منطق و فلسفہ

 انسان میں رُوحِ حیوانی کا تصور

ادریس آزاد

دنیا کے مختلف مذاہب میں پائے جانے والے متصوفانہ نظریات بھی مختلف ہیں۔ لیکن جس طرح مذاہب کی اساسی اخلاقیات ایک جیسی ہے، اسی طرح اِن مختلف قسموں کے تصوّف کی اساسی اخلاقیات بھی ایک جیسی ہے۔ بعینہ اِسی طرح، جیسے مختلف مذاہب میں عقائد کا اچھا خاصا اختلاف ہے، مختلف قسم کے تصوف میں بھی متصوفانہ عقائد کا اچھا خاصا اختلاف ہے۔ لیکن تصوف کا ایک عقیدہ ایسا ہے جو تصوف کے لگ بھگ تمام اداروں میں ملتاجلتاہے اور وہ ہے رُوحِ حیوانی کا عقیدہ۔ ہندوؤں میں، عیسائیوں میں، مسلمانوں میں، یہاں تک کہ بدھ مت جیسے بے دین مذہب کے متصوفانہ افکار میں بھی رُوحِ حیوانی کا عقیدہ موجود ہے۔

یہ عقیدہ کیاہے؟ ہرانسان میں کسی نہ کسی مخصوص حیوان کی رُوح پائی جاتی ہے۔ اور جس انسان میں جس حیوان کی رُوح پائی جاتی ہے، وہ انسان اُس حیوان جیسی خصلتوں کا مالک ہوتاہے۔ مثلاً اگر کسی انسان میں سانپ کی رُوح ِ حیوانی ہے تو وہ  ڈسنے سے باز نہیں آسکتا اور اگر کسی انسان میں چیونٹی کی روحِ حیوانی ہے تو وہ مال جمع کرنے سے باز نہیں آسکتا، علیٰ ھٰذالقیاس۔

اور تو اور قرانِ پاک نے بھی اس نظریہ کی طرف واضح اشارات کیے ہیں۔ کئی آیات اِس طرح کی ہیں، ’’جو لوگ اپنی خواہشات کا اتباع کرتے ہیں، وہ چوپائیوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ‘‘۔ چوپائے سبزی خورجانوروں کو کہاجاتاہے۔ ہم دیکھتے ہیں چوپائے گھاس کے پیچھے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ یعنی اپنی خواہشات کی اتباع کرتے ہیں۔ چنانچہ جب قران کہتاہے کہ جو لوگ اپنی خواہشات کا اتباع کرتے ہیں وہ چوپائیوں جیسے ہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ قرانِ پاک نے ان انسانوں کی رُوحِ حیوانی کی طرف اشارہ کیا۔ لیکن پھر جب قران یہ کہتاہے کہ وہ چوپائیوں سے بھی بدتر ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتاہے کہ بعض انسان تو چوپائیوں جیسے ہوسکتے ہیں اور بعض چوپائیوں سے بھی بدتر ہوسکتے ہیں۔ چوپائیوں سے نچلی سطح پر درندے ہیں اور درندوں سے نچلی سطح پر حشرات الارض۔ قران کی بعض آیات میں جہاں اس طرح کا مفہوم پایا جاتاہے کہ کسی گناہ کی وجہ سے اللہ نے کسی قوم کو بندر یا سؤر بنادیا تو وہاں بھی میری سمجھ کے مطابق دراصل رُوحِ حیوانی کی ہی بات ہورہی ہوتی ہے۔ بلکہ ایسی آیات سے تو یہ بھی مترشح ہوتاہے کہ پوری کی پوری قوم بھی کسی ایک قسم کی رُوحِ حیوانی کی مالک ہوسکتی ہے۔

فَقُلۡنَا لَهُمۡ كُونُواْ قِرَدَةً خَـٰسِـِٔينَ

ہم نے اُن سے کہا تم ذلیل بندر ہو جاؤ

اجتماعی طورپر کسی قوم کی رُوحِ حیوانی کو پہچاننے کا طریقہ میری دانست میں یہ ہوسکتاہے کہ ہم ان کی دوبنیادی جبلتوں یعنی اشتہأ اور شہوت کا مطالعہ کرکے پھر انہی دو جبلتوں میں جانوروں کی انواع میں دیکھ سکتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی قوم مزاجاً ذخیرہ اندوز یا سُود خور ہونے کے ساتھ ساتھ کثرتِ اولاد کی طرف مائل ہے تو ہم کہنے کو کہہ سکتے ہیں کہ اِس قوم میں حشرات الارض کی رُوحِ حیوانی پائی جاتی ہے۔ اور اگر کوئی قوم ایک گروہ کی صورت مل کر رہنے کو ترجیح دینے کے ساتھ ساتھ غیرتِ جنسی اور آنر کے معاملے میں شدت پسند ہے توہم کہنے کو کہہ سکتے ہیں کہ اس قوم میں درندوں کی رُوح ِ حیوانی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی قوم اپنی خواہشات کی اس طرح تابع ہے کہ جنسی طورپر مادر پدر آزاد ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اڑوس پڑوس سے بے پرواہ اور لاغرض ہے تو ہم کہنے کو کہہ سکتے ہیں کہ اس قوم میں چوپائیوں کی رُوحِ حیوانی پائی جاتی ہے، علیٰ ھذالقیاس

قرانی کنایوں یا اشاروں سے البتہ تصوف کی رُوحِ حیوانی اس لحاظ سے قدرے مختلف ہے کہ اہلِ تصوف میں کسی انسان کی رُوح حیوانی کو اُس طرح حقیقی جان لیا جاتاہے جیسے فطری دنیا کی چیزیں حقیقی ہیں۔ اہل ِ تصوف مجذوبوں کی ایک قسم جو کہ برہنہ رہتے ہیں،  کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ ایسے مجذوبین کو انسان، بطور انسان کے نظر ہی نہیں آتے بلکہ انہیں تمام انسان کسی نہ کسی جانور کی طرح نظر آتے ہیں، اس لیے وہ ننگے گھومتے ہیں۔ اور اس عجیب و غریب تصور کے ساتھ حسبِ دستور بے شمار سچی جھوٹی کہانیاں اور حکایات بھی جُڑی ہیں۔ مثلاً میں نے ڈیرہ اسماعیل خان کے تقریباً ہربزرگ سے، جس سے میں ملا، ایک واقعہ سنا ہے کہ ساٹھ ستر کی دہائی میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک مجذوب عورت تھی جو بالکل برہنہ گھومتی تھی اور یہ کہ ایک دن وہ چیختی ہوئی کسی بجاج کی دکان میں گھس آئی اور اس کا کپڑے کا تھان کھول کر خود کو لپیٹنے لگی اور ساتھ ساتھ کہتی جارہی تھی کہ، ’’وہ دیکھو! وہ دیکھو! بازار میں ایک آدمی آرہاہے‘‘۔ یہ کہانی سناتے وقت سنانے والے کا ایک ہی مقصد ہوتاہے کہ اس مجذوبہ کو باقی سب لوگ جانور دکھائی دیتے تھے اور کبھی کبھار کوئی انسان دکھائی دیتا تو وہ فوراً کپڑے پہننا چاہتی۔ بعینہ ایسے ہی دیگر کئی واقعات میں نے لاہور، ملتان اور کئی علاقوں کے بھی سنے ہیں۔ علاوہ بریں بقول ظہیر باقر بلوچ، سرگودھا، اقبال کالونی والے قبرستان کے گیٹ میں ایک مجذوب بیٹھا کرتے تھے اور وہ بہت دھیمی آواز میں کچھ بُڑبُڑا رہے ہوتے تھے۔ ظہیر صاحب کا کہناہے کہ ایک بار انہوں نے اس بزرگ کے منہ کے قریب کان لے جاکر سننا چاہا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں تو وہ کہہ رہے تھے، ’’وہ دیکھو! سؤر کا بچہ جارہاہے۔ وہ دیکھو! گیدڑ کا بچہ جارہاہے، وغیرہ وغیرہ‘‘۔ اس واقعہ سے ظہیر صاحب کا ایک ہی مقصد تھا اور وہ یہ تھا کہ بعض مجذوبین کو انسان بطور انسان نظر آنے کی بجائے، حیوانی شکلوں میں نظر آتے ہیں اور یہ کہ ہرانسان مختلف حیوان کی شکل میں اس لیے نظر آتاہے کیونکہ ہرانسان کی رُوح حیوانی مختلف بھی ہوسکتی ہے۔

یہ غالباً دوہزار سات یا آٹھ کی بات ہے۔ میں یہاں اسلام آباد، ایس ڈی سی، میں ٹرینر تھا۔ مجھے میرے دوست نسیم عباس صاحب نے بتایا کہ بری امام کے مزار سے چند کلومیٹر آگے، ویران پہاڑی میں ایک مجذوب بیٹھتے ہیں، جنہیں دنیا لالہ جی سرکار کے نام سے جانتی ہے۔ ان کی زیارت کے لیے جانے والے لوگوں میں سے بعض لوگ جب اُن کے نزدیک بیٹھے ہوتے ہیں تو باباجی اس نزدیک والے شخص پر اس طرح سوار ہوجاتے ہیں جیسے کسی سواری والے جانور پر سوار ہوا جاتاہے اور ساتھ ہی بابا جی اپنے منہ سے ’’چہ چہ چہ‘‘ کی آواز نکالتے ہیں اور اس شخص کو اُٹھنے اور چلنے کے لیے کہتے ہیں۔ لوگ بڑے شوق اور جذبۂ سعادت کے ساتھ ان کو خود پر سوار کراتے ہیں۔ یہ سنا تو مجھے اہل تصوف کی محفلوں میں سنی گئی رُوحِ حیوانی والی ساری باتیں یاد آگئیں۔ مجھے یونہی خیال سا آیا کہ ہوسکتاہے وہ مجذوب بھی ایسی ہی کسی ذہنی کیفیت کا شکار ہوں کہ انہیں دیگر انسان جانور دکھائی دیتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ہی مجھے شوق بھی ہوا کہ میں انہیں دیکھنے ضرور جاؤں۔ میں نے نسیم عباس صاحب سے کہا کہ مجھے لے چلیے! خیر! میں، نسیم عباس، اعجاز حسرت کے ساتھ لالہ جی سرکار کی زیارت کرنے گیا اور وہاں ان کے نزدیک ہوکر بیٹھ گیا۔ ابھی میں بیٹھا ہی تھا کہ لالہ جی اُچھل کر میری پیٹھ پر سوار ہوگئے اور میری گردن میں ناخن چبھوتے ہوئے بولے، ’’چہ چہ چہ اُٹھ‘‘ ’’چہ چہ چہ اُٹھ بھین ۔۔۔۔۔ د ‘‘ میں اُٹھ کھڑا ہوا۔ لالہ جی مجھے لے کر برآمدے سے باہر آگئے۔ ہلکے پھلکے سے بابا جی تھے وہ، وزن کا احساس تو مجھے نہ تھا البتہ ان کا ناخن میری گردن کو زخمی کررہا تھا۔ خیر! انہوں نے مجھ سے اپنے کھلے برآمے کے تین چکر لگوائے۔ اچھی خاصی ورزش کروانے کے بعد واپس اسی طرح گالیاں دیتے ہوئے اپنے برآمدے میں جابیٹھے۔ ظاہر ہے واپسی پر میں ایک تو زخم سہلا رہاتھا اور دوسرا مسلسل یہ سوچے جارہاتھا کہ اگر واقعی ایسے لوگوں کو انسانوں کی رُوحِ حیوانی نظر آتی ہے تو یقیناً میری روح کسی بیل، گھوڑے یا گدھے کی رُوح ہوگی، کیونکہ لالہ جی مجھے گالیاں بھی دے رہے تھے اور مجھ پر سوار بھی ہوئے تھے۔ البتہ میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ ایک تو لالہ جی ننگے نہیں تھے اور دوسرا یہ کہ یہ سب غیرعقلی باتیں ہیں جن کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ البتہ اب کبھی کبھی اذراہِ تفنن سوچتاہوں کہ یقیناً مجھے کسی بیل کی رُوح ِ حیوانی رہی ہوگی ورنہ میں اتنا بغلول نہ ہوتا۔ ایک بار ایک فرینک دوست کے سامنے میں نے یہی بات کہہ دی تو وہ حیرت سے پوچھنے لگے، بیل بغلول ہوتاہے؟‘‘ اب میں انہیں کیاجواب دیتا۔

اوپر  میں نے جو کچھ لکھا، وہ تمام تر گفتگو ظاہر ہے ہمارے معاشروں میں ہی ہوتی ہے اور ہم نے بھی پچھلوں سے سنی ہے۔ قرانی آیات کے بارے میں البتہ میں نے فقط اپنا خیال ظاہر کیا تھا کہ مجھے اِن کا مفہوم ایسے معلوم ہوتاہے۔ اقبال کے ہاں بھی مجھے یہی نظرآتاہے کہ اقبال بائیوسوشل ارتقأ کے فلسفی ہیں اور اپنے تمام تر کام سے ایک ہی تھیوری پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ جو جانور زمین کے جس قدر نزدیک ہے وہ اتنی ہی رذالت کی زندگی گزاررہاہے اور جو زمین سے جتنا دُور ہے یا جس نے جتنی زیادہ اینٹی گریویشنل فورس حاصل کرلی ہے وہ اتنا ہی زیادہ افضل اور اعلیٰ زندگی گزار رہاہے۔ خیر! تو اوپر جو کچھ میں نے لکھا وہ سب ایک طرف اور دوسری طرف قرانِ پاک کی وہ آیات جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’میں نے انسان میں اپنی رُوح پھونکی‘‘، اگر ایک ساتھ ملاحظہ کیے جائیں تو معلوم ہوتاہے کہ انسان میں حیوانوں کی رُوح ہوتی ہے، والا نظریہ غالباً قرانی عقیدہ کے ساتھ متصادم ہے۔ کیونکہ اگر انسانوں میں اللہ کی رُوح ہے تو پھر حیوانوں کی نہیں ہے اور اگر اگر حیوانوں کی رُوح ہے تو پھر اللہ کی نہیں ہے۔

لیکن پھر یہ بھی تو ہمیں معلوم ہے کہ جب انسان میں کسی بھی حیوان کی رُوح نظر نہ آتی ہو بلکہ اس میں انسان کی ہی رُوح موجود ہو تو پھر ہم کیا کہیں گے؟ ہم یہی کہیں گے نا کہ فلاں انسان میں کسی بھی جانور، کیڑے مکوڑے، درندے، چرندے، پرندے کی رُوح نہیں ہے بلکہ اس انسان میں انسان کی رُوح ہے۔ اب چونکہ انسان بھی گوشت پوست کا بناہوا ہے اور چند ایک باتوں کو چھوڑ کر باقی تمام ترمعاملاتِ زندگی میں فی الاصل ایک جانور ہی ہے تو ہم کہنے کو یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ کسی انسان میں روحِ انسانی کا ہونا بھی دراصل روح ِ حیوانی کا ہوناہے۔ لیکن یہ بات اس لیے درست نہیں ہوسکتی کیونکہ جب کسی انسان میں فقط انسان کی رُوح ہوتی ہے تو دراصل وہی وقت ہے جب اس میں خدا کی رُوح ہوتی ہے۔ اقبال تو اس خیال کے ساتھ بے حد متفق ہیں۔

غالب و کار آفریں کار کشا کار ساز
ہاتھ ہے اللہ کا بندہ ٔ مؤمن کا ہاتھ

اس شعر جیسے کتنے ہی اشعار اقبال کے کلام ِ فارسی و اردو میں مل جاتے ہیں۔ اور ظاہر ہے اقبال نے یہ نظریہ ازخود تو نہیں گھڑلیا، یقیناً ہمیشہ کی طرح قرانِ پاک سے اخذکیا۔

فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفً۬ا‌ۚ فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِى فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡہَا‌ۚ

تو تم ایک طرف کے ہوکر دین (خدا کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے جاؤ (اور) خدا کی فطرت کو جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (اختیار کئے رہو)

(جالندھری)

بائبل کی ایک آیت میں ہے کہ ’’خدا نےانسان کو اپنی شبیہ پر پیدا کیا‘‘ اور غالباً ہمارے ہاں اس مفہوم کی حدیث بھی ہے۔ اسی طرح بقول قران انسان میں اللہ نے اپنی رُوح پھونکی، یا انسان کی فطرت کہ جو خدا کی فطرت ہے اور جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا وغیرہ اشارات ہیں جو دلالت ہیں اس خیال پر انسان میں کہ جب وہ اپنی انسانیت کی عمدہ مثال ہوتاہے، خدا کی رُوح کام کررہی ہوتی ہے اور اس وقت کہ جب وہ اپنی خواہشات کی اتباع کررہاہوتا ہے یا زمینی پیوستگی کا شکار ہوتاہے تو حیوانات کی رُوح کام کررہی ہوتی ہے۔

اچھا یہ تمام تر بحث جو کہ یکدم میں نے ایک خیال کے تحت ابھی ادھوری چھوڑدی، پوری تاکید کے ساتھ ، فقط مختلف بکھرے ہوئے خیالات کو ایک جگہ پروکر پیش کرنے کی سعی ِ محض کے سوا کچھ نہیں۔ کیونکہ ذاتی طورپر میں اتنا خراب یا ٹھیک تو خود بھی ہوچکاہوں اب تک کہ ایسی باتوں کو سائنسی حقائق سے متصادم کہتے ہوئے اپنی زندگی سے اس خواب کی طرح خارج کردوں جو مجھے صبح جاگنے پر ایک سچا خواب لگتاہے اور جس میں مجھے مستقبل کی تعبیریں نظر آتی ہیں۔ اور میں ایسا کرتابھی ہوں۔ خواب ہو یا ایسی باتیں، مجھے ان کے غیر سائنسی ہونے میں کوئی شبہ نہیں چنانچہ میں انہی اکیڈمیا کا حصہ نہیں سمجھتا۔ ہاں اتنا ضرور کہونگا کہ مجھے ایسی باتوں میں صاف صاف نظر آتا ہے کہ اپنے وقتوں میں یہ ذہن کے بے شمار خلاؤں کو پُر کرنے کی نہایت اہل تھیوریاں تھیں اور بعض معاملات میں اب بھی ہیں۔ مثلاً مجھے یہ ’’رُوحِ حیوانی‘‘ تصوف کی کوئی ماورائی شئے محسوس نہیں ہوتی بلکہ سپرٹ محسوس ہوتی ہے۔ سپرٹ نہ کہ سول۔ سپرٹ اور سول کے معنی میں کیا فرق ہے؟  سپورٹس مین سپرٹ کو ذہن میں لانے سے اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ یعنی عادت سی۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close