​سچائی کہاں ملتی ہے؟

شیخ خالد زاہد

پاکستان کے روزانہ کی بنیاد پر خراب ہوتے ہوئے حالات عام آدمی کی زندگی کو اجیرن کئے دے رہے ہیں، اور ان حالات کا سبب بننے والے اور زیادہ عیش عشرت کی زندگی گزارتے دیکھائی دے رہے ہیں۔ خیبر سے لے کر کراچی تک ملک کی سیاسی جماعتیں ملک کا تماشہ بنائے ہوئے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت یہ تو نہیں کہتی سنائی دیتی کہ وہ پارسائی کی سیاست کر رہے ہیں مگر دوسری تمام سیاسی جماعتوں کو بھرپور تنقید کا نشانہ بناتے سنائی دیتے ہیں۔ اس بات کی تفریق کرنا کہ ہمارے ملک میں بننے والی کون سی سیاسی جماعت نظریاتی ہے یا پھر مفاداتی۔ مگر تشکیل پا جاتی ہے الیکشن کمیشن کی شرائط بھی پوری ہوجاتی ہیں اور سیاسی منشور بھی پیش کردیتی ہیں پھر اپنی جماعت سے وابسطہ انتخابی نشان کیساتھ ملک گیر دیواریں اور کھمبے رنگین کردیتے ہیں۔

 اسطرح سیاسی جماعتوں کا تشکیل پانا ایک اچھی بات ہے، اس سے اچھی بات یہ ہے کہ بشمول حکومت وقت کوئی بھی اس تشکیل نو میں رکاوٹ یا رخنا بھی نہیں دالتا۔ مگر ایک سیاسی جماعت کی داغ بیل ڈالنا شائد پاکستان میں اتنا مشکل نہیں ہے جتنا کہ اس جماعت کو کالی بھیڑوں اور دوسرے ہرکاروں سے بچانا مشکل کام ہے۔ اسکی وجہ ہے کہ پاکستان میں بننے والی سیاسی جماعتین پبلک لمیٹڈ ہونے کی بجائے ذاتی مفادات کے حصول کیلئے جدوجہد شروع کردیتی ہیں۔ پاکستان کا یہ بدترین المیہ ہے یہاں نامعلوم نظام کام کررہے ہیں کیونکہ معلوم رکھنے والے اور کرنے والے اپنی اپنی جیبیں بھرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ جو عوام اپنے قیمتی ووٹوں کو بے وقعت سمجھتے ہیں اور ایسے بے وقعت لوگوں کو اپنا نمائندہ بنا کر اپنی ہی کھال اتارنے کا لائسنس دے دیتی ہے۔ پاکستان کی اتنی انتظامی مشکلات کے باوجودپاکستانی دنیا میں ہونے والے مختلف مقابلوں میں کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں جوکہ یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا پاکستان کوغیر مرئی طاقتیں چلا رہی ہیں جنہیں ہم نامعلوم کہہ کر پکارتے سنائی دیتے ہیں۔

اگر آپ بیماریوں کا باقاعدہ علاج نہیں کروائینگے اور اینٹی بایوٹک پر گزارا کرینگے تو بیماریاں انسان کو کھوکھلا کردیتی ہیں جب انکا نا تو کوئی پرسان حال ہو یا پھر نا ہی انکے لئے کوئی سد باب کئے جائیں۔ ایسے ہی ناسور بنتا ہے جسے ہم سب کینسر کے نام سے جانتے ہیں۔ کینسر لاعلاج ہوا کرتا ہے۔ ہم جھوٹ بہت بولتے ہیں اور بے وجہ ہی بولتے ہیں۔ ہمارے ملک کے ایک مشہور و معروف سیاستدان جنہیں ہم پاکستانی خصوصی طور پر جب یاد کرتے ہیں جب موبائل فون سارا سارا دن کیلئے بند کردئیے جاتے ہیں کیونکہ یہ اپنے وقت کے وزیر داخلہ رحمن ملک صاحب نے حفاظت کیلئے کئے اقدامات میں سے ایک انتہائی اہم قدم تھا، انکے بارے میں انکی جماعت کے ایک انتہائی اہم رکن نے یہ کہا تھا کہ اگر آپ ان سے پوچھیں کے کیا کھا رہے ہیں تو یہ اگر سیب کھا رہے ہونگے تو آپکو امرود یا کچھ اور بتائینگے۔

بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی یا پھر مذاق کی نظر نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ بھی بہت سارے قومی المیوں میں سے ایک جبکہ ہم سب بہت اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ بچپن سے ہم پر اس بات کیلئے زور دیا جاتا ہے کہ ہمیشہ سچ بولنا ہے جھوٹ نہیں بولنا۔ جھوٹ بولنے والے کہ رزق سے برکت اٹھا لی جاتی ہے، جھوٹ بول کر مال تو بک جاتا ہے مگر خیر و برکت ختم ہوجاتی ہے، اسطرح کی باتیں اور اس سے بھی اچھی اچھی باتیں ہم ایک دوسرے کو سمجھانے کیلئے سماجی میڈیا پر لکھتے رہتے ہیں، دیواروں پر جلی حروف میں لکھی ہوتی ہیں، یہ ایسی باتیں ہیں کہ اٹھتے بیٹھتے ایک دوسرے کے بارے میں کر رہے ہوتے ہیں کہ دیکھو اسے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔ اب آپ ایک چھوٹی سی مثال لے لیجئے آپ ہوتے کہیں ہیں اور آپ سے فون پر پوچھا جاتا ہے کہ کہاں ہو یا کہاں پوہنچے تو شائد ہی آپ نے کبھی بلکل صحیح جگہ بتائی ہو یا تو دواسٹاپ آگے بتائینگے یا پھر ایک اسٹا پ پیچھے بتائینگے (یعنی جھوٹ)، ایسے بے تحاشہ جھوٹ ہم روزانہ کی بنیادوں پر اپنے نامہ اعمال میں رقم کرواتے رہتے ہیں۔

آپ کہیں بھی چلے جائیں کسی ادارے میں کسی ہسپتال میں کسی تفریح گاہ میں غرض یہ کہ تعلیمی اداروں میں جھوٹ ہنستا مسکراتا آپکا استقبال کرتا دیکھائی دے گا۔ سچائی کی تلاش ہم سب کر رہے ہیں مگر سچ بول نہیں رہے۔ جھوٹ ہماری زندگیوں میں سچائی کی طرح سرائیت کر چکا ہے اور ہم سچ کو جھوٹ سے تبدیل کرچکے ہیں، اتنے جھوٹ سے آلودہ ماحول میں اگر کوئی سچ بھی بولتا ہے تو دل یقین ہی نہیں کرتایعنی آج جو کوئی بھی مخلص بنا ہو اہے تو وہ مفلسی کا بھی شکار ہوسکتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے جھوٹ معاشرے کی تباہی کا ایک اہم جز ہیں، ان جھوٹوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

آج ملک میں سچ اور جھوٹ کا ایک بہت بڑا معرکہ چل رہا ہے۔ حاکم وقت کو عدل نے کٹہرے میں لا تو کھڑا کیا ہے مگر حاکم وقت اپنی حاکمیت کے زعم میں عدل کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہیں۔ حاکم وقت یہ بھولے بیٹھے ہیں کہ ایک حاکمیت اعلی بھی ہے جہاں صرف سچ ہی چلتا ہے۔ شائد ہم پاکستانیوں کی تنزلی اور روز بروز گرتی ہوئی حالت کی ذمہ داری بھی اسی سچ سے دوری ہے اور ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کیلئے جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے پیارے نبی ﷺ سے محبت میں زمین و آسمان تو ایک کرنے کیلئے تیار ہیں مگر ایک بہت ہی چھوٹی سی سنت پر عمل نہیں ہوتا، آپ ﷺ نے ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین کی ہے مگر ہم سب ایک دوسرے سے یہی پوچھتے پھر رہے ہیں کہ سچائی کہاں ملتی ہے؟​



⋆ شیخ خالد زاہد

شیخ خالد زاہد

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

الفاظ جو دلخراش ہوسکتے ہیں!

 آج بھی جو کچھ ہو رہا ہے جس قسم کے اقدامات کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جتنی بھی بھاگ دوڑ کی جارہی ہے یہ سب کے سب واجبی ہیں اور صرف دیکھاوے کیلئے ہیں۔ سدِ باب شائد ہمارے بس میں ہوتے ہوئے بھی کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔  تعلیمی اصلاحات اور دیگر اصلاحات سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا، فرق صرف اور صرف اپنا قبلہ درست کرنے سے ہوسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے