نقطہ نظر

اس نے ہمیں پے قتل کا الزام رکھ دیا!  

 مقتول پر قتل کا الزام رکھ دینا ،ادب میں  اور خاص طور سے عشقیہ شاعری میں  پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے ،حالیہ شاعری میں اسے انصاف کی خراب صورت حال کی نشاندہی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پریکٹیکلی ایسا نہیں  ہوتا ،اور جہاں  ہوتا ہے سمجھئے اس سوسائٹی اور سسٹم میں  ظلم و جبر حاوی اور انصاف غلام ہوگیا ہے اور خاص طور سے یہ کام عدلیہ کر نے لگ جائے تو یہ انتہائی تشویشنا ک صورت حال ہے۔ کیونکہ کسی بھی سوسائٹی میں  انصاف اور قانون کی غیر جانبدار عمل درآمد کا دارومدار عدلیہ پر ہی ہوتا ہے ۔ خاص طور سے ایسے ممالک میں جو جمہوری ہوں  یا جہاں  کی سوسائٹی مختلف قومیتوں  ،مذہبی اور لسانی گروہوں پر مشتمل ہو اور ان میں  بھی اکثریت اور اقلیت کا واضح فرق ہواور یہ صورت حال نہ صرف مقتول و مظلومین کیلئے خطرناک ہے بلکہ پوری سوسائٹی کے لئے بھی ۔کیونکہ ایسی سوسائٹی میں  عدلیہ ہی سوسائٹی کے ان سارے دھڑوں  کے حقوق کی ضامن ہوتی ہیں۔ ایسی سوسائٹی میں  سیاستداں  یا سماج اور مذہب کے خود ساختہ ٹھیکیدار عموماً اپنی سماجی اور  مذہبی دھاک بٹھانے یا سیاسی فوائد کے حصول کے لیے اکثر مظلومین اور مقتولین کو ہی ظلم اور قتل کا باعث قرار دیتے ہیں  یا مظلومین پر الزامات لگا کر اپنے یا اپنے حواریوں  کے ظلم کو جواز فراہم کر نے کی کوشش کرتے ہیں  ،لیکن اگر عدلیہ ایسا ہی کر نے لگ جائے تو یہ عدلیہ کی کم زوری اور غلامی کی علامت ہے جو جمہورت کے لئے اپ شگون ہے۔

وطن عزیز میں  اس کی شروعات ہو چکی ہے ابھی 12، جنوری کو بامبے ہائی کورٹ کی فاضل جسٹس محترمہ مریدولا بھٹکر(MRIDULA BHATKAR)نے اپنے ایک فیصلہ میں  تقریباً یہی کیا انہوں  نے قتل کے ملزمین کو ضمانت کا مستحق قرار دینے کے لئے مقتول کا ’فالٹ ‘  اجاگر کیاکہ اس کا تعلق’دوسرے مذہب ‘ سے تھا یعنی ملزمین کے مذہب سے نہیں  تھا ۔ یہ معاملہ دراصل سماجی منافرت اورخاص طور سے مسلم مخالف شر انگیزی کی عملی صورت تھا۔ہوا یہ تھا کہ کسی نے شیواجی مہاراج اوربال ٹھاکرے کی تصاویر کے ساتھ تضحیک آمیز چھیڑ چھاڑ کر کے انہیں  فیس بک پر پوسٹ کیا تھا جس کی وجہ سے حالات کشیدہ ہو گئے تھے، اسی کے چلتے پونے میں ایک مسلم نوجوان انجینئر کو تقریباً 15، افراد نے ہاکی اسٹک اور کرکٹ بیٹ وغیرہ سے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا تھا۔ اس کے ساتھی کا کہنا ہے کہ انجینئر محسن صادق شیخ کو صرف اس لیے ہلاک کیا گیا کہ اس کے داڑھی تھی اور وہ اسلامی ٹوپی پہنے ہوئے تھا ۔یعنی اسے صرف اسلیے قتل کردیا گیا کہ وہ وضع قطع کے اعتبار سے بھی مسلمان تھا۔ اور اب جج محترمہ نے بھی مقتول محسن شیخ کے مسلم ہونے کی’غلطی ‘کواس کے ملزمین کی ضمانت حق میں  مثبت فیکٹر قرار دیتے ہوئے انہیں  ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

محترمہ جج نے اپنے فیصلے میں  لکھا ہے کہ ’’عرض گزار /ملزمین ،بے گناہ مقتول محسن کے خلاف کوئی دوسرا محرک جیسے کہ ذاتی دشمنی نہیں  تھا ، مقتول کی غلطی(  FAULT )صرف یہ تھی کہ وہ دوسرے  مذہب سے تعلق رکھتا تھا ،میں  سمجھتی ہوں  کہ یہ فیکٹر عرض گزاروں / ملزمین کے حق میں  ہے ، اس کے علاوہ عرض گزار/ ملزمین کا مجرمانہ ریکارڈ نہیں  ہے ،ایسا لگتا ہے کہ مذہب کے نام پر یہ اکسائے گئے اور انہیں  قتل کردیا۔‘‘ حالانکہ کورٹ نے اپنے اس فیصلے میں  قبول کیا کہ ہے کہ عرض گزار /ملزمین حملے یا قتل کے وقت جائے واردات پر موجود تھے ۔ ضمانت ہر ملزم کا حق ہے۔ لیکن اس کے لئے بھی قانونی اصول موجود ہیں  اور انہی کے مطابق ضمانت دی جاتی ہے۔ یہاں اس معاملہ میں  اگر کورٹ اپنے اس فیصلہ میں  انہی قانونی اصول و ضوابط کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں  ضمانت دے دیتی تو کوئی بات نہیں  تھی۔

کورٹ کا فیصلہ قابل احترام ہے ہم کوئی قانون داں  نہیں  ہیں  کہ عدلیہ کے فیصلے پر تبصرہ کریں  ،لیکن معزز عدالت کے اس فیصلے سے ذہن میں  کچھ سوالات ابھرے ہیں  جن میں  سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس معاملہ میں  مقتول محسن شیخ کے مذہب کو بیچ میں  لانے کا کیا مطلب؟کیا کورٹ یہ چاہتی ہے کہ مذہب کے نام پر ہوئے جرائم میں  مظلومین کو بھی شریک جرم مانا جائے؟اس معاملہ کا مظلوم مقتول محسن شیخ مسلمان تھا اور ویسے بھی اس طرح کے’ ہیٹ کرائم‘ عموماً مسلمانوں  کے خلاف ہی ہوتے ہیں  تو کیا مسلمانوں  کا مسلمان ہونا ہی ان جرائم کے لئے ذمہ دار ہے؟ اور اگر صاف لفظوں  میں  کہا جائے تو کیا عدالت کے اس فیصلہ کا مطلب یہ ہے کہ اب عدلیہ کی نظر میں  بھی ملک میں  مسلمان ہونا غلطی ہے جرم ہے؟ ایک اور اہم سوال کہ اس فیصلہ میں  مقتول محسن شیخ کا فالٹ اجاگر کر نے کی اصل وجہ کیا ہے؟ اس کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ آیا ایسا محترم جج صاحبہ کے بر جستہ احساسات کی پر خلوص ترجمانی ہے جو ان کی نیک نیتی پر مبنی ہے یا اتفاقاً مسلمانوں  کے تئیں  تعصب ان کی زبان پر آگیا؟ اسی طرح کورٹ نے اپنے اس فیصلہ میں  یہ بھی لکھا ہے کہ انہوں ( ملزمین) نے واردات سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی ہندو راشٹر سینا کی ایک میٹنگ اٹینڈ کی تھی جس میں  اس تنظیم کے سربراہ اور اس معاملہ کے ایک ملزم (Co-Accused  ) دھننجئے دیسائی نے ان کے مذہبی جذبات بھڑکائے اور انہیں  اکسایا تھا ۔اور اس کے علاوہ مقتول محسن سے ان کی کوئی دشمنی نہیں  تھی۔تو کیا محض مذہب کے نام پر اور کسی ذاتی دشمنی کے بغیر کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کو قتل کردینا قابل رعایت ہے ؟ کیا کسی مقرر کی اشتعال انگیز تقریر سے مذہبی اور جذباتی طور پر اکساہٹ کی وجہ سے کسی بے گناہ اور غیر متعلق شخص کو قتل کردینا ذاتی دشمنی کے باعث ایسا کر نے کی بہ نسبت کم گناہ ہے کہ جس پر ملزمین کو ضمانت رعایت دی جانی چاہئے؟ اسی طرح کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ ملزمین کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں  ہے ،تو کیا یہ بات اس کی گارنٹی ہو سکتی ہے کہ خاص طور سے اس ہیٹ کرائم کے ملزمین کے جذبات دوبارہ کسی کی ایسی ہی اشتعال انگیز تقریر سے نہیں  بہکیں  گے ؟ یہ سوال انتہائی تشویشناک ہیں  اور ایسی صورت میں  جب کہ یہ عدالت کے حکم پر اٹھے ہوں ۔اور ان سوالات سے جو خدشات سر ابھار رہے ہیں  وہ نہ صرف مسلمانوں  کے لئے بلکہ پورے ملک کے لئے باعث تشویش ہیں  اور ملک کے تمام انصاف پسند شہریوں  خاص طور سے مسلمانوں  کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ ان سوالات کے جواب حاصل کر نے کے لئے اور معزز عدالت کے فاضل و محترم جج کے مذکورہ فیصلے کی وضاحت کے لئے قانونی چارہ جوئی کریں ۔

اس معاملے کے تقریباً سبھی ملزمین ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں  سوائے اس تنظیم کے سرغنہ کے جس کی ضمانت کی درخواست پچھلے سال اسی بامبے ہائی کورٹ کی فاضل جسٹس محترمہ سادھنا جادھو نے نہ صرف مسترد کرتے ہوئے کہا تھاکہ ایسے لوگ کو عوام کی غربت اور بیروزگاری کا فائدہ اٹھاکر ان کے مذہبی جذبات بھڑکا کر سوسائٹی میں  انتشار پیدا کرتے ہیں اور یہ بات ان لوگوں  کو ضمانت نہ دینے کے لئے کافی ہے ۔اسی طرح حالیہ معاملہ میں  کورٹ نے اسی فیصلے کی بنیاد پر مذہبی جذبات مشتعل کر نے اور کروانے والے ملزم کو قتل کا اصل محرک قبول کیا ہے ۔اب دیکھنا ہے اس ملزم کی ضمانت کی درخواست پر کورٹ کیا اسٹینڈ لیتی ہے ۔ اور اس میں  کوئی شک بھی نہیں  کہ اس طرح کے ہیٹ کرائم میں  اشتعال انگیزی کر کے لوگوں  کو جرم پر بھڑکانے والے لوگ ہی اصل ذمہ دار ہوتے ہیں  اور انہیں  تو کیس فیصل ہونے تک ضمانت بھی نہیں  ملنی چاہئے لیکن ہوتا یہ ہے کہ ایسے ملزمین قانون کے لمبے ہاتھوں  سے بچ جاتے ہیں  اور ان کے ذریعہ ورغلائے ہوئے اذہان جن کی حیثیت معمولی مہروں  سے زیادہ نہیں  ہوتی پکڑے جاتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ نہیں  کہ ان بے وقوف مہروں  کو چھوڑ دینا چاہئے ،انہیں  بھی قانونی طور پر سخت ترین سزا دی جانی چاہئے تا کہ انہیں  کچھ عقل آئے لوگوں  کو بھی اشتعال انگیزی ے بہکنے کے نتائج معلوم ہوں  ۔لیکن انہیں  جرم پر اکسانے والوں  کو اتنی سخت سزا دی جانی چاہئے کہ کوئی اور سر پھرا ایسا کر نے کی نہ سوچے اس معاملہ میں  بامبے ہائی کورٹ کے دونوں  فیصلوں  نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ اس ضمن میں  مزید قانونی کارروائی کر کے اسے یقینی بنانے کی کوشش کی جائے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close