انسان اور زمین کی حکومت (قسط دوم)

0

رستم علی خان

کائناتیں اور آسمانوں کی تخلیق کے مدارج طے ہو چکے تھے- فرشتے حکم الہی میں مستغرق رہتے تھے اور ان کی افزائش امر الہی سے ہوتی تھی- لیکن جب مارج (جنات) کو پیدا کیا گیا تو ان کے فطری تقاضے عود کر آئے- اور اللہ تعالی نے اس کے لئیے ایک بیوی تخلیق کی جس کا نام مارجہ (یہ نام روایات میں کہیں نہیں لہذا فرضی سمجھا جائے) تھا- جنات کی افزائش کا حکم یہ تھا کہ ایک حمل سے ایک لڑکا (جن) اور ایک لڑکی (جننی) پیدا ہوتے تھے- اللہ تعالی نے ملائکہ (فرشتوں ) کو تو آسمانوں میں رہائش دی اور جنات کو زمین پر اتار دیا- مارج اور مارجہ میں غضب و قہر تھا لیکن وہ اللہ کی اطاعت و عبادت اور فرمانبرداری سے غافل نہیں تھے- وہ آسمان پر فرشتوں کے پاس جاتے اور عبادت الہی کے لئیے حمد و ثنا اور زکر و تسبیحات سیکھ کر آتے اور آکر اپنی اولاد کو ان تعلیمات سے بہرہ مند کرتے-

جیسے جیسے ان (جنات) کی اولاد بڑھتی گئی ان میں سرکشی کا عنصر بھی بڑھنے لگا اور آپس میں لڑائی جھگڑے اور اختلافات ہونے لگے-

جنات کی نسل جب لاکھ سے تجاوز کر گئی تو ان میں کئی قبائل بن گئے- جب نسلیں ترقی کرنے لگتی ہیں تو خودسری اور سرکشی بھی جنم لیتی ہے- قہر و غضب سے بھری ہوا اور آگ سے تخلیق ہوئی مخلوق (جنات) نے زمین پر فسادات برپا کرنے شروع کر دئیے- (جیسے ابھی نسل آدم کا معاملہ ہے) جب جنات کی سرکشی بڑھنے لگی اور قریب تھا کہ حکم نازل ہوتا مارج (جنات کے جد امجد) نے اللہ کے حضور قوم کی سرکشی کے خلاف گریہ زاری کی کہ قوم کی سرکشی ختم ہو جائے اور باہمی اتحاد و اتفاق اور نیکی اور اللہ کے احکام کو بجا لانے کی دعا کی- اس کے علاوہ قوم کو بھی ہدایت و تبلیغ کی تلقین کرنے لگا لیکن طاقت اور غضب کے نشے میں سرشار بگڑے ہوئے جنات نے مارج کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور اسے صاف دھتکار دیا- پھر اللہ نے بنو مارج کو (جو نیک اور رحمدل اور اللہ کے اطاعت گزار اور فرمانروا جنات تھے) کو سرکشوں کے خلاف جنگ کا حکم دے دیا یہ لڑائیاں بہت عرصہ تک چلتی رہیں اور بلآخر حق کی فتح ہوئی بہت سے سرکش اور گمراہ جنات کو قتل (جلا کر راکھ) کر دیا گیا اور بہت سوں کو دور دراز جزیروں اور زیر زمین قید کر دیا گیا اور زمین پر ایک بار پھر سے اللہ کا حکم چلنے لگا اور زمین جو جنات کی سرکشی اور فسادات سے عاجز آئی ہوئی تھی ایک بار حوشحال ہو گئی۔

(ضروری نوٹ : کائنات کی تخلیق سے حضرت آدم کی تخلیق کے درمیانی عرصے میں کیا ہوا اس کی مستند روایت قرآن و احادیث سے نہیں ملتیں اور اگر ہیں بھی تو بہت کم لہذا اس سلسلے میں بتائی جا رہی معلومات مختلف کتابوں سے لی گئی ہیں اگر حوالہ جات دئیے جائیں تو بات لمبی ہو جائے گی اس لئیے ہر بات محتصر بیان کی جا رہی ہے۔)

زمین پر ایک بار پھر نیک اور برگزیدہ و فرمانبردار حکم الہی بجا لانے والے جنات ہی رہ گئے- کچھ عرصہ آرام و سکون سے گزرا لیکن کچھ عرصہ بعد جو سرکش جنات بچ گئے تھے اور پہاڑوں جزیروں اور زمین کی تہوں میں چھپ گئے تھے دوبارہ واپس آئے کچھ عرصہ تک تو انہوں نے (دکھاوے کی) نیکی اور فرمانبرداری کی زندگی گزاری لیکن کفر گمراہی اور سرکشی ان کی رگ رگ میں بھری تھی لہذا انہوں نے دوبارہ وہی کام کرنا شروع کر دیا- اب کی بار انہوں نے طاقتور اور غیض و غضب سے بھرے قبائل کو ایک دوسرے کے خلاف کرنا اور بھڑکانا شروع کر دیا-

لاشک کے وہ (جنات) بڑے متقی اور پرہیز گار تھے، لیکن ہوا اور آگ سے بنی یہ مخلوق بہت جلد بھڑک اٹھنے والوں میں سے تھی- اب کی بار زمین پر فسادات نے ایک نیا روپ دھار لیا اور بڑے بڑے قبائل آپس میں ایک دوسرے سے لڑنے اور کشت و خون کرنے لگے- زمین ایک بار پھر جنات کی سرکشی لڑائیوں اور فسادات سے بلبلا اٹھی- اور بارگاہ ربی میں التجا کی کہ ان سرکشوں کو مجھ پر سے ہٹا لے یا مجھے ہی حکم دے کہ میں انہیں اپنے اندر دبوچ لوں – ملائکہ نے بھی اللہ سے سفارش کی کہ جنات ایک بار پھر سے سرکش ہو گئے ہیں اور اب کے حالات اس قدر برے ہیں کہ بس کہیں کہیں کوئی صاحب ایمان اور نیک پاک جن رہ گیا- جو زیادہ صالح ہیں وہ آسمان پر آباد ہو گئے ہیں زمین والوں کی نافرمانیوں اور سرکشیوں سے عاجز آ کے (جنات میں جو جتنا صالح اور نیک ہوتا وہ بحکم ربی پہلے دوسرے اور تیسرے آسمان تک آ سکتا تھا تا کہ ملائکہ سے تعلیم اور حکم خداوندی سیکھ سکیں اور انہیں اپنی قوم تک پنہچائیں )

اللہ تعالی کی رحمت ہمیشہ سے اس کے غضب پر حاوی رہی ہے- خالق کائنات نے سرکش جنات کی رہبری اور راہ نمائی کے لئیے ان میں سے نیک لوگوں کو انہیں ہدایت کی طرف بلانے کا کام سونپا (نبی بنایا)

اس امر میں سب سے پہلے ایک بڑے نیک ذاہد و عابد جن "چلپانیس” کو منتخب کیا گیا…گو کہ وہ بھی اپنی قوم کی نافرمانیوں اور کوتاہیوں و سرکشیوں سے عاجز آیا ہوا اور بیزار تھا لیکن حکم ربی کے آگے اس نے سر جھکا دیا اور قوم کو واعظ و تبلیغ کرنے لگا اور انہیں حکم الہی کی طرف بلایا لیکن سرکش قوم نہ مانی بلکہ نبی اللہ کو شہید بھی کر دیا-

زمین کی گریہ زاری آسمان کے فرشتوں اور عرش الہی کو بھی ہلا گئی لیکن اللہ کی رحمت نے پھر جوش کھایا اور غضب پر حاوی ہوئی  چلپانیس کے بعد ایک اور نیک بزرگ جن "بلیقا” (جو کہ بہت نیک اور زاہد و عابد ہونے کے ساتھ بادشاہت بھی رکھتے تھے) کو یہ کام سونپا گیا- ان کا دور اچھا گزرا جو لوگ تبلیغ و تعلیم سے راہ راست پر آنے والے تھے انہیں تبلیغ سے اور جو نہ ماننے والے گمراہ و سرکش تھے انہیں جنگ سے زیر کیا گیا اور اس طرح پھر سے حکم الہی عام ہوا- ان کی وفات کے بعد آہستہ آہستہ قوم پھر اسی طرف آنے لگی-

اور اسی طرح آٹھ سو سے زائد نبی مبعوث ہوئے جو قوم کو سمجھانے اور اللہ کی طرف بلانے کا کام کرتے رہے-
پھر جب جنات کی سرکشی بڑھی (اور یہی معاملہ بنی نوع انسان کے ساتھ ہمیشہ سے چلا آ رہا) تو ایک اور بزرگ "ہاموس” کو مبعوث فرمایا گیا جنہوں نے قوم کو سخت تنبیہہ کی کہ اگر نہ مانے تو سخت سزا دی جائے گی اور قوم جنات نے عہد کیا کہ وہ فرمانروا رہیں گے-

یہی وہ زمانہ تھا جب عزازیل (ابلیس) کے والد اور والدہ کی پیدائش ہوئی- عزازیل کے والد کا نام "چلیپا” تھا چہرہ جیسے ببر شیر کا اور بےحد بہادر نڈر اور قوم نے انہیں "شاشین” (دل دہلا دینے والا) کا لقب دیا تھا کہ جب وہ میدان میں ہوتا تو دشمن کا دل اسے دیکھتے ہی کانپ اٹھتا-

ابلیس کی والدہ کا نام "نبلیث” تھا جو قوم جنات کی سب سے زیادہ طاقتور مادہ تھیں کہ کئی سو کا مقابلہ کر سکتی تھی ان کے چہرے کی ساخت جیسے مادہ بھیڑئیے کا چہرہ ہوتا ہے (واضح رہے کہ جنات کی شکلیں مختلف ہوتی یا ہو سکتی ہیں اور یہی ان کی پہچان اوپر بیان کی گئی کہ وہ کسی بھی صورت میں متشکل ہو سکتے ہیں ) ان دونوں کے بارے مشہور تھا کہ جس قوم میں چلیپا اور نبلیث ہوں وہ کبھی ہار نہیں سکتی کوئی قوم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

کافی عرصہ تک ہاموس قوم کے ساتھ رہا ان میں نیکی اور حکم الہی کو عام کرتا رہا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ قوم دوبارہ سے سرکشی پر اتر آئی اور عہد شکنی کی مرتکب ہوئی اور انہیں آخری سالوں میں جب ہاموس کی قوم دوبارہ بد اعمالیوں اور سرکشی کی مرتکب ہو رہی تھی ابلیس کی پیدائش ہوئی…قوم اس حد تک نافرمانیوں اور برے اعمال میں پڑ گئی تھی کہ زمین تو عاجز آئی ہی ہوئی تھی آسمان بھی ان کی سرکشی سے ہل گیا…اللہ کے مقرب فرشتے زمین و آسمان کی آہیں اور گریہ زاری اللہ تک پنہچانے لگے…آخر مدت پوری ہوئی رحمت کا دروازہ بند کر دیا گیا اور سرکشوں پر آسمانی عذاب نازل ہوا….اللہ نے فرشتوں کا ایک بڑا لشکر زمین پر بھیجا اس حکم کے ساتھ کہ سرکشوں اور نافرمانوں سے زمین کو صاف کر دیا جائے۔

فرشتوں کا لشکر زمین پر آیا اور انہوں نے زمین کو نافرمانوں سے پاک کرنے کے لئیے جنگ شروع کر دی…لاشک کہ جنات بھی غیض و غضب سے بھری ایک سرکش قوم تھی جن کی تخلیق میں ہوا اور آگ کا عنصر پایا جاتا تھا…لیکن ملائکہ کے لشکر کے آگے ان کی کچھ نہ چلی اور وہ قتل ہونے لگے۔

ابلیس کے ماں باپ بھی اس جنگ میں تھے اور سب کو لگتا کہ ہم مٹھی بھر فرشتوں کو مار گرائیں گے لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ہی ان کے حملے کمزور ہونے لگے اور وہ (جنات) پسپائی اختیار کرنے لگے…بہت سوں کو مار دیا گیا جن میں ابلیس کے ماں باپ بھی تھے…اور بہت سے بھاگ گئے پہاڑوں اور جزیروں میں اور انہیں مہلت دی گئی حکمت الہی سے…اور بچوں اور کمزور بوڑھے جنات کو قیدی بنا لیا گیا…قیدی ہونے والے جنات میں عزازیل بھی تھا۔

یہاں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ بعض روایات میں آتا ہے کہ عزازیل اس وقت شادی شدہ تھا اور اس کا ایک بیٹا بھی تھا اور جنگ کے وقت جب اس نے اپنی قوم کی ہار ہوتی دیکھی تو عبادت میں مشغول ہو گیا اور سجدے میں گر گیا اور اس طرح فرشتوں کو دھوکہ دیا…لیکن اگر جنگ کی مناسبت سے دیکھا جائے تو کہا جا سکتا کہ وہ ایک بچہ تھا اور اسے قیدی بنا کے لے جایا گیا…ابلیس اپنی قوم کا خوبصورت بچہ تھا…باپ کی صفات بھی اس میں موجود تھیں سرکش، مغرور، نڈر اور ماں کی صفات بھی چالاکی، مکاری اور بہادری بھی موجود تھیں …ابلیس کے بارے یہ بھی کہا جاتا کہ وہ بےحد ذہین بچہ تھا…اس کے استاد کا نام "ثربوق” تھا…

قیدی ہونے والوں کو ملائکہ نے بحکم ربی پھر سے تعلیم و شعور اور اللہ کے احکام سکھانے شروع کر دئیے…انہیں میں ابلیس بھی تھا جو اپنی ذہنی صلاحیتوں کے مطابق بہت جلد سیکھنے لگا اور اپنا مقام بنانے لگا…اسے (ابلیس) سیکھنے اور عبادت کے علاوہ کوئی کام نہ تھا…تعلیم و تعلم کے بعد عبادت میں مشغول ہو جاتا اور دلجمعی سے اللہ کی عبادت میں وقت گزارتا۔

فرشتے اس کی عبادت اور سیکھنے کی صلاحیتوں کے متعارف ہوئے اور پہلے آسمان پر "عابد” کے نام سے مشہور ہوا…وہ اتنا قابل تھا کہ فرشتے اس کی سفارش کرتے کہ اسے اوپر والے آسمان پر اٹھایا جائے…واضح رہے کہ ملائکہ کو ان کے قدر و منزلت کے حساب سے درجہ بدرجہ آسمانوں میں رکھا گیا ہے۔

فرشتوں کی سفارش سے بحکم ربی ابلیس کو دوسرے آسمان تک کا پروانہ مل گیا…وہاں بھی اس نے اپنی قابلیت اور عبادت و ریاضت سے بہت جلد ایک الگ مقام حاصل کر لیا…وہاں اسے ذاہد نام دیا گیا۔

دوسرے آسمان سے ابلیس کو تیسرے آسمان پر بحکم ربی بھیج دیا گیا…وہاں اس کی لگن اور عبادت کی وجہ سے نام "صالح” ہوا….اور وہ تیسرے سے چوتھے آسمان پر پنہچا اور نام "متقی” ہوا…اور پانچویں آسمان پر اس کی ملاقات بزرگ اور مقدس ارواح سے ہوئی اور اپنی عبادت سے قدر منزلت پائی اور نام "ولی” ہوا…اور پھر چھٹے آسمان پر نام "ولی” ہی رہا (بعض روایات میں "کبازان”) بھی آتا ہے۔

اور پھر وہاں سے ساتویں آسمان پر پنہچا اور مقرب ہوا نام "عزازیل” رکھا گیا…یہاں پنہچ کر اس (ابلیس) نے اپنی عاجزی اور ریاضت کی حد کر دی…چودہ ہزار مرتبہ عرش معلی کا طواف کیا…اور اپنے علم و عبادت اور مہر خداوندی کے باعث فرشتوں کا معلم بنا اور بہت عرصہ تک انہیں درس و تدریس دیتا رہا.

پھر حکم ہوا کہ جنت کے دروغہ رضوان کی معاونت کرو اور اہل جنت کو اپنے علم و فضل سے بہرہ ور کرو…یوں ابلیس کو جنت میں داخلے کا پروانہ مل گیا اور جنت میں بھی اپنے علم و عبادت کے دریا بہائے اور دروغہ جنت کو بھی اپنے علم سے سیراب کیا…
اسی دوران وہ جنات جو جنگ کے میدان سے بھاگے تھے اور چھپ گئے تھے واپس آ گئے اور زمین پر فساد برپا کرنے لگے….ابلیس کے من میں اپنی قوم کا سربراہ بننے اور انہیں راہ راست پر لانے کی خواہش جاگی لیکن بغیر حکم ربی ممکن نہ تھا اور وہ جنت کو بھی چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا…پھر حکم ربی اس کی دلی خواہش کے مطابق آیا کہ جب چاہو زمین پر جاو اور جب چاہو آسمانوں اور جنت میں آو (اسی طرح ابلیس نے کوئی ٹکڑا زمین و آسمان میں نہ چھوڑا جہاں عبادت نہ کی ہو…بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ وہ پہلے زمین پر اور سمندروں کی تہوں میں سجدہ ریز ہوا پھر اسے آسمانی دنیا پر اٹھایا گیا واللہ اعلم الصواب)

اور قوم کو اللہ کی طرف بلانے کے لئیے اپنے نائب مقرر کئیے اور خود اللہ کی عبادت کرتا اور درس و تدریس دیتا۔

تبصرے