نقطہ نظر

روشن خیالی کا عذاب!

اگر روشن خیالی مولویوں سے چڑھنے ،انہیں برابھلاکہنے اور انکا نئے زمانہ سے ناواقف ہونا ہے تو پھر روشن خیالی کے غبارے کی ہوا نکلتی دکھائ دیتی ہے کیونکہ مذہبی لوگوں سے چڑھ کی ذاتی و سماجی وجہیں ہوسکتی ہیں مگر یہ چڑھ’’ازم‘‘ کا روپ دھارسکتی ہے یہ ممکن نہیں ہے۔روشن خیال ہونا اچھی بات ہے مگر روشن خیالی کا مفہوم مذہب بیزاری اور مولویت دشمنی نہیں ہونا چاہئے ۔

مزید پڑھیں >>

آزادی میرا پیدائشی حق ہے!

ہندو پاک کے تعلقات کو خوشگوار اور بہتر بنانے والوں میں سے دونوں ملکوں میں ایک جانا پہچانا نام ہے مسٹر اوپی شاہ کا جو ’’سنٹر فارپیس اینڈ پروگریس‘‘ کے چیئرمین ہیں ان کے مکان پر گزشتہ روز (7رمضان المبارک) ہر مذہب اور فرقہ کے لوگ دعوت افطار میں مدعو تھے۔ بڑی شخصیتوں میں ہندستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل شنکر چودھری اور مشہور قانون داں اور سماجی کارکن جسٹس گنگولی تھے۔

مزید پڑھیں >>

فیس بُک د ی ہٹی!

اک زمانہ ہوا کرتا تھا جب انسان فیس بک کے بغیر کھاناکھا لیا کرتا تھا، اک زمانہ ہوا کرتا تھا…یعنی ……’’ہوا کرتا تھا‘‘…لیکن موجودہ دور میں انسان کھانے پینے کی چیزوں کے بغیر کچھ دیر تو رہ سکتا ہے لیکن فیس بک جیسی اہم سہولت سے محروم خود کو نامکمل انسان سمجھنے لگتا ہے ،یوں سمجھ لیجئے کہ زندگی جینے کیلئے انسان کا فیس بک سے ناطہ جڑنا لازمی بن گیا ہے ۔

مزید پڑھیں >>

بیت المقدس پر غاصبانہ تسلط پر سلور جوبلی منانے کا کوئی جواز نہیں ہے!

اسرائیل نے بیت المقدس پر جون 1967ء میں غاصبانہ تسلط قائم کیا تھا۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو اس کا یہ تسلط برطانوی اور عالمی سامراج کی سازشوں کے نتیجے میں سنہ 1922ء میں خلافت عثمانیہ کے سقوط کے وقت ہی قائم ہو گیا تھا ۔اس لئے کہ خلافت عثمانیہ کے سقوط کی شکل میں مسلمانوں کی سب سے بڑی اجتماعیت کا شیرازہ بکھرگیا تھا اور اس کے بعد سے آج تک یہ زخم خوردہ ملت کہیں بھی اپنی اجتماعیت قائم نہ کرسکی۔ اسرائیل کا پچاس سالہ تسلط پرسلور جوبلی منانا محض بیت المقدس پر قبضہ کا ہی جشن نہیں ہے بلکہ سقوطِ خلافت عثمانیہ کے زخموں پر نمک پاشی بھی ہے۔ زخموں پر نمک پاشی کی اس کوشش میں وہ ملک یعنی برطانیہ بھی شامل ہے جس نے امت مسلمہ کوخاص طور پر ارض فلسطین کے مسئلہ پر کاری زخم لگانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

قومی اور بین الاقوامی قیام امن کی کوشش!

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ملکی یا بین الاقوامی سطح پر امن کیلئے کوئی مخلصانہ کوشش نہیں کی جارہی ہے ۔جو کچھ ہمیں نظر آرہا ہے وہ محض ڈرامہ ہے ۔ دنیا کے کسی بھی خطہ میں امن کی ایک شرط ہے قیام انصاف ،انصاف قائم کیجئے بدلے میں خود بخود امن کا قیام ہوگا۔لیکن ہر طرف ناانصافی اور ظلم کا دور دورہ اس لئے دنیا میں امن قائم ہونے کی بجائے مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی والا معاملہ ہے ۔

مزید پڑھیں >>

جموں منشیا ت سمگلروں کے لئے ’ٹرانزٹ پوائنٹ‘

منشیات کے خلاف جنگ لڑنے میں جہاں سول سوسائٹی و ہر شہری کا رول اہم ہے وہیں سب سے زیادہ ذمہ داری پولیس پرعائد ہوتی ہے کہ وہ ڈرگ مافیا اور سمگلروں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتے۔ جس طرح کے تشویش کن اعدادوشمار سامنے آرہے ہیں ، ان کے تناظر میں وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ڈرگ ڈی اڈیکشن سینٹرز قائم کر کے نشہ کے عادی بن چکے نوجوانوں کی کونسلنگ کی جائے اور ڈرگ مافیا کاقافیہ حیات تنگ کرنے کے لئے ٹھوس اقدام اٹھائے جائیں ۔

مزید پڑھیں >>

نسل پرستی کابڑھتا رجحان اور اسلامی تعلیمات!

ضرورت ہے کہ ہم پوری کائنات کو اسلامی تعلیمات سے آشنا کرائیں حرمت انسان کے احکامات روشناس کرائیں ،انسان کا مقام و مرتبہ سمجھائیں ،اسلامی تعلیمات اور اسلامی احکات سے کائنات کو روبرو کرائیں ،ذرائع کی کمی نہیں ہے، فیس بک، وہاٹس ایپ، ٹوئیٹر وغیرہ یہ وہ ذرائع جو ہر انسان کی دست رس میں ہیں اور ہر انسان آزاد ہے ،وہ اپنے خیالات اپنے عقائد کا اظہار کرسکتا ہے ،انسانیت کی عزت و حرمت کی داستان سنا سکتا ہے اور کائنات میں بہتی خون کی ندیوں کو روکنے میں معاون ومددگار ہوسکتا ہے اور سینکڑوں انسانوں کی دل جوئی کا باعث ہوسکتا ہے ۔

مزید پڑھیں >>

ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی بصیرت!

دہشت گردی جوں جوں عالمی مسلئہ بنتی جا رہی ہے ویسے ویسے ممالک اپنی اپنی سرحدوں تک محدود ہوتے دیکھائی دے رہے ہیں اور ایسی ہی پالیسیاں مرتب دیتے محسوس کئے جا رہے ہیں ۔ کسی ملک پر قبضہ کرنا اب اتنی آسان بات نہیں ہے اور نا ہی ایسا کرنے کا کوئی سوچ سکتا ہے، اسمیں جہاں معیشت نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے تو دوسری طرف ذرائع ڈھونڈنا ایک بہت بڑا اضافی مسلئہ ہے۔ کسی بھی ملک پر قبضہ کرنے کا سوچ تو سکتا ہے مگر قبضہ کرنے کی غلطی نہیں کرسکتا، ڈرا دھمکا سکتا ہے مگر ختم نہیں کرسکتا۔

مزید پڑھیں >>

سنگھ پریوار کی دعوتِ افطار!

آر ایس ایس کی دو سو سے زائد ذیلی تنظیمیں ہیں جو جارحیت اور بربریت کی علمبردار ہیں ۔ ان میں سے ایک ’مسلم راشٹریہ منچ‘ ہے جو آر ایس ایس کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مسلمانوں کو لبھانے اور رام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس میں مسلمان نما کچھ لوگ بھی کار کرتا (رضاکار) ہیں جو آر ایس ایس، بی جے پی کی ہر پالیسی اور پروگرام کا گن گاتے ہیں اور سنگھ پریوار کی تمام تنظیموں کو غیر فرقہ وارانہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں >>

کینیڈین صدر جسٹن ٹروڈو کی رواداری اور مسلم قوم: ایک تقابلی جائزہ

زمینی حقیقت یہ ہیکہ اگر دیگر اقوام و معاشروں کیساتھ مستقل تصادم کا ماحول ہر محاذ سے ختم کردیا جائے تو یہ سارا مولوی/عربی اسلام اور نوے فیصد علماء، جماعتوں ، اداروں ، مدرسوں ، تحریکوں ، تنظیموں اور جلسوں و جریدوں اور اردو/فارسی/عربی اخباروں وغیرہ سب کا کاروبار اور کام بند ہوجائیگا اور یکلخت سب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائینگے اور کرنے کیلئے کوئی کام ہی باقی نہیں رہیگا۔ اور اگر کھل کر کہدیا جائے تو مولویت کا ایجاد کردہ غیر قرآنی/غیر فطری/غیر انسانی محض "قومی اسلام" یکلخت زمیں بوس ہوجائیگا اور کرنے کیلئے کچھ بچیگا ہی نہیں ۔

مزید پڑھیں >>