سائنس و ٹکنالوجیمنطق و فلسفہ

سائنس، فلسفہ اور مذہب (قسط اول)

آج اس سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں جدید ایجادات سے کنارہ کش ہوکررہنا ناممکن ساہوگیا ہے۔

ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

آج ہم  جس سائنسی دور (Scientific Era) میں جی رہےہیں  وہاں  سائنس و ٹیکنالوجی کاغلبہ عالمگیر ہے۔ بے شمار سائنسی ایجادات انسانی زندگی پر بہت گہرے اثرات مرتب کررہی ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم فطرت کی دیدہ ونادیدہ قوتوں کواپنے تابع وفرمان کرسکتے ہیں اور اس سے ہونے والے نقصانات وتباہیوں کی نہ صرف روک تھام اورتدارک کرسکتے ہیں بلکہ ان قوتوں کومفید انداز میں استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ آج اس سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں جدید ایجادات سے کنارہ کش ہوکررہنا ناممکن ساہوگیا ہے۔

انہی وجوہات کی بناء پر سائنس انسان پر بہت گہرااثرمرتب کرتی ہے۔ اوراس کی ظاہری چکاچوند  انسان کو متاثر کرتی ہے۔ یہ انسان پر اثرانداز ہونے والا خارجی سرچشمہ  ہےجو بظاہر بہت زیادہ تاثیر کا حامل ہے لیکن درحقیقت یہ بالکل عارضی و وقتی تاثیر کاحامل ہے۔ جب اس کی قلعی کھل جائے تو اندر سے وہی زنگ آلود لوہا(مثلِ خاک) برآمد ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سائنس ہماری مکمل رہنمائی نہیں کرسکتی۔ یہ صرف ان مسائل کو حل کرسکتی ہے جو ہمارے سامنے مادی شکل میں موجود ہوں اور ان میں بھی بہرکیف غلطی کا امکان موجود رہتاہے۔ لیکن اس کے برعکس مذہب کا سرچشمہ داخلی ہے،جو انسان کے اندر سے وہ قوت فراہم کرتا ہے تاکہ وہ نفس کے سفلی تقاضوں کوضبط کر تے سیدھے سچے راستے (صراط مستقیم )پرقائم رہے۔ مذہب کا عمل دخل زیادہ قوی ہے اوریہ وہ پارس ہے جو کسی سے چھوجائے تو اس کوخود چمکتا ہوا سونابنادیتا ہے۔ اگرچہ وہ کتنا ہی زنگ آلوداورمٹی کا ڈھیر ہی کیوں نہ ہو وہ اندر تک اسے تبدیل کردیتا ہے یہ محض قلعی نہیں کہ پول کھل جائے گا بلکہ اس کو جتنا بھٹی میں ڈالا جائے گا اس کی چمک دمک میں اضافہ ہی ہوتاجائے گا۔ اصلاحِ احوال اورفرد کو تبدیل کرنے کے لیے مذہب، دین، عقیدہ، اعتقاد سے بڑھ کر کوئی شے نہیں ہے۔

مذکورہ بالا تمہید صرف جذباتی بیان یا دل کی تسلی نہیں بلکہ اس کے عقب میں  باقاعدہ  وہ دلائل اوربراہین  کارفرما ہیں جو اپنے وقت کے مشہور ومعروف فلسفی اورسائنس کی روح، طریقہ کار اورمشاہدہ سے  واقف شخصیت ڈاکٹرحافظ محمد فضل الرحمٰن الانصاری القادری علیہ الرحمہ نے بیان فرمائے ہیں۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے کتابچہ (Through Science and Philosophy to Religion)   میں  سائنس اورفلسفہ کونجات دہندہ ماننے والے قاری کو ان ہی علوم  کے اصولوں اورضابطوں کے تحت  اس مقام پر  جاکھڑاکرتے ہیں جہاں اسے مذہب کے علاوہ کوئی اور رہنما اورنجات دہندہ نظرنہیں آتا۔ یہ آپ  علیہ الرحمہ کی ہی شخصیت تھی جس نے مغرب کی برتری  کے طلسم کوخاک آلود کردیا۔ بقول سیدنظرزیدی

یہ تیری عظمت کہ تونے توڑا طلسم مغرب کی برتری کا

وہ فلسفی تیرے  خوشہ چیں  ہیں وہ  فلسفہ ہے غلام تیرا

یہ کام آپ فتاویٰ (کفر)یا احکام کے نفاذسے  نہیں کرتے  کیونکہ آپ اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ اگرلوگوں کو پس پردہ اورپیش آمدہ حقائق،اسباب، وجوہات وعلل  سے بے خبر رکھ کر کسی چیز سے روکا جائے تو اس پر صبر کرنا بہت مشکل ہوجاتاہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے: قَالَ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا وَکَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰی مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا۔ ” اس بندے نے کہا(ا ے موسیٰ) آپ میرےساتھ صبرکرنے کی طاقت نہیں رکھتے اورآپ صبرکربھی کیسے سکتے ہیں اس بات پر جس کی آپ کو پوری طرح خبرنہیں "۔ یہاں اسی اہم فطری اورنفسیاتی تقاضہ کی طرف اشارہ کیاگیاہے۔ نیز جب ہم کسی شخص کو کسی خاص امر سے منع کریں تو اس شخص میں لامحالہ اس کام کے کرنے کا خیال پیدا ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں Reactive Psychology کے تحت اس شخص کے اندر اس کام کو کرنے کی خواہش ضرور پیداہوگی۔ لہذا کسی حکم اورنہی کے بجائے آپ اپنے قاری کے داخل سے ایسی مؤثر پکار پیداکرتے ہیں جس پر لبیک کہنے سے وہ شخص خود کونہیں روک سکتا۔ اور وہ فطرت پر پائے جانے والے واحد مذہب کا پیروکاربن جاتاہے۔ آپ اس کتاب کے شروع میں انسان کے ذہن  میں ابھرنے والے سوالات تحریر فرماتے ہیں کہ:

میں کیا ہوں ؟انسان کہاں سے آیا؟ انسانی زندگی کی فطرت کیا ہے؟ انسانی زندگی کا مقصداورانجام کیا ہے؟پھر ان سوالات کے بعد آپ جہاں انسان رہتا ہے اس دنیا کے متعلق سوالات اٹھاتے ہیں۔ اور اس کے بعد پیداہونے والے سوالات کا تذکرہ کرتے ہیں جو آخر کار اس کے رب کے متعلق سوالات پر منتج ہوتے ہیں۔ ان سوالات کے بعد ڈاکٹرفضل الرحمٰن انصاریؒ تحریرفرماتے ہیں :

"مذکورہ بالا تمام سوالات انسان، دنیا اورخدا کے متعلق الٹی میٹ سوالات (بنیادی مسائل) ہیں۔ یہ سولات اتنے اہم ہیں کہ لامحالہ کبھی نہ کبھی ہر غوروفکر کرنے والاشخص ان کاضرور سامنا کرتاہے۔ یہ بنیادی سوالات انسانی زندگی میں پیش آمد دیگر مسائل کے مقابلہ میں  زیادہ اہمیت کے حامل  ہیں اور ان کا  دیگر فی الفور مسائل پر گہرااثرمرتب ہوتاہے۔ ہر صاحب علم شخص اس حقیقت کو تسلیم کرے گا کہ ان سے بچانہیں جاسکتا۔ "مفہوماً: (Through Science and Philosophy to Religion, pg 3)

مندرجہ بالا تمام سوالات کے جوابات  جاننا ایک بشر کی بساط واوقات سے ماورا ہیں۔ خواہ وہ ان جوابات  کے لئے کسی بھی قسم کی جدید ٹیکنالوجی اورسائنس کا استعمال کر ے۔ لیکن ایک ایسا طریق ہے جو اس بشرکوجہالت کے اندھیروں سے نکال کر اس کی ذات کا عرفان نفس دیتے ہوئے اسے اس کے رب سے ملادیتاہے۔ وہ نبی اکرم ﷺ کی طرف رجوع ہے :بقول شاعر ختم نبوت جناب سید سلمان گیلانی صاحب:

جس  بشر  کو  تیرا  واسطہ   مل  گیا  اس  بشر  کو  بالآخر  خدا  مل  گیا
اک  زمانہ  تھا  جب  خلق  گمراہ  تھی  تو  اسے  کیا ملا راستہ  مل  گیا

کیا وساطت سے تیری یہ قرآں ملا، اک خزانہ ہمیں بے بہا مل گیا
ہم  تو تھے بے خبر  اپنی ہی ذات سے تجھ سے پوچھا تو اپنا پتہ مل گیا

آپؒ اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ ہدایت کے لیے لوگ عموماً تین ذرائع  کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔

1۔ سائنس

2۔ فلسفہ

3۔ مذہب

یہ ارشاد گرامی کسی  عامی کا  نہیں بلکہ اس  صاحب عرفان شخص کا ہے جو اسرار قدرت سے مکمل آگہی رکھتا ہے۔ عام واقعات، کیفیات،حالات جو ایک عام شخص کے لئے کوئی خاص اہمیت کے حامل نہیں ہوتے وہی آپ کے سامنے اس کائنات کے اسرار رموز سے آشنائی اورنقاب کشائی کاباعث ہوتے ہیں۔ جس طرح ہمارے سامنے نیوٹن کی مثال ہے کہ اس سے قبل بھی زمین پر سیب گرتے ہوئے کروڑوں اربوں افراد نے دیکھا ہوگا لیکن جس انداز و طور سے نیوٹن نے سیب گرنے سے کشش ثقل Law of Gravity کا راز پایا۔ اسی طرح آپ جیسی ہستیاں اور اولیاء کرام عام واقعات، کیفیات اورنشیب و فراز حتی کہ صرف پانی کے ایک قطرے سے اس زندگی کے تمام اسرار و رموز سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔ بقول شاعر

زندگی قطرے کی سکھلاتی ہے اسرار حیات

یہ  کبھی   گوہر ، کبھی  شبنم،  کبھی   آنسو

(جاری ہے)

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close