نقطہ نظر

یہ جنوبی ایشیا کی صدیوں پرانی سوچ پر حملہ ہے

صوفیوں نے ہمیشہ سے ہی محبت اور امن کی تعلیم دی ہے، صدیوں سے ان کی درگاہیں انسانی محبت اور باہمی بھائی چارے کا پیغام دیتی آئی ہیں . جنوبی ایشیا کے پورے حصے کی بھی یہی شناخت رہی ہے جہاں مختلف ووٹوں اور تہذیبیں ایک ساتھ پھلے پھولے ہیں . آج بھی ان کی شرح ملی جلی ثقافت کے مثال بنے ہوئے ہیں جہاں پر ہر مذہب، فرقے اور ذات کے لوگ بغیر فرق کے آتے ہیں . شاید یہی وجہ ہے کہ آج بنیاد پرست درندے ان مزاروں سے خوفزدہ ہیں اور اس محبت سے خطرہ محسوس کر رہے ہیں جو یہ لوگوں کے دلوں میں روشن کر رہے ہیں .

ظالموں نے لال کی زمین کو ہی سرخ کر دیا، پاکستان میں اس بار صوفیوں کی زمین معصوموں کے خون سے آلودہ ہو گئی. سندھ صوبے کے سےهوان شریف کے جس بزرگ ہستی کے مزار پر حملہ ہوا ہے، وہ مشہور صوفی، بزرگ، شاعر، پھلسپھي اور قلندر تھے ان اكيدتمد جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا میں پھیلے ہیں . انہوں نے لوگوں کو محبت، امن، مل جل کر رہنے اور سلےه کا پیغام دیا. انہیں لال شہباز قلندر بھی کہا جاتا ہے. صوفیوں کی دنیا میں اس درگاہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے اسے سندھ کی اجمیر بھی کہا جاتا ہے. صوفی شاعر امیر خسرو نے ان کے شان میں ‘دمادم مست قلندر’ جیسا کلام لکھا. بعد میں بابا بللےے شاہ نے اس میں تھوڑا تبدیلی کیا تھا. صدیوں سے یہ گیت عام لوگوں کی روح میں رچی بسا ہے. آج یہ کلام اپمهاديپ کے ترانے کی طرح ہے جو ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش کے حدود میں بٹ چکے لوگوں کو شامل کرنے کا کام کرتا ہے. سندھ کے ہندو انہیں اپنے سنت جھولےلال کے تناسخ مانتے ہے دمادم مست قلندر گانے میں بھی جھولےلال کا ذکر کیا گیا ہے.

پاکستان جنوبی ایشیا ہی نہیں پوری دنیا میں اسلامی چرمپتھييو کی پناہ گاہ بن گیا ہے. دنیا میں کہیں بھی حملے ہوں اس کا کوئی نہ کوئی تار پاکستان سے ضرور رابطہ ہے. خود پاکستان بھی اپنے اس اگايے ہوئے زہر کے نشانے پر ہیں . آج پاکستانی کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ یہاں ایک دھماکے سے دوسرے دھماکے کے درمیان مدت کو امن کہا جاتا ہے اور اس مدت کا دور دنوں دن کم ہوتا جا رہا ہے. وہاں گزشتہ چند سالوں سے مسلسل حملے ہو رہے ہیں . 16 دسمبر 2014 کو پشاور میں فوج کے اسکول کے حملے کے بعد شاید یہ سب سے بڑا حملہ ہے جس نے وہاں کے اقتدار تنصیبات کو جھكجھورا ہے. ویسے اس حملے کی ذمہ داری اسلامی اسٹیٹ نے لی ہے لیکن اس کا تعلق وہاں کی ان اندرونی پالیسیوں سے ہے جو دیتی ہے. انہی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں اسلامی انتہا پسندی اور اقلیتوں پر حملے مسلسل بڑھے ہیں .

پاکستان سرکاری طور پر اسلامی ریاست ہے جس کی بنیاد ہی مذہب کے نام پر ڈالی گئی تھی ایسے میں انجام تو یہی ہونا تھا. ضیاء الحق کے دور حکومت میں پاکستان کا اسلامی کیا گیا جس کے بعد وہاں بڑے پیمانے پر اکثریت سنی مسلمانوں کے دماغوں کو تبدیل کیا جا چکا ہے. آج وہاں سعودی عرب ماركا اسلام کا اثر بہت گہرا ہو چکا ہے. بتایا جاتا ہے کہ موجودہ دورہ میں پاکستان میں 20 سے زیادہ مسلح اسلامی شدت پسند گروپ سرگرم ہیں . ان سب کے باوجود پاکستان ان واقعات کے لئے آپ گریبان میں جھانکنے کے بجائے پڑوسیوں کو ذمہ دار بتاتا آیا ہے.

ادھر نئے فوجی سربراہ جنرل باجوہ کے آنے کے بعد سے کچھ اچھی خبریں آئیں ، وہ آپ افسروں کو بھارت کی جمہوریت کی کامیابی پر کتابیں پڑھنے کا مشورہ دے رہے ہیں ، حافظ سعید کو پہلے نظربند کیا گیا پھر اس انسداد دہشت گردی قانون کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے، وہاں کی قومی اسمبلی نے ہندو میرج ایکٹ بل منظور کر دیا ہے ساتھ ہی سےهوان شریف پر حملے کے بعد بڑے پیمانے پر کارروائی کی خبریں آ رہی ہیں .

لیکن اتنا کافی نہیں ہوگا آج پاکستان ان لوگوں کے لئے جیتا جاگتا سبق بن چکا ہے اور سیاست و مذہب کے مجموعی کے ترجمان ہیں . اگر پاکستان کو ان تمام سے باہر نکلنا ہے تو اسے غیر معمولی قدم اٹھانے ہوں گے، جیسے دہشت گردوں کو شہ دینا بند کرنا، جمہوریت کے راستے پر چلنا اور گڈ و بیڈ جہادیوں کے تھیوری کو گندگی کے ڈھیر میں پھےكنا گے. ظاہر ہے ایسا کرنے کے لئے اس کے اپنے اصل کردار میں تبدیلی لے آئے گا.

ان تینوں ملکوں میں آج بھی کچھ چنندہ مقام بچے ہوئے ہیں . یہاں آکر لوگ 47 کے اشتراک، ہجرت اور فسادات کو بھول جاتے ہیں . صوفی سنتوں کے در اس دنیا کی پناہ گاہ ہے جو کبھی پورے جنوبی ایشیا میں پھیلی ہوئی تھی لیکن آہستہ آہستہ ان چنندہ شرح تک محدود ہو گئی ہے. قلندر کی درگار بھی پاکستان کے ان چند مكامات میں سے ہیں جس کی دالان پر ہر مذہب، ذات کے لوگ ایک ساتھ آ سکتے ہیں . یہاں اكيدو کا فرق مٹ جاتا ہے اور بالکل انسانیت حاوی ہو جاتی ہے. اس نپھرتي جہادیوں کے لئے ان صوفی درگاہوں پر خطرناک جگہ اور کیا ہو سکتی ہے جہاں آکر کسی بھی انسان کے قومی، مذہبی نظریہ یا عقیدے کو کوئی مختلف سناكھت قائم نہیں رہ پاتی ہو اور صدیاں گزر جانے کے باوجود جن کے محبت پیگام اتنے طاقتور ہوں جو لوگوں کو ایک ساتھ جھومنے پر مجبور کر دیں .

لال شہباز قلندر کے درگاہ پر حملہ صرف ایک صوفی کے مزار پر حملہ نہیں ہے یہ جنوبی ایشیا کے اس سوچ، ملی جلی ثقافت اور طرز عمل پر حملہ ہے جو عقیدے کے نام دلوں کے اشتراک کے خلاف ہے.

فی الحال اندھیرا ہے لیکن رات ہمیشہ تو نہیں رہتی ہے. محبت کے پیغام کبھی ایکسپائر نہیں ہوتے هےلال قلندر کے مزار پر پڑی لال شیٹس نے خون کے سرخ چھيٹو کو ذجب کر لئے ہیں ، وہاں دمہ دم مست قلندر کے نككارے پھر بجنے لگے ہیں ، یہی جنوبی ایشیا کی شناخت ہے جس تاثر سے پاکستان چاہ کر بھی نہیں بچ سکتا. بابا لال شہباز قلندر نے کہا تھا ” ‘تو وہ قاتل / کہ تماشے کے لئے میرا خون چلاتا ہے / اور میں وہ بسمل ہوں کہ خونخوار خنجر کے نیچے ركس کرتا ہوں ". بھلا موهبت کا بھی کبھی قتل ہوا ہے؟ خطرناک خنجر کے نیچے بھی محبت کا ركس جاری رہے گا، چراغ جل رہیں گے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close