نقطہ نظر

جھوٹ بولنا اور دوسروں کو بے وقوف بنانا گناہ کبیرہ ہے!

مغربی تہذیب کی بے ہودہ رسومات میں سے ایک رسم اور روایت اپریل فول (April Fool) منانا ہے۔ اس کی ابتدا اگرچہ یورپ سے ہوئی لیکن اب پوری دنیا میں یکم اپریل کو جھوٹ بول کر لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے اور لوگوں خاص کر بوڑھوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے، غرضیکہ جھوٹ بول کر لوگوں کو بے وقوف بنانے کا یہ تہوار ہے۔ امن وسلامتی کا علم بردار مذہب اسلام ہمیشہ ایسی برائیوں سے معاشرہ کو روکنے کی تعلیم دیتا ہے جو معاشرہ کے لیے ناسور ہوں ۔ قرآن وحدیث میں بار بار سچ بولنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ شریعت اسلامیہ میں معاشرہ کی مہلک بیماری جھوٹ سے بچنے کی نہ صرف تعلیم دی گئی بلکہ جھوٹ بولنے کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جھوٹوں پر لعنت فرمائی ہے، ان کے لئے جہنم تیار کی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔

مزید پڑھیں >>

کیا آدھار کارڈ لازمی ہونے سے بدعنوانی پر لگام لگے گی؟

سپریم کورٹ نے کئی بار کہا ہے کہ آدھار کو لازمی نہیں بنایا جانا چاہئے. مگر حکومت اسے کف سیرپ کے طور پر تمام منصوبوں میں شامل کرتی جا رہی ہے. پنشن، اسکالر شپ، راشن کارڈ، ڈرايوگ لائسنس، موبائل نمبر، مڈ ڈے میل، پین نمبر، ٹیکس ریٹرن، زمین خرید فروخت. کیا واقعی جہاں جہاں آدھار پہنچا ہے، وہاں وہاں سے بدعنوانی ختم ہویی ہے. یو پی اے جب اس کی تعریف کر رہی تھی، تب بی جے پی اسے عوام سے اسے دھوکہ بتا رہی تھی. اب بی جے پی اسے کئی چیزوں میں لازمی کر رہی ہے، تو ایوان کے اندر اندر کانگریس آدھار کے خطرے گنا رہی ہے. ڈرائیونگ لائسنس، موبائل نمبر، پین کارڈ، انکم ٹیکس ریٹرن سب میں آدھار لازمی ہے.

مزید پڑھیں >>

گستاخی معاف! ذمے دارمولوی بھی ہیں!

قائدبنائے نہیں جاتے بلکہ قائدپیداہوتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی کہ ہم نے کائدکوقائدمان لیاہے۔ ظاہرہے کہ کائد(یعنی دھوکہ باز)دھوکہ ہی دے گا،قیادت کیوں کرکرے گاکیو ں کہ اسے قیادت کی ابجدبھی نہیں معلوم۔ دوسری بات یہ ہےکہ قائددرحقیقت ایک بہترین سامع ہوتاہے مگرہمارے قائدوں کوسننے سے زیادہ بولنے کاشوق ہےاوربولنے سے زیادہ چھپنے کاشوق۔ جب معاملہ یہ ہوتونتائج ہمیشہ الٹے ہی نکلتے ہیں اورنوٹ کرلیجیے، جب تک ایسے ضمیرفروش ملت پرمسلط رہیں گے تب تک نتائج الٹے ہی نکلیں گے، اس میں ذرہ برابربھی تبدیلی نہیں ہوگی۔ آئیے جائزہ لیں کہ الیکشن کے موقع پرجن مولویو ں نے اپنے اپنےمفادکی خاطرمختلف پارٹیوں کے لیے ووٹنگ کی اپیلیں کیں، وہ بے بصیرت کیوں ہیں اوران کاسیاسی شعوربانجھ کیو ں ہے؟

مزید پڑھیں >>

ناسور نہ بن جائے کہیں!

ماہ اپریل کے پہلے دن تمام مسلمانوں کو بحری جہازوں پر سوار کر دیا گیا ۔انہیں اپنے وطن کو رخصت کرتے ہوئے بڑی تکلیف ہورہی تھی لیکن اطمینان بھی تھا کہ چلوجان تو بچی ۔۔۔! جب جہاز سمندر کے عین وسط میں جاپہونچا تو منصوبہ بندی کے تحت فرڈ نینڈ کے گماشتوں نے جہاز میں سوراخ کرکے خود حفاظتی کشتیوں پر سوار ہوکر بھاگ گئے اور پورا جہازچشم زدن میں غرق آب ہوگیااور تما م لوگ سمندر کی آغوش میں ابدی نیند سوگئے۔

مزید پڑھیں >>

کیا بوچڑ خانوں سے پہلے بدعنوانی دور کرنا ضروری نہیں؟

حکومت کی کارروائی ایسوں پر بھی ہو رہی ہے، جن سے کوئی ایک چوک ہو گئی. کسی کا سی سی ٹی وی خراب ملا تو کسی کی نالی بند. اب اتنی مختلف مجوريا لینا سب بس کی بات نہیں ہے. صرف پیسے والے یا بڑے کاروباری ہی یہ کر پاتے ہوں گے. یہ درست ہے کہ گندگی پر بھی قابو پانا ہے، لیکن کیا حکومت کو پہلے لائسنس کے عمل کو آسان نہیں بنانا چاہیے تھا. کیا کچھ دن کا نوٹس دیا جا سکتا تھا. رقم کے بدلے لائسنس ریاست میں بدعنوانی کا بڑا ذریعہ تھا. اس بدعنوانی کے خاتمے پر عمل ہونا چاہیے تھا. بہرحال اب کورٹ میں ریاستی حکومت کو تین اپریل تک جواب دینا ہے. دیکھنا ہوگا کہ یوگی حکومت کیا راستہ اپناتی ہے.

مزید پڑھیں >>

اپریل فول منانا مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا!

مزاح کرنا انسان کے لیے ضروری ہے، یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کے ذریعے انسان بہت سے غموں کو بھلا کر تروتازہ محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے مزاح کرنا اسلام اور انسانی فطرت میں معیوب نہیں سمجھا گیا، البتہ مزاح کے طریقوں پر ضرور غور کرلینا چاہیے۔ اس لیے کہ بعض دفعہ ایک چیز، ایک انسان کے لیے لطف اندوزی کا باعث بنتی ہیلیکن دوسرے کے لیے وبال جان بن جاتی ہے۔ ایسے مذاق ومزاح کو ظاہر ہے انسانی فطرت خصوصاً دینِ اسلام، جو کہ عین فطرت ہے، ہرگز درست وجائز قرار نہیں دے سکتا۔

مزید پڑھیں >>

اپریل فول ناجائز و حرام ہے!

’’اپریل فول ‘‘ کے حرام و ناجائز ہونے میں کسی مسلمان کو ذرہ برا بر تذبذب کا شکار نہیں ہونا چاہئے ۔اس لئے کہ اس میں جن باتوں کا ارتکاب کیا جاتاہے وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق حرام ہیں ۔ جیسے جھوٹ، دھوکا، گندہ مذاق، تمسخر، و عدہ خلافی، مکر و فریب ، بددیانتی اور امانت میں خیانت وغیرہ۔ یہ سب مذکورہ ا مور فرمانِ الٰہی اورفرمانِ رسول کی روشنی میں ناجائز اور حرام ہیں ۔ خلاف مروت، خلاف تہذیب اور ہندوستان کے سماج و معاشرے کے خلاف ہیں۔

مزید پڑھیں >>

مسلم طلباءتنظیمیں:وقت کی ضرورت اور کرنے کے کام

ایک طویل فکری زوال کی وجہ سے آج مسلمانوں کی حالت قابل رحم ہوچکی ہیں۔آج اس ملت کے نوجوان کو ہر پرجوش مقرر اپنا قائد لگتا ھے۔اس سوشل میڈیا کے دور نے ہمیں اپنے حقیقی قائدین سے دور اور خود ساختہ قائدین کے بہت قریب کردیا ھے ۔شہلا رشید اور کنہیا کمار ہمارے محبوب ہیں انکی چند تقریروں سے ہم اتنے متاثر ہیں کہ ہماری عقلیں کام نہیں کررہی۔لیکن ہمارے نوجوان اس بات سے بیخبر ہیں کہ یہ دونوں افراد جن تنظیموں سے وابسطہ ہیں وہ تنظیمیں اسلامی دشمنی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی ۔یہ وہی لوگ ہیں جو ہم جنس پرستی کی کھل کر حمایت کرتے ہیں ۔ہاں ین کے نزدیک لیونگ ریلشن شپ میں کوئی برائی نہیں ۔ان کہ نزدیک محمد عربی صل علیٰ وعلیہ و سلم بھی تو ایک انسان تھے وہ تنقید سے ماوراء کیوں ہوں۔

مزید پڑھیں >>

مریض کے لواحقین کیوں آپا کھو رہے ہیں؟

سوال خود سے پوچھنا چاہئے کہ کیا ہم ہر حال میں تشدد کی ثقافت کے خلاف ہیں. اگر ہیں تو کیا تمام قسم کے تشدد کے خلاف بول رہے ہیں. آخر کیوں ہے کہ پولیس اور عدالت کے رہتے ہوئے کئی تنظیمیں گلے میں پٹا ڈال کر کھانے سے لے کر اوڑھنے اور پہننے کی تلاشی لینے لگتے ہیں. کیوں لوگوں علاج میں چوک ہونے پر براہ راست ڈاکٹروں کو ہی مارنے لگتے ہیں. قانون اپنے ہاتھ میں لینے لگتے ہیں. کیا انہیں پولیس کی تحقیقات میں اعتماد نہیں ہے. بھیڑ بنا کر پولیس پر دباؤ ڈالنے کی مخالفت اور بھیڑ بن کر اسپتالو پر حملہ کرنے کی مخالفت، دونوں ہونا چاہئے. ورنہ ایک جگہ ڈاکٹر ڈریں گے اور دوسری جگہ لڑکیاں. حالت یہ ہے کہ سڑک پر چلتی گاڑی میں کھرونچ آنے پر ڈرائیور دوسری گاڑی کے ڈرائیور کو مار مار کر ادھ مرا کر دیتا ہے. یہ غصہ کہاں سے آ رہا ہے. بتا رہا ہے کہ ہم بیمار ہیں. سماجی طور پر بھی سیاسی طور پر بھی.

مزید پڑھیں >>

بابری مسجد اور عدالت عالیہ

سبرامنیم سوامی کی درخواست پر سپریم کورٹ کے مشورے سے قطع نظر فی الحال رام مندر کے مسئلہ کی بی جے پی اور وزیراعظم کے نزدیک کیا اہمیت ہے اس کا اندازہ لگانے کیلئے گزشتہ چار سالوں کے چند واقعات پر نگاہ ڈالنا ضروری ہے۔ 2013 کے وسط میں وزیراعلیٰ گجرات نریندر مودی کو انتخابی کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ انہیں بی جے پی اپنا وزیراعظم کا امیدوار بناسکتی ہے۔ جون 2013 میں رام جنم بھومی نیاس کے مہنت نرتیہ داس کی 75 ویں سالگرہ ’’امرت مہوتسو‘‘ کے طور پر منائی جارہی تھی۔ نریندر مودی کو دعوت دی گئی کہ وہ ایودھیا کا دورہ کرکے وہیں سے انتخابی مہم کا اغاز کریں۔ مودی جی نے اس دعوت کو ٹھکرا دیا اور ایودھیا نہیں گئے۔ ستمبر 2013 میں مودی جی کو باقائدہ وزیراعظم کا امیدوار بنا دیا گیا اور 2 اکتوبر کو انہوں نے اپنی تقریر میں کہا ’’میں ہندوتوا کے رہنما کی حیثیت سے جانا جاتا ہوں۔ میری شبیہ مجھے یہ کہنے کی اجازت نہیں دیتی لیکن میں یہ کہنے کی جرأت کرتا ہوں۔ میراحقیقی خیال ہے ’’پہلے شوچالیہ پھر دیوالیہ‘‘ یعنی پہلے بیت الخلاء اور اس کے عبادتگاہ‘‘۔

مزید پڑھیں >>