سیاستنقطہ نظرہندوستان

ترقی کا آغاز لاء اینڈ آڈر کے نفاذ سے ہے!

ہندوستانی مسلمانوں  کی اب تک کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ ملکی سطح پر مسلمانوں  کی کوئی نمایاں  لیڈر شپ نہیں  ہے۔کہا جاتا ہے کہ تقسیم ہند کے وقت مسلمانوں  کا سوچنے سمجھنے والا دماغ ہجرت کر گیا۔برخلاف اس کے ہم سمجھتے ہیں  کہ وطن عزیز میں  آج بھی مسلمانوں  کے لیڈرس اور لیڈر شپ موجود ہے۔ہاں  یہ الگ بات ہے کہ یہ تمام لیڈر یا تو مسلکی بنیادوں  پر منقسم ہیں  یا پھر مختلف سیاسی پارٹیوں  سے وابستگی کے نتیجہ میں  خود اپنی شناخت سے محروم ہیں۔ نتیجہ میں  ہر پانچ سال میں  مرکزی حکومت کی تشکیل کے وقت مسلمانوں  کے کامن مسائل پر نہ تو بات کی جاتی ہے،نہ ان کو پورے کیے جانے پر توجہ دلائی جاتی ہے،نہ سیاست دانوں  کا اس پس منظر میں  احتساب لیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی بھی سطح پر ان کا وزن محسوس کیا جاتا ہے۔پھر یہی معاملہ ہر اُس وقت بھی دہرایا جاتا ہے جبکہ راستوں  کے انتخابات عمل میں  آتے ہیں۔ اس سب کے باوجود اس کے معنی یہ بھی نہیں  ہیں  کہ ہندوستانی مسلمان اس پہلو سے غور و فکر نہیں  کرتے، سعی و جہد نہیں  کرتے،منصوبہ بندی اور پروگرام نہیں  بناتے۔ان تمام سرگرمیوں  کے باوجود اصل سوال یہی ہے کہ وہ کسی بھی سطح پر کامیاب ہوتے نظر کیوں  نہیں  آتے ہیں ؟

   ہندوستانی مسلمان آزادی کے بعد سے مختلف مسائل سے دو چار رہے ہیں۔ جن میں  سب سے بڑا مسئلہ ان کے تحفظ کا ہے۔یہ تحفظ ان کے خاندانوں  کا بھی ہے، ان کے کاروباراورمعاش کا بھی ہے،ان کے قائم کردہ تعلیمی اداروں  کا بھی ہے،ان کی عزت و آبرو اور عفت و عصمت کا بھی ہے،اور یہ تحفظ ان کی شریعت، پرسنل لاء اور معاشرتی و تہذیبی معاملات سے بھی تعلق رکھتا ہے۔وہیں  یہ بات بھی حقیقت ہے کہ آغاز ہی سے ہندوستانی مسلمان چھوٹے و بڑے فسادات کا شکار ہوئے ہیں، معاشرتی سطح پر ان کی حیثیت کو کم کرنے کی منظم کوششیں  کی گئیں  ہیں، تعلیمی میدان میں  وہ حد درجہ پست رہے ہیں یا انہیں  رکھا گیا ہے،معاشی میدان میں  ان کی خود کی شناخت نہیں  ہے، صحت اور صفائی ستھرائی ان کے خاندانوں  اور محلوں  سے کوسوں  دور بھاگتی ہے۔ نتیجہ میں  وہ ایک ایسی کسمپرسی کی کیفیت میں  مبتلا ہوگئے،جہاں  سوچنے سمجھنے، غور و فکر کرنے، منصوبہ بندی اورترقی کے محاذ پر آگے بڑھنے، کے مواقع کم سے کمتر ہوتے چلے گئے۔بعد کے دنوں  میں   ملکی و بین الاقوامی سطح پر جب ان پر دہشت گردی کا ٹھپہ لگادیا گیا، تو رہی سہی کسر بھی ختم ہو گئی۔اب صورتحال یہ ہے کہ ان کی فکر و نظر حد درجہ محدود ہو گئی۔اپنی ذات کے علاوہ نہ انہیں  کچھ سوجھتا ہے اور نہ ہی وہ اس کے لیے آمادہ نظر آتے ہیں۔ ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ جس حالت میں  بھی اس کو زندگی میسر ہے وہ اسی میں  جیتا رہے،اگر کچھ امکانات ہوں  تومادی بنیادوں  پر چند فوائد حاصل کر لیے جائیں۔ اور اگر اس مادی ترقی کے حصول میں  بحیثیت مسلمان اور بحیثیت اسلام پر عمل آوری کرنے والے، کچھ لینے دینے، کچھ کم زیادہ کرنے کی نوبت آئے تو اسے قبول کرلینا چاہیے۔نہیں  تو جو آج حاصل ہے وہ بھی جاتا رہے گا، لہذا عافیت اسی میں  ہے کہ "مصالحت "سے کام لیا جائے۔

   درج بالا تجزیہ کی روشنی میں  جب ہم ہندوستانی مسلمانوں  کو دیکھتے ہیں  یا پھر اُن ترقی یافتہ قوموں  اور گروہوں  کو دیکھتے ہیں،  جو ترقی کے میدان میں  کافی آگے نکل گئیں  یا آگے بڑھنے میں  مصروف عمل ہیں، تو اِن شکست خوردہ مسلمانوں  میں  اور اُن ترقی پذیر قوموں  میں  جو سب سے بنیادی نکتہ نمایاں  ہوتاہے وہ بلا خو ف و خطر دوسروں  کے لیے کچھ کرگزرنے کا جذبہ ہے،اور دوسروں  سے بھی پہلے خود اپنے لیے۔کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ جو شخص یا قوم خود اپنی فکر نہ کرسکے وہ کیونکر دوسروں  کے لیے سود مند ثابت ہوسکتی ہے؟لہذا موجود ہ دور میں  جو سب سے کارآمد پالیسی مسلمانوں  کو مختلف میدان سے دور کرنے کے لیے اختیار کی گئی، وہ یہی خوف کی پالیسی ہے جس میں  مبتلا کرنے کے بعد نہ شخص واحد میں  اور نہ ہی بحیثیت قوم، مسلمان، مسائل سے نبٹنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ہر طرح کے خوف سے بالاتر ہوکر زندگی گزاری جائے،نہیں  تو عین ممکن ہے آپ کا گھر ہی آپ کی قبر بن جائے۔نیز اس خوف سے نکلنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ آپ بحیثیت مسلمان انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے برپا کیے گئے ہیں۔ اگر آپ خوف کی حالت میں  رہیں  گے تو نہ اپنے لیے اور نہ ہی اہل ملک کے لیے فلاح و بہود کا کام انجام دے سکتے ہیں۔ اور آخری بات یہ ہے کہ خدائے واحد جس کے آپ پیرو کار ہیں،  اس کی قدرو منزلت سے واقف ہوا جائے۔ برخلاف اس کے خوف کی حالت یہی ثابت کرتی ہے کہ آپ زبان سے تو خدا کو مانتے ہیں،  اس کی کبریائی کی گردان کرتے ہیں ، اس کے باوجود اُس کی عظمت،طاقت،اور کبرائی آپ کے قلب و ذہن میں  پراگندہ ہوچکی ہے۔لہذاپراگندگی کو صاف کیا جائے،اور شعور و تحت شعور میں  اٹھنے والے ہر اس وسوسہ سے پاک ہوا جائے تو دراصل شیطانی وسوسہ ہے۔اور یہ شیطانی سواوس اس وقت دور ہوں  گے جبکہ ہمارا تعلق خدا سے اسی طرح استوار ہوگا، جیسا کہ مطلوب ہے۔مطلوب کیا ہے؟یہ علم کا ابتدائی مرحلہ ہے اور اختتام یہ ہے کہ آفاقی علم کی بنا پر شب و روز گزارتے ہوئے،دنیا سے کوچ کیا جائے۔عین ممکن ہے کہ اس دوران ہمارے دیگر مسائل بھی بتدریج حل ہوتے چلے جائیں۔

 فی الوقت ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں  صوبائی الیکشن ہونے والے ہیں، اور نئی حکومت جلد ہی تشکیل دی جانے والی ہے۔اس موقع پر ریاست میں  سیاسی محاظ پر تین دھڑے پائے جاتے ہیں۔  ایک ہارڈ کور، ایک سافٹ کور اور ایک بیکورڈ اور مظالم کے شکار گروہ و اقوام۔دوسرے لفظوں  میں  بی جے پی،سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی،  ان تین پارٹیوں  کے درمیان ہی اصل الیکشن ہونا ہے۔دوران الیکشن ووٹ کی تقسیم ایک ایسا عمل ہے کہ جو پارٹی دوسرے کا ووٹ تقسیم کرنے میں  کامیاب ہو جائے گی،درحقیقت وہی کامیاب ٹھہر ے گی۔اس سے قبل کہ یہ منصوبہ ایک بارپھردہرایا  دہرایا جائے گاہمیں  ہوش کے ناخن لینے چاہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ریاست میں  مسلمان کنگ میکر کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کا جھکائو جس پارٹی کی جانب ہو جائے، وہ کامیابی سے ہمکنار ہوجاتی ہے۔ لیکن درمیان ہی میں  ووٹوں  کی تقسیم کی پالیسی اگر کارگر ثابت ہوائے، تویہی کنگ میکرکہلائے جانے والے مسلمان، حاشیہ پر آنے میں  دیر نہیں  لگاتے۔بی جے پی کا ووٹ بینک ابتدا ہی سے مضبوط رہا ہے لیکن موجودہ دور میں  مرکزی سطح پر موجود قابل اورصلاحیت لیڈر شپ نے، بی جے پی کے ووٹ بینک کو مزید مضبوط کیا ہے۔ دوسری جانب گزشتہ دنوں  سماج وادی پارٹی کا خاندانی جھگڑا پوری طرح کھل کر سامنے آگیا ہے،پارٹی تقسیم ہو چکی تھی،اس کے باوجود، نمک حلالی کا فریضہ انجام دیتے ہوئے،ایک صاحب نے فی الوقت اسے تقسیم ہونے اور نئی پارٹی کے منظر عام پر آنے سے بچا لیا ہے۔لیکن ان کی یہ نمک حلالی ریاست میں  مسلمانوں  کو حد درجہ کنفیوژن میں  مبتلا کرنے میں  بہت کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔پس اسی موقع پر غور و فکرکرتے ہوئے اورحالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے، قبل از وقت لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ مسلمانوں  کا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی اور ملکی محاذ پر”خوف سے نجات "کا ہے۔ لہذا مسلمانوں  کو اسی پہلو سے غور و فکر بھی کرنا چاہیے۔کہ آیا وہ کون سی حکومت ہو سکتی ہے،  جو انہیں  کسی حد تک خوف سے نجات دلا سکے۔خوف سے نجات کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی اور عامتہ الناس کی فلاح و  بہود کے لیے کچھ کر گزرنے کا حوصلہ رکھتا ہے، غور و فکرکے مواقع میسر آتے ہیں ، منصوبہ اور پروگرام بنانے اور ان کے نفاذ کے مواقع فراہم ہوتے ہیں۔ لہذا یہ وہ سب سے اہم پہلو ہے جسے پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے افراد کی اخلاقی سطح پر حمایت کی جا سکتی ہے جو کم از کم لاء اینڈ آڈر کو مضبوطی سے نافذکرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، اور جو ایسا نہ کرسکیں،  انہیں  نظر انداز کرنا چاہیے!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close