سائنس و ٹکنالوجیمنطق و فلسفہ

سائنس، فلسفہ اور مذہب (قسط دوم)

ڈاکٹر انصاری کی نظرمیں

ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

میرا ایمان ہے  کہ وہ تمام تھیوریز اورنظریات جو قرآنی حقائق سے متصادم ہیں ضرور غلط ثابت ہوں گی۔ کیونکہ اب تک کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ قرآن مجید اوراحادیث مبارکہ میں پیش کردہ یہ حقائق مثلاً واقعہ معراج،دیگرمعجزات نبوی ﷺ، جنت، دوزخ وغیرہ ماوراء العقل (Beyond Reason) اورسائنس کے دائرہ کار سے باہرتوضرور ہیں لیکن فطرت سے متصادم (Conflict) اورمتضاد (Contradict) نہیں ہیں۔

گزشتہ سے پیوستہ

تحریر آگے بڑھانے سے قبل یہاں پہلے سائنس اور فلسفہ کی حقیقت کو سمجھ لینا چاہئےکہ سائنس اورفلسفہ کیا ہیں؟

سائنس اور سائنسی مشاہدہ:

سائنس کے لغوی معنی علم کے ہیں اور سائنٹسٹ کے معنی علم میں مہارت رکھنے والافرد یعنی "عالم” ہے۔ سائنس ارد گرد رونماہونے والے واقعات اورچیزوں کے حسیاتی مشاہدہ، تجزیہ اورتحلیل کانام ہے۔ سائنسی مشاہدہ میں تین عناصرکارفرماہوتے ہیں۔ مشاہدہ کرنے والا (سائنسدان)، مشاہدہ کی جانے والی چیز،وہ قوانین، شرائط اورحدود وقیود جن کاخیال رکھتے ہوئے مشاہدہ کیاجاتاہے۔ سائنسدان نہ صرف چیزوں کا مشاہدہ کرتاہے بلکہ ان کے متعلق سوالات اٹھاتا ہے۔ ان کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے اور معلومات جمع کرکے ان سے نتائج کواخذ کرتا ہے۔ وہ نتائج اخذ کرنے کے لیے سائنسی طریقہ (Scientific Method) استعمال کرتاہے یعنی کہ صحیح سوال اٹھانا، معلومات جمع کرنا،تجربہ کرنا، نتائج جمع کرنا،نتائج کا تجزیہ وتحلیل کرنااورحتمی نتیجہ برآمد کرنا۔ الغرض سائنس مادی حقیقتوں کی تلاش کاایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ کیونکہ جب کسی مسئلے پر کافی شواہد جمع ہوجاتے ہیں اوراس میں حقیقت کی کرن جھلکنے لگتی ہے تواسے قیاس(Conjecture) اورمفروضہ (Hypothesis) کانام دیاجا تا ہے۔ پھر جب وہ مزید ثابت ہوجاتا ہے اوربہت سے سائنسدان اس مفروضہ کو تسلیم کرلیتے ہیں تو اس کو قانون (Law) کا مقام دے دیاجاتا ہے۔ پھر جب طویل عرصے تک یہ قانون مستقل اور پے درپے ثبوت ملنے کی وجہ سے مسلمہ حقیقت بن جائے اورسب سائنسدان اس قانون پر متفق ہوجائیں تو اس  قانون کو نظریہ (Theory) کادرجہ مل جاتا ہے۔ اس طرح سائنس میں ایک مفروضہ لمبا اورکٹھن سفر طے کرکے  مختلف مراحل سے گزرتا ہوا نظریہ (Theory) کے درجہ تک پہنچتا ہے۔ جون کاستی (John Casti)  اس مفروضہ سے تھیوری بننے تک کے عمل کی کچھ یوں وضاحت کرتاہے:

"Our observation give rise to hypotheses that  are studied with experiments. Hypotheses that are supported by experiments may become empirical relationships, or laws. Laws may become part of an encompassing theory with wide explanatory power.” ( Archimedes to Hawking, Clifford A_ Pickover, Oxford University Press, 2008, pg 18)

"ہمارا مشاہدہ ایک مفروضہ کوجنم دیتاہے۔ جس کا تجربات کی مدد سے مطالعہ کیاجاتاہے۔ مفروضہ جوتجربات سے ثابت ہوجائے وہ قانون بن جاتاہے۔ اورقانون جو تمام ترسائنسی مشاہدات،تجربات اورقوانین سے گزرکر آخرکار نظریہ کے درجہ تک پہنچ سکتا ہے۔ "

سائنس اورسائنسی مشاہدہ سمجھ لینے کے بعد کوئی بھی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اصولی طور پر قانون بننے کے بعد اس نظریئے میں تبدیلی یا ترمیم نہیں ہونی چاہئے لیکن!

 کیاکریں یہ انسانی علم و عقل اورمشاہدہ ہے، جو ہے ہی ناقص کہ قانون بن جانے کے بعد بھی اس میں ترمیم واضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات وہ قانون اورنظریہ ایک غلط خیال وتصور کی صورت میں تبدیل ہوکر ماضی کا قصہ پارینہ بن جاتا ہے اوراس سے ایک نیامفروضہ جنم لے لیتا ہے۔ اس حقیقت کو سائنسدان خود تسلیم کرتے ہیں لیکن بالفاظ دیگر(یعنی خوبصورت لبادے میں اوڑھ کر ):

“Science progresses mainly because both existing theories and laws are never quite complete.” (Archimedes to Hawking, Clifford A_ Pickover, Oxford University Press, 2008, pg 16)

"سائنس کی ترقی کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ دونوں قانون (Laws) اورنظریات (Theories) کبھی بھی (ہمیشہ کے لئے) مکمل نہیں ہوتے۔ "

یوں قرآن کے مقابل آنے والے، اسے غلط قراردینے والے خود اپنا سامنہ لے کر رہ جاتے ہیں۔ خود سائنس دانوں نے مختلف تھیوریز اورسائنسی قوانین پیش کرکے انہیں رد کیا ہے۔ مثلاًسولہویں صدی میں پولینڈ کے ایک منجم نکولس کوپرنیکس نے یہ اعلان کیا کہ سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد چکر لگاتی ہے۔ اس نظریہ کوحقیقت سمجھ کر سائنسدانوں اورفلسفیوں نے عالم اسلام پر طعن تشنیع شروع کردی کہ قرآن میں ہے:کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْن(سورۃیٰس:40)  یعنی ہر چیز آسمان میں تیر رہی ہے:اور اب جب کہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ سورج تو ساکن ہے۔ لیکن ان کی یہ حسرت ہی رہی کہ قرآن کوغلط ثابت کریں اوران ہی کے ایک سائنسدان سرفریڈرک ہرشل ولیم نے اٹھارویں صدی میں یہ اعلان کیا کہ سورج خلا میں سفر کررہا ہے۔ جس سے یہ نظریہ غلط ثابت ہوااور قرآن مجید کی حقانیت ثابت ہوگئی۔ اگرکوئی کہے کہ یہ تو ایک شخص کا قیاس تھااورخود قصہ پارینہ بن چکاتھاتوان کے لیے عرض یہ ہے کہ آئزک نیوٹن (Isaac Newton) کاایک مسلمہ ”کشش ثقل” کا قانون(Law Of Gravity)    ( کشش ثقل ہر جگہ کام کرتی ہے) کوالبرٹ آئن سٹائن  (Albert Einstein) کے (General Relativity) نے غلط ثابت کیا۔

یہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ آئن سٹائن نے تھیوری(Relativity of Time) بیسویں صدی میں پیش کی کہ اضافیت زمان ایک اضافی تصور ہے اور یہ ماحول کے مطابق تبدیل ہوسکتا ہے۔ وقت کا انحصار کمیت (Mass)اوراسراع(Velocity)پہ ہےاورروشنی کی رفتار سےزیادہ کوئی چیز نہیں جاسکتی۔ حالانکہ قرآن مجید اس بات  کو ١٤٠٠ سال قبل ہی پیش کرچکا ہے۔ قرآن مجید میں ہے: وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ”(سورۃالحج:٤٧)بے شک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک دن تمہارے ہزار سال کے برابر ہے جوتم شمار کرتے ہو”یعنی اس دنیا کے ہزار سال وہاں کےصرف ایک دن کےبرابر ہیں۔ اسی طرح سورۃ المعارج کی آیت 4 میں ہےکہ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ”وہ دن پچاس ہزار برس کے برابر ہوگا” یعنی روز محشریہاں کے پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے مختلف مقامات اورمختلف احوال میں زمانے کے گزرنے کا احساس مختلف ہوگا۔

نیزاضافیت زمان ومکان کی مزید کچھ وضاحت ڈاکٹرمحمد فضل الرحمن الانصاری القادری علیہ الرحمہ کے تحریرکردہ مضمون سے غیرضروری نہ ہوگی۔ آپ تحریرکرتے ہیں :

"اضافیت زمان کے ساتھ ساتھ "زمان ومکان کی بعض بدیہی حقیقتیں ہیں جن کا سمجھنا زندگی کی صحیح صورت گری کے لئے از بس ضروری ہے وہ حسب ذیل ہے:

(1) زمان ومکان کی طبعی حقیقت۔ سائنس دان کو اسی حقیقت سے سروکار ہے۔

(2) زمان ومکان کی معاشرتی، ثقافتی حقیقتیں۔

(3) زمان ومکان کی نفسی حقیقتیں۔

(4) زمان ومکان کی روحانی، مابعد الطبیعاتی اورلاہوتی حقیقتیں۔

جہاں تک زمان ومکان کی معاشرتی وثقافتی حقیقتوں کا تعلق ہے دورجدید کی عمرانیات کی توجہ ان کی طرف اب مبذول ہوئی ہے چنانچہ "عمرانیات عام” کے ماہرین زمان ومکان کو "عمرانی حقیقت(Social Reality) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ لیکن دور جدید کا یہ انکشاف مسلم مفکرین کے لئے نیا نہیں۔ ہمارے متکلمین، فقہاء اورحکماء اس سے واقف تھے۔ اوروہی نہیں بلکہ عامی مسلمان بھی اس کا تصور رکھتاہے۔ اس لئے کہ اسلام کی تمام عبادات وقت کے صحیح تعین سے ادا کی جاتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ اب رہیں زمان ومکان کی نفسی حقیقتیں، تو یہ بھی مسلمانوں کے لئے ایک عام بات ہے۔ اس کا ثبوت نماز کے اوقات میں نمازی کے افعال واعمال اورحرکات وسکنات سے ہوتاہے۔ ۔ ۔ ۔ اس حدتک ان کی گفتگو کی صحت سے ہمیں انکار نہیں۔ لیکن معاشرتی قوتوں کا تجزیہ کیاجائے تو ان میں جومعنوی اورروحانی قوتیں پوشیدہ ہیں، ان کو سمجھے بغیر اگرمعاشرتی قوتوں پر اکتفاء کیاجائے گا تو انسان کو قرار واقعی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی "(صقالۃ القلوب،ص17-19)

مندرجہ بالاسطور میں بیان کی گئی مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ سابقہ قوانین ونظریات غلط تھے اور اس وقت سائنسدانوں سے غلطی ہوئی تھی اورجب یہ ثابت ہوگیا کہ ان کانظریہ غلط تھاتوبعد میں ان نظریات میں ترمیم کردی گئی۔ اب اس بات کی کیاضمانت ہے کہ آج کے سائنسدان جن نظریات کے حامل ہیں وہ غلط نہیں ہیں۔ ممکن ہے آنے والے دنوں میں بہت سی سائنسی تھیوریز تبدیل ہوجائیں۔ جیسا کہ کلفورڈ اے پک اوور اپنی کتاب میں لکھتاہے:

Nevertheless, even the great scientific laws are not immutable, and laws may have to be revised centuries later in the light of new information (Archimedes to Hawking, Clifford A_ Pickover, Oxford University Press, 2008, pg 16)

"تاہم حتی کہ عظیم سائنسی قوانین بھی غیرمتنازعہ  نہیں ہیں۔ اورشاید صدیوں بعد ان پرنئی معلومات کی روشنی میں  از سرنوغورکرنا پڑے گا۔ "

ایک اور مقام پرکلفورڈ اے پک اوور اپنی کتاب میں لی سمولین(Lee Smolin) کی کتاب Never say always ("ابدی” کبھی نہ کہو)سے ایک اقتباس نقل کرتاہے :

The idea of eternally true laws of nature is a beautiful vision but is it really an escape from philosophy and theology? For as philosopher have argued we can test the predictions of a law of nature and see if they are verified or contradicted, but we can never a law must always be true. So if we believe a law of nature is eternally true, we are believing in something that logic and evidence cannot establish. (Archimedes to Hawking, Clifford A_ Pickover, Oxford University Press, 2008, pg 296)

"فطرت کے ابدی قوانین کا نظریہ ایک خوبصورت خیال ہے۔ لیکن یہ حقیقتاً فلسفہ اورمذہب سے فرارہے۔ جیسا کہ فلاسفر نے دلائل دیئے ہیں۔ ہم قانون قدرت کی پیشین گوئی کی آزمائش کرسکتے ہیں کہ وہ مصدقہ ہیں یا متضاد لیکن ہم کبھی نہیں ثابت کرسکتے ایک قانون ضرور ہمیشہ صحیح ہوگا۔ اگرہم یقین رکھتے ہیں کہ ایک قانون ہمیشہ کے لئےصحیح ہے ہم ایسی چیز مان رہے ہیں جس کی منطق(دلائل) اورثبوت کبھی قائم نہیں ہوسکتے۔ "

مجھے کامل اور پختہ یقین ہے بلکہ میرا ایمان ہے  کہ وہ تمام تھیوریز اورنظریات جو قرآنی حقائق سے متصادم ہیں ضرور غلط ثابت ہوں گی۔ کیونکہ اب تک کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ قرآن مجید اوراحادیث مبارکہ میں پیش کردہ یہ حقائق مثلاً واقعہ معراج،دیگرمعجزات نبوی ﷺ، جنت، دوزخ وغیرہ ماوراء العقل (Beyond Reason) اورسائنس کے دائرہ کار سے باہرتوضرور ہیں لیکن فطرت سے متصادم (Conflict) اورمتضاد (Contradict)نہیں ہیں۔ بقول برطانوی پروفیسر ڈاکٹر آرتھر جے الیسن (Arthur Alison)  ”اسلام سائنس اور عقل سے متصادم نہیں ہے”۔ ایک وقت ایسا ضرور آئے گا(ان شاء اللہ تعالیٰ) جب خود سائنسدان ان متصادم ومتضادامور کو غلط تسلیم کرلیں گے اورقرآن مجیدفرقان حمید کی حقانیت ثابت ہوجائے گی۔

سائنسی مشاہدہ کی حدود اوراس میں پائے جانے والے نقائص کی ڈاکٹر انصاری علیہ الرحمہ نے مندرجہ ذیل  کئی ایک وجوہات بیان فرمائی ہیں مثلاً:

”مشاہدہ کرنے والے کے احوال مختلف، کیفیات مختلف، قوتیں مختلف،سوچ و فکر مختلف ہیں۔ اسی طرح مشاہدہ کی جانے والی چیز جتنی ٹھوس،انسان کی گرفت میں ہوگی اتنا ہی مشاہدہ قوی اور صحیح ہونے کا امکان ہے لیکن جتنا چیز حرکت کرنے والی ہوگی، یا مشاہدہ کرنے والے سے فاصلہ پرہوگی اوراس کی گرفت سے باہر ہوگی، یا جتنی غیر مادی ہوگی اتنا ہی مشاہدہ کمزور اوراٹکل پر مبنی ہوگا۔ نیز یہ کہ شرائط وحدود وقیودمیں بھی بہت تنوع اوراختلاف ہے۔ ” خلاصہ (Through Science and Philosophy to Religion, pg 6-8)

(جاری ہے..)

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close