تعلیم و تربیتنقطہ نظر

یکساں تعلیم سے ہوگی سب کی ترقی

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

دنیا کے ممالک کی طرح بھارت بھی 51واں یوم خواندگی منارہا ہے۔ اس دن ایک طرف تعلیمی ترقی کے 70سالوں پر نگاہ ڈالی جائے گی تو دوسری طرف تعلم سے جڑے بنیادی سوالوں کے جواب حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ 1947میں جب ملک آزاد ہوا تھا،تب محض 18فیصد عوام لکھ پڑھ سکتے تھے۔ آج تقریباً74فیصد لوگ خواندہ ہیں۔ 95فیصد بچوں کا پرائمری اسکولوں میں اندراج ہوتا ہے۔ اور 86فیصد نوجوان کام کاج کے لائق پڑھے لکھے ہیں۔ اس کو بڑی کامیابی مان کر خوش ہوسکتے ہیں لیکن کچھ بنیادی حقائق کوصرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔مثلاًیہ کہ لڑکوں کے مقابلہ لڑکیوں کی شرح خواندگی کم ہے۔ اسکول جانے والے بچوں کی تعداد بھلے ہی بڑھی ہے لیکن ابتدائی سطح پر اسکول چھوڑنے کی شرح 40 فیصد بنی ہوئی ہے۔ یونیسکو کی رپورٹ 2016کے مطابق بھارت کے 47ملین نوجوان لڑکے لڑکیاں سکنڈری وہائیر سیکنڈری کی سطح پر اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ وہیں 35کروڑ بالغ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے۔ اس کی وجہ سے وہ ملک کی ترقی میں کوئی مثبت کردار نہیں نبھاپارہے۔ اس کے علاوہ قریب 40فیصد بچے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی لکھ پڑھ نہیں سکتے۔ ملک کے سامنے یہ بڑا چیلنج ہے کہ جس سے منصوبہ بند طریقہ سے نمٹنا ہوگا۔

بلاشبہ بھارت نے اس مقام تک پہنچنے کیلئے انتہائی کوشش اور محنت کی ہے۔ تبھی ملک کی تین چوتھائی آبادی لکھنے پڑھنے کے لائق ہوئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے برکس کانفرنس میں اس عہد کو دوہرایا کہ بھارت 2016کے اقوام متحدہ کے سسٹینبل ڈیولپمنٹ ایجنڈا 2030کا پابند ہے۔ اس ایجنڈے کے ایک ہدف کو جو خاص طور سے نوجوان اوربالغوں کی خواندگی پر مرکوز ہے ،سال 2030تک حاصل کرنا ہے۔ اگرملک کو 100فیصد خواندگی کے اس ہدف کو حاصل کرنا ہے تو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ سبھی نوجوان اور بالغوں کی ا کثریت لکھنے پڑھنے کی صلاحت سے لیس ہوجائے۔ اس کیلئے پرانی حکمت عملی کا جائزہ لینا ہوگا کہ کونسی پالیسی کامیاب رہی اور کون ناکام ،یہ جاننے کے بعد دیش کے اندر وباہر کی کامیاب مثالوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔ تعلیم کو اجتماعی سماجی مشن بنانا ہوگا جس میں سول سوسائٹی اور نجی حلقہ بڑھ چڑھ کر حصہ لے اور سرکار سب سے آگے رہے۔ تبھی تعلیم نئے بھارت کو شکل دے سکتی ہے۔

سرکار نے اسکولوں میں حاضری بڑھانے کے کئی اہم قدم اٹھائے،مڈے میل ، لڑکیوں کو سائیکل دینا اور نئے اسکول بنانا اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ 2003سے 2014کے بیچ تقریباً دولاکھ پرائمری اسکول کھلے ہیں جو کل پرائمری اسکولوں کا 24فیصد ہے۔ ان میں سے 95فیصد اسکولوں کی اپنی عمارت بھی ہے لیکن یہ عمارتیں کس حال میں ہیں ، اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کئی بار یہ باتیں سامنے آچکی ہیں کہ اسکولوں کی عمارتیں بوسیدہ ہوچکی ہیں۔ ان کا بنیادی ڈھانچہ چرمرایا ہوا ہے، کہیں اسکول میں بچوں کے کھیلنے کی جگہ نہیں تو کہیں باتھ روم نہیں ہے، کسی اسکول میں کمپوٹر لیب نہیں ہے تو کہیں بچوں کے بیٹھنے کیلئے کرسی میز نہیں ہے،یہاں تک کہ کئی اسکولوں میں چھتیں نہیں ہیں بچے میدان میں زمین پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ مطالعہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کئی لڑکیاں ان کیلئے الگ باتھ روم نہ ہونے کی وجہ سے اسکول آنا بند کردیتی ہیں۔ سرکار نے 2009میں قانون بناکر6سے 14سال تک کے بچوں کیلئے مفت بنیادی تعلیم کو لازمی کیا ہے ، جبکہ آئین میں 14سال کی عمر تک لازمی مفت تعلیم کے انتظام کی ذمہ داری سرکار کے سپرد کی گئی تھی۔

لازمی حق تعلیم قانون 2009کے تحت آٹھویں جماعت تک کسی بھی بچے کو ناکام نہیں کیا جائے گا۔اس کے پیچھے یہ دلیل دی گئی تھی کہ بچوں کو کم عمری میں اگر فیل کردیا جائے تو تعلیم میں ان کی دلچسپی کم ہوجاتی ہے اور ان کا حوصلہ پست بھی۔ اس پر عمل صرف سرکاری اسکولوں میں ہوا۔ پرائیوٹ اسکولوں پر یہ قانون نافذ نہیں ہوتا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم اور گرگیا۔ ویسے بھی پرائیویٹ اسکولوں کے قیام کے بعد سرکاری اسکول دوڑ سے باہر ہوگئے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ یہاں کمزور گھرانوں کے بچے آتے ہیں۔ ان اسکولوں کے اساتذ ہ خود اپنے بچوں کوان اسکولوں میں نہیں پڑھاتے۔ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کا رویہ وہاں آنے والے بچوں کے تئیں منفی رہتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ نجی اسکولوں میں پڑھائی کے نام پر لوٹ ،تو سرکاری اسکولوں میں بچوں کو تعلیم سے چھوٹ ہے۔ نجی اسکولوں میں دکھاوے کیلئے ہی صحیح جو تعلیم کا ماحول بنا ہوتا ہے ،اس کی وجہ سے بچے کچھ نہ کچھ پڑھ لکھ لیتے ہیں۔ کمزور بچے بھی اپنے ساتھیوں کی دیکھا دیکھی آگے نکل جاتے ہیں لیکن سرکاری اسکولوں میں اساتذہ پہلے ہی یہ مان لیتے ہیں کہ یہاں آنے والے بچے کچھ نہیں کر پائیں گے، وہ اسکول سے نکل کر رکشہ چلائیں گے، دکان پر بیٹھیں گے یا پھر مزدوری کریں گے۔ سرکار سے موٹی موٹی تنخواہ لینے والے اساتذہ کے اس رویہ کی وجہ سے وہ طلبا بھی نہیں پڑھ پاتے جو پڑھنا چاہتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں بھی تمام اساتذہ ایک جیسے نہیں ہیں ،کچھ لوگ ہیں جو اپنی ذمہ داری ایمانداری سے نبھاتے ہیں لیکن سرکاری افسران اور عوامی نمائندوں کا رویہ سرکاری اسکولوں کے حق میں نہیں ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں سب کاہل اور کام چور لوگ ہیں اس لئے ان کے ساتھ یہ مالک نوکر کی طرح پیش آتے ہیں جس کی وجہ سے کام کرنے والے اساتذہ کا حوصلہ بھی پست ہوجاتا ہے۔ اس سوچ کے پیچھے کچھ چاپلوس اساتذہ کا عمل بھی شامل ہے۔ جو افسران کے آنے پر ان کی آئو بھگت میں لگ جاتے ہیں۔ سینٹرل اسکول بھی سرکاری ہے لیکن وہ یا ان کے بچے کسی بھی طرح نجی اسکولوں سے کم نہیں ہیں۔ تعلیم کے سرکاری وہ نجی زمرے میں بٹنے سے دو الگ الگ سماج تیار ہورہا ہے۔ایک وہ جو دنیا کی ترقی کے ساتھ آگے بڑھنے کی تیاری کررہا ہے، دوسرا وہ جو اسکول جاکر اور پسماندگی میں گر رہا ہے۔ اوپر سے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کو الیکشن سے لے کر مردم شماری کے کاموں میں لگایا جاتا ہے۔ اس کا بھی اساتذہ کی کارکردگی پر اثر پڑتا ہے۔ سرکاری اسکولوں کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے بنیادی سدھار کی ضرورت ہے!

اترپردیش ہائی کورٹ نے سرکاری اسکولوں کے معیار کو بلند کرنے کیلئے ایک تاریخی بات کہی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ تمام سرکاری افسران ،اساتذہ اور عوامی نمائندے اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں پڑھائیں ! تعلیم کے نجی زمرے میں جانے سے پہلے سبھی بچے سرکاری اسکولوں میں پڑھتے تھے۔ یہیں سے نکل کر وہ ملک کی ترقی کیلئے کام کرتے تھے۔ آج پھر اس با ت کی ضرورت ہے کہ سرکاری ونجی اسکولوں میں تعلیم کا پیٹرن ایک جیسا ہو۔ راجستھان اور یوپی سرکار نے نجی اسکولوں کے نصاب کو سرکاری اسکولوں کے پیٹرن پر کرنے ،نصاب سے جڑی کاپیوں پر اسکول کا نام نہ لکھنے اور اسکول کیمپس سے ڈریس اور کتابوں کی دکانیں ہٹانے کا حکم جاری کر نجی اسکولوں کی من مانی پر لگام لگانے کی کوشش کی ہے۔ سرکاری ہوں یا نجی سبھی اسکولوں کا نصابِ تعلیمی اگر ایک جیسا ہوگا تو پھر اس بات کی قوی امید ہے کہ نتائج بھی ایک جیسے برآمد ہوں گے۔ معیاری تعلیم کیلئے بجٹ بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔اس وقت ملک کی ڈی پی کا 2.8فیصد اس مد میں خرچ کررہا ہے جبکہ یہ 6فیصد ہونا چاہئے۔ یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر اسکول سے محروم رہ جانے والے نوجوانوں کی تعداد بھارت میں کافی زیادہ ہے۔

2014کی رپورٹ میں یونیسکو نے بھارت کو سب سے ان پڑھ ملک آنکا تھا۔ 2015میں ملک کا جی وی آر محض 23فیصد تھا جبکہ خواندگی 74فیصد سے زیادہ ہے۔ اسکولوں میں اندراج نئے اسکولوں کے قیام اور سہولیات کی فراہمی کے باوجود تعلیم کا معیار کمزور ہے۔ اس کے ذمہ دار بچے اکیلے نہیں ہیں۔ یہی تصویر جب روزگار میں لگے نوجوانوں تک پہنچتی ہے تو وہاں کے اعدادوشمار ڈرانے والے ہیں۔ نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے اعدادوشمار کے مطابق 30لاکھ گریجویٹ میں صرف 5لاکھ ہی نوکری کرنے کے لائق ہوتے ہیں یعنی باقی میں وہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ انہیں نوکری مل سکے اس سے خودداری کو دھکا لگتا ہے اور بیروزگاری بڑھتی ہے۔ روزگار کے حصول کیلئے قابلیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سب کی ترقی تبھی ممکن ہے جب سب کو ایک جیسی تعلیم اور یکساں مواقع ملیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close