نقطہ نظر

کانگریس کے اچھے دنوں کا آغاز

مہاراشٹر کے وزیراعلی کے دورے ناکام ثابت ہوئے۔ تیر کا نشانہ چوک گیا، گھڑی کے کانٹے رک گئے، پتنگ کٹ گئی، "شعلہ بیانی" دھری کی دھری رہ گئی۔ قابل مبارکباد ہیں ناندیڑ کے عوام جنہوں نے اس مرتبہ کانگریس کی حمایت میں ووٹ دیا اور بی جے پی سمیت تمام فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف اپنا متحدہ محاذ تیار کیا۔

مزید پڑھیں >>

ناندیڑکا الیکشن اورہمارے خوش فہم بھائی 

غصہ اس لیے کہ موصوف پچاس، ساٹھ اورسترکی دہائی میں ہیں مگرآن جناب نے اب تک زندگی سے کچھ نہیں سیکھا۔ ممبئی کی زبان میں اگرکہاجائے توکہناپڑے گاکہ یہ لوگ اب تک ’’جھک ‘‘ مارتے رہے اور’’جھک ماری‘‘ کوہی کامیابی سمجھتے رہے ہیں، اورترس اس لیے کہ انہیں اپنےخول سے باہرنکلنے کا موقع نہیں مل سکا۔

مزید پڑھیں >>

ان آنسوئوں میں درد مخفی نہیں تو اور کیا ہے؟

معصوم بچہ جب کبھی اپنے ماں باپ کے ساتھ شرارت کرتا ہے تو اس کے والدین طوطلی زبان ہی کا استعمال کر کے اس کے ساتھ بچے بن جاتے ہیں ، لیکن جب اسی بچے کی آنکھوں سے آنسوئوں کے قیمتی قطرات بہہ جات ہیں تو والدین کے دل نرم اور محبت کی انتہا پار کر کے بچے کو کسی بھی طرح چپ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کی فرمائشیں پوری کرنے کی باتیں کرتے ہیں

مزید پڑھیں >>

گیسو تراشی معاملہ : کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

موجودہ حالات میں بھی ہماری مجموعی ذمہ داری ہے کہ اس صورتحال کا مقابلہ انتہائی حکیمانہ انداز میں کیا جائے۔ اپنی انفرادی اور قومی عصمت و عفت کی حفاظت ہمارا فرض ہے اور ساتھ ساتھ ان ساری کارستانیوں کے پیچھے چھپے ہوئے ہاتھوں کوظاہر کرنے کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہئے۔

مزید پڑھیں >>

آج پھر سرسید کیوں ضروری ہیں؟  

آج ملک کی آبادی قریب پونے دو ارب اور اس میں مسلمانوں کی تعداد (غیر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ) قریب پچیس کروڑ ہے۔ اور سنگھ پریوار ان پچیس کروڑ بھارتی شہریوں  کو نہ مار سکتا ہے نہ ملک بدر کر سکتا ہے، نہ اکیسویں صدی کے اس دوسرے عشرے میں بیک وقت پچیس کروڑ افراد کو ان کے بنیادی انسانی شہری حقوق سے محروم کر سکتا ہے بھارت میں پیدا ہونے والے ہم بھارتی  مسلمانوں کو رہنا مرنا اور دفن ہونا مادر وطن  بھارت ہی میں ہےاور اپنی دینی شناخت کے ساتھ عزت کے ساتھ سر اٹھا کے برابر کے حقوق کے ساتھ   رہنا ہے۔

مزید پڑھیں >>

اختلافی مسائل میں ندوۃ العلماء کا مسلک اور مولانا سلمان حسینی ندوی کا رویہ

میں نے ندوہ کے تہذیبی ورثہ کو ٹوٹتے اور بکھرتے ہوئے دیکھ کر یہ تحریر قلم بند کی ہے، اگر اسے نہیں روکا گیا تو ندوہ اور ندویوں کو اسکا بڑا خمیازہ بھگتنا پڑےگا، مجھے قدیم وجدید ندویوں سے امید ہے کہ وہ اب بھی اسی آزادئ فکر کے ساتھ جیتے ہوں گے جو ان تک ان کے اسلاف سے وراثۃً منتقل ہوئی ہے وہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہیں گے، اگر کوئی شخص ندوی روایات کو نقصان پہونچائے گا تو اسے روکیں ٹوکیں  گے پھر وہ چاہے ہمارا مربی ومحسن ہی کیوں نہ ہو، اس لئے کہ اجتماعی مفادشخصی مفاد سے اوپر ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

غلامانہ ذہنیت!

آج ضرورت ہیکہ ہمیں اپنی تہذیب اور زبان وادب سے محبت کے ساتھ ساتھ اس پر فخر ہونا چاہیے اور اسکی بقاءوتحفظ کے لیے قدم اٹھانا چاہیے اور اس پر عبور حاصل کرکے لوگوں کو اس سے آشنا کرانا چاہیے تب ہمیں سراٹھا کر کہنے کا پورا حق ہوگا کہ ہمیں ہندوستانی پونے پر فخر ہے ورنہ دوسروں کی زبان و ادب سے محبت کرکے ملک کی محبت کا دم بھرنا بیجا اور فضول ہے۔

مزید پڑھیں >>

سیاسی وعدوں اور جملوں کے منفی اثرات

الیکشن کا زمانہ تھا اسی دوران دبئی سے گھر جا رہا تھا لکھنئو ایئر پورٹ سے باہر نکلا دیکھا تو ہر طرف بڑے بڑے بینر پوسٹر لگے ہوئے تھے ملک کے مزاج کے مطابق پرکشش نعرے لکھے ہوئے تھے  ریلیوں کی وجہ سے پورا روڈ جام تھا لوگ سروں پر زعفرانی ٹوپی اور گمچھے باندھ کر سڑکوں پر اس قدر اتپاد مچا رہےتھے جیسے آئین و قانون بے معنی ہو۔

مزید پڑھیں >>

طلبئہ مدارس احساس کمتری کے شکار!

طلبئہ مدارس جب کسی اسکول کے طلبہ کو دیکھتے ہیں کہ وہ اسکول میں انجینئرنگ کررہا ہے بعد میں اتنا کمائیگا اور ہم کو وہی چار پانچ ہزار روپئے ملتے ہیں آج کے اس ترقی یافتہ دور میں کیسے اتنی قلیل رقم میں کام چلےگا لیکن شاید وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ وہ علوم نبویہ کو سیکھ رہے ہیں جس سے ہماری دنیا تو دنیا آخرت بھی سنور جاتی ہے اور آج تک دنیا شاہد ہےکہ جس نے اس علم کو اپنے رب کی رضا کے لیے پڑھا وہ کبھی ذلیل وخوار نہیں ہوا.

مزید پڑھیں >>

ہم کریں تو دہشت گرد ، تم کرو تو بیمار!

گزشتہ کئی ماہ کا جائزہ لیں تو امریکہ میں اسطرح کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں اسی طرح معلوم افراد نے نامعلوم وجہ کے انسانی زندگیوں کو موٹ کے منہ میں دھکیل دیا۔ کیونکہ امریکہ میں اسلحہ لے کر چلنے کی ممانعت نہیں ہے اس لئے ایسے واقعات کو عملی جامہ پہنانابھی مشکل کام نہیں۔

مزید پڑھیں >>