نقطہ نظر

ہیں پاسبان حرم خود ہلاکوو چنگیز

 شاہدؔ کمال

آج پوری دنیا میں اسلام ایک ایسا مذہب ہے، جس میں انسان کے اخلاقی اقدار ومساوات اور صلح و امن و آشاتی کے نظریات اس کر ہ ارض پر کچھ اس طرح سے بسیط ہیں کہ جس نے صرف دنیا کو ہی تسخیر نہیں کیا بلکہ انسانی قلوب کو بھی مسخر کر رکھا ہے۔اسلامی نظریات کے شدید مخالفین بھی اس کے حلقہ اثر سے باہر نہیں ہیں ۔اسلام کے نظریات کے ردو وقبول کے اپنے بہت سے اسباب و عوامل ہیں ،جن کا براہ راست تعلق ہمارے سماجیات سے ہی استوار ہیں ۔

 لیکن موجودہ عہد میں اسلام کے ساتھ ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ سامراجی و طاغوتی قوتوں نے اسلام کی اصل صورت کو بری طرح سے مسخ کردیاہے ،اور ساری دنیا کو اسلام کا وہ چہرا دکھانے کی کوشش کررہے ہیں جس کا تعلق اسلام سے دور دور تک نہیں ہے۔یہ بات بھی درست ہے کہ اسلام کے خلاف ان استعماری طاقتوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع خود مسلمانوں نے ہی دیا ہے۔آج جس اسلام کی چرچا پوری دنیا میں ہورہی ہے، اصل میں وہ حقیقی اسلام نہیں بلکہ ایک نقلی اسلام ہے جو ملوکیت اور آمریت کی آغوش کا پروردہ ہے ۔جس  کی بنیاد میں تشدد ،نفرت ،عدم مساوات،جبر و تشدد،اور دہشت گردی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ لیکن یہاں پر ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ حقیقی اسلام کسی طرح سے ملوکیت اور آمریت میں تبدیل ہوا اسے سمجھنے کے لئے اوائل اسلام کی خلافت کے عہد کو ماضی کے جھرنکوں سے دیکھنے کی کوشش کریں اور اس کا تجزیہ محض اپنی ذاتی عقیدت کے بجائے عقل و منطق کی بنیادپر کریں ، تو یہ بات آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ اس کے پس پشت کون سی طاقتیں کارفرما رہی ہیں اورخلافت کو کس طرح سے ملوکیت نے یرغمال کیا ،یہ تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔

 لیکن ہم مسلمانوں سے سب سے بڑی غلطی یہ سرزد ہوئی کہ ہم نے اُس اسلام کو پس پشت ڈال دیا جس کے داعی خود رسول اکرم تھے اور جس کا آئین اللہ کا بنایا ہوا تھا، اور ہم نے اس اصلی اسلام کے بجائے اُس اسلام کو بغیر کسی ردوکد کے اپنا لیا جسےملکویت اور بادشاہت نے پرموٹ کیا ،اور جن لوگوں نے بادشاہت کی نگارانی میں پھل پھول رہے  اُس جعالی اسلام کے خلاف آواز اٹھائی اور اپنی گردن بلند کی اس کی آواز کو ہمیشہ کے لئے خاموش کردیا گیا ،اور ان کے سروں کو کچل دیا گیا۔ یہ وہ تاریخی حقائق ہیں جس سے قطعی انکار نہیں کیا جاسکتا۔

 موجودہ عہد میں اسلام کی صورت حال کو ماضی کے انھیں تاریخی کڑیوں سے اگر آپ ملا کر دیکھیں تو آج کے شاہی اسلام اورعہد قدیم کے ملوکیت والے اسلام کی ہی ایک شکل ہے ۔جس کی کفالت بادشاوں کے بڑے بڑے محلات اور تخت واقتدار کے زیر نگرانی ہوئی،اور عالم اسلام کا ایک بڑا طبقہ ان بادشاہوں کی طرف سے پیش کئے جانے والے اسلام کو ہی اصلی اسلام سمجھ بیٹھے ۔جس کی وجہ سے یہ اسلام ساری دنیا کے سامنے ایک مسئلہ بن کر کھڑا ہوگیا ہے۔اگر آپ اُس نقلی اسلام کی اصلی صورت دیکھنا چاہتے ہیں تو سعودیہ میں امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے استقبال کے انداز سے لگاسکتے ہیں کہ وہ قوم جو اسلام کی ازلی دشمن رہی ہے ،اور ہر زمانے میں ایک نئی تخریب کاری کی منصوبہ بند سازشوں کے ساتھ اسلام سے برسر پیکار رہی ،آج وہی طاقتیں اسلام کے حقوق کی بازیابی کی باتیں کررہی ہیں ،اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے۔

 آج مشرق اوسطی یعنی اعراق ، سیریا ، یمن اور بحرین میں خاک و خون کے بازار کو گرم کرنے میں یہ صہیونی اور استعماری طاقتوں کا ایک بڑا رول ہے،جس میں سعودیہ عرب جیسا ملک بھی انھیں صہونیت اور سامراجیت کی بچھائی ہوئی سیاسی بساط کا ایک ایسا مہرا ہے، جس کا استعمال بڑی خوبصورتی کے ساتھ کیا جارہا ہے۔سعودی عرب کو بھی اس بات کا بخوبی علم ہے کہ وہ کیا کررہے ہیں ۔لیکن انھیں اپنے مفادات کا تحفظ اور اپنی بادشاہت کے استحکام کی فکر ہے ،لہذا وہ اسلام کے تمام آئین و اصول پر اپنے ذاتی مفاد کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے۔ مستقبل قریب میں ان کی یہی غیر سیاسی حکمتی عملی ان کے زوال کا اصل پیش خیمہ ثابت ہوگی ۔ جیسا کہ اس سے پہلے صدام حسین، معمر قذافی اور مصر کے سابق صدر مرسی کے ساتھ ہوچکا ہے۔ان یہودیوں نے ان بادشاہوں کو ساری دنیا کے لئے اک نشان عبرت بنادیا۔جس کی اگلی کڑی اب خود سعودیہ عربیہ بھی ہے۔

 امریکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا سعودیہ عربیہ کا دورا اصل میں ایک بڑی سازش کا اعلامیہ ہے۔جس کو لے کر عالم اسلام میں ایک تشویش کی لہر ہے۔کہ سعودیہ کا امریکہ اور اسرائیل سے یہ دوستانہ مراسم ایک کھلی ہوئی سازش ہے۔جس کا خمیازہ سعویہ کے بادشاہ سلمان اور ان کے حوارین کو تاوان کی صورت میں عنقریب ادا کرنا ہوگا۔

  شاہ سلمان کا امریکی صدر سے خیر سگالی کا مقصد بظاہر دنیا کو اپنی طاقت کے علامتی مظاہرے کی ایک کوشش ہے ، اور ڈونالڈ ٹرمپ کو اس بات کا علم ہے کہ سعودیہ عربیہ کا 17؍ عرب اور غیر عرب ممالک کو ایک فہرست میں لاکھڑا کرنا مشرق اوسطی میں امریکی اور اسرئیلی مفادات کی تکمیل کے لئے ایک اہم پڑاو ہے۔مشرق وسطیٰ کے علاقے میں دہشت گرد گروہوں سے فائدہ اٹھانے کے سلسلے میں امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ مفادات ہیں ۔ شاہ سلمان ڈونالڈ ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب کے دوران 17 عرب اور غیر عرب مسلم ممالک کے سربراہوں کو ریاض آنے کی دعوت دے کر ایک نئے اتحاد کی تشکیل کی کوشش اصل میں دہشت گردگروہوں کومزید استحکام بخشنا ہے۔ٹرمپ اور شاہ سلمان نے جس تجارتی پیکیج پر دستخط کیے اس میں سے ایک سو دس بلین ڈالر سعودی عرب کو امریکی اسلحے اور دفاعی ٹیکنالوجی اگلے دس برس میں فراہمی پر خرچ ہوں گے۔ یعنی یہ گیارہ بلین ڈالر سالانہ کا تخمینہ ہے۔اب ساری دنیا کو اس بات کا انتظار ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اور ریاض حکومت کے مابین ہونے والے مختلف معاہدوں سے عالم اسلام کو کون سا بڑا فائدہ حاصل ہونے والاہے۔اس کے لئے آپ کو تھوڑا انتظار تو کرنا ہی ہوگا۔ویسے میں اپنے قارئین کی خدمت میں اللہ تعالی کے ایک اہم قرآنی فیصلہ کے ساتھ اپنی بات کو ختم کرتا ہو جس پر آپ بھی غور و فکر کریں اور ہم بھی۔

 ’’اے ایمان والو یہودو نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انھیں میں سے ہے۔بیشک اللہ بے انصافیوں کو راہ نہیں دیتا۔‘‘(سورہ المائدہ 5)

 یہ اللہ کا کھلا ہوا وعدہ ہے ۔ ان لوگوں سے جو یہود و نصاریٰ کو اپنے دوست یا سرپرست تسلیم کرتے ہیں ۔اب اس سے زیادہ کسی بھی سیاسی و سماجی تاویلات کی قطعی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔سوائے اس کے۔

 اب اس سے بڑھ کے زوال اور ہو نہیں سکتا

  کرے رسول کی امت غلامیٗ انگریز

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

2 تبصرے

  1. امریکہ کے ساتھ اتحاد یا تجدید بیعت؟؟
    شاہدؔکمال
    shahidk73@gmail.com

    لفظ اتحاد ہماری روز مرہ کی زبان میں استعمال ہونے والاایک بہت ہی انفرادی معنی رکھنے والالفظ ہے۔یہ اپنی عوامی حیثیت رکھنے کے باوجود اس کا تعلق براہ راست عوام سے نہیں ہے۔چونکہ موجودہ عہد میں کچھ ایسے الفاظ ہیں جو عوام کے لئے بولے جاتے ہیں ، لیکن اس کا تعلق عوام سے دور دور تک نہیں ہوتاجیسے سکولرازم، سماج واد،فلاح و بہبود، امن و شانتی،جمہوریت وغیرہ ۔ ان لفظوں کی تخلیق عوام کی ترجمانی کے لئے ضرور کئے گئے ہیںلیکن ان کا تعلق محض سیاست سے ہے،لہذا یہ عوامی ہونے کے باوجود بھی بڑے وی وی آئی پی لفظ ہیں،جس پر آج پوری دنیاکی سیاست کا انحصار ہے۔ اس لفظ کا استعمال اپنے مفاد کے لئے اس طرح کیا جاتا ہے جیسے ہماری جمہوریت میں ایک ماہر سیاستدان عوام کے ووٹ کا استعمال محض اپنے ذاتی حق کے لئے کرتا ہے۔ گویا لفظ اتحاد آج ہمارے عالمی معاشرے میںآپسی خیر سگالی کے بجائے اپنی غلامی کی سند توثیق کے لئے کیا جاتا ہے۔
    جہاں تک غلامی کی بات ہے تو غلامی کی تاریخ کوئی نئی نہیں ہے۔ بلکہ یہ انسانی سماج کی ایک بہت قدیم رسم ہے۔جس کا تاریخی تجزیہ اس مختصر سے کالم میں ممکن نہیں ۔لہذا میں یہاں پر شعوری طور پراس موضوع کی تفصیلات سےانصراف کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔لیکن اگر اس کے ضمن میں ایک بات کہی جائے تو غلط نہ ہوگی، کہ ایک انسان کو دوسرے انسان کو اپنا غلام بنانا یہ اپنی انا کی خود مختاری اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا ایک ایسا احساس ہے ،جو آمریت پسند ذہنیت رکھنے والے افراد کا محبوت ترین وطیرہ رہا ہے۔وہ اپنی اس اَنا کی تسکین کے لئے ہر ا س اقدام کو جائز سمجھتا ہے جسے دنیا کا ہر مذہب اس عمل کو ناجائز اور غلط قرار دیتا ہے۔یہاں تک کی ہمارے انسانی سماج میں بھی غلامی کی رسم کو درست نہیں مانا جاتا ۔ اس کرہ ارض پر غلامی انسان کے لئے سب سے بڑا عذاب ہے،اور ایک باضمیر شخص کے نزدیک غلامی کی زندگی موت سے کہیں زیادہ بدتر ہوتی ہے۔
    لیکن آمر و ڈیکٹیٹر شخص اپنے انانیت پسند مزاج کی تسکین کے لئے کسی بھی تخریب کاری ،سیاسی عیاری ،قتل و غارت گری اور دہشت گردی جیسے بھیانک عمل کو بھی انجام دینے میں ذرا بھی پس و پیش نہیں کرتا۔اس لئے کہ اُسے لوگوں کے مفاد سے کہیںزیادہ اپنے ذوق کی آسودگی عزیز ہوتی ہے۔ویسے تو غلامی کی رسم دنیا کے ہر ممالک میںپائی جاتی رہی ہے۔،لیکن پوری دنیا میں سب سے زیادہ غلامی کی رسم ایتھوپیا کے قبائلی علاقے مصر و یونان و روم اور خاص کر عرب کے بادیہ نشینوں میں پائی رائج تھی۔عرب کے بدووں سے متعلق دو چیزین زیادہ مشہور تھیں ایک لوگوں کو اپنا غلام بنانااور دوسری اُن کی جہالت۔
    لیکن جب عرب میں اسلام کا سورج طلوع ہوتو سب سے پہلے داعی اسلام یعنی جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے،عرب کے دور جاہلیت کی سب سے مذموم رسم غلامی پر قدغن لگانے کا کام کیا کیونکہ غلامی کی رسم نے عرب کے معاشرے میں انسانی اقدار کو انتہائی تذلیل کی منزل تک پہونچا دیا تھا ۔یہی وجہ تھی کہ اسلام میں غلاموں کی آزادی کے حوالے سے بہت زیادہ اجر وثواب کا ذکر کیا گیا ہے، چونکہ یہ رسم قدرت کے بنائے ہوئے قانون کے منافی ہے۔اس لئے کہ اللہ نے سب کو آزاد پیدا کیا ہے لہذا اس کے بندوںکو اپنا غلام بنانا اور اس پر زیادتی کرنا توہین قانون الہی کے مترادف ہے۔
    لیکن غلامی کی سب سے بدترین قسم یہ ہے کہ ایک ایسا انسان جو آزاد و خود مختار ہونے کے باوجود اپنے سخت ترین حریف اورآبائی دشمن کے سامنے اپنی استقامت کا مظاہرہ کئے بغیراس کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک کر انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ اپنے جان و مال اور تخت و تاج کے تحفظ کی بھیک مانگے ایسے شخص یا قوم کے لئے اس بڑھ کر افسوناک صورت حال اور کچھ نہیں ہوسکتی۔
    جس کی تازہ مثال حجاز مقدس پر قابض آل سعود کی خود ساختہ حکومت نے گزشتہ دنوں دنیا کے سب سے بڑے ڈکٹیٹر اور تانا شاہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا خیر مقدم کرکے یہ ثابت کردیا کہ ریاض حکومت اپنے دفاع کی صلاحیت نہیں رکھتی ،اور انھیں خدا کی غیبی استعانت سے زیادہ امریکہ جیسی حکومت پر زیادہ بھروسہ ہے۔ریاض حکومت کا یہ رویہ اسلامی تعلیمات اور اس کے احکام کی کھلی ہوئی خلاف ورزی ہے ،ریاض حکومت کے اس عمل نے مسلمانوں کی ایک بڑی قیادت کی زمام یہودیت اور صیہونیت کے ہاتھوں میں دیدی ۔گویا انھوں نے ایک بار پھر عرب کی اس دور جاہلیت کی اس تاریخ کو تازہ کردیا کہ ایک غلام باپ کے چند بزدل بیٹوں نے اپنے نافرمان اور ظالم آقا کے ہاتھوں پر اپنی موت کے خوف سے تجدید بیعت کرلی ۔ یہودیت اور صہیونیت کے ہاتھوں پر تجدید بیعت کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ ریاض حکومت نے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ اپنی وفاداری کے ثبوت میں تجدید بیعت کی ہے۔لیکن موجودہ تجدید بیعت کا یہ عمل اسلام کی غیر و حمیت کے خلاف ایک ایسا بزدلانہ اقدام ہے جس نے پورے عالم اسلام کو اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے۔ اس لئے کہ اسلام کی یہ تاریخ رہی ہے کہ اپنی فوجی قلت کے باوجود اپنے مخالفین کے سامنے اپنی استقامت کا بھر پور مظاہر ہ کیا اور خدائی فوج نے میدان جنگ میں اپنی فتح و کامرانی کے پرچم کو بلند رکھا ،اور اسلام کی حرمت و تقدس کو پائمال ہونے سے بچایا۔
    لیکن خود کو عالم اسلام کا قائد بتانے والے آل سعود نے ایسی غیر سیاسی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا جس سے عالم اسلام کا سر ہمیشہ کے لئے باطل قوتوں کے سامنے سرنگوں ہوگیا۔ریاض میں ہونے والی سمٹ کانفرنس اصل میں شامل ہونے والے عرب اور غیر عرب ممالک کی حیثیت غلاموں کی ایک بھیڑ سے زیادہ اور کچھ نہیں تھی۔اس لئے کہ ساری دنیا ریاض حکومت اور امریکہ و اسرائیل کے عدل و انصاف کی حکمرانی کے بارے میں پہلے سے ہی جانتی ہے۔اس مرتبہ سعودیہ عرب میں ہونے والی امریکہ و عرب کانفرنس میں بھی اس عدل و انصاف کی مکمل رعایت کی گئی۔ اس کانفرنس میں دوست ممالک کے علاوہ غلام ملکوں کو بھی دعوت دی گئی تھی۔ عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق کانفرنس میں دوست ممالک اور غلام ممالک کے درمیان پائے جانے والے فرق کی بھرپور رعایت کی گئی۔ کچھ اسلامی ممالک اپنی پشتہنی غلامی کے اعزاز سے سرفراز ہونے کے لئے اپنی شرکت بھی درج کروائی محض اس بات کے لئے کہ ہمارا شمار بھی سعودی عرب اور امریکہ کے دوست ممالک میں ہوجائے ۔حالانکہ انھوں یہ نہیں معلوم تھا کہ آقا کے آگے غلاموں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ۔
    مملکت خداد پاکستان نے بھی اپنا شمار انھیں غلاموں کی فہرست میں درج کروانے کے لئے ریاض حکومت کی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے وہاں حاضر ہوگیا۔لیکن وہاں پہونچنے کے بعد انھیں اپنی حیثیت کا اندازہ ہوا کہ غلام صرف غلام ہوتا ہےاس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے اس عمل سے پاکستانی عوام میں افسوس کے ساتھ غم و غصہ کی ایک شدید لہر پائی جاتی ہے ۔وہاں کی بعض پارٹیوں کے سربراہوں نے پاکستانی صدر نواز شریف کے اس غیر سیاسی اقدام کی کھل کر مذمت کی ۔ایک خبررساں ایجنسی کے مطابق نواز شریف اس کانفرنس میں شریک ہونے کے لئے اتنے پُرعزم تھے کہ اس اجلاس کو خطاب کرنے کے لئے انھوں نے اڑھائی گھنٹہ تیاری بھی کر رکھی تھی ۔ لیکن اس کے باوجود انھیں اس کانفرنس میں تقریر کرنے کا موقع تک نہیں دیا گیا۔مزید ذلت و رسوائی کا سامنا انھیں اسوقت کرنا جب عرب ممالک کے غلاموں کے آقا ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان کو اس لائق بھی نہیں سمجھا کہ انھیں اپنی تقریرکے کسی حصہ میں اپنا موضوع سخن بناتے۔پاکستان کے ساتھ ہونے والے اس ذلت آمیز رویہ کے خلاف وہاں کے میڈیا نے نوازشریف کا خوب جم کر میڈیا ٹرائل کیااور میڈیا وفد کی اکثریت نے بہت ہی کھل کر اپنے خیال کا اظہار کیا۔
    بعض اسلامی ممالک کے سربرہان نے اسلام ممالک کے سرپرست و قائد ڈونالڈ ٹرمپ کی تعریفوں کے پل باندھنے میں کوئی کسر نہیں باقی رکھی۔ مصر کے صدر جنرل فتاح السیسی نے کہا ’’امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ ناممکن کو ممکن بنانے میں کافی دسترس رکھتے ہیں اس بات کی تائید کرتے ہوئے فور ی طور پر‘‘ ٹرمپ ’’ نے جواب دیا میں آپ کی اس بات سے اتفاق رکھتا ہوں۔’’ڈونالڈ ٹرمپ‘‘ کے اس برجستہ جواب پورا ہال قہقہوں کی آواز سے گونج اٹھا۔اور ایک قطری شہزادے نے اپنی دیرینہ خواہش کے اظہار میں یہاں تک کہہ دیا کہ ہم ’’ آپ کے خوب صورت ہتھیار خریدنا چاہتے ہیں۔اس ہتھیار کی خریدی کا مقصد کیا ہے آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔کمال تو تب ہوا جب اس پس منظر میں اپنی صدارتی تقاریر میں بلاامتیاز مسلمانان عالم کے خلاف صدر ٹرمپ نے کھل کر تبرّا کیا۔ گزشتہ روز ریاض میں انسداد ِعالمی دہشت گردی پر ’’امریکہ عرب اسلامی کانفرنس‘‘ میںخطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ تسلیم کرنا کہ اسلام بہترین مذہب ہے اور میں اسلام میں دہشت گردی کا حامی نہیں ہوں ،اور دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف تہذیبوں کا تصادم نہیں ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف امن کا راستہ صرف سعودی عرب سے ہی نکلتا ہے۔میں ڈونالڈ ٹرمپ ‘‘ کی اس بات سے اتفاق رکھتا ہوں اس لئے کہ یہ بات درست ہے کہ اگر چوری کا خطرہ ہوتو چور کو اس عہدے پر مامور کردو تو چوری کا امکان کم ہوجاتا ہے۔
    ریاض کی جانب سے منعقد کی جانے والی اس اکانفرنس کا انجام کیا ہونے والا ہے یہ کسی سے چھپا نہیں ہے۔لیکن اس کانفرنس سے یہ بات تو طے ہوگئی ،کہ ریاض حکومت نے تمام اسلامی ممالک کی موجودگی میں ایک بار پھر اپنے آقا کے ہاتھو ں پر تجدید بیعت کرکے اپنی پشتہنی وفاداری کا بین ثبوت پیش کیا ہے کہ ہم آ پ کے آبائی غلام ہیں،اور ہماری جان ومال تخت و اقتدار سب آپ کے مرہون کرم ہے۔

متعلقہ

Close