نقطہ نظر

بے حسی کی انتہا

جو رویہ میڈیا نے اپنایا وہی صورت حال سیاسی گلیاروں کی بھی ہے، یوں تو سیاست میں جذبات کی قدرہوتی ہی نہیں، یہاں تو انسانوں کو چھلنے کے سینکڑوں حربے موجود ہوتے ہیں اور معصوم افراد کے جذبات سے کھیلنا ہی کامیابی کی دلیل سمجھا جاتا ہے، ان گلیاروں میں بھی بہار کی عوام کے لئے ہمدردی کے الفاظ نہیں سنائی پڑے۔

مزید پڑھیں >>

ہم سدھرتے کیوں نہیں؟

قریب ایک دہائی سے جب بھی عید قرباں کا موقع آتا ہے اردو اخبارات اور صحافی جاگ پڑتے ہیں اور قوم کو نصیحت کرتے ہیں کہ ’’صرف‘‘ ایک سال کے لئے مسلمان بڑے جانوروں کی قربانی بند کردیں تاکہ حکومت کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو سکے۔ ہم خود بھی اس طرح کے لکھاریوں میں شامل ہیں اور یہ سلسلہ کم و بیش 10؍12 سالوں سے چل رہا ہے۔ مگر صد فی صد مسلمانوں نے آج تک اس کو مان کر نہ دیا۔

مزید پڑھیں >>

فرینڈ شپ ڈے اور ہمارے سیاست داں کی یاری

یوم یاری پر سیا ست داں بھی خوب رجھتے رجھاتے ہیں اور لوگوں کولبھا تے ہیں۔ مگر سیاست کی یاری میں پائداری کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہاں موقع ملتے ہی لوگ یاری کو لات مار اپنی لنگوٹ سمیٹ دوسرے خیمے میں بھاگ لیتے ہیں ۔ کچھ لوگ تو یاری کا دم بھرتے ہوئے بھی مکاری کر جاتے ہیں جیسےنتیش کمار  نے لالو کو دھوکادیا جیسے رام ولاس پاسوان نے سیکولرزم کو دھوکا دیا جیسے، امر سنگھ نے سب کو دھوکادیا ۔ فلمی دنیا کے ستاروں کی یاری بھی ایاری لگتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

بہار کا سیلاب: عبرت وموعظت کے پہلو

سیلاب،زلزلہ ،طوفان اور وبائی امراض وغیرہ اب کوئی نئی بات نہیں  رہی، ان تمام کےتعلق سے سائنس اپنا ایک خاص نقطہ نظر رکھتی ہےاور اپنے معیار و کسوٹی کے مطابق اپنے نقطہ نظر کو درست سمجھتی ہے؛مگر  ان سب سے قطع نظر قدرتی آفات کے وقوع کا ایک اسلامی نقطہ نظر بھی ہے کہ یہ کیوں وقوع پذیر ہوتے ہیں اور ان کے وقوع پذیر ہونے کے بعد ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

مزید پڑھیں >>

فلسفیانہ طرزِ فکر کی ضرورت و اہمیت!

سماجیات، منطق، لٹریچراورعلمِ نفسیات فلسفیانہ طرزِفکر کو آگے بڑھانے میں مدد کرتے ہیں ،جہاں تک ممکن ہو،ہمیں بحث ونقاش کی مجلسوں میں شریک ہونا چاہیے اورہمارا مقصد مباحثے میں جیت حاصل کرنے کی بجاے اپنی صلاحیت ِ فکرکو بڑھانا ہو۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ہم سب فلسفیانہ طرزِ فکر کے حامل ہوتے، تو سال بہ سال ان نیتاؤں کے ذریعے دھوکہ نہ کھاتے۔

مزید پڑھیں >>

کیا وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے؟

انسان کو جیسے اپنی جان سے محبت ہے ، اپنے مال سے محبت ہے اسی طرح اس جگہ سے محبت ہوتی ہے جہاں پیدا ہوتا اور سکونت اختیار کرتا ہے ۔ اس محبت میں شرعا کوئی قباحت نہیں ہے کیونکہ اس محبت کا تعلق فطرت ہے ۔ ہاں یہ فطری محبت ،اللہ اور اس کے رسول  یا ان کے احکام کی محبت پر غالب آجائے تو اس پہ سخت وعید ہے۔

مزید پڑھیں >>

کیا یہی آزادی ہے؟

انگریزوں نے جس بیج کو ملک کے ہندو مسلمانوں کے درمیان بویا تھا ، آج وہ تناور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے، مہاتما گاندھی کو مارنے والے گوڈسے کے پیرو کار ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو مٹانے پر تلے ہیں ،غلط واقعات و روایات من گھڑت باتوں کے ذریعہ نوجوان نسل کے ذہنوں میں نفرت کی آگ بھڑکائ جارہی ہے ، اور انہیں اس بات پر اکسانے کی کوشش کی جاری ہے کہ یہ ملک صرف تمہارا ہے۔

مزید پڑھیں >>

یوم آزادی ایک لمحہ فکریہ

سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اس زور جشن منانا چاہیے یا ناکامی پر سوگ؟ہم کس سے اور کس لئے آزاد ہوئے؟ بظاہر ہماری جو آزادی نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے آزاد ہونے کے بعدخود کو اخلاقیات کی قید سے آزاد کر دیا۔ ہم دین و مذہب کی پابندی کی بجائے اس کی قید سے آزاد ہو گئے اور حدود اللہ کو اعلانیہ توڑنا شروع کر دیا۔ ہم اپنے دین اور صوم و صلوۃ کی پابندی سے بھی آزاد ہو گئے۔

مزید پڑھیں >>

عقل مندی کا مشورہ، لیکن ۔۔!

بی جے پی کی ایک  (ریاستی )حکومت  نے تاریخ میں پہلی بار عوام دوستی اور ماحول دوستی پر مبنی ایک عقل مندی کا مشورہ دیا ہے جس میں مدھیہ پردیش، گجرات مہاراشٹر اور اتر پردیش کی  حکومتوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے لیکن کیا وہ اسے سنیں گی ؟ 

مزید پڑھیں >>