائے تو جائیں اور نماز پڑھیں۔ یہ بات غلط ہے کہ ہولی کا رنگ ناپاک ہوتا ہے۔ بہت پرانی بات ہے کہ والد ماجد اور ہماری بھابھی کو سنبھل جانا تھا اس زمانہ میں صرف نو بجے سیالدہ جاتی تھی جو وقت پر مراد آباد پہونچا دیتی تھی۔ والد صاحب نے یہ سوچا کہ ہولی کھیلنے والے نو بجے کے بعد ہی رنگ ڈالیں گے صبح سات بجے اسٹیشن کے لئے روانہ ہوگئے لیکن ناکہ ہنڈولہ پر کچھ لڑکوں نے اتنا رنگ ڈال دیا کہ کپڑے سفر کے قابل نہیں رہے وہ خاموشی سے واپس آگئے۔ ان کے سر اور داڑھی کے بالوں میں کئی دن تک ہلکا اثر رہا لیکن وہ نماز پڑھتے بھی رہے اور پڑھاتے بھی رہے۔

کچھ بچے شرارت میں مسلمانوں کی دُکانوں کے بورڈ پر یا مسجد کی دیوار پر رنگ ڈال دیتے ہیں ایسی باتو ںکو نظر انداز کرنا چاہئے اور اس کی کوشش کرنا چاہئے کہ ماحول بگڑنے نہ پائے۔ ہم نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ شہر کی ہر سڑک اور ہر دُکان کا بورڈ رنگ دیا جاتا تھا لیکن یہ مہنگائی کی مہربانی ہے کہ آدمی رنگ خریدتے وقت سوچتا ہے کہ جتنے پیسے پھینکنے اور برباد کرنے کے لئے رنگ میں خرچ کئے جائیں اتنے پیسوں میں کھانے کا وہ سامان خرید لیا جائے جس سے گھر آنے والے مہمانوں کی تواضع ہوسکے۔ اور اس کی وجہ سے بھی رنگ بہت کم ہوگیا۔

ایک ضروری بات اپنے بارے میں بھی عرض کردوں کہ میری آنکھوں میں جو لینس لگے ہیں وہ 30 سال پہلے امرتسر میں اس وقت لگے تھے جب صرف ایک ڈاکٹر دلجیت سنگھ لگاتے تھے اور ملک میں کوئی نہیں تھا۔ اب تک پورا زمانہ بہت اچھا گذرا۔ اب ایک تکلیف یہ ہوگئی کہ پڑھنے اور لکھنے میں جو زور پڑتا ہے تو آنکھوں میں پانی آتا ہے اور بار بار صاف کرنا پڑتا ہے۔ لکھنؤ کے ڈاکٹر اب ہر جگہ لینس لگا رہے ہیں۔ ہم نے معلوم کیا کہ یہ لینس تبدیل ہوسکتے ہیں؟ تو جواب میں انکار ملا۔ امرتسر میں ڈاکٹر دلجیت سنگھ کے بیٹے اور بہو وہاں مطب کررہے ہیں مگر میری صحت جیسی ہے اس میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ دوائیں جو ڈالی جارہی ہیں ان سے فائدہ ہے اور یہ ان کا ہی فیض ہے کہ جیسے تیسے یہ سطریں لکھ دیں۔ میں نے معذرت کرلی تھی کہ آرام کے مشورہ پر عمل کروں گا لیکن ہولی اور جمعہ کے دن اور موجودہ حالات کے پیش نظر فرض سمجھا کہ چند سطریں ضرور لکھوں قار ئین کرام سے دعا کی درخواست ہے۔ طبیعت قابو میں آتے ہی میں اپنا فرض انشاء اللہ ادا کروں گا اس وقت صرف اس لئے لکھا کہ ملک کے جتنے اخباروں میں بھی یہ چھپ جائے اتنا ہی مفید ہوگا اس لئے کہ ہولی تو پورے شمالی ہند میں ہے۔ اور جمعہ پوری دنیا میں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close