نقطہ نظر

بائک والی لڑکی!

مسلمانوں کیلئے اخلاقی تربیت کے بغیر اعلی تعلیم کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ ایسے میں یہی ہوگا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسی جگہ پر ہماری لڑکیاں سربازار اپنے سروں پر سے نہ صرف دوپٹہ اتارپھینکیں گی بلکہ فخریہ طورپراس کا اعلان بھی کریں گی۔ مجھے ماں باپ سے بس ایک ہی سوال کرنا ہے۔ کیا اس صورت حال کا ذمہ دار بھی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے؟ اور کیا علماء کو مطعون کرکے صورت حال بدل سکتی ہے؟ غور ضرور کیجئے گا۔

مزید پڑھیں >>

آنند کمار قانون کو نہیں مانتا، پر خوش ہے!

ممبئی کا آٹو رکشہ ڈرائیور، آنند کمار اس کا جواب نفی میں دیتا ہے۔ آنند کی بات کو سننا اس لیے ضروری ہے، کیوں کہ تقریباً چالیس سال پہلے جب اس کے غریب ماں باپ آندھرا پردیش سے چل کر ممبئی روزی روٹی کی تلاش میں آئے تھے، تو قانون کے رکھوالوں نے اسے کبھی چین سے سونے نہیں دیا اور رشوت لینے کے باوجود ایک فٹ پاتھ سے دوسرے فٹ پاتھ پر دوڑاتے رہے۔ بعد میں اپنی محنت کی کمائی سے انھوں نے اتنے بڑے شہر میں ایک چھوٹی سی جھونپڑی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ اسی جھونپڑی میں ایک دن آنند کمار پیدا ہوا اور ماں باپ سے قانون کی ناانصافیوں کے بارے میں سنتے اور اپنے آس پاس کے ماحول کو دیکھتے ہوئے بڑا ہوا۔ آج وہ 28 سال کا ہے لیکن قانون کو نہیں مانتا، اس لیے کہ اس کی نظروں میں قانون انصاف نہیں دلاتا، بلکہ نا انصافی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

یورپ کی علمی چوریاں اور ان کی مختصر تاریخ

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی سائنس کی تاریخ کا بہت سا حصہ اور سائنس کی کئی مشہور ایجادات اور دریافتیں ایسی ہیں جن کو یورپ سے منسوب کر دیا گیا ہے اور آج لبرل سیکولر طبقہ یورپ کے گن گاتے نہیں تھکتا۔ یہ یورپ کی طرف سے اسلامی سائنسی علم،نظریات، ایجادات اور چوریوں کی مختصر تاریخ ہے اور یہ تاریخ کا وہ حجام ہے جس میں نیوٹن،گلیلیو، اینٹونیو لیوائزے اور کوپرنیکس سمیت  یورپ کی ابتدائی تاریخ کے تمام سائنسدان ننگے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

کیا فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے؟

سال ہا سال سے چلنے والی سرد جنگ اب شکل اختیار کرنے کا بہانے بناتی سمجھ آرہی ہے۔ حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دشمن اپنی آخری چالیں چلنا شروع کر رہا ہے۔ دھمکیاں تو پہلے بھی دی جاتی رہی ہیں مگر اب کچھ عملی اقدامات ہوتے دیکھائی دینا شروع ہوگئے ہیں ۔ آج ہمارے ملک کے سیاستدانوں اور ہر فرد کو جو ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے میں حکومت کا الہ کار بننا پڑے گا اب اپنی عقل کوٹھکانے لگانے کا وقت آن پہنچا ہے۔

مزید پڑھیں >>

پاکستان کے خلاف ٹرمپ زندہ باد تو بھارت کے خلاف؟

عیسائی مذہبی رہنما پوپ فرانسس نے اپنے نئے سال کے پیغام میں دنیا سے اپیل کی ہے کہ لوگ  تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو گلے لگا لیں. ان کے دلوں میں امید کی کرنوں کو بجھنے نہ دیں. پوپ فرانسس مسلسل اس بات پر بولتے رہتے ہیں. ٹرمپ لگتا ہے پوپ کی بھی بات نہیں سنتے. بہت سے ملک نہیں سنتے ہیں.

مزید پڑھیں >>

مسلمان کانگریس کیلئے اب نامحرم

کانگریس نے تین طلاق بل پر جو رویہ اپنایا اسے بھی وہی سمجھ سکتے ہیں مسئلہ یہ ہے کہ ایک وقت میں تین طلاق دینے والے مرد کو سزا دی جائے گی لیکن یہ بھی تو معلوم ہونا چاہئے کہ اس عورت نے کیا کیا ہے ؟ جس کی وجہ سے شوہر طلاق دے رہا ہے یہ بات تو بعد کی ہے کہ ایک منٹ میں دی یا تین مہینے میں دی؟ حیرت ہے کہ پورے ہائوس میں کوئی نہیں تھا جو معلوم کرتا کہ عورت کی غلطی بھی بتائی جائے۔ اس کے بعد سزا اور جرمانہ لیا جائے۔

مزید پڑھیں >>

بیوقوف کون؟

اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اپنے پائوں پر کھڑا ہو اورقوم خودانحصاری کے اصول پر عمل کر ے تب ہی پاکستان مضبوط اور مستحکم ملک بن سکتا ہے۔ ہمیں کسی امریکی یابھارتی پراعتبارنہیں ہے۔ آج دونلڈ ٹرمپ امریکی بیوقوفی تسلیم کررہاتویہ اس کی نئی چال ہے۔ درحقیقت بیوقوف وہ نہیں جو امداددے کرقوموں کوغلام بناتے ہیں ۔ بیوقوف تووہ ہیں جوکم تنخواہ پرزیادہ محنت کرنے کے باوجودغلامی کی زندگی گزارتے ہیں ۔ بیوقوف کون ہے؟جودنیاکوآپس میں لڑاکراپنے مفادات حاصل کرتاہے، بھاری قیمت پراسلحہ فروخت کرتاہے یاایک دوسرے کے ہاتھوں مارے جانے والے مقروض ؟

مزید پڑھیں >>

سیاسی بیداری وقت کی اہم ضرورت

اس لئے وقت کی  اہم ضرورت ہے کہ ہم سیاسی طور پر مستحکم ہوجائیں اور اپسی اتحاد  پیدا کرتے ہوئے جو پارٹی ہمارے دین وایمان اور شریعت  کی حفاظت کے  لئے کمر بستہ ہو  اور جو ہماری جان ومال عزت وآبرو کی حفاظت کے لئے  ہر وقت تیار ہو  اور دشمنوں کے  اپنی فہم و فراست سے دانت کھٹی کر دے ، کیوں نہ ہم کھلم کھلا  ان کی حمایت کریں اور  دل وجان سے  ان  کا  ساتھ دیں، وہ سارے طریقے اپنائے جائیں جس سے  ہماری تعداد پارلیامنٹ اور  راجیہ سبھا میں  بڑھتی جائے  تاکہ پھر ہمیں  یہ سیاہ  دن  دیکھنا نہ پڑے۔

مزید پڑھیں >>

ملک میں بڑھتی ہوئی شرپسندی ایک لمحۂ فکریہ

    ہماراملک جہاں بہت سارے مسائل درپیش ہیں، بے روزگاری،مہنگائی نے پریشان کر رکھا ہے، اورملک کے باشندوں کی بہت ساری ضرورتیں حل طلب ہیں،ان تمام کو پس ِ پشت ڈال کر ایک خاص ماحول کوپروان چڑھانے اور ایک مخصوص نظریہ اور سوچ کی ترویج واشاعت میں فرقہ پرست تنظیمیں لگی ہوئی ہیں۔ملک کی ترقی اور کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے شہریوں کو امن وسکون فراہم کیا جائے،مسائل ومشکلات کو دورکرنے کی کوشش وفکر کی جائے، ملک کی نیک نامی اور بین الاقوامی شہرت وپذیرائی کے لئے ملک کو پرامن بنانااور ایک کو تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے ورنہ ملک بھی بدنام ہوگا،لوگ بھی پریشان رہیں گے اور ہر طرح کا امن وسکون غارت ہوگا،ایک دوسرے کے خلاف غیض وغضب کی چنگاریاں بھڑکتے رہیں گی۔

مزید پڑھیں >>

نادان کہ رہے ہیں نیاسال مبارک !

امن کی امیدوں اور خوشحالی کی تمنائوں (آس ورجاء  )کے ساتھ جس عیسوی سال 2017 کا آغاز لوگوں نے کیا تھا ۔آج ہم اپنے دل میں ہزاروں غم چھپائے اس سال کے آخری دن کی دہلیز پہ" یاس وناامیدی" کے ساتھ   کھڑے ہیں۔اسلامی سال کا آغاز ہوئے تین ماہ سے زائد ہوچکے ہیں۔آج شب بارہ بجے کے بعد دنیا بھر کے عیسائی  لوگ اور اسلامی "اقدار وروایات " سے ناواقف '  مغرب زدہ مسلمان ' عیسوی نئے سال کا زور دار  استقبال کریں گے۔

مزید پڑھیں >>